امریکی الیکشن2024: بے حس کملا کا خواب غزہ کے معصوم لہو میں تحلیل

175

78 سالہ ڈونلڈ جے ٹرمپ امریکا کے47 ویں صدر چن لیے گئے۔ وہ نومبر 2016ء میں امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔ چنانچہ جناب ٹرمپ امریکی تاریخ کے دوسرے سابق صدر ہیں جو ہارنے کے چار سال بعد دوبارہ جیتے۔ اس سے پہلے جناب کلیولینڈ 1884ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر صدر منتخب ہوئے اور چار سال بعد 1888ء میں انھیں صدر بن یامین ہیریسن (Benjamin Harrison) نے ہرا دیا۔ 1892ء کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر سامنے آئے اور صدر بن یامین ہیریسن کو ہراکر انھوں نے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا۔ تاہم یہاں فرق یہ ہے کہ صدر کلیولینڈ، صدر ہیریسن سے ہارے اور چار سال بعد انھیں ہی ہرایا، جبکہ جناب ٹرمپ کو ہرانے والے صدر بائیڈن دوسری بار مقابلے سے پہلے ہی دست بردار ہوگئے۔ عمر کے اعتبار سے جناب ٹرمپ صدر بائیڈن کے بعد دوسرے معمر ترین رہنما ہیں۔ جہاں تک ذاتی دولت کا تعلق ہے تو مالیاتی جریدے Forbesنے جناب ٹرمپ کی دولت کا تخمینہ 6 ارب 60 کروڑ لگایا ہے اور بلومبرگ کے مطابق ان کی دولت کا حجم 7 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔

جناب ٹرمپ اس اعتبار سے بھی مثالی ہیں کہ انھیں دوبار امریکی کانگریس کی جانب سے مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی بار دسمبر 2019ء میں الزام لگا کہ انھوں نے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے جوبائیڈں کی اُن مالی بدعنوانیوں کا ثبوت طلب کیا تھا جس کے امریکی صدر، دورانِ نائب صدارت یوکرین میں مبینہ طور پر مرتکب ہوئے۔ استغاثہ کے مطابق یہ امریکی انتخابی مہم میں غیر ملکی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

جب جنوری 2021ء میں انتخابی ووٹوں کی گنتی کے دوران مشتعل ہجوم امریکی ایوانِ نمائندگان پر حملہ آور ہوا تو اسپیکر نینسی پلوسی نے ڈونلڈ ٹرمپ پر مظاہرین کو مشتعل کرنے کا الزام لگایا اور ان کے خلاف ایک بار پھر مواخذے کی تحریک آئی۔ یہ دونوں تحریکیں کانگریس نے مسترد کردیں۔

اس کے علاوہ جناب ٹرمپ کو یہ ’’اعزاز‘‘ بھی حاصل ہے کہ موصوف مختلف نوعیت کے 32 الزامات میں مجاز عدالت سے مجرم قرار پاچکے ہیں اور اس ماہ کی 26 تاریخ کو انھیں سزا سنائی جانی ہے۔ تاہم اب صورتِ حال بدل چکی ہے اور جج صاحب کی جرأت کہ وہ نومنتخب صدر کو سزا سنائیں؟ لہٰذا غالب امکان یہی ہے کہ پیشی سے پہلے ہی عدالتی کارروائی کو mis trail قرار دے کر داخلِ دفتر کردیا جائے گا۔ انصاف دنیا میں کہیں بھی اندھا نہیں۔ قاضی و منصف سب دیکھتے اور حفظِ مراتب بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

اس ابتدائی گفتگو کے بعد نتائج کا جائزہ:
اس سے پہلے ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ فیصلہ کن مقابلہ سات ریاستوں میں ہونا تھا، جن میں وسکونس، مشی گن اور پنسلوانیا کو ’’نیلی دیوار‘‘ کہتے ہیں۔ جیسے گدھا ڈیموکریٹک پارٹی کا نشان ہے، اسی طرح نیلا رنگ پارٹی کی شناخت ہے۔ ریپبلکن سرخ رنگ سے پہچانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا مورچہ گرم و مرطوب موسم کی حامل sun belt ریاستوں جارجیا، شمالی کیرولائنا، ایریزونا اور نواڈا پر مشتمل ہے۔ گزشتہ انتخابات میں صدر بائیڈن نے نیلی دیوار اور سن بیلٹ مورچے کا کامیابی سے دفاع کیا اور شمالی کیرولائنا کے سوا تمام کی تمام ریاستوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ اِس بار ان تمام ریاستوں میں مقابلہ سخت تو تھا لیکن توقع تھی کہ اگر سن بیلٹ مورچہ پامال ہوگیا تب بھی نیلی دیوار محفوظ رہ جائے گی، لیکن گنتی کے آغاز سے ہی خبریں کچھ اچھی نہ تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سن بیلٹ کی سب سے بڑی ریاست جارجیا کے ساتھ نیلی دیوار پر قبضہ کرکے 270 انتخابی ووٹوں کا ہدف جلد ہی حاصل کرلیا۔ نواڈا اور ایریزونا کے نتائج تادم تحریر مکمل نہیں ہوئے لیکن دونوں جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کو برتری حاصل ہے۔ اس وقت کملا ہیرس کے انتخابی ووٹوں کی تعداد 226 ہے، جبکہ 295 ووٹ جناب ٹرمپ کے کھاتے میں درج ہوچکے ہیں۔

