جب پاکستان بن رہا تھا

جنون اور دیوانگی ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت انسان کو اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد میں اتنا منہمک کردیتی ہے کہ پھر اسے کسی دوسرے کام کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ ظاہر بین آنکھیں ایسے لوگوں کو ہمیشہ سے دیوانہ گردانتی چلی آئی ہیں۔ اس مادی دور میں تو یہ سوچ کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

مشہور فلسفی اور دانش ور F.H.Bradley نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب Appearence & Reality میں اسی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ دنیا میں انسانی فلاح اور سائنسی و علمی ترقی کے جتنے بھی کارنامے انجام پائے ہیں، ان سب کا محرک یہی جنون اور دیوانگی تھی۔ حرفِ حق کہنے کی پاداش میں بخوشی زہر کا پیالہ پی کر زندگی نثار کرنے والا سقراط بھی ایک دیوانہ ہی تو تھا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، اس کے ہر ہر ورق پر انہی دیوانوں کی داستانیں رقم ہے۔ دور نہ جائیں، وطنِ عزیز کو دیکھ لیں۔ اس کا قیام جنون ہی کا نتیجہ نہیں تھا تو اور کیا تھا! تپ دق جو اُس وقت ایک لاعلاج مرض تھا، اس میں مبتلا نحیف جسم کے مالک کی آواز پر کروڑوں مسلمانوں کا منتشر ہجوم ایک سیسہ پلائی قوم بن گیا۔ ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان اور لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کا نعرہ ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آگیا۔ پاکستان بن گیا، تب بھی قائد نے شدید بیماری کی حالت میں ایک ایک لمحہ وطنِ عزیز کی بقاء کے لیے وقف رکھا۔ جنون اور وارفتگی کی انتہا دیکھیں، کرنل الٰہی بخش جو قائد کے معالج تھے، کہتے ہیں کہ آخری لمحات میں جب قائد کی سانس اکھڑتی نظر آئی تو ہم نے ان کے مصنوعی دانت نکال دیے۔ قائد کے ہونٹ ہل رہے تھے، میں نے کان قریب کرکے سننے کی کوشش کی۔ باوجود کوشش کے پورا جملہ تو سمجھ میں نہ آسکا، صرف دو لفظ اللہ اور پاکستان ہی سن سکا، البتہ درمیان کے الفاظ سمجھ میں نہیں آئے۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس دنیا کی ساری رونقیں اور ترقی اسی جنون کی مرہونِ منت ہیں۔ صلے اور ستائش سے بے پروا زندگی کے ہر ہر شعبے میں مصروفِ کار لوگوں کے جنون سے دنیا ہمیشہ فیض یاب ہوتی چلی آئی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ارضی دنیا کو وہ کچھ دیا جس کے باعث وہ بسر کیے جانے کے قابل ہوئی۔ ارضی دنیا کی رونقیں انہی کے دم سے قائم ہیں جنہوں نے اس کی تعمیر میں اپنا سرمایۂ حیات کھپا دیا۔ آج اردو صحافت کی دنیا کے ایک ایسے ہی دیوانے کی یاد بے طرح آئی، اس بندۂ خدا کا نام منیر احمد منیر ہے۔ اردو صحافت میں جب بھی مصاحبہ نگاری (Interview) کا ذکر ہوگا تو منیر احمد منیر کے تذکرے کے بغیر بات تکمیل کو نہیں پہنچے گی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ان کے انٹرویو تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ پر ان کے انٹرویو ’’المیۂ پاکستان کے پانچ کردار‘‘ جنرل یحییٰ خان، ان کے بھائی آغا علی محمد، جنرل گل حسن، ایئر مارشل رحیم اور میجر نادر پرویز کے انٹرویو ہمارے فوجی حکمرانوں کے ذہنی اور اخلاقی افلاس کے مکمل عکاس ہیں۔ اسی طرح رائو رشید کا طویل انٹرویو ’’جو میں نے دیکھا‘‘ پاکستان کی سیاسی اور مارشل لائی تاریخ کا ایک چشم کشا باب ہے۔ ذوقِ مطالعہ میں خطرناک حد تک کمی کے باوجود یہ دونوں کتابیں مسلسل چھپ رہی ہیں اور پڑھی جارہی ہیں۔

حاجی حبیب الرحمن جو ایک زمانے میں آئی۔ جی پولیس اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ بھی رہے ہیں، ان کا انٹرویو جو ضخامت کے اعتبار سے شہاب نامہ کے برابر ہے، بڑی خاصے کی چیز ہے اور حیران کن انکشافات سے لبریز ہے۔ یوں تو منیر صاحب کے معرکوں کا تذکرہ بہت طویل ہے، لیکن طوالت کے خوف سے ہم ایک مزید کتاب کے تذکرے کے ساتھ اس موضوع کو سمیٹتے ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے انتقال کے فوری بعد پہلا اور وقیع ’’سید مودودیؒ نمبر‘‘ نکالنے کا اعزاز بھی منیر صاحب ہی کو حاصل ہے۔ یہ نمبرآج 44سال بعد بھی چھپ رہا ہے۔

منیر صاحب کی طبعی عمر بڑھاپے میں داخل ہوچکی ہے لیکن اس کے برعکس ان کا جوشِ جنون جوان سے جوان تر ہوتا چلا جارہا ہے۔

