فاروق عبداللہ کی رہائی ،عالمی مداخلت کا نتیجہ؟۔

کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی سے پہلے بھارت اپنی صفوں کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوششوں میں مصروف

بھارت کشمیر کی فضا میں ’’ٹارزن‘‘ بنا پھرتا ہے۔ اس اعتماد اور طاقت کی حیثیت پانیوں کے دوش پر تیرتی کاغذ کی نائو سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ کشمیر کی زمین بھارت کے پیروں تلے ہے، نہ عوام اُس کے ساتھ ہیں۔ عوام ایک الگ مقام پر حالات کی دیوار سے لگے بیٹھے ہیں، تو بھارت دوسری سمت اور متضاد مقام پر کھڑا منصوبے بنارہا ہے۔ اس طرح کشمیریوں اور بھارت کے درمیان اعتماد کی ایک نہ ختم ہونے والی خلیج حائل ہے۔ بھارت کے اعتماد کا راز فوج کا جمائو، ریاستی طاقت، فیصلوں کو سنانے اور منوانے کی صلاحیت ہے۔ یہ اوّل وآخر طاقت کے استعمال کی کارفرمائی کا اصول ہے۔ ایک بڑی آبادی اور علاقے کو جیل میں بدل کر فیصلے ٹھونسے جانے کا سلسلہ جاری ہے، مگر طاقت کے اس اصول کا اختتام آخرکار اس خلا کو پُر کرنے کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے۔
بھارت کا کشمیر کے حالات میں ’’ٹارزن‘‘ بن کر پھرنا تصویر کا ایک رخ ہے، جبکہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بھارت ایک دیدہ و نادیدہ دبائو کی زد میں ہے۔ یہ دبائو امریکہ، اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت بہت سے حلقوں کی جانب سے قائم اور برقرار ہے۔ اضافی فوجی دستوں کی علامتی واپسی اور انٹرنیٹ کی پابندیوں کے جزوی خاتمے کے بعد اب کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر کے حالات سے بین الاقوامی کھلاڑی اس طرح کبھی الگ نہیں رہے جیسا کہ مختلف ادوار اور مواقع پر نظر آتا ہے۔ کشمیر میں 1990ء کی دہائی میں زوردار عسکریت کی لو مدھم کرکے ایک سیاسی عمل بحال کرانے میں امریکہ کا پسِ پردہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اُس دور میں امریکہ کے دہلی میں مقیم سفیر رابرٹ بلیک ول اس سارے مفاہمتی فارمولے کو زمین پر نافذ کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ عسکری تنظیموں کی بندوقوں کو اس انداز سے خاموش کرانے میں بھی امریکہ نے فعال کردار ادا تھا کہ کشمیر میں سیاسی عمل کو ایک راہ مل سکے اور نیشنل کانفرنس کے وابستگان کسی خوف کے بغیر بالائے زمین آکر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ امریکہ نے پاکستان کو بھی اس حوالے سے مزاحمانہ کے بجائے مفاہمانہ کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ امریکی اہلکاروں نے درہ آدم خیل سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی تھی کہ کشمیری حریت پسندوں کو اسلحہ کی ترسیل کہاں سے ہورہی ہے۔ پاکستان کی طرف سے خاموش ضمانت ملنے کے بعد امریکیوں نے کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے بھارت سمیت تمام متعلقہ کوارٹرز کے لیے سبز جھنڈی لہرا دی۔ اس طرح کشمیر میں سیاسی عمل کا آغاز اور فاروق عبداللہ کو وزیراعلیٰ بنوانے میں امریکہ کا کردار اہم تھا۔
کشمیر میں مفتی سعیدکی قیادت میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے قیام کو بھی امریکہ اور برطانیہ کی خصوصی حمایت حاصل تھی۔ ایک مرحلے پر ان دونوں جماعتوں کو بدل کر حریت کانفرنس سے وابستہ ایک اہم شخصیت شبیر احمد شاہ کو بھی امریکیوں نے شیشے میں اُتار لیا تھا، اور انہیں وزیراعلیٰ بننے کی راہ دکھائی تھی۔ مگر شبیر احمد شاہ بہت جلد اس معاملے میں محتاط ہوکر پیچھے ہٹ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں باور کرا دیا گیا تھا کہ بھارت انہیں ماضی کے کرداروں کی طرح مطلب براری کے لیے استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دے گا۔
