مولانا امین احسن اصلاحی نے ماہنامہ ”الاصلاح“ اعظم گڑھ، مئی 1938ء میں علامہ اقبال کے انتقال پر یہ تعزیتی مضمون لکھا تھا، زبان و بیان اور فکر کی تابانی دیکھیے آج بھی اسی طرح موجود ہے۔ شاید اسی لیے انھیں بڑا آدمی کہا جاتا ہے۔
………………….
علامہ اقبال اپنی قوم کو چھوڑ کر جوارِ رحمتِ الٰہی میں پہنچ گئے۔
ربنااغفرلنا ولا خواننا الذین سبقو نا بالایمان۔
یہ دَور ہمارے عروج و اقبال کا دَور نہیں، بدبختی و ادبار کا دَور ہے۔ ہم پاتے کم ہیں، کھوتے زیادہ ہیں۔ اونچے درجے کے اشخاص ہم میں اولاً تو پیدا نہیں ہوتے، اور اگر دو چار پیدا ہوتے ہیں تو قبل اس کے کہ اُن کے جانشین پیدا ہوں، وہ اپنی جگہ خالی چھوڑ کرچل دیتے ہیں۔ اپنی قوم کے ان لوگوں کو گنیے جن کے دم سے آج ہماری آبرو قائم ہے اور پھر دیکھیے کہ ایک ایک کرکے ان کی صف کس طرح ٹوٹتی جارہی ہے اور کوئی نہیں جو ان کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھے۔ قوموں کے مرنے اور جینے کا ایک اصول ہے جو ہمارے موجودہ فلسفۂ قلت و کثرت سے بالکل مختلف ہے۔ ہم صرف سَروں کو گننے کے عادی ہورہے ہیں، حالاں کہ زندگی سَروں سے نہیں بلکہ دماغوں، اور دماغوں سے زیادہ دلوں سے ہے۔
مجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ تُو نہ مر جائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
جن لوگوں کے سامنے معاملے کی یہ حقیقت، اپنی پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے، کون بتا سکتا ہے کہ علامہ اقبال کی موت نے ان کے دلوں کا کیا حال کیا! دنیا تقدیر سے شکوہ سنج ہوتی ہے تو سر پیٹتی ہے، اور دشمن کی چیرہ دستیوں سے چڑتی ہے تو انتقام لیتی ہے، لیکن اقبال کا نوحہ خواں کیا کرے، وہ تو صرف خدا ہی سے شکوہ کر سکتا ہے۔
انما اشکو بثی و حزنی الی اللہ!
غالباً 1916ء یا 1917ء کا واقعہ ہے، استاد مرحوم مولانا عبدالرحمٰن نگرامی، طلبہ کی مجلس میں اقبال کا شکوہ پڑھ رہے تھے۔ میں اس مجلس میں موجود تھا۔ یہ پہلی مجلس ہے جس میں مَیں نے شعر کے اثر کو آنکھوں سے دیکھا۔ آنکھوں سے اس لیے کہ اس وقت تک میرے دماغ میں شعر کی خوبیوں اور نزاکتوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں پیدا ہوئی تھی۔
میں مجلس میں بیٹھا ہوا صاف سن رہا تھا کہ اقبال کے شعروں کی صدائے بازگشت در و دیوار سے بلند ہورہی ہے اور آنکھوں سے علانیہ مشاہدہ کررہا تھا کہ آسمان سے کوئی چیز برس رہی ہے اور ساری زمین ہل رہی ہے۔ میں نے آج تک کوئی مجلس اتنی پُراثر نہیں دیکھی اور اس ایک مرتبہ کے علاوہ شاید کبھی میرے دل نے شاعر بننے کی آرزو نہیں کی۔ لیکن یہ آرزو پوری نہیں ہوئی، کیوں کہ میں نے اقبال بننے کی آرزو کی تھی اوراقبال صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ آج بیس بائیس برس کے بعد اس مجلس کی لذیذ یاد پر رونا بھی آتا ہے اور ہنسی بھی!! ہنسی بچپنے کی اس سادہ لوحی پر کہ شاعر ہونا تو درکنار اقبال کے شعروں کو سمجھنے کی اہلیت بھی پیدا نہیں ہوئی، اور رونا اس لیے کہ وہ عظیم الشان ہستی آج اٹھ گئی ہے جو حوصلوں اور ولولوں کو دعوتِ رفعت و سبقت دینے کے لیے ایک نشان پرواز اور دماغوں کی رہنمائی و قیادت کے لیے ”پہاڑی کا چراغ“ تھی۔
شاید وکٹر ہیوگو نے کہا ہے ”زندگی کتنی ہی شاندار اور عظیم الشان ہو لیکن تاریخ اپنے فیصلے کے لیے ہمیشہ موت کا انتظار کرتی ہے“۔ دنیا کے لیے ممکن ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہو، لیکن اقبال کے لیے تاریخ نے اپنے اس کلیہ کو توڑ دیا۔ اقبال کی عظمت کی گواہی دلوں نے اُن کی زندگی میں دے دی، اب تاریخ کے لیے صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ وہ دلوں کے تاثرات کو محفوظ اور قلم بند کرلے۔