مدتیں ہو گئیں فرازؔ مگر
وہ جو دیوانگی تھی، ہے ابھی

منیر صاحب کی دیوانگی کا ایک مظہر ان کی مرتب کردہ تازہ کتاب ’’جب پاکستان بن رہا تھا‘‘ ہے۔

ایک نسل تو وہ تھی جس نے پاکستان کو بنتے دیکھا، دوسری نسل نے پاکستان بننے کی داستان عینی شاہد نسل سے ایک آپ بیتی کی طرح سنی۔ پہلی نسل تو کب کی راہیِ عدم ہوچکی، البتہ دوسری نسل کے لوگ خال خال باقی تو ہیں لیکن پیرانہ سالی کے باعث اس داستان کو سنانے کی سکت نہیں رکھتے ۔ منیر صاحب نے آگ اور خون کے دریا عبور کرکے اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور اولاد کی جانوں اور عصمتوں کی لازوال قربانی کے بعد پاکستان پہنچنے والی نسل کی لازوال داستان کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرکے اس داستان کو امر کردیا،اور 14 اگست کو جشنِ آزادی منانے والی نسل کو یہ احساس دلایا ہے کہ یہ آزادی یوں ہی حاصل نہیں ہوئی، اس کے حصول کے لیے آگ اور خون کے دریا عبور کرنے پڑے، انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے بعد یہ آزادی حاصل ہوئی تھی۔ مال و جان تو ایک طرف رہے ، عزتوں اور عصمتوں کی لازوال قربانی کے بعد یہ ملک حاصل ہوا تھا۔ منیر صاحب نے اس داستان کی آنکھوں دیکھی اور اپنے اوپر بیتی قربانیوں کے تذکرے کو رقم کرکے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان کا یہ کام ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں باعث ِاجر ہوگا۔

اس کتاب کو پڑھتے وقت غالب کا شعر بار بار زبان پر آتا ہے ؎

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل جگر تشنۂ فریاد آیا

اس کتاب پر دو سطری تبصرہ یہ ہے کہ اس کے مطالعے کے دوران آنسوئوں کی روانی، اور دل کو تھامنا ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان سے محبت کرنے والے ہر فرد کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کتاب کھولتے ہی پہلا ورق بعنوان ’’انتساب‘‘ چند سطروں پر مشتمل ہے۔ ان چند سطروں کی خواندگی کے بعد طبیعت پر جو اثرات مرتب ہوئے ان کا الفاظ میں بیان ممکن نہیں۔ انتساب ملاحظہ ہو:

انتساب

س: قیام پاکستان کے وقت مسلمان مہاجرین کے جو قافلے لاہور آتے تھے، وہاں بھی کام کیا آپ نے؟

ج: منیر صاحب! جانتے ہو نا، کس نے بنایا پاکستان (روتے ہوئے)۔ ان عورتوں نے بنایا ہے جن کی پستانیں کٹی ہوئی تھیں۔ بیگم شاہنواز زندہ ہیں یا مر گئی ہیں مجھے یاد نہیں۔

س: مرگئی ہیں۔

ج: مرگئی ہیں۔ میرے ساتھ ہوتی تھیں۔ ہم یہاں سے گڈوں کی گڈیں بھر کے، ٹرکوں کے ٹرک بھر کے ڈبل روٹیاں لے کے گئے۔ اُن عورتوں نے کہا: جائو، دفعہ دور ہوجائو۔ پآجی! تین عورتیں کشمیرنیں اٹھارہ، انیس یا بائیس، اکیس سال کی۔ جوان۔ میری بیٹیاں۔ گوریاں چٹیاں۔ ان کی پستانیں ساری کٹی ہوئی۔ بیگم شاہنواز بھی رو پڑیں۔ میں بھی رو پڑا۔ ساتھ مائی تھی۔ ہم نے پوچھا: مائی جی، کیا ہوا؟ ہمیں بتائیں کیا ہوا۔ کہنے لگی: پُتر، کچھ نہ پوچھو۔ جائو چلے جائو۔ تم نے پاکستان بنا لیا، ہم آگئے ہیں۔ منیر صاحب! اُس نے بتایا: میری بیٹیاں اُٹھا کے لے گئے ہیں۔ ہم نے پوچھا: تیری چھاتی کو کیا ہوا؟ کہنے لگی: برچھیاں مارتے رہے ہیں۔(حافظ معراج دین صاحب نے یہ واقعہ اس قدر روتے ہوئے سنایا کہ ان کی گھگھی بندھ گئی)۔

س: بڑی مشکل سے بنا ہے جی یہ ملک!

ج: ان لوگوں نے بنایا ہے۔ اوئے، خانہ خراب دیو پُترو! تم ان بچیوں کی جوتیوں جیسے نہیں ہو جن بچیوں کی عصمتیں لوٹی گئیں…..

(حافظ معراج دین کے انٹرویو سے اقتباس۔ مٹتا ہوا لاہور۔ ص:227، آتش فشاں لاہور)

164 صفحات پر مشتمل یہ کتاب طباعت کے اعتبار سے بہت خوب صورت ہے۔ سرورق انتہائی لاجواب ہے۔ یہ کتاب فضلی سنز اردو بازار کراچی سے دستیاب ہے۔