بندگی کی روح اور حقیقت

حضرت عبدالرحمٰن بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا: ” جو شخص رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کو
(ہر ناگہانی آفت، شیطان کی فتنہ انگیزیوں سے) کافی ہوں گی“۔
(مسلم ، کتاب فضائل القرآن )

اللہ کی بندگی کی روح اور حقیقت یہ ہے کہ فقر‘ حاجت روی اور محتاجی کا یہ تعلق صرف ایک ذات سے‘ یعنی اللہ سے ہو۔ انسان صرف اُسی کی بندگی کرے نہ کہ کسی اور کی۔ زمین کے زلزلے سے گھبرا کر وہ زمین کی بندگی نہ کرے‘ نہ سورج‘ چاند‘ ستاروں کی پرستش کرے‘ نہ ہوائوں اور بارش کی اور نہ اپنی یا اپنے جیسے کسی انسان کی پوجا کرے‘ بلکہ وہ یہ سمجھے کہ جو کچھ بھی مل سکتا ہے صرف اللہ ہی سے مل سکتا ہے اور سارے اختیارات صرف اُسی کے پاس ہیں۔ ہر چیز اس کے خزانے میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس ذرہ برابر بھی اختیار نہیں ہے‘ نہ کچھ دینے کے لیے اور نہ کچھ چھیننے کے لیے۔ زندگی و موت‘ نفع و نقصان اور خیروشر‘ سب اس کے اختیار اور قبضۂ قدرت میں ہے۔جس نے اس بات کو سمجھ لیا اوراس پر یقین کر لیا‘ اور پھر اس پر اپنی زندگی کی تعمیرکی‘ صرف اُسی کی بندگی مکمل ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دعا کے انداز میں اپنے ساتھ تعلق رکھنے کی تعلیم دی اور اس تعلیم کو بار بار دہرانے کی بھی ہدایت کی اور حکم دیا کہ یوں کہو: اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo (الفاتحہ ۱:۴) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں‘‘۔ دراصل یہی بندگی کی روح اور بندگی کی معراج ہے۔

سورۃ الفاتحہ کی اس آیت کی تشریح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَلدُّعَائُ ھُوَ العِبَادَۃُ ،’’مانگنا ہی تو بندگی ہے‘‘۔ آپؐ نے مزید فرمایا: اَلدُّعَائُ مُخُّ العِبَادَۃِ،یعنی مانگنا عبادت کا مغز‘ اس کی روح اور اس کا جوہر ہے۔ لہٰذا جو اللہ کا نام لے‘ اس کا جھنڈا اٹھائے اور طلب کی نسبت اللہ کے علاوہ دوسروں سے بھی رکھے تووہ توحید کے راستے میں نقص‘ کمزوری اور ضعف کا شکار ہے۔ توحید کے مطابق اللہ کی بندگی کامل اس کی ہے جو خوف اور طمع کی نسبت صرف اللہ سے رکھے۔ ڈرے تو صرف اُسی سے ڈرے‘ اور اگر کوئی امید ہو تو صرف اسی سے ہو۔
یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (السجدہ ۱۶:۳۲)
اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں۔

گویا وہ خوف اور ڈر سے‘ لالچ اور طمع سے اور امید و حاجت روی سے اگر مانگتے ہیں یا پکارتے ہیں تو صرف اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے وہ سارے انعامات ہیں جو نہ انسان نے دیکھے‘ نہ سنے اور نہ وہ تصور کرسکتا ہے۔ اسلام میں بندگی ومحتاجی اور فقر کی یہی روح اور حقیقت ہے۔

اللہ کی بندگی کی روح یہی ہے کہ ہم اُس کے آگے ہاتھ پھیلائیں‘ اسی کے در پر بھکاری بن کر جائیں‘ اسی سے مانگیں‘ اور یہ سمجھیں کہ جو کچھ مل سکتا ہے صرف اُسی سے مل سکتا ہے‘ اور اگر کوئی چھین سکتا ہے تو صرف وہی چھین سکتا ہے۔

ایک طویل حدیث قدسی میں جو حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت کی گئی ہے‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم سب بھوکے ہو‘ بھوکے رہو گے سوائے اس کے جس کو میں کھانا کھلائوں۔ تم سب بے لباس رہو گے سوائے اس کے جس کو میں کپڑا پہنائوں۔ تم سب گمراہ رہو گے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت دوں۔ تم دن رات گناہ کرتے ہو‘ اور مجھ سے معافی مانگتے ہو تو میں معاف کر دیتا ہوں۔پھر فرمایا کہ تم مجھ سے ہدایت مانگو۔

گویا محتاجی صرف دنیا کی چیزوں کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ محتاجی ہر چیزکے لیے ہے۔ زندگی کیسے بسر کریں؟ سیاست کیسے ہو؟ معیشت کیسی ہو؟ یہ بھی محتاجی میں شامل ہے۔ یہ سمجھنا کہ یہ رہنمائی کہیں اور سے مل سکتی ہے‘ یہ بھی خلافِ توحید ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ: تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمھیں ہدایت دوں گا‘مجھ سے کھانا مانگو میں تمھیں کھلائوں گا‘ مجھ سے کپڑا مانگو میں تمھیں پہنائوں گا‘ مجھ سے معافی مانگو میں تمھیں معاف کر دوں گا۔