اقبال اس بزم میں یا تو بہت بعد میں آئے تھے، یا بہت پہلے۔ اتنے بعدکہ اہلِ مجلس کے دماغوں اور دلوں میں ان خیالات و افکار کے لیے ایک چھوٹے سے نقطے کے برابر بھی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ یا اتنے پہلے کہ جس صبح صادق کے وہ مبشر تھے نہ صرف یہ کہ افق میں ابھی اس کی صبح کاذب کا کوئی نشان بھی نمودار نہ ہوا تھا۔ بلکہ دنیا پر ابھی نصف شب کی ہولناک تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ لیکن اقبال کو اللہ تعالیٰ نے تسخیرِ قلوب و ارواح کے لیے اس نفوذ میں سے ایک حصہ عطا فرمایا تھا، جس سے وہ صرف اپنے اُن بندوں کو مسلح فرماتا ہے جو وقت کی فاتحیت کا تاج پہن کر آتے ہیں۔ چناں چہ تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے دیکھا کہ جس شخص کی باتیں اہلِ مجلس کے لیے اتنی بیگانہ تھیں کہ ایک شخص بھی ان کو سمجھنے والا نہ تھا، اب اتنی مانوس و محبوب ہوگئی ہیں کہ ہر بزم و انجمن کا افسانہ ہیں اور کوئی دل ایسا نہیں ہے جو اقبال کی عظمت کے آگے جھک نہ گیا ہو۔
اقبال نے جس جرأ ت کے ساتھ ہمارے علم و عمل کے ایک ایک گوشے پر تنقید کی اور جس بے خوفی کے ساتھ اپنی دیکھی ہوئی راہوں پر چل پڑنے کی دعوت دی، اس میں پیغمبرانہ عزیمت کی نمود ہے۔ جہاں تک جرح و تنقید کا تعلق ہے، مولانا حالی کی زبان بھی تیغ و سناں سے کم نہ تھی، ان کا تیشہ بھی ہمارے عمل و اعتقاد کے ہر گوشے کے لیے بے امان تھا۔ وقت کی سوسائٹی جن عناصر سے مرکب تھی ان میں سے ایک ایک کو چُن کر حالی نے پکڑا اور قوم کی عدالت میں مجرم ٹھیرا کر ان کو بے دریغ سزا دے دی، اپنی بے پناہ قوت سے ہمارے تمام اعمال و معتقدات کو ایک نئی راہ پر لگادیا۔ لیکن حالی کا کام آسان تھا۔ وہ قوم کو زمانے کے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔
چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی
اور زمانہ اپنی تمام رعنائیوں اور دلربائیوں کے ساتھ ان کی رفاقت کے لیے آمادئہ کار ہو چکا تھا۔ ان کو جو دیواریں ڈھانی تھیں وہ خود متزلزل ہوچکی تھیں اور جو عمارت بنانی تھی اس کے لیے دستِ غیب خود چونا اور گارا مہیا کررہا تھا۔ وہ خزاں کی بلبل ضرور تھے مگر موسمِ گل کی آمد آمد ان کو شہ بھی دے رہی تھی۔
مگر اقبال… اللہ اکبر! اس کی سطوت و جلالت کا کون اندازہ کرسکتا ہے! وہ زمانے سے جنگ کرنے کے لیے آیا تھا۔
زمانہ باتو نسازد تو با زمانہ ستیز
ان کو جو پیغام دینا تھا، نہ صرف یہ کہ زمانہ اس سے آشنا نہیں رہ گیا تھا بلکہ وقت کی ذہنیت بالکل اس سے مختلف قالب پر ڈھل چکی تھی اور اس کائنات کی تمام قوتیں ہم کو ایک نئی سمت میں کھینچ لے جانے کے لیے نہ صرف پوری طرح طاقتور ہوچکی تھیں بلکہ ہم نصف سے زیادہ منزل اس راہ کی طے بھی کرچکے تھے۔ مگر اقبال تسخیر قلوب و ارواح کی ایک غیبی طاقت سے مسلح ہوکر آیا اور اس نے ہم کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا، اور یقیناً یہ اسی کی برکت ہے کہ ہم جو ہر شکل و ہیئت کو قبول کرلینے کے لیے موم کی طرح نرم ہوچکے تھے، گو چٹان کی طرح سخت نہ ہوچکے ہوں لیکن اتنی صلابت ہم میں ضرور آچکی ہے کہ ہر انگلی ہم پر تصرف نہیں کرسکتی۔ یہ خودی کا وہی احساس ہے جس کو اقبال نے پوری قوت سے جھنجوڑ کر بیدار کرنے کی کوشش کی۔
اقبال کے فلسفے پر غور کرنے والے، اس کا سراغ نٹشے اور برگساں میں لگانا چاہتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ہماری منفعل اورمرعوب ذہنیت تصور بھی نہیں کرسکتی کہ یہ بادۂ تند مشرق کے کسی میکدہ کی ہوسکتی ہے۔ حالاں کہ اقبال کے خیالات کا اصلی مصدر قرآن ہے۔ یوں تو اقبال نے کلمہ حکمت جہاں پایا اس کو لیا، لیکن اس لیے کہ وہ اپنی چیز تھی۔ ورنہ جو خود کوہِ نور کی دولت کا مالک ہو وہ فقیروں کی کوڑیوں پر کیا نگاہ ڈالتا!
