20 ستمبر کو جناب حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دی گئی ہے۔ ملک بھر کے 36 مقامات پر احتجاجی مارچ ہو رہے ہیں۔ یہ محض ایک مارچ نہیں، بلکہ اس عوامی بے چینی کا اظہار ہوگا جو مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکسوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے پیدا ہوا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لئے کوئی ایسی سنجیدہ پیش رفت دکھائی نہیں دیتی، جو عام آدمی کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔ سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اکثر جماعتوں کی جدوجہد کا محور عوام نہیں بلکہ اقتدار کی کرسی بن چکی ہے۔ ایک دوسرے کو گرانے اور خود حکومت حاصل کرنے کی کشمکش جاری ہے، مگر عام آدمی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اس سیاسی دوڑ میں اس کے لیے کیا ہے؟
عوام اب اس کھیل کو سمجھ چکے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اقتدار کی بساط پر مہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا۔ اسی لیے پہلے بھی “بدل دو نظام” کے عنوان سے احتجاج ہوا اور نظام کی ان خرابیوں کو اجاگر کیا گیا جو برسوں سے عوام کا خون نچوڑ رہی ہیں۔جاگیردار، چینی مافیا، آٹا مافیا اور کئی دوسرے طاقتور طبقے ہر دور میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔
آج پورا پاکستان مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں بار بار اضافہ عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا سارا بوجھ پاکستانی عوام ہی پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ بھارت اور چین سمیت دیگر ممالک میں عالمی قیمتوں کے اثرات کا طریقۂ کار مختلف کیوں ہے، جبکہ پاکستان میں عام آدمی کو ہر روز ایک نیا معاشی دھچکا کیوں سہنا پڑتا ہے؟
پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔
جماعت کا مطالبہ ہے کہ حکومت عوام کی جیب پر مزید ہاتھ ڈالنے کے بجائے اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرے، شاہانہ طرزِ حکمرانی پر نظرثانی کرے اور مالی بوجھ کا ازالہ اپنے وسائل سے کرے۔
پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے لوگ ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں 1200 اور 1300 سی سی گاڑیاں بھی وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جو امیر طبقہ نہیں، بلکہ متوسط اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں طلبہ، ملازمین، چھوٹے کاروباری افراد اور روزانہ روزگار کے لیے سفر کرنے والے لوگ شامل ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو پہلے ہی مختلف ٹیکسوں کی صورت میں ریاست کو اپنا حصہ ادا کر رہا ہے اور بمشکل اپنے گھر کا چولہا جلا رہا ہے۔
پٹرول کے ہر اضافی روپے کا بوجھ صرف گاڑی کی ٹینکی تک محدود نہیں رہتا وہ کرایوں، اشیائے خورونوش، صنعت، تجارت اور روزمرہ زندگی کے ہر شعبے تک پہنچتا ہے۔ یوں ایک لیٹر پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو پورا معاشی پہیہ مزید مہنگائی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
عوام پہلے ہی بہت کچھ دے چکے ہیں۔ اب حکومت کو بھی کچھ دینے کا وقت ہے۔
ریاست کا کام عوام کو نچوڑنا نہیں، انہیں سہارا دینا ہے۔ اگر حکومت اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے ہر بار عام آدمی کی جیب تلاش کرے گی تو پھر سوال اٹھے گا کہ حکمران اپنے اخراجات کب کم کریں گے؟ مراعات یافتہ طبقے سے قربانی کب مانگی جائے گی؟ اور وہ نظام کب بدلے گا جس میں بوجھ ہمیشہ کمزور کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے؟
20 ستمبر کا مارچ اسی سوال کی بازگشت ہے:
کیا عوام صرف ٹیکس دینے، مہنگائی سہنے اور ہر نئے معاشی بوجھ کو برداشت کرنے کے لیے ہیں؟
اب وقت آگیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، غیر ضروری حکومتی اخراجات کم کئے جائیں اور عام آدمی کو مزید معاشی بحران سے بچایا جائے۔
اب عوام کو ریلیف دینا ہوگا اور یہ مطالبہ محض سیاسی نہیں، عوامی بقا کا مطالبہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















