ہمارے بچے کب محفوظ ہوں گے؟

پمز کے نومولود بچوں سے آیت نور اور ایزل تک… کیا ہمارا معاشرہ اپنے بچوں کو تحفظ دے پا رہا ہے؟
کبھی کوئی خبر صرف خبر نہیں ہوتی، وہ پورے معاشرے کے ضمیر پر دستک بن جاتی ہے۔ اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں پیش آنے والا دلخراش سانحہ بھی ایسی ہی ایک دستک ہے۔ ایک آگ بھڑکی اور چند ہی لمحوں میں وہ ننھی زندگیاں خاموش ہوگئیں جنہوں نے ابھی دنیا کو آنکھ بھر کر دیکھا بھی نہ تھا۔اس خبر نے رونگھٹے کھڑے کردیئے ۔ انسانیت پر سے اعتماد اٹھنے لگا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دور جاہلیت میں جیتے ہیں ۔
پمز کی نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق ہوئے اور صرف ایک بچہ محفوظ رہا۔ اابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایئر کنڈیشنر میں خرابی کے بعد لگی۔ واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے، مگر سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی؟ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے اسپتال میں جہاں زندگی بچانے کے لیے آنے والے نومولود موجود ہوں، ان کی حفاظت کے بنیادی انتظامات کہاں تھے؟
یہ 14 بچے محض ایک عدد نہیں تھے۔ ہر بچے کے پیچھے ایک ماں تھی جس نے اسے نو ماہ اپنے وجود میں پالا تھا، ایک باپ تھا جس نے اس کے مستقبل کے خواب دیکھے تھے، ایک خاندان تھا جس نے اس کے نام، مسکراہٹ اور پہلے قدم کے خواب سجائے تھے۔ کسی کے گھر میں پہلی اولاد تھی، کسی کے لیے نسل کی پہلی امید، اور کسی کے لیے برسوں کی دعاؤں کا حاصل۔ایک لمحے میں یہ خواب راکھ ہوگئے۔ایک ماں کی گود اجڑ گئی، ایک باپ کے خواب خاک ہوگئے اور کئی خاندانوں کی خوشیاں ایک ہی لمحے میں ماتم میں بدل گئیں۔ یہ بچے کسی جرم، کسی دشمنی یا کسی غلطی کے مرتکب نہیں تھے؛ ان کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ ہماری دنیا میں آنے کے چند ہی دن بعد ایک ایسے نظام کی کمزوریوں کی نذر ہوگئے جسے ان کی حفاظت کا ضامن ہونا چاہیے تھا۔ المیہ یہ ہے کہ روز گزر جانے کے باوجود اسمبلی میں بحث مباحثہ چل رہے ہیں ۔ ہمارے حکمران مغرب کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے، لیکن ان سے انسانیت کا سبق نہیں لیتے ۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے، یہ تو ایسا سانحہ ہے کہ وزیر اعظم سمیت صحت کے وزیر و مشیر و دیگر زمہ داران کو استعفی دے دینا چاہئے تھا
لیکن وائے ناکامی
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
مگر بچوں کے تحفظ کا المیہ صرف اسپتال کی دیواروں تک محدود نہیں۔
آج پاکستان کے مختلف شہروں سے آنے والی خبریں ہمارے سامنے ایک اور بھیانک تصویر رکھ رہی ہیں۔ ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور 10 اگست کو گھر سے باہر نکلنے کے بعد لاپتہ ہوئی۔ پندرہ روز بعد، 24 اگست کو، اس کی لاش یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک خشک کنویں سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں گرفتار ملزمان کی تعداد چار تک پہنچ گئی اور پولیس بیان کے مطابق ایک ملزم نے عدالت کے سامنے بچی کے اغوا اور زیادتی کا اعتراف بھی کیا۔ بعد ازاں میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی کی تصدیق کی گئی ۔آیت نور محض ایک نام نہیں۔ وہ اس ملک کی ہر اس پانچ سالہ بچی کی علامت ہے جو گھر سے باہر قدم رکھتے ہوئے اس اعتماد کی حقدار ہے کہ اس کا معاشرہ اسے محفوظ رکھے گا۔ ایک باپ کا اپنی اکلوتی بیٹی کے دروازے پر دوڑ کر آنے کا خواب، ایک ماں کا اپنی بچی کو ہنستا کھیلتا دیکھنے کا خواب، صرف پندرہ دن میں ایک خوفناک حقیقت میں تبدیل ہوگیا۔اور پھر کراچی کے علاقے قیوم آباد میں ڈیڑھ سالہ ایزل کا واقعہ سامنے آیا۔ 4 اگست کو بچی کو چیز دلانے کے بہانے ایک قریبی رشتہ دار اپنے ساتھ لے گیا۔ واپس لائے جانے پر بچی بے ہوش تھی اور اسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گئی۔ اہل خانہ نے زیادتی اور تشدد کا الزام عائد کیا، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا۔ بعد کی عدالتی کارروائی میں ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا، جبکہ ڈی این اے رپورٹس کا انتظار بتایا گیا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ڈیڑھ سال کی بچی آخر کس سے اپنا دفاع کرسکتی تھی؟