ایوانِ صدر کے ساتھ کانگریس میں بھی مست ہاتھی نے لاغر ٹٹو کو کچل دیا۔ نتائج کے مطابق 100 رکنی سینیٹ میں ایک آزاد رکن ملا کر ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 44 نشستیں ہیں، جبکہ اپنے حریف سے 3 نشستیں چھین کر ریپبلکن کی تعداد 52 ہوچکی ہے۔ 4 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ خیال ہے کہ گنتی مکمل ہونے تک دو حامی ارکان ملا کر سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کا پارلیمانی حجم 46 اور ریپبلکن ارکان کی تعداد 54 ہوجائے گی۔ جہاں تک ایوانِ نمائندگان (قومی اسمبلی) کا تعلق ہے تو اس 435 رکنی ایوان میں 209 نشستوں پر ریپبلکن جیت چکے ہیں، 191 نشستیں ڈیموکریٹس کے ہاتھ لگیں اور 35 نشستوں پر گنتی جاری ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ گنتی مکمل ہونے تک ریپبلکن پارٹی اکثریت کا نشان یعنی 218 عبور کرلے گی۔

نتائج بحیثیتِ مجموعی غیر متوقع نہیں کہ مقابلہ سخت تھا اور جائزوں کے مطابق کلیدی ریاستوں میں جناب ڈونلڈ ٹرمپ کو معمولی سی برتری حاصل تھی۔ تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کی کارکردگی توقع سے زیادہ مہمل نکلی۔ اگر مجموعی ووٹوں کا جائزہ لیا جائے تو جناب ٹرمپ نے 2020ء کے مقابلے میں 16لاکھ ووٹ کم حاصل کیے، لیکن کملا ہیرس کاحال بہت ہی خراب رہا۔ چارسال پہلے ان کی پارٹی نے 8 کروڑ 12لاکھ ووٹ حاصل کیے، اِس بار یہ تعداد گھٹ کر 6 کروڑ 75 لاکھ رہ گئی۔

کملا جی کی خراب کارکردگی کی بنیادی وجہ غزہ نسل کُشی کے معاملے میں ان کی سنگ دلانہ بے حسی ہے۔ چار سال پہلے ان ساتوں کلیدی ریاستوں میں بائیڈن کی کامیابی مسلمانوں کی مرہونِ منت تھی۔ لیکن اِس بار اسرائیل کی اندھادھند حمایت نے مسلمانوں کو ڈیموکریٹک پارٹی سے بدظن کردیا۔ ایک سال پہلے 4 نومبر 2023ء کو وہائٹ ہائوس کے سامنے تقریر کرتے ہوئے اکنا (ICNA) کے امیر ڈاکٹر محسن انصاری نے گرج دار آواز میں کہا تھا”Mr Biden you better pack your bags and leave the White House” (بائیڈن بوریا بستر لپیٹ کر وہائٹ ہائوس سے نکل جائو)۔ اللہ نے قلندر کی لاج رکھ لی اور ایک سال بعد صدربائیڈن کے ساتھ ان کی لاڈلی بھی قصرِ مرمریں سے رخصت ہورہی ہیں۔ نتائج کے اعلان پر ایک فلسطینی خاتون نے جذبات سے رندھی آواز میں کہا ’’لگتا ہے کہ کملا کی پہلی خاتون امریکی صدر بننے کی خواہش غزہ کے معصوم لہو میں غرق ہوگئی۔ کملا جی نے غزہ نسل کُشی کے لیے اسرائیل کو bulletsدیں اور امریکی مسلمانوں نے Ballots کے ذریعے ان کی سیاست کا جنازہ نکال دیا۔‘‘