نائن الیون سے کچھ ہی پہلے کشمیر میں حزب المجاہدین کی یک طرفہ جنگ بندی میں بھی امریکہ کا کردار اہم تھا۔ جنگ بندی کرکے دنیا کو حیرت میں ڈالنے والے کشمیری کمانڈر عبدالمجید ڈار برطانوی اور امریکی سفارت کاروں سے رابطوں میں تھے۔ اسی طرح فاروق عبداللہ اور مفتی سعید دونوں امریکہ کے قریب رہے ہیں۔ جنرل پرویزمشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان کشمیر پر جو امن فارمولا روبہ عمل ہوا اُس میں امریکہ ایک مضبوط ضامن کے طور پر موجود تھا۔ کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی کے لیے امریکہ کا یہ دبائو بھارت پر اب بھی قائم ہے۔ فاروق عبداللہ کی رہائی اسی دبائو کا نتیجہ معلوم ہورہی ہے۔
کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی سے پہلے بھارت اپنی صفوں کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوششوں میں مصروف ہے، کیونکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے بیرونی رابطوں کے باعث بھارت ان سیاسی قوتوں پر پوری طرح اعتماد کرنے سے گریزاں ہے، اسی لیے ان دونوں جماعتوں کو ایک حد میں رکھنے کے لیے پی ڈی پی کے منحرف الطاف بخاری کی قیادت میں ’’اپنی پارٹی‘‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ کشمیر میں کئی سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس پر ’’مودی کی اپنی پارٹی‘‘کی پھبتی کسی ہے۔ اس دوران ’را‘ کے سابق چیف اے ایس دولت نے ایک معنی خیز بات کی ہے کہ کشمیر کے اگلے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ہوں گے۔ را کے سابق سربراہ کی بات اگر درست ہے تو پھر یہ سمجھنا چاہیے کہ کشمیر پر عالمی قوتیں اس طرح لاتعلق نہیں جیسا کہ نظر آرہا ہے۔ پردے کے پیچھے سرگرمیاں جاری ہیں اور عالمی طاقت کا اونٹ خیمے میں سر دئیے بیٹھا ہے۔ گویاکہ مسئلہ کشمیر مودی کے انداز سے حل نہیں ہوا، کشمیریوں کے انداز سے حل ہونا ابھی باقی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بھارت نواز کشمیری لیڈروں فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی کو حریت پسند قیادت کی طرح کسی عتاب یا عقوبت کے طور پر جیلوں میں نہیں رکھاگیا، بلکہ مستقبل کے منظرنامے پر ان سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ یہ بات چیت بھارت بھی کررہا ہے اور اس میں عالمی ضامن بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ یہی عالمی ضامن یہاں سے مڑ کر پاکستان کی طرف آئیں گے، اور دوسرے مرحلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی خلیج کم کرانے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان سے مفاہمت ہوجانے کا اندازہ حریت پسند کیمپ کے ساتھ ہونے والے سلوک سے ہوگا۔ حریت پسندوں پر سے عتاب کا کوڑا کسی حد تک ہٹ گیا اور ان کی رہائی عمل میں آنا شروع ہوئی، منہ موڑے بیٹھی بھارتی عدالتوں نے انہیں ریلیف دینا شروع کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مفاہمت کا جادو چل گیا ہے۔ سردست پاکستان اور بھارت میں کسی ٹھوس مفاہمت کے آثار نظر نہیں آتے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مفاہمت کے آثار کشمیر کی زمین پر دکھائی دیں گے۔