اہل ِعلم کی قدر و منزلت کرنا سیکھیں!۔

دنیا میں انسان امیر بھی ہیں غریب بھی۔ امیروں میں بھی ایسے لوگ ملیں گے جو خاندانی رئیس نہیں ہیں، نہ کسی سیٹھ ساہوکار کے بیٹے ہیں۔ وہ اپنی ذہانت اور محنت سے دولت مند بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حصولِ دولت کا انحصار عقل پر ہے، اور جس نے دولت کمالی وہ عقل مند ہے، اور جس نے نہیں کمائی وہ بے وقوف ہے۔
ہارون الرشید نے مصر فتح کیا تو ایک حبشی غلام کو گورنر مقرر کیا۔ کہتے ہیں اُس میں عقل و سمجھ بالکل نہیں تھی، جب ایک سال بے موسم بارشوں کی وجہ سے مصر میں کپاس کی فصل تباہ ہوگئی تو کاشت کاروں نے اُس کے پاس پہنچ کر فریاد کی۔ گورنر صاحب نے فرمایا: تم لوگوں نے غلطی کی، تم کو کپاس کے بجائے اون بونی چاہیے تھی۔ اس پر ایک شاعر نے شعر کہا، اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر انسان کی روزی میں عقل کی وجہ سے اضافہ ہوتا تو بے وقوف سے بڑھ کر کوئی مفلس نہ ہوتا۔ خالقِ کائنات نادان کو اس طرح روزی پہنچاتا ہے کہ عقل مند آدمی حیران رہ جاتا ہے۔
اس لیے اگر آپ اپنے دوسرے ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ خوش حال ہوگئے ہیں یا ترقی کرگئے ہیں تو اسے اپنی عقل مندی خیال نہ کریں۔ یہ عین ممکن ہے کہ دوسرے آپ سے زیادہ عقل مند ہوں، لیکن اللہ نے آپ پر کرم کیا، یا حُسنِ اتفاق سے آپ کے لیے موقع پیدا ہوگیا۔ اس لیے اپنی اچھی حالت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہیے اور اس اچھی حالت کی وجہ سے بری حالت میں مبتلا دوستوں، عزیزوں کو حقیر نہ خیال کیجیے۔ اور اگر آپ دوسرے ساتھیوں کے مقابلے میں زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں تو نہ اس پر کڑھنے جلنے کا کوئی فائدہ ہے، نہ حسد میں مبتلا ہونے کا۔ اور نہ اس کی وجہ سے آپ کو کسی احساسِ کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے آپ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے باوجود آگے نکل جانے والوں سے زیادہ اچھے انسان ہوں، زیادہ علم و عقل رکھتے ہوں اور اچھے اخلاق کی وجہ سے لوگوں میں آپ کی قدر و منزلت اہلِ دولت اور جاہ و منصب رکھنے والوں سے زیادہ ہو۔ دنیا میں مال کی کثرت یا عہدے کی بلندی کی وجہ سے جو عزت حاصل ہوتی ہے وہ انسان کی اپنی حقیقی عزت نہیں ہوتی، یہ عہدے یا دولت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن جب ایک عام آدمی کو جو نہ دولت رکھتا ہے نہ عہدہ، عزت کا مقام حاصل ہوتا ہے تو یہ اُس کی ذات کا احترام ہے۔ اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ، جو دنیوی لحاظ سے کچھ نہ ہونے کے باوجود عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ اب ہمارا معاشرہ بہت ظاہر پرست اور مادہ پرست ہوگیا ہے۔ وہ ظاہری باتوں کو دیکھ کر دوسروں کے بارے میں اپنا رویہ متعین کرتا ہے۔ جس کے پاس کار، کوٹھی، بڑا کاروبار یا بڑا عہدہ ہے وہ ہمارے معاشرے میں عزت دار ہے۔ اور جو چھوٹے سے گھر میں جدید آسائشوں سے محروم زندگی گزار رہا ہے وہ خواہ کتنا ہی اچھا آدمی ہو لیکن عزت و شرف سے محروم ہے۔ لیکن اسلام نے عزت و برتری کا جو معیار دیا ہے وہ دولت کا نہیں۔ مسلم معاشرے میں سب سے برتر اور بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھتا ہے اور جس کے اخلاق اچھے ہیں، اور جس کا وجود دوسروں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر معاشرے میں یہ معیار رائج ہوجائے اور اس بنیاد پر انسانوں کی قدر و منزلت کا تعین ہونے لگے تو معاشرے کی نوعیت بدل جائے گی۔ وہ نہیں رہے گی جو اب نظر آتی ہے۔ اس معاشرے میں دولت مند اپنی دولت پر نازاں ہونے کے بجائے اپنی ایمانی و اخلاقی کمزوریوں کے خیال سے شرمندہ ہوں گے، اور جن میں ایمانی و اخلاقی خوبیاں زیادہ ہوں گی، خواہ وہ غریب ہی ہوں، ان کے آگے احترام سے اپنا سر جھکائیں گے۔
ایمان اور تقویٰ کے بعد اگر کوئی چیز معیارِ فضیلت ہے تو وہ علم ہے، بشرطیکہ اس کے علم سے دوسرے فیض حاصل کرتے ہوں اور اُس کا اپنا عمل اس کے علم کے مطابق ہو۔
