فلسطین اسرائیل جنگ تیسرے ہفتے میںاسرائیل کا زمینی حملہ

فلسطین کے حق میں مظاہروں کی نئی تاریخ، عالمی سطح پر فلسطین کا مسئلہ زندہ ہوگیا

فلسطین اسرائیل جنگ کو اب تین ہفتے گزر چکے ہیں، اور اس دوران مغرب سے لے کر مشرق تک ایک نئی دنیا نظر آتی ہے۔ لندن نے فلسطین کے حق میں مظاہروں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ہرہفتے ہونے والا مظاہرہ گزشتہ مظاہرے سے بڑا ہے۔ اب تک 28 اکتوبر 2023ء بروز ہفتہ لندن میں ہونے والا مظاہرہ لندن کا تاریخی مظاہرہ تھا جس میں پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ اس مظاہرے کی سب سے اہم بات ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگوں کی بلا تفریق شرکت تھی۔ اس مظاہرے کے علاوہ لندن کی اسرائیل فلسطین تنازعے میں روزِ اوّل سے ایک تاریخی حیثیت رہی ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ سے اس خطے کو اپنے قبضے میں لینے والی برطانوی حکومت نے 1917ء میں اپنے وزیراعظم لارڈبالفور کے ذریعے یہودی آباد کاروں کا جو منصوبہ تشکیل دیا تھا، اس کا انجام 1948ء میں فلسطین کے قلب میں اسرائیل کا قیام تھا۔ اس کے بعد بتدریج اس ریاست کا پھیلاؤ اور فلسطینی ریاست کا سکڑاؤ کسی نہ کسی طور پر بین الاقوامی قوتوں کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ جب 1917ء میں برطانوی وزیراعظم بالفور نے لندن سے خط لکھ کر باقاعدہ یہودی مذہب کے ماننے والوں کو یہاں آباد کاری کی پیش کش کی تھی تو شاید اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ تاریخ کا پہیہ کبھی اس سمت بھی گھومے گا کہ نہ صرف اسی لندن کی سڑکوں پر بلکہ پارلیمان کے اندر بھی فلسطین کی توانا آواز گونجے گی۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد کے بعد ممکن ہوا کہ نہ صرف لندن کی سڑکوں پر بلکہ ایوانوں کے اندر بھی یہ گونج نہ صرف سنائی دے رہی ہے بلکہ اب برطانیہ کی سیاست کا نقشہ بھی تبدیل کررہی ہے۔ حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی میں اس معاملے پر تقسیم شدید بڑھ گئی ہے، اور اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی میں تقریباً بغاوت کی سی صورتِ حال ہے۔ لیبر پارٹی کو برطانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت ووٹ دیتی،لیکن پارٹی کے صدر کیئر اسٹارمر کے اسرائیل کی حمایت میں بیان کے بعد مذمت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ تاحال جاری ہے، اور اب اس سے بڑھ کر لیبر پارٹی کے تین سرکردہ رہنماؤں میئر لندن صادق خان، برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر کے میئر انڈی برمن اور اسکاٹ لینڈ میں پارٹی لیڈر و رکن پارلیمنٹ انس سرور نے بھی کھل کر جنگ بندی کے حق میں بیانات دینے شروع کردیے ہیں اور اسرائیل کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اب شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی نے بھی اپنی پالیسی تبدیل کی اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد کی حمایت کی۔ اس سے قبل پیش ہونے والی قرارداد پر برطانیہ نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا تھا جبکہ خود برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور اسرائیل کی مکمل وغیر مشروط حمایت کا یقین دلایا تھا۔ عوامی دباؤ پر نہ صرف پارلیمان کے اندر اب واضح تبدیلی ہے بلکہ میڈیا پر بھی اس کے اثرات نظر آرہے ہیں، تاہم وزیر داخلہ سوئیلا براو مین نے ایک نئی منطق کے تحت مظاہروں میں فلسطینی پرچم پر پابندی کا عندیہ دیا اور پولیس کو ہدایت بھی کی، لیکن اس کو نہ صرف قانون سازوں نے خلاف ِقانون قرار دیا بلکہ اس کے ردعمل میں اب مظاہروں میں تین گنا سے بھی زیادہ فلسطینی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر (وزیر اعظم) حمزہ یوسف روزِ اوّل سے فلسطین پر جاری جارحیت کے خلاف کھل کر بول رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اُن کی سسرال کا غزہ میں ہونا ہے۔ انہوں نے کئی ویڈیو پیغامات اور انٹریوز میں کھل کر غزہ کے مسئلے اور اس کی سنگینی کو بیان کیا ہے اور برطانوی حکومت سےکہا ہے کہ وہ غزہ کے متاثرین کو بطور مہاجر نہ صرف قبول کرنے کو تیار ہیں بلکہ ان کی رہائش اور علاج معالجے کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔ ابھی تک برطانوی حکومت نے اس پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ قوانین کے مطابق بارڈر کنٹرول یا امیگریشن کا معاملہ برطانیہ کی مرکزی حکومت کا ہے، لہٰذا اسکاٹ لینڈ کی حکومت ان کو از خود ویزا جاری نہیں کرسکتی۔

