لانبی بعدی

قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے

خالق کائنات  نے جب دنیا خلق کی تو اس سے پہلے اس کا پورا منصوبہ تشکیل دے دیا کہ دنیا کو کن اصولوں پہ چلایا جائے گا ؟ ان اصولوں کو پیش کون کرے گا؟ انسان کی حیثیت کیا ہوگی؟کن امور پہ عمل کرنے سے دنیا کا نظام درست رہے گا ورنہ بحروبر میں فساد پھیل جائے گا؟؟
ان سوالات کے جوابات خالق نے انسان کی تخلیق سے پہلے ہی لکھ دیئے تھے۔ دنیا کے خاتمے کا وقت بھی طے کر دیا۔۔ ساتھ ہی کچھ خاص انسانوں کے گروہ کا انتخاب بھی کردیا جو اللہ کے خاص نمائندے، ،انسانوں کی رہنمائی کرنے والے مخلص ترین پیغامبر جن کو انسانوں تک رب کا پیغام نہ صرف پہنچانا تھا بلکہ اپنی پوری زندگی اس کے مطابق گزار کر دکھانی تھی۔۔ان عظیم المرتبت انبیاء میں آخری اعلی ترین ہستی انبیاء میں افضل ترین رسول حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کو بھیجا گیا جو سب سے آخیر دور کیلئے مکمل ترین، بہترین رہنمائی و منصوبہ عمل کے ساتھ بھیجے گئے ایک ایسی کتاب جس کو قیامت تک کیلئے محفوظ رہنا تھا جس میں بیان کردہ نظام زندگی کا مفصل نقشہ تباہی کے نزدیک کھڑی انسانیت کیلئے اس وقت بھی کارگر ثابت ہوا تھا اور آج کیلئے بھی اس کے سوا کوئی اور حل اس تباہی سے نجات کا نہیں ہے۔۔

انسانیت آج جس درندگی وسفاکیت کی انتہاؤں کو چھورہی ہے وہ ساڑھےچودہ سو سال پہلے انسانیت کی جس معراج کو پا گئی تھی وہ نبی مہربان حضرت محمد ﷺ کی ہی الہامی تعلیمات کا ہی نتیجہ تھا ۔۔

دنیا کے نظام کو بگاڑنے کیلئے ابلیس نے بھی چیلنج دیا ہوا ہے دنیا بنانے والے کو ،،، اس کو نبی پاکﷺ کی ذات مبارک سے خاص عناد ہے کیونکہ ان کے بخشے ہوئے نظام میں تو انسان کے شرف و تکریم کا پورا خزانہ موجود ہے جبکہ وہ تو انسان کا بدترین دشمن ہے، اس کی سازشیں اول روز سے جاری ہیں لیکن وہ ناکام ہی ہوگا۔۔۔ اب اس کا سب سے بڑا  ہدف یہی ہے کہ رسول ﷺ کو آخری نبی کی حیثیت حاصل نہ رہے تاکہ ابلیسی نظام کیلئے بھی گنجائش نکالی جا سکے ۔۔

جبکہ رب کائنات نے عقیدہ توحید ورسالت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کو بھی ایمان کیلئے لازمی قرار دے دیا ہے ۔۔ قرآن و سنت نبیﷺ محض عقیدہ ہی نہیں ہیں بلکہ دنیا کے نظام کو عدل و انصاف اور فلاح انسانیت پہ قائم رکھنے کا ایک مکمل منصوبہ اور ایجنڈا ہے۔ جس کے تحت عقیدہ و عمل کے مطابق زندگی گزارنے والے نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی کامیاب قرار پائیں گے۔ فتنہ قادیانیت اسی ابلیسی منصوبہ کا حصہ ہے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں نے اپنے نبیﷺ کی ذات اقدس سے متعلق کسی بھی قسم کے توہین آمیز رویہ کی ہمیشہ سے سخت مذمت کی ہے خصوصاً فتنہ قادیانیت کے خلاف بھرپور جہاد کیا ہے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو فتنہ قادیانیت پہ کتا بچہ لکھنے کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی۔انہوں نے بخوشی عشق نبی میں پھانسی کے پھندے پہ لٹکنے کو اپنی خوش نصیبی و اعزاز سمجھا۔

دستور پاکستان کی آئینی ترمیم 1974ء (آئین کی دفعہ 260 کی شق 3) کے ذریعے باضابطہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری گروپ (احمدیوں) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ قانونِ ختمِ نبوت سے مراد وہ آئینی اور قانونی دفعات ہیں جن کے تحت پاکستان میں حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی تسلیم کیا گیا ہے اور اس عقیدے سے انکار کرنے والوں یا خود کو مسلمان کہنے والے قادیانی/احمدی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔

دستور پاکستان میں درج یہ آرٹیکل مرزائیوں کی آنکھ میں ہمیشہ سے کھٹکتا رہا ہے ۔اس کو ختم کرنے کیلئے سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن مسلمانوں نے ان کو کبھی کامیاب نہ ہونے دیا ۔

7 ستمبر یوم تحفظ نبوت کے طور پہ منایا جاتا ہے ۔۔لیکن مسلمان کا ہر دن تحفظ ختم نبوت کیلئے ہے۔ ہر مسلمان اس پہ اپنی جان،مال اولاد سب قربان کرنے کیلئے تیار ہے ۔ یہ نہ صرف ایمان کا حصہ ہے بلکہ انسانیت کی فلاح کیلئے رب کائنات کی طرف سے بھیجا جانے والا آخری فلاح انسانیت پہ مبنی نظام ہے جس کے قائم ہونے پر ہی دنیا کو چین و سکون نصیب ہوگا۔ رسول اللہ کی ذات اقدس ہی وہ ذات ہے جنہوں نے اس نظام کو ہم تک پہنچایا اس کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں جہاد کئے سب سے بڑھ کر انسانوں کو تباہی و جہنم سے نجات دلانے کیلئے اپنی زندگی کی ہر راحت و آرام قربان کردیا ۔
رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
لاکھوں درودوسلام مصطفٰی جان رحمت پہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top