پھر فرمایا:اس سے میری کوئی غرض نہیں ہے۔ ’’سارے انسان‘ تمھارے پہلے ‘ اور بعد میں آنے والے جِن اور مخلوق سب مل کر انتہائی متقی ہوجائیں تو میری خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر سب کے سب مل کربدترین نافرمان ہوجائیں‘ تب بھی میری خدائی میں کوئی کمی نہیں آئے گی‘ اور سب کے سب کسی میدان میں جمع ہو کے جو مانگنا ہے وہ مانگ لیں‘ جو دل میں آئے مانگ لیں‘ اور میں وہ سب دے دوں تو میرے خزانوں میں اس سے زیادہ کمی نہیں ہوگی کہ سوئی سمندر میں ڈال کر نکال لی جائے (تو اس کے سرے پر جو پانی لگا رہ جاتا ہے‘ اس کے برابر) اے میرے بندو! تم مجھ کو چھوڑ کر کس کے پاس جاتے ہو! (مشکوٰۃ المصابیح‘ باب الاستغفار والتوبہ)

وہ ہمیں بلاتا ہے‘ پکارتا ہے۔ غرض تو ہماری ہے‘ محتاج توہم ہیں وہ توغنی ہے‘ ہم فقیر ہیں۔ اگر اسے خدا کی شان میں گستاخی نہ سمجھا جائے تو وہ ہم کو ایسے پکارتا ہے اوربار بار پکارتا ہے کہ آئو‘ مجھ سے مانگو‘ نعوذ باللہ گویا وہ محتاج اور فقیر ہو اور ہم غنی ہوں اور ہمیں کوئی پروا نہ ہو۔ ہم رات سے صبح‘ صبح سے رات کریں اور بھول کر بھی نہ سوچیں کہ اس سے ملنا ہے‘ اس سے مانگنا ہے۔ مگر وہ ہے کہ جو بار بار پکارتا ہے کہ آئو اپنے گناہوں کی معافی مانگو‘تاکہ میں تم کو معاف کر دوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: جو اللہ سے سوال نہیں کرتا ہے‘ اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوتا ہے‘ غصہ کرتا ہے جو اس سے سوال نہیں کرتا اور مانگتا نہیں ہے۔ بندگی‘ محتاجی اور فقر یہی توہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے‘وہ ہمارا خالق اور ہم اس کی مخلوق ہیں‘ اور مخلوق ہونے کے ناطے ہم اپنے ارادے سے اس کے در پر جائیں‘ اسی کے بھکاری بن کر جائیں اور اسی سے مانگیں۔

بندے اور رب کا تعلق
اگر آپ غورکریں تو مانگنے میں‘ ایک تو مانگنے والا ہے جو ہم ہیں‘ اور ایک وہ ہے جس سے مانگا جائے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم فقیر ہیں‘ محتاج ہیں‘ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے‘ نہ اپنی آنکھ پر‘ نہ اپنے کان پر اور نہ اپنے جسم پر۔ ہمارا اختیار تو جسم کے اندر ایک چھوٹے سے خلیے پر بھی نہیں۔ اگر اس میں فساد پیدا ہو جائے تو ہم چند دن میں گل سڑ کر مرجاتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے جسم پر اتنا بھی اختیار نہیں ہے۔ اس قدر لاچار اور بے بس ہیں ہم۔ مگر آدمی اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھتا ہے۔

دوسری طرف ایک وہ ہے کہ جس سے مانگا جائے‘ یعنی اللہ رب العزت۔ اس کا حال یہ ہے کہ ہماری کسی نیکی سے‘ دعا سے اس کی خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا لیکن ہم جو مانگیں‘ وہ ہم کو دے دیتا ہے اور اس کے ہاں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ وہ خود پکارتا ہے کہ آئو مجھ سے ہدایت مانگو میں تمھیں ہدایت دوں گا‘ کھانا مانگو‘ کھانا کھلائوں گا‘ پانی مانگو پانی دوں گا‘ شفا مانگو شفا دوں گا ۔ یہی رب سے وہ حقیقی تعلق ہے جس کو توحید کے امام عالی مقام حضرت ابراہیم ؑ نے یوں ادا کیا کہ تمام جھوٹے معبود میرے دشمن ہیں‘ سواے ایک رب العالمین کے:

فَاِنَّھُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَo الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَ یَھْدِیْنِo وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِo وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِo وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیِنِo وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِo (الشعراء۲۶: ۷۷-۸۲)

میرے تو یہ سب دشمن ہیں‘ بجز ایک رب العالمین کے‘ جس نے مجھے پیدا کیا‘ پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔ جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔

مانگنے والا اور جس سے مانگا جائے‘ ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ کیا مانگا جائے؟ آدمی کیا مانگتا ہے‘ وہ جس کی طلب دل کے اندر ہوتی ہے۔ پیاسا پانی مانگتا ہے‘ بھوکا کھانا مانگتا ہے‘ بے لباس کپڑا مانگتا ہے‘ تو گویا جس کی واقعی حاجت ہوتی ہے‘ واقعی طلب ہوتی ہے‘ اسی کے لیے آدمی ہاتھ پھیلاتا ہے۔ چھوٹا سا کام درپیش ہو تو آدمی ایم این اے وغیرہ کے گھر کے دس چکر لگاتا ہے کہ کسی طرح میرا کام ہوجائے۔ اگر کہیں اس سے اُوپر تعلق پیدا ہوجائے‘ وزیراعظم کے ہاں جانے کا موقع مل جائے‘ تو آدمی بے چین ہو کے دوڑا دوڑا جا کے کام کروائے گا۔

پس جس چیز کی طلب ہوتی ہے ‘ حرص ہوتی ہے‘ اس کے لیے دل کی گہرائیوں سے آواز اٹھتی ہے اور انسان اس کے لیے پکار اٹھتا ہے۔ اگر دل میں طلب‘ حرص و لالچ نہ ہو‘ کوئی پیاس اور بھوک نہ ہو‘ کوئی تڑپ اور بے قراری نہ ہو‘ تو اس کیفیت میں مانگنے پر ملنا مشکل ہے‘ اور دعا کا قبول ہونا بھی مشکل ہے۔