وہ نہ اپنے حق میں آواز بلند کرسکتی تھی، نہ خطرے کو سمجھ سکتی تھی، نہ کسی سے مدد مانگ سکتی تھی۔ وہ تو صرف اس معاشرے کے رحم و کرم پر تھی جسے اس کی حفاظت کرنی تھی۔
ساحل (Sahil) کی Cruel Numbers 2024( ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں ) رپورٹ کے مطابق 2024 میں بچوں پر تشدد اور استحصال کے 3,364 کیسز رپورٹ ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 9 بچے کسی نہ کسی شکل میں تشدد یا استحصال کا شکار ہوئے۔ ان میں 1,828 جنسی زیادتی، 1,204 اغوا، 56 جنسی زیادتی کے بعد قتل اور 45 کم عمری کی شادی کے واقعات شامل تھے۔
لیکن یہ اعداد بھی مکمل تصویر نہیں۔ رپورٹ شدہ مقدمات صرف وہ ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں سامنے آئے۔ بے شمار واقعات ایسے ہوسکتے ہیں جو بدنامی کے خوف، خاندانی دباؤ، ملزمان کے اثر و رسوخ یا انصاف کے پیچیدہ نظام کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بچے دوہری آزمائش میں ہیں۔ ایک طرف غربت، غذائی قلت، بیماری اور ناقص طبی سہولیات انہیں زندگی کے آغاز ہی میں خطرات سے دوچار کرتی ہیں، تو دوسری طرف وہ جنسی تشدد، اغوا، جسمانی تشدد اور قتل جیسے جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں۔
آیت نور، ایزل اور پمزاور ایسے ہی کئی واقعات میں متاثر ہونے والے بچے ہم سے سوال کرتے ہیں۔۔۔۔!
پمز کے نومولود بچوں کے لیے حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟
آیت نور گھر سے باہر نکلی تو اسے تحفظ کیوں نہ ملا؟
ایزل جیسے معصوم بچے کے گرد موجود بڑوں کی ذمہ داری کہاں تھی؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
گھر بچوں کا پہلا محفوظ حصار ہونا چاہیے، اسکول دوسرا، معاشرہ تیسرا اور ریاست آخری مضبوط دیوار۔ لیکن جب یہ تمام حصار کمزور پڑ جائیں تو بچہ کہاں جائے؟اب محض مذمت، تعزیت اور چند دن کی خبروں سے کام نہیں چلے گا۔ اس نوع کے سانحے پر سوگ منانا، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرنا اور چند روز بعد سب کچھ بھول جانا اس المیے کا حل نہیں۔
ضرورت ہے کہ تحقیقات محض رپورٹ تک محدود نہ رہیں بلکہ ذمہ داری کا تعین اور عملی اصلاحات سامنے آئیں۔ اسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ، ایمرجنسی انخلا کی مشقیں، حفاظتی آلات کی دستیابی، آکسیجن اور بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ اور ہنگامی صورت حال میں نومولود بچوں کو منتقل کرنے کے واضح طریقۂ کار کو لازمی بنایا جائے۔ پمز کے واقعے کے بعد فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھے ہیں، اس لیے تحقیقات کا دائرہ صرف آگ لگنے کی وجہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔اور بچوں کے خلاف جنسی و جسمانی تشدد کے معاملے میں بھی ہمیں ایک جامع قومی حکمت عملی درکار ہے۔
ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں کوئی ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، جہاں کوئی بچہ کسی بالغ کے ہاتھوں اپنی عزت اور تحفظ سے محروم نہ ہو، جہاں اسپتال کی نرسری زندگی کی علامت ہو، موت کے خطرے کی نہیں۔
اسپتالوں میں فائر سیفٹی سے لے کر بچوں کے اغوا اور جنسی تشدد کے مقدمات تک، ذمہ داری، احتساب اور فوری انصاف ضروری ہے۔ بچوں کے لیے محفوظ رپورٹنگ سسٹم، تربیت یافتہ پولیس، تیز رفتار عدالتی کارروائی، اسکولوں اور دیگر اداروں میں حفاظتی پالیسی، اور والدین و بچوں کی مناسب آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ بچوں کی حفاظت خیرات نہیں، ان کا بنیادی حق ہے۔
پمز میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود واپس نہیں آسکتے۔ آیت نور اپنے والدین کی گود میں دوبارہ نہیں لوٹ سکتی۔ ایزل کی معصوم ہنسی پھر کسی گھر میں نہیں گونجے گی۔ لیکن ان کی قربانیوں کو بے معنی ہونے سے بچایا جاسکتا ہے—اگر ہم ان واقعات کو صرف چند روز کی افسوس ناک خبریں سمجھ کر بھلا دینے کے بجائے انہیں ایک اجتماعی اصلاح کی بنیاد بنائیں۔
کیونکہ سوال اب یہ نہیں کہ ایک اور بچہ کب متاثر ہوگا؟
سوال یہ ہےکہ کیا ہم اگلے بچے کو بچانے کے لیے آج کچھ کریں گے؟ ہمیں یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ جن سزاؤں کو ہم وحشیانہ اور ظالمانہ کہ کر رد کرتے ہیں وہی قوانیں دراصل ہمارے زندگی کی ضمانت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top