خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 خوارج ہلاک، کلیئرنس آپریشن جاری

security-forces

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2 سے 5 ستمبر کے دوران سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان مختلف جھڑپوں میں 21 خوارج ہلاک کردیے گئے، جبکہ علاقے میں موجود دیگر دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں چھپے 10 خوارج کو ہلاک کردیا۔

شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شمالی وزیرستان ہی میں ایک اور کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے مزید 7 خوارج کو ہلاک کیا جبکہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی 2 مختلف جھڑپوں کے دوران مزید 4 خوارج مارے گئے۔ یوں 2 سے 5 ستمبر کے دوران مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے خوارج کی مجموعی تعداد 21 ہوگئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد کے ذریعے پاکستان میں دراندازی کی کوششوں کے دوران ہلاک کیے جانے والے خوارج کی مجموعی تعداد 25 ہوگئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں موجود دیگر دہشتگردوں کی تلاش اور خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک مرتبہ پھر افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سرحد پار دہشتگردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیاں کی جارہی ہیں، افغان طالبان حکومت کو مؤثر سرحدی انتظام یقینی بنانا ہوگا اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت دہشتگرد تنظیموں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور سرحد پار حملوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں خوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ صدر مملکت نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے بروقت اور مؤثر کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

آصف زرداری نے کہا کہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگردوں کے مذموم عزائم ہر قیمت پر ناکام بنائے جائیں گے۔ پاکستان کی سرحدوں کا دفاع اور ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ  ملک میں امن و استحکام کے خلاف دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے پر پوری قوم کو اپنی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر فخر ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، حکومت اور سکیورٹی فورسز ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور عزمِ استحکام کے وژن کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔ وزیراعظم نے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں اور خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور دراندازی کی کوششوں کے خلاف سکیورٹی آپریشنز میں تیزی دیکھی جارہی ہے، سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید مؤثر بنائی جارہی ہے جبکہ دہشتگرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بھی جاری ہیں

مزید خبریں

Scroll to Top