اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دوسری سہ ماہی میں معیشت پر رپورٹ جاری کردی اور کہا کہ معاشی استحکام کے اقدامات اثر دکھانے لگے، مالی سال 2019ء میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح 3.5 سے 4 فیصد رہے گی، جبکہ مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 6.5 سے 7.5 فیصد رہے گی۔ شرح سود، شرح تبادلہ، ترقیاتی اخراجات میں کمی، ریگولیٹری اقدامات معاشی سرگرمیوں پر اثر دکھانے لگے، معاشی تنگی کے اثرات بڑے پیمانے پر صنعتی تنزلی کا سبب بنے رہے، درآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی سے نجی قرض گیری کم رہی، خریف کی فصل کی پیداواری قلت نے معاشی سست روی کو بڑھاوا دیا، لاگت اور طلب کا دبائو مہنگائی میں اضافے کا سبب رہا۔ پہلی ششماہی میں محاصل 2.4فیصد کم رہے۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر مالی سال 2019ء کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ پیر کو جاری کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوسری سہ ماہی کے آغاز پر دسمبر 2017ء سے کیے جانے والے معاشی استحکام کے اقدامات کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں، خاص طور پر زری سختی اور اس کے ساتھ ساتھ شرح مبادلہ میں ردّوبدل، وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات میں کمی اور ضوابطی اقدامات سے ملکی طلب کو قابو کرنے میں مدد ملی، جس کی عکاسی درآمدات میں نمایاں کمی سے ہوتی ہے۔ اس کے ہمراہ بیرونی طلب میں کمی، خریف کی بڑی فصلوں کی توقع سے کم کارکردگی، معینہ سرمایہ کاری قرضوں میں اعتدال کے باعث معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
کہتی ہے تجھ کو خلق ِخدا غائبانہ کیا
مجھے اپنے میٹرک کی نصابی کتاب ’’سرمایہ اردو‘‘ کی یاد آرہی ہے۔ اس کے حصہ نظم میں خواجہ حیدر علی آتش کی دو تین غزلیں بھی تھیں۔ ایک غزل کا مطلع یہ تھا:
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
دیکھیے انسانی حافظہ بھی عجیب ہے۔ اس شعر کی یاد مجھے اگلے روز رشین ٹی وی (RT) پر ایک ٹاک شو دیکھ اور سن کر آئی۔ اس ٹاک شو کا نام تو معلوم نہ ہوسکا کہ مغرب کے ٹی وی پروگراموں میں اینکرز/ میزبانوں کے نام نہیں لیے جاتے، جبکہ ہمارے ٹاک شوز کے ناموں میں تو ان کے ناموں کی پہچان چھائی رہتی ہے۔ کس کس کا نام لوں۔ لوگ ناراض ہوجائیں گے!
رشین ٹی وی کے آدھے گھنٹے کے اس شو میں البتہ جو مہمان تھے اُن کا تعارف کروایا گیا تو میرے کان کھڑے ہوئے۔ یہ کوئی پی۔ ایس راگھون (P.S.Raghwan) تھے جو روس میں انڈیا کے سفیر رہ چکے تھے اور آج کل انڈیا کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین ہیں۔
اس شو کا عنوان تھا: World Apart یعنی ’’متضاد یا متخالف دنیائیں‘‘۔۔۔ اس ٹاک شو میں جو موضوع زیر بحث تھا وہ حالیہ انڈو پاک ملٹری اسٹینڈ آف تھا، اور اس ذیلی موضوع کو اس شو کے منتظمین نے ’’اسٹرائیک اینڈ اسٹرائیک‘‘ (Strike and Strike) کا نام دیا تھا۔ یہ ذیلی عنوان انڈیا کی طرف سے 26فروری کو بالاکوٹ پر فضائی حملے کی اسٹرائیک اور اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے 27فروری کی اس اسٹرائیک کا تھا جس میں پاک فضائیہ نے انڈیا کے دو طیارے (مگ۔21اور ایس یو 30) مار گرائے تھے اور ایک بھارتی پائلٹ (ابھی نندن) کو پکڑ لیا تھا (جسے بعد میں رہا کرکے واپس انڈیا بھیج دیا گیا)۔۔۔ اس پروگرام کی اینکر ایک خوبرو اور نوخیز خاتون تھی (ہمارے ہاں کی خواتین اینکرز کے عین مطابق) اس کا پہلا سوال انڈیا کے سابق سفیر سے یہ تھا: ’’آج روس کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ انڈیا نے پاکستانی علاقے کی خلاف ورزی کی اور اس طرح ایک بین الاقوامی ضابطے کو توڑا‘‘۔۔۔ اس سوال کا جواب مسٹر راگھون نے جو دیا وہ یہ تھا: ’’کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ماسکو کا ہر شہری وہی کچھ خیال کرتا ہے جو آپ کہہ رہی ہیں؟۔۔۔ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔ ماسکو کے گلی کوچوں میں یہ پرسپشن،جیسا کہ آپ کہہ رہی ہیں، شاید پایا جاتا ہو گا، لیکن دونوں ملکوں (انڈیا اور رشیا) کے لیڈر ایک دوسرے کو بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں‘‘۔
اینکر کے اس اولین سوال نے ہی سابق سفیر صاحب کو تقریباً بے بس (Disarm) کردیا تھا۔ اور اس کے بعد تو اللہ دے اور بندہ لے والا حساب ہوگیا۔ میں اینکر کی باتیں سن سن کر حیران ہورہا تھا کہ انڈیا اور روس کے درمیان آج بھی بہت گہرے تعلقات پائے جاتے ہیں جن کو اگر دوستانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس شو میں ایک ٹِکر یہ بھی چل رہا تھا کہ روس، انڈیا کے پانچ گہرے دوستوں میں سے ایک ہے۔
ایک اور بات بھی میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ پاک فضائیہ نے جو دو انڈین جیٹ مار گرائے وہ روسی تھے، اور روس اس طرح اپنے ہی اسلحہ کو برباد کرنے والے ملک (پاکستان) کی مدح سرائی کیوں کررہا تھا۔ رشین ٹی وی (RT) سرتاپا حکومتی ٹیلی ویژن ہے، ساری دنیا میں دیکھا جاتا ہے، اس کا عملہ زیادہ تر ایسے مردوں اور خواتین پر مشتمل ہے جن کا تعلق روس سے نہیں، بلکہ برطانیہ اور امریکہ سے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس چینل کی پذیرائی کا گراف ساری دنیا میں بہت بلند ہے۔ خاتون اینکر نے اتنی صاف شفاف زبان اور زوردار لہجے میں باتیں کیں اور مسٹر راگھون کو اتنا زِچ کیا کہ ایک موقع پر ان کو کہنا پڑا: ’’معلوم ہوتا ہے آپ پاکستان کا کیس لڑ رہی ہیں!‘‘ تاہم اینکر کی برجستگی اور موضوع پر اس کی گرفت بے مثال رہی۔
(روزنامہ پاکستان،19مارچ2019ء)
کیلی فورنیا، نامعلوم شخص نے مسجد کو آگ لگا دی
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر اسکنڈیڈو میں نامعلوم شخص نے مسجد کو آگ لگا دی۔ مسجد میں موجود افراد نے فوراً اقدامات کرتے ہوئے آگ بجھائی۔ رات سوا 3 بجے لگائی گئی آگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم مسجد کے بیرونی حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ مسجد کو آگ لگانے کا ملزم فرار ہوگیا، جس نے جاتے ہوئے سفید فام نسل پرستی اور نیوزی لینڈ حملے سے متعلق نوٹ چھوڑا ہے۔