مسلمان معاشرے ہی میں نہیں، ہر ایسے معاشرے میں جو ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے، اہلِ علم کا بڑا احترام ہوتا ہے۔ لیکن جب معاشرے کی ترقی رک جائے اور وہ زوال کے راستے پر چل پڑے تو اہلِ علم کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ وہ اپنی روٹیوں کے لیے ذلیل ہوتے اور ذلیل کیے جاتے ہیں، اور یہ بھی اللہ کے عذاب کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ شیخ سعدیؒ کی حکایات میں ایک حکایت ہے کہ ایک درویش خانقاہ چھوڑ کر مدرسے میں چلا گیا۔ اس سے کسی نے پوچھا کہ تُو درویشی چھوڑ کر یہاں کیوں آگیا؟ اس نے جواب میں شعر پڑھا کہ درویش صرف اپنے آپ کو بچاتا ہے اور عالم اپنے ساتھ دوسرے ڈوبنے والے کو بھی بچالے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عالم اور استاد کا درجہ بہت اونچا سمجھا گیا۔ لیکن اب اس مقامِ عظمت پر بھانڈ، مسخرے یا عشوہ فروش اداکارائیں فائز ہیں، اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے دورِ زوال میں ہر جگہ گوّیوں، سازندوں، طبلچیوں، خوشامدیوں اور سازشیوں نے شاہی دربار میں باریابی حاصل کی ہے اور اہلِ علم پر ان کو ترجیح دی گئی۔
حدیثِ نبویؐ ہے: عابد و عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے کہ میری فضیلت تمہارے ادنیٰ آدمی پر۔
حضرت بایزید بسطامیؒ کہتے تھے: ایک عالم کی طاقت ایک لاکھ جاہلوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی کہا تھا کہ علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے، اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں، پھر کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔
علم سے مراد دین اور دنیا دونوں کا علم ہے، اور جس معاشرے میں یہ دونوں طرح کے علم اور ان کے عالموں کو اپنی اوّلین ضرورت سمجھا جائے وہ ترقی کی راہ پر چلتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں نے صرف قرآن، حدیث، فقہ اور تقوے میں ہی نہیں… ریاضی، کیمیا، جغرافیہ، طب اور دوسرے مادی علوم میں بھی ترقی کی، اور ان کے ذوقِ علمی کے نتیجے میں دنیا علمی اور سائنسی دور میں داخل ہوئی، لیکن وہ خود پیچھے رہ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اہلِ علم کی نہ صرف ناقدری کی گئی بلکہ ان کو فکری اور علمی آزادی بھی نہیں دی گئی، اور اختلافات کے سبب انہیں جلاوطنی اختیار کرنی پڑی یا وہ گوشۂ گمنامی میں چلے گئے، معاشرہ بہ حیثیتِ مجموعی مختلف علوم کے ماہرین کو ان کا صحیح مقام و مرتبہ نہیں دے سکا۔ ان کی جگہ جاہلوں، خوشامدیوں نے بلند مناصب حاصل کیے۔ امورِ سلطنت میں بھی عالموں، عاقلوں، دانشوروں کی مشاورت نہیں رہی، اور زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ زراعت ہو، دست کاریاں ہوں یا بین الاقوامی تجارت… علم و آگہی رکھنے والوں کی رہنمائی نہ ہونے کے سبب ہمارا سفر پسماندگی کی طرف شروع ہوگیا۔
ہمارے مقابلے میں یورپ نے اپنے علما اور مختلف ماہرینِ فن کو اپنے سر پر بٹھایا، انہیں عزت دی اور ان سے رہنمائی حاصل کی۔ انہوں نے اپنے اہلِ علم کو دنیا کے ہر گوشے میں بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے ان مقامات کے حالات قلمبند کرکے لے آئیں۔ یورپی سیاحوں کے یہ سفرنامے آج بھی مطالعے کے لیے دستیاب ہیں، اور ان کی فراہم کردہ معلومات سے ہی یورپ نے اپنی سیاست و تجارت میں کامیابی حاصل کی۔ آج مغربی دنیا اپنے اصل راستے سے بہت ہٹ چکی ہے، لیکن جب اپنے سفرِ ترقی کا آغاز کیا تھا تو ان کی توجہ علومِ نافعہ پر تھی۔ یعنی وہ علم جو انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس کی ضرورت کی تکمیل میں مدد دیتے ہیں۔ ان علومِ نافعہ کی وجہ سے ہی خدا نے مغرب کو دنیا کی امامت، قیادت اور سیادت دی۔ مگر اب مغرب کا رخ بھی اُن علوم و فنون کی طرف ہوگیا ہے جو انسانی روح اور اس کی اجتماعیت کے لیے ضرر رساں ہیں، اس لیے مغرب کا زوال قریب ہے۔ لیکن وہ ہم سے پھر بھی بہت اچھے ہیں، اور اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو صرف ایک ہی تدبیر ہے کہ ہم اہلِ علم کی قدر و منزلت کرنا سیکھیں۔ صرف اہلِ دولت یا اہلِ اقتدار کو ہی ذی عزت نہ خیال کریں۔
(12 تا 18 نومبر1999ء)