قیاس آرائی

پروفیسر اطہر صدیقی
یہ کہانی چینی فلسفی تائو کے زمانے کی ہے۔
(تائو کو لائوذی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جو چھے سو سال قبلِ مسیح میں تائومت کا بانی تھا)
لائوذی کو یہ کہانی بہت پسند تھی۔
ایک گائوں میں ایک بے حد غریب ضعیف انسان رہتا تھا، لیکن بادشاہ بھی اس سے حسد کرتے تھے اس لیے کہ اُس کے پاس ایک بہت ہی خوب صورت سفید گھوڑا تھا۔ بادشاہوں نے اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا چاہی لیکن وہ شخص کہتا تھا:
’’یہ گھوڑا میرے لیے صرف گھوڑا نہیں ہے، وہ ایک ’’فرد‘‘ ہے، ایک دوست ہے، اور کوئی اپنے فرد یا دوست کو کیسے بیچ سکتا ہے؟‘‘ وہ شخص بہت غریب تھا لیکن اس نے وہ گھوڑا فروخت نہیں کیا۔
ایک صبح اس نے دیکھا کہ گھوڑا اصطبل میں نہیں ہے۔ سارا گائوں جمع ہوگیا اور گویا ہوا:
’’تم بے وقوف بوڑھے انسان! ہم جانتے تھے کہ ایک دن گھوڑا چوری ہوجائے گا۔ بہتر ہوتا کہ تم اس کو بیچ دیتے۔ کیسی بدقسمتی کی بات ہے!‘‘
بوڑھے آدمی نے جواب دیا: ’’یہ سب کہنے کے لیے اتنی دور تک نہ جائو۔ بس اتنا کہو کہ گھوڑا اصطبل میں نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، باقی سب قیاس آرائی ہے۔ یہ ایک بدنصیبی ہے یا خوش نصیبی، میں نہیں جانتا، لیکن یہ ایک حقیر سی حقیقت ہے، کون جانتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے؟‘‘
لوگ بوڑھے پر ہنسنے لگے۔ وہ ہمیشہ سے جانتے تھے کہ وہ تھوڑا سا دیوانہ ہے۔ لیکن پندرہ دن بعد ایک رات یکایک گھوڑا واپس آگیا۔ وہ چوری نہیں کیا گیا تھا، بلکہ جنگل کی طرف نکل گیا تھا، وہ اپنے ساتھ ایک درجن جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔
پھر ایک دفعہ لوگ اس کے گرد جمع ہوئے اور کہنے لگے:
’’بڑے میاں، تم صحیح تھے، یہ بدقسمتی نہیں تھی بلکہ حقیقتاً خوش بختی ثابت ہوئی۔‘‘
بوڑھے نے جواب دیا: ’’آپ لوگ پھر بہت دور تک جارہے ہیں۔ بس اتنا کہیے کہ گھوڑا واپس آگیا، کون جانتا ہے کہ یہ خوش قسمتی تھی یا نہیں؟ یہ صرف ایک ریزہ ہے، آپ ایک جملے کا ایک لفظ پڑھتے ہیں۔ آپ اس سے پوری کتاب کے بارے میں کیا رائے دے سکتے ہیں؟‘‘
اس مرتبہ لوگ کچھ نہیں کہہ سکے، لیکن اپنے دلوں میں جانتے تھے کہ وہ غلط تھا۔ ایک درجن خوب صورت گھوڑے پاگیا تھا۔
بوڑھے آدمی کا ایک بیٹا تھا جو گھوڑے سدھاتا تھا۔ ایک ہفتے بعد ہی اس نے گھوڑے سے گر کر ٹانگیں توڑ لیں۔ لوگ پھر جمع ہوئے اور پھر قیاس آرائی کرنے لگے۔ انہوں نے کہا:
’’تم ایک مرتبہ پھر صحیح ثابت ہوئے۔ یہ ایک بدقسمتی ہی تو ہوئی کہ تمہارا اکلوتا بیٹا اپنی ٹانگوں کے استعمال سے محروم ہوگیا، اور تمہارے بڑھاپے میں وہی تمہارا سہارا تھا۔ اب تم پہلے سے بھی زیادہ غریب ہوگئے‘‘۔
بوڑھے نے جواب دیا: ’’آپ لوگ قیاس آرائیاں کرنے کے لیے مجبور ہیں، اس قدر دور تک مت جایئے، بس اتنا کہیے کہ میرے بیٹے نے اپنی ٹانگ توڑلی۔ زندگی چھوٹے چھوٹے حصوں یا ٹکڑوں میں گزرتی ہے، اور زیادہ کبھی بھی آپ کو نہیں دی جاتی‘‘۔
کچھ ہفتوں بعد ایسا ہوا کہ ملک کو جنگ لڑنا پڑی اور شہر کے جتنے بھی جوان تھے وہ سب قانوناً فوجی ڈیوٹی پر بلالیے گئے، صرف بوڑھے بزرگ کا بیٹا اس ڈیوٹی سے بچ گیا، اس لیے کہ وہ معذور ہوگیا تھا۔ پورا شہر چلاّ رہا تھا اور رو رہا تھا، کیوںکہ جنگ بہت لمبی ہونے جارہی تھی اور وہ جانتے تھے کہ ان میں سے بہت سے جوان کبھی واپس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
شہر کے لوگ بوڑھے کے پاس گئے اور بولے: ’’تم صحیح تھے بزرگ، تمہارا بیٹا معذور سہی لیکن تمہارے پاس تو ہے۔ یہ تمہارے لیے خوش بختی ثابت ہوئی، ہمارے بیٹے تو ہمیشہ کے لیے چلے گئے‘‘۔
بوڑھے آدمی نے پھر کہا ’’تم لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہو۔ کوئی نہیں جانتا! تم صرف یہ کہوکہ تمہارے بیٹے فوج میں جانے کے لیے مجبور تھے اور میرے بیٹے کے ساتھ زبردستی نہیں کی گئی۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ خوش بختی ہے یا بدنصیبی‘‘۔
قیاس آرائی سے پرہیز کرو، ورنہ… چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھوگے تو خیالی خطرات میں گھرے رہوگے اور نتائج نکالنے کی کوشش کروگے۔ ایک مرتبہ قیاس آرائی یا فیصلہ کرلینے سے ذہنی کشادگی ختم ہوجاتی ہے۔ دماغ مائوف ہوجاتا ہے۔ ذہن ہمیشہ فیصلہ چاہتا ہے، کیوں کہ سوچتے رہنا ہمیشہ اندیشہ ناک اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔
درحقیقت سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر ایک راستہ مسدود ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے، ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا وا ہوجاتا ہے۔ اگر آپ ایک چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں تو اس سے بھی اونچی چوٹی ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ صرف وہ لوگ باہمت ہوتے ہیں جو منزل کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ سفر جاری رکھنے میں ہی مطمئن رہتے ہیں۔ جو حال ہی میں رہنا پسند کرتے ہیں، وہی سفر کی تکمیل کرپاتے ہیں۔