بےحس دنیا اور بکھرے لوگ

​چند ماہ پہلے جب میں ہسپتال کے ویٹنگ ایریا میں بیٹھی اپنی بیٹی کی زندگی اور موت کی کشمکش میں گم تھی، تو مجھے لگتا تھا کہ میرے اوپر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ میرا اپنا وجود کرچیوں میں بٹا ہوا تھا اور مجھے لگ رہا تھا کہ میں دنیا کی سب سے بے بس اور دکھی ماں ہوں۔ دعا اور دوا کے درمیان لٹکی ہوئی میری زندگی صرف ایک معجزے کی منتظر تھی۔​اسی اضطراب کے عالم میں میری نظر وہاں موجود ایک لڑکی پر پڑی جو ساکت بیٹھی دیوار کو تکتی رہتی تھی۔ جب ہماری بات شروع ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ دکھ صرف وہ نہیں ہوتا جو ہسپتال کے بیڈ پر پڑا جسم سہتا ہے، بلکہ دکھ تو وہ بھی ہے جو ایک جیتا جاگتا انسان اپنے اندر چھپا کر پھرتا ہے۔ اس نے رشتوں کا وہ کرب سہا تھا جس نے اس کے وجود کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ اس کی باتیں سن کر مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ۔۔۔۔
کبھی کبھی انسان جسم سے بیمار نہیں ہوتا، اس کا دل تھک جاتا ہے اور ذہن اور روح زخمی ہوتے ہیں۔ مگر ہماری دنیا بھی عجیب ہے۔ اس لڑکی کے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں کہ”یہاں ٹوٹے ہوئے ہاتھ پر تو سب کو ترس آ جاتا ہے، لیکن ٹوٹے ہوئے دل اور بکھرے ہوئے ذہن کو لوگ ڈرامہ، کمزوری یا توجہ حاصل کرنے کا بہانہ سمجھ لیتے ہیں”۔ پھر مجھے سمجھ آیا ذہنی اذیت وہ خاموش جنگ ہے جو انسان ہر لمحہ اپنے اندر لڑ رہا ہوتا ہے، اور اس جنگ کی تھکن چہرے سے زیادہ روح پر لکھی جاتی ہے۔
نفسیاتی ڈاکٹروں کے چکر لگانے والوں، لمبے لمبے نسخے اور نیند آور ادویات کھانے والوں، اور اپنے زخموں کو مندمل کرنے کے لیے تھراپیز اور سیشنز کا انتظار کرنے والوں کے دل کے گھاؤں، الجھنوں اور خاموش اذیتوں کا اندازہ اگر انسان واقعی کر لے نہ تو اس کے لب گونگے ہو جائیں۔ وہ طنز کرنا بھول جائے، طعنہ دینا بھول جائے، جھڑکنا، “اف” کہنا، حتیٰ کہ اپنی آواز بلند کرنا بھی بھول جائے۔
جو لوگ ہر روز اپنے خوف، اینزائٹی، اوور تھنکنگ، اداسی اور بے نام گھٹن کے ساتھ جاگتے ہیں، وہ حقیقت میں بہت بہادر ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ مسکراتے بھی ہیں، لوگوں میں بیٹھتے بھی ہیں، کام بھی کرتے ہیں، اور پھر رات کے اندھیرے میں اپنے ہی خیالات سے ہار کر خاموشی سے بکھر بھی جاتے ہیں۔ مگر دنیا ان کے اندر کی اس خاموش جنگ کو نہیں دیکھتی، دنیا صرف ان کے رویہ کو دیکھتی ہے اور پھر فیصلے سنا دیتی ہے، تبصرے ہوتے ہیں۔ تجزیے ہوتے ہیں بن مانگے مشورے دئیے جاتے ہیں۔

یاد رکھیں۔ بعض لوگ صرف ایک نرم لہجے، ایک مہربان جملے اور ایک خاموش ساتھ کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو نصیحت نہیں چاہیے ہوتی، کچھ لوگوں کو صرف یہ احساس چاہیے ہوتا ہے کہ ان ہے کوئی سمجھتا ہے، کوئی ان کے درد کا مذاق نہیں اڑائے گا، کوئی ان کی کمزوری کو ان کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ کیونکہ لفظ صرف بولے نہیں جاتے، لفظ دلوں پر اترتے بھی ہیں، اور بعض لفظ انسان کو زندگی کی طرف واپس لے آتے ہیں، جبکہ بعض لفظ اسے اندر ہی اندر ختم کر دیتے ہیں۔
اور اگر کوئی شخص سب جانتے بوجھتے بھی کسی زخمی روح کے زخم پر ٹھنڈے مرہم کا پھایا نہ رکھ سکے بلکہ اپنے طنز، طعنوں اور تنقیدوں سے اسے زخمی کرے۔۔ اپنی آواز کو نرم نہ کر سکے، اپنے لب نہ سی سکے، تو اس سے زیادہ خود غرض اور بے حس انسان شاید ہی کوئی ہو اس دنیا میں۔ اگر تم کسی کے زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو کم از کم اپنے لفظوں کو خاموش کر دو، کیونکہ بعض اوقات خاموشی بھی بہت گہرا سکون دیتی ہے۔
کتنے کڑوے ہیں نا یہ الفاظ؟ شاید سینہ چیرتے ہوئے محسوس ہوتے ہوں گے۔ مگر ذرا سوچو، وہ شخص جو اپنی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں میں اس مقام تک پہنچ گیا جہاں اسے کلینکوں، دواؤں اور سہاروں کی ضرورت پڑ گئی، اس کے دل پر تمہارے طنز، سخت لہجے اور بے رحم لفظ کیسے گزرتے ہوں گے۔

 وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے وہ آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے کہ ہم جسمانی تکلیف میں تو ایک دوسرے کے ہمدرد بن جاتے ہیں، مگر روح کے زخموں کے لیے کوئی ہسپتال نہیں ہوتا۔ جب کوئی ذہنی اذیت کی دہلیز پر ہو تو ہمارا لہجہ تلخ اور الفاظ زہریلے ہو جاتے ہیں۔ کاش ہم سمجھ سکیں کہ کسی کے زخم پر مرہم نہ رکھ سکیں تو اپنی آواز ہی نرم کر لیں، کیونکہ لفظ صرف بولے نہیں جاتے، لفظ دلوں میں بھی اترتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top