سید مہرالدین افضل
سورۃ الانفال کے مضامین کا خلاصہ
اَز تفہیم القرآن…
تیرہواں حصہ
(تفصیل کے لیے دیکھیے سورۃ الانفال حاشیہ نمبر8، 9، 10، 11، 12، 14، 15 اور الرحیق المختوم)
لڑائی کا آغاز:
یہ بات بہت قابلِ توجہ ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی پہل مسلمانوں کی جانب سے نہ ہوئی… نہ چیلنج کیا گیا، اور نہ ہی جنگ کے شروع ہی میں بڑی کامیابی ملنے کے بعد لوگ نعرے لگاتے ہوئے لشکرِ قریش کی طرف ٹوٹ پڑے۔ لڑائی کے آغاز میں ہی قریش اپنے تین بہترین شہ سواروں اور کمانڈروں(عتبہ، شیبہ اور ولید) سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا کہ لشکر قریش کی جانب سے ایک تیر چلا… اور قریش غصے سے بے قابو ہوکر ایک ساتھ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ جب کہ یہ موقع تھا کہ وہ اس لڑائی کے بارے میں سوچتے، اور بات چیت کا راستہ اختیار کرتے۔ دوسری طرف مسلمان اللہ تعالیٰ سے مدد اور فتح کی دعا کرنے کے بعد، اپنی اپنی جگہوں پر جمے اور ایک کے بعد ایک مشرک کے حملوں کو روک رہے تھے… اور انہیں خاصا نقصان پہنچا رہے تھے۔ ان کی زبانوں پر احد احد کا کلمہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست کرکے اللہ تعالیٰ سے مدد اور فتح کی دعا فرمانے لگے۔ آپؐ کی دعا یہ تھی: ’’اے اللہ! تُو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کررہا ہوں‘‘۔ جب لڑائی عروج پر آگئی تو آپؐ نے یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ! اگر تُو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے‘‘۔آپؐ اپنے ہاتھ بلند کرکے اپنے رب کے حضور دعا کررہے تھے… یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چادر درست کی اور عرض کیا :’’اے اللہ کے رسولؐ! بس فرمائیے، آپؐ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دعا فرمالی‘‘۔ ادھر اللہ نے فرشتوں کو اشارہ کیا کہ: ’’میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں‘‘۔ (سورۃالانفال آیت12) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی بھیجی کہ: ’’میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے‘‘۔ (سورۃ الانفال آیت 9)
فرشتوں کا نزول:
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپؐ نے سر اٹھا یا اور فرمایا: ’’ابوبکر خوش ہوجائو، تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں، اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گرد وغبار میں اَٹے ہوئے ہیں‘‘ (روایت ابن اسحاق)۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر میں تشریف لائے۔ آپؐ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپؐ پُرجوش طور پر آگے بڑھ رہے تھے… اور فرماتے جارہے تھے:’’عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا‘‘ (سورۃ القمر، آیت 45)۔ اور آپؐ نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رخ کرکے فرمایا: شاھتِ الوجوہ (چہرے بگڑ جائیں)… اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ پھر مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں تھا جس کی دونوں آنکھوں، نتھنے اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پھینکا تو درحقیقت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔‘‘ (سورۃ الانفال، آیت 17)
جوابی حملہ:
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی حملے کا حکم دیا اور فرمایا: ’’شدوا (چڑھ دوڑو)۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے، ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر… ثواب سمجھ کر… آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر… لڑے گا اور مارا جائے گا اللہ اسے ضرور جنت میںداخل کرے گا‘‘۔آپؐ نے فرمایا: ’’اس جنت کی طرف بڑھو جس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں‘‘۔ اب تک مسلمان صف بستہ ہوکر دفاع کررہے تھے، حملہ آور کو نقصان پہنچا رہے تھے کہ آپؐ نے جوابی حملے کا حکم صادر فرمایا۔ اس حکم نے اہلِ ایمان کی پوزیشن کو بہت مضبوط کردیا۔ کیوں کہ اب دشمن کے حملوں کی تیزی جاچکی تھی، اور وہ ٹھنڈے پڑ چکے تھے… جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جوشِِ جہاد عروج پر تھا۔ انہوں نے نہایت سخت، تند اور فیصلہ کن حملہ کردیا۔ وہ صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور گردنیں کاٹتے آگے بڑھے۔ ان کے جوش و خروش میں یہ دیکھ کر مزید تیزی آگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفسِ نفیس زرہ پہنے تیز تیز چلتے تشریف لا رہے ہیں، اور پورے یقین کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ ’’عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا، اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا‘‘۔ اس لیے مسلمانوں نے نہایت پُرجوش لڑائی لڑی، اور فرشتوں نے بھی ان کی مدد فرمائی۔ فرشتوں کی مدد کے سلسلے میں جو اصولی باتیں ہم کو قرآن مجید کے ذریعے سے معلوم ہیں، ان کی بنا پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرشتوں سے قتال میں، یہ کام نہیں لیا گیا ہوگا کہ وہ خود کسی کافر پر وار کریں اور اسے چوٹ لگائیں… بلکہ شاید اس کی صورت یہ ہوگی کہ مسلمان کافروں پر جو ضرب لگائیں، وہ فرشتوں کی مدد سے ٹھیک بیٹھے اور کاری لگے۔ مزید یہ کہ وہ اُن کافروں کو غصے کی آگ میں دھکیل کر مسلمانوں کے سامنے لے آئیں جن کے قتل کا فیصلہ ہوچکا ہے… اور اہلِ ایمان کے دلوں کو اپنی معیت سے مطمئن رکھیں، اور انہیں گھبراہٹ اور جلد بازی کا شکار نہ ہونے دیں۔ اسی مقصد کے لیے غنودگی طاری ہوئی۔ اسی لیے بارش کا نزول ہوا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
آیت نمبر 11 تا 20 میں ارشاد ہوا: ’’اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کررہا تھا، (یہی تجربہ مسلمانوں کو اُحد کی جنگ میں پیش آیا جیسا کہ سورہ آل عمران آیت 154 میں گزر چکا ہے۔ اور دونوں مواقع پر وجہ یہ ایک تھی کہ جو موقع شدتِ خوف اور گھبراہٹ کا تھا اُس وقت اللہ نے مسلمانوں کے دلوں کو ایسے اطمینان سے بھر دیا کہ ان پر غنودگی طاری ہونے لگی)… اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے، اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جمادے۔‘‘ (بارش رات میں ہوئی جب کہ صبح لڑائی ہونی تھی۔ اس سے مسلمانوں کو پانی مل گیا جسے انہوں نے گڑھے بنا کر اسٹور کرلیا… ریت کے جم جانے سے قدم جما کر چلنے پھرنے میں آسانی ہوگئی… جبکہ لشکر قریش چونکہ ڈھلان میں تھا اس لیے وہاں کیچڑ ہوگئی اور پاؤں دھنسنے لگے۔ شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست سے مراد گھبراہٹ کی وہ کیفیت ہے جو شروع میں مسلمانوں پر طاری ہوئی تھی) اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کررہا تھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِِ ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگائو‘‘۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کیا، اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے… یہ ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزا چکھو، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ اے ایمان والو! جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلے میں پیٹھ نہ پھیرو۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، اِلّا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے… تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا، اُس کا ٹھکانا جہنم ہوگا، اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا، اور تُو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے، اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔ (ان کافروں سے کہہ دو) ’’اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔ اب باز آجائو، تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اُسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی، اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔‘‘
ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد ’’انفال‘‘کا مفہوم واضح کرنا ہے۔ جیسا کہ آغاز میں ارشاد ہوا تھا کہ اس مالِ غنیمت کو اپنی جانبازی کا پھل سمجھ کر اس کی ملکیت کا دعویٰ نہ کرو، یہ تو دراصل اللہ کی عطا ہے اور وہی اس کا مالک ہے۔ اب اس کے ثبوت میں یہ واقعات گنائے گئے ہیں کہ اس فتح میں خود ہی حساب لگا کر دیکھ لو کہ تمہاری اپنی جان بازی، جرأت اور بہادری کا کتنا حصہ تھا اور اللہ کی عنایت کا کتنا حصہ۔ اس کے بعد خطاب کا رُخ یکایک کفار کی طرف پھر گیا ہے جن کے مستحقِ سزا ہونے کا ذکر اوپر کے فقرے میں ہوا تھا۔ مکہ مکرمہ سے روانہ ہوتے وقت مشرکین نے کعبہ کے پردے پکڑ کر دعا مانگی تھی…کہ خدایا دونوں گروہوں میں سے جو بہتر ہے اس کو فتح عطا کر۔ اور ابوجہل نے خاص طور پر کہا تھا کہ خدایا ہم میں سے جو حق پر ہو اُسے فتح دے اور جو ظلم پر ہو اُسے رسوا کردے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منہ مانگی دعائیں حرف بہ حرف پوری کردیں اور فیصلہ کرکے بتادیا کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اور اُس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے، اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا انالحمد للہ رب العالمین۔