ادھر 20 دن کی مسلسل بمباری، اوربجلی، پانی اور ایندھن کی سپلائی معطل کرنے کے بعد اب اسرائیل نے غزہ کا مواصلاتی رابطہ (کمیونی کیشن سسٹم) بھی مکمل طور پر تباہ کردیا ہے، لہٰذا اب غزہ کی کوئی خبر باہر نہیں جاسکتی، اس لیے اب میڈیا کے محاذ پر یک طرفہ خبروں کی آمد جاری ہے اور کسی بھی مصدقہ خبر کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ اسرائیل نے 20 دن کی بمباری کے بعد غزہ میں سرحد کے پار زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے کی پہلی کارروائی میں ہی اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کہ جہاں نہ صرف ان کے ٹینک و بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئیں وہیں حماس نے 19 اسرائیلی فوجیوں کو زندہ گرفتار کرلیا۔ اس خبر کی تصدیق خود اسرائیلی اخبار ”دی یروشلم پوسٹ“ نے اپنی 30 اکتوبر 2023ء کی اشاعت میں کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب اسرائیلی اخبارات کے صفحہ اوّل پر اسرائیل میں حماس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں کے عزیز و اقارب کے مظاہروں کی تصاویر صفحہ اوّل پر موجود ہیں جو اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حماس نے ان گرفتار شدگان میں سے 3 کی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں وہ اسرائیلی حکومت سے اپنی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنارہے ہیں۔ دوسری جانب حماس نے مزید 2 قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنا پر رہا کرنے کی کوشش کی لیکن اسرائیل نے ان کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اسرائیلی اخبارات خود اس کو رپورٹ کررہے ہیں کہ قطر کے تعاون سے مذاکرات جاری ہیں اور قیدیوں کے تبادلے و جنگ بندی کے معاہدے کی جانب پیش رفت ہورہی ہے، تاہم صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے جواب میں اب حماس نے دوبارہ اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق حیرت انگیز طور پراس کا نشانہ اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات تھیں۔ اس کے علاوہ کئی راکٹ اسرائیل میں گرے جس سے جانی و مالی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس سارے تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ 22 دن کی بھاری بمباری کے باوجود بھی حماس کی قوت کم نہیں ہوسکی ہے، اور حماس نے نہ صرف زمین پر اسرائیل کے حملے کو ناکام بنایا بلکہ دوبارہ آئرن ڈوم کو ناکارہ بناکر راکٹ اسرائیل میں داغے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات تک حماس کی رسائی ایک سنگین ترین مسئلہ بن کر اسرائیل کے سامنے آگئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے سابق عہدیدار بھی اب کھل کر جنگ بندی کے معاہدے کی بات کررہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ”ہارٹیز“ کی 30 اکتوبر 2023ء کو شائع شدہ خبرکے مطابق اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے سابق چیف آف اسٹاف نے بھی قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو من و عن تسلیم کیا جائے کہ حماس تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے اور بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کو رہا کیا جائے۔ اس وقت اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً 5500 فلسطینی قید ہیں، جبکہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حماس کے پاس 239 اسرائیلی بشمول فوجی کمانڈر قید ہیں۔ اسرائیلی اخبارات کے صفحہ اوّل پر اسرائیلی قیدیوں کو وطن واپس لانے کے اشتہارات شائع ہورہے ہیں اور ان کے لیے سوشل میڈیا پر مہم BringThemHomeNow#کے عنوان سے جاری ہے۔ ایک جانب اسرائیل حالت ِجنگ میں ہے اور دوسری جانب حکومت کے خلاف قیدیوں کے رہائی کے لیے مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور اب 23 دن کے بعد بھی حماس نے کارروائیاں کرکے ثابت کردیا کہ اس کی قوت کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ اب اس کی بازگشت میڈیا پر بھی سنائی دے رہی ہے اور فوجی حکام سے لے کر وہ تجزیہ نگار جوکہ مشرق ِوسطیٰ سے بخوبی واقف ہیں ان سب کا یکساں مؤقف ہے کہ جنگ کی طوالت اسرائیل کو مزید نقصان پہنچائے گی اور حماس کو ختم کرنے کا اسرائیلی وزیر اعظم کا بیان احمقانہ ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ بہت مشکل جنگ ہے اور اس کا موازنہ 1948ء کی جنگ سے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ جب اسرائیل نے جنگ کے بعد اپنی ریاست قائم کی تھی۔

اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری کرکے الجزیرہ عرب سروس غزہ کے بیورو چیف وائل الدوحدی کی بیوی، بیٹے، بیٹی اور پوتے سمیت 12 اہلِ خانہ کو اُن کے گھر میں ہلاک کردیا۔ اس واقعے کی اطلاع وائل کو اُس وقت ملی جب وہ نیوز کوریج میں مصروف تھے۔ وہ اسپتال آئے ،اپنے اہلِ خانہ کی میتوں کو لے کر گئے، ان کی تدفین کی اور پھر اپنی صحافتی ذمہ داریوں پر واپس چلے گئے۔ وائل نے صبر، عزم و ہمت و استقامت کی ایسی شاندار مثال قائم کی ہے ہ جس کا چرچا چہار جانب ہے۔ خود مغربی میڈیا نے اس خبر کی کوریج کی اور برطانوی اخبارات نے صحافتی جیکٹ پہنے غم سے نڈھال وائل کی اپنے اہلِ خانہ کے جسد ِخاکی کے ساتھ تصویر صفحہ اول پر شائع کی ہے۔ وائل نے اس موقع پر کہا کہ انہیں ان کی ذمہ داریوں سے روکنے کے لیے ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن وہ اپنی ذمہ داریوں سے علیحدہ نہیں ہوسکتے۔ عزم و ہمت کے کوہِ گراں وائل اپنے اہلِ خانہ کی تدفین کے بعد واپس اپنے صحافتی محاذ پر لوٹ گئے۔ صحافیوں کے لیے یہ جنگ کچھ آسان نہیں ہے، 23دن کی جنگ میں اب تک 20 صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔ صحافیوں کی تنظیم ”رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز“ نے کہا ہے کہ نیوز ایجنسی رائٹرز سے وابستہ صحافی عصام عبداللہ کو لبنان میں 13 اکتوبر 2023ء کو ہلاک کیا گیا، ان کی ہلاکت اسرائیل کی فائرنگ کی وجہ سے ہوئی۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ صحافی کی اسرائیلی فائرنگ سے ہلاکت جان بوجھ کر نہیں ہوئی، یہ ایک غلطی ہوسکتی ہے اور اس پر تحقیقات جاری ہیں۔

ادھر اسرائیلی اخبارات میں صفحہ اوّل پر روز کوئی نہ کوئی اشتہار شائع ہوتا ہے جس میں کبھی اپنے پیاروں کی واپسی کی مہم ہوتی ہے تو کہیں اس بات کا عندیہ کہ امریکہ اور اسرائیل ساتھ ہیں، اور کہیں غزہ کو اسرائیل کا حصہ بنانے کا عزم۔ لیکن اس سب صحافتی جنگی جنون کے باوجود بھی مغرب سے لے کر مشرق تک تادمِ تحریر ان 23 دنوں کی جنگ میں اسرائیل کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مغرب کی سڑکوں پر اسرائیل کی ایسی مذمت کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ جس نے ایوانوں کو ہلا دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب روز موضوعِ بحث ہیں، اور تیسرا سب سے بڑا نقصان محض 7000 جنگجوؤں کی حامل ملیشیا کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کا دورانِ جنگ گرفتار کیا جانا اسرائیلی فوج کے مورال کو گرا چکا ہے۔

اسرائیل فلسطین جنگ اب غزہ سے نکل کر مغربی کنارے تک جاچکی ہے، لہٰذا حماس کو دہشت گرد گروہ قرار دینے کا جواز اب باقی نہیں رہا۔ اب یہ جنگ حماس اور اسرائیل کی نہیں بلکہ فلسطین و اسرائیل کی جنگ ہے جس میں دو ریاستی فارمولے کا بار بار ذکر ہے اور اسرائیل اس جنگ میں گرفتار ہوکر اپنی تمام تر عسکری، سیاسی اور فوجی قوت کا بین الاقوامی اور مقامی طور پر بہت بڑا نقصان کرچکا ہے۔ جنگ کسی بھی طور پر ختم ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل کو اس جنگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے اور فلسطین کا مسئلہ پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہوچکا ہے۔ شاید کہ یہی حماس کی حکمت عملی تھی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب رہے ہیں ۔