لبیک الھم لبیک کی صدائیں جب فضائوں میں گونجتی ہیں تو دنیا کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے۔ یہ محض چند الفاظ نہیں ہیں بلکہ اس پکار کا جواب ہے جو صدیوں پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دی تھی۔ یہ ایک ایسا بلاوا ہے جس کی تڑپ ہر مسلمان کے دل میں چھپی ہوتی ہے۔ حج کا سفر دراصل اپنے آپ سے نکل کر اپنے رب کی طرف جانے کا نام ہے، جہاں انسان اپنے دنیاوی عہدے، رتبے اور مال و دولت کو پیچھے چھوڑ کر صرف ایک ‘بندہ’ بن کر حاضر ہوتا ہے۔
جب ایک حاجی احرام کی دو سفید چادریں اوڑھتا ہے تو وہ گویا اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اب اس کا اپنی مرضی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہ سفید رنگ سادگی اور برابری کی وہ عظیم مثال ہے جہاں بادشاہ اور فقیر ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہاں کوئی گورا ہے نہ کالا، کوئی عربی ہے نہ عجمی۔ سب کے سب ایک ہی خالق کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنی حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ مٹی سے بنے انسان کی اصل قیمت اس کے تقویٰ اور اخلاق میں ہے، نہ کہ اس کے بینک بیلنس یا لباس میں۔
مکہ کی گلیوں میں دوڑنا، صفا اور مروہ کے درمیان حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی اس تڑپ کو یاد کرنا اور پھر عرفات کے میدان میں تپتی دھوپ تلے اپنے رب سے گریہ و زاری کرنا، یہ سب وہ تجربات ہیں جو انسان کی روح کو اندر سے پاک کر دیتے ہیں۔ عرفات کا میدان ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہم سب نے ایک دن اپنے رب کے سامنے تنہا کھڑے ہونا ہے۔ وہاں نہ کوئی سفارش ہوگی اور نہ کوئی مال کام آئے گا، صرف ہمارے اعمال ہی ہماری پہچان ہوں گے۔ جو شخص وہاں سچے دل سے توبہ کر لیتا ہے، وہ ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔
حج ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی صرف اپنی ذات کے لیے جینے کا نام نہیں ہے۔ جب لاکھوں انسان ایک ہی سمت میں طواف کرتے ہیں، تو یہ اتحاد اور بھائی چارے کا وہ سمندر بن جاتا ہے جس کی مثال دنیا کا کوئی اور مذہب یا نظام پیش نہیں کر سکتا۔ یہ اجتماع ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر ہم سب مل کر ایک مرکز پر جمع ہو جائیں تو امتِ مسلمہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ قربانی کا عمل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی سب سے پیاری چیز، یعنی اپنی انا اور اپنی خواہشات کو قربان کر دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
حج کا سفر جب مکمل ہوتا ہے تو یہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ حاجی جب اپنے گھر لوٹتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس نور اور پاکیزگی کو اپنے ساتھ لے کر آئے جو اس نے حرم کی فضائوں میں حاصل کی تھی۔ یہ سفر صرف چند دنوں کی عبادت نہیں ہے بلکہ یہ ایک عہد ہے کہ اب سے ہماری زندگی کا ہر عمل، ہمارا ہر فیصلہ اور ہمارا ہر سانس اللہ کی رضا کے لیے ہوگا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بار بار اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائے اور ہمیں حج کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