غزہ کے علاوہ عوامی ترجیحات کے ادراک میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی، حتیٰ کہ رائے عامہ کا جائزہ لینے والے اداروں سے غلطی سرزد ہوئی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ خواتین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اسقاطِ حمل کی آزادی ہے یعنی ’’میراجسم میری مرضی‘‘۔ امریکی خواتین میں ووٹ ڈالنے کا رجحان بھی زیادہ ہے، چنانچہ کملا کی انتخابی مہم کا سارا زور خواتین کے تولیدی حقوق پر تھا۔ اسی طرح تارکینِ وطن کے بارے میں ٹرمپ صاحب کے تحقیر آمیز رویّے کی وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کا خیال تھا کہ ہسپانوی اور رنگ دار اقلیتیں ان کا ساتھ دیں گی۔ اکثر لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کو رئوسا اور سرمایہ داروں کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ کملا چونکہ خود مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے ان کا گمان تھا کہ سفید پوش اور غریب طبقہ انھیں اپنے مفادات کا محافظ جانتا ہے۔

اس کے مقابلے میں صدر ٹرمپ نے ہر طبقے کے لیے مختلف حکمتِ عملی اختیار کی۔ دیہی اور مضافاتی علاقوں میں وہ سفید فام امریکیوں کو غیر ملکی تارکینِ وطن کے ’’امنڈتے ہوئے سیلاب‘‘ سے ڈراکر کہتے تھے کہ اگر امریکا کی شناخت برقرار رکھنی ہے تو سرحدوں کی نگرانی سخت کرنی ہوگی، یہ ہماری ثقافتی بقا کا سوال ہے۔ وسط شہر اور ہسپانوی آبادیوں میں معیشت کی بحالی اور ملازمت کے مواقع کی بات کرتے۔ تیل و گیس پیدا کرنے والی ریاستوں میں انھوں نے کنوئوں کی کھدائی اور پیداوار پر ماحول کے حوالے سے لگائی جانے والی پابندیاں نرم بلکہ ختم کرنے کا وعدہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکساس، لوزیانہ اور اوکلاہوما میں انھیں زبردست کامیابی ملی۔ خواتین کے اجتماعات میں انھوں نے افراطِ زر اور مہنگائی کو ہدف بنایا۔ عرب اور مسلمان آبادیوں میں انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ غزہ و لبنان میں جنگ بند کرواکر امن و خوشحالی کے لیے کام کریں گے۔ ہر جگہ انھوں نے بہت فراخ دلی سے مسلمانوں اور عربوں کے امن پسند رویّے کی تعریف کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا اصل زور اقتصادیات پر تھا اور وہ عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی مہنگائی سے نجات دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بلاشبہ شکست سے دوچار کرکے امریکی مسلمانوں نے بائیڈن انتظامیہ اور کملا ہیرس سے بدلہ لے لیا لیکن مؤثر و منظم تیسری قوت بننے کا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔ عرب امریکی سیاسی مجلسِ عمل کے پلیٹ فارم سے یہ طے ہوا تھا کہ مسلمان اِس بار گرین پارٹی کا ساتھ دیں گے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریروں اور کچھ سیاسی ترجیحات کی بنا پر مسلمانوں کی بڑی تعداد نے گرین پارٹی کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ مشی گن کے مسلم اکثریتی علاقے ڈیربورن (Dearborn) سے گرین پارٹی کی ڈاکٹر جل اسٹائن نے 22، کملا ہیرس نے 28 اور ڈونلڈ ٹرمپ نے 47 فیصد ووٹ لیے۔ گرین پارٹی کا نام 38 ریاستوں کے بیلٹ پر موجود تھا اور پارٹی کی امیدوار ڈاکٹر جل اسٹائن نے مجموعی طور پر چھ لاکھ سے زیادہ ووٹ لیے جو کُل ووٹ کا 0.4 فیصد ہے۔ اس مہم کی سب سے بڑی کامیابی ڈاکٹر بُچ وئر (Dr Butch Ware) کی شکل میں ایک عمدہ رہنما کی دریافت ہے۔ پچاس سالہ افریقی نژاد بچ ایک مستند مؤرخ اور جامعہ کیلی فورنیا سینٹا باربرا میں سماجی تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ سیرت النبیؐ پر انھوں نے کئی مقالے لکھے جن میں “Walking Qur’an PBHM” بہت مشہور ہوا۔ حالیہ انتخابات میں گرین پارٹی نے انھیں نائب صدر کا امیدوار نامزد کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی کامیابی سے عالمِ اسلام اور اقوامِ عالم پر کیا نتائج مرتب ہوں گے اس کا ذکر ہم اِن شااللہ کے اگلے شمارے میں کریں گے۔

آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.com اور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

حصہ