اقبال نے تو یہ ننگ تک گوارا نہ کیا کہ قرآنی صداقتوں اور عربی حکمتوں کو زمانے کا آب و رنگ دے کر خوشنما بنائے۔ وہی پرانا کیسہ اور وہی بے ترشے ہوئے نگینے۔ مگر جب اقبال نے اپنی ہتھیلی پر رکھ کر ان کو پیش کیا تو نگاہیں خیرہ ہوکر رہ گئیں۔ اقبال کی دنیا ہی الگ تھی۔ جب سب شفاخانۂ حجاز میں زندگی ڈھونڈنے نکلے تو وہ ریگستانِ حجاز میں موت ڈھونڈتا تھا۔ جب مرمریں سلوں اور برقی قمقموں نے حرم کو جگمگادیا تو اس نے چڑ کر کہا:
میں نا خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو
اور بے لوث صداقت کا اعجاز دیکھو کہ ہم صرف ڈھلی ہوئی، ترشی ہوئی، ملمع کی ہوئی چیزوں ہی کے دیکھنے کے عادی ہیں۔ اقبال کی یہ سادگی ہم کو بھی دیوانہ بنا لیتی ہے اور باوجود یہ کہ بغیر عقل و منطق کو ساتھ لیے ہم ایک قدم چلنے کے عادی نہیں، مگر جب اقبال کوئی بات کہہ دیتے ہیں تو کوئی نہیں جو ان سے دلیل مانگے، شاید یہ بات سچ ہے کہ سچائی اگر سچے کی زبان سے نکلے تو وہ اپنی حمایت کے لیے منطق کی محتاج نہیں۔
اقبال اور ان کی شاعری سے قوم کی جو خدمتیں انجام پائی ہیں ان پر غور کرنا مؤرخ کا کام ہے۔ ہم صرف ایک بات کا حوالہ دینا چاہتے ہیں جس کو صرف اقبال ہی نے کیا اور وہی کر سکتے تھے۔
اگر اقبال نہ پیدا ہوتے تو یقیناً ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعلیم ہمارے نوجوانوں کو اس طرح مسخ کر ڈالتی کہ ان کے اندر دین و ملت کے لیے حمیت و غیرت کا کوئی شائبہ باقی نہ رہ جاتا، وہ جس طرح ظاہر میں مسخ ہوگئے ہیں اس سے زیادہ ان کا باطن مسخ ہوجاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اقبال کو بھیجا جو معلوم نہیں کس طرح ظلمات کے ان توبرتو پردوں کو چاک کرکے ان کے دلوں میں بیٹھ گئے اور جب تک ان کی روح شعر اس کائنات کے اندر کارفرما ہے اُس وقت تک اِن شاء اللہ ان میں درد کی ایک کسک باقی رہے گی، اگرچہ دلوں کی جگہ سینوں میں پتھر پیدا ہونے لگیں۔
جب مایوسیاں گھیر لیتی تھیں، ہم اقبال کے شعروں میں ایک نشانِ امید دیکھتے تھے۔ جب تاریکیاں چھا جاتی تھیں اقبال ہمارے لیے شعاعِ ہدایت بن کر چمکتے تھے۔ وہ روحوں کو گرما دیتے تھے، دلوں کو تڑپا دیتے تھے۔ ان کی زبان سے ہم مشرق کے ضمیر کی صدائیں سنتے تھے، ان کے ہندی نغموں میں حجاز کی لَے مضطرب تھی۔ وہ زمین کے تھے مگر ان کی پرواز آسمان تک تھی۔ وہ شاعر تھے مگر ان کی شاعری میں علمِ نبوت کی روح کارفرما تھی۔ وہ دنیاداروں کے بھیس میں قلندر اور دیوانوں کے رنگ میں دانائے راز تھے۔ خداوند! ہمارا یہ شاعر کہاں گیا! اس کی روح پر تیری بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں!!