ششدرسا رہ گیا ہوں…

قیامت نامے داغؔ ہی کے نام نہیں آتے تھے، اِس داغ دار کے نام بھی آتے ہیں۔ نہیں، رنجش کے نہیں … خط میں لکھے ہوئے ’بخشش‘ کے کلام آتے ہیں۔ بخشش کو شاید انگریزی میں ‘Tip’ کہتے ہیں اور ’ٹپ‘ وہ رقم ہے جو خدمت گاروں (مثلاً کالم نگاروں) کو انعام کے طور پر دی یا ’بخش دی‘ جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے ’بخشیش‘ بھی لکھتے یا کہتے ہیں ’لو یہ بخشیش‘۔ اس اِملا اور تلفظ کی مدد سے شاید کم رقم بخش کر زیادہ احسان دھرا جاسکتا ہو۔ ’بخش دینے‘ کا مطلب ہے عطا کردینا، ہبہ کردینا یا بلامعاوضہ دے دینا۔ بخش دو کا ایک مطلب ’ہماری جان چھوڑدو‘ بھی ہے۔ مثل مشہور ہے ’بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا‘۔ اُدھر قبلہ قمرؔ فاروقی بھی پُرسشِ غم کرنے والوں سے سخت پریشان ہیںکہ

میرے غم کو غمِ مسلسل کر ہی دیا غم خواروں نے
بخشو صاحب، باز آئے ہم، اچھی یہ غم خواری کی

مغلوں کے دور میں تنخواہ بھی شاید بخشش ہی سمجھی جاتی تھی۔ لہٰذا تنخواہ تقسیم کرنے والے دفتر کو ’بخشی خانہ‘ کہا جاتا تھا اور تنخواہ بانٹنے والے افسر کو ’بخشی‘۔ اس عہدے پرکام کرنے کو ’بخشی گری‘ کہا جاتا تھا۔ برصغیر میں ثواب پہنچانے یا ایصالِ ثواب کرنے کے معنے میں بھی ’بخشنا‘ بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ داغؔ نے اپنے محبوب سے مطلب اور مراد بر نہ آنے پر سفرِ آخرت کا قصد کرتے ہوئے بصد حسرت و یاس کہا:

سونپا تمھیں خدا کو، چلے ہم تو نامراد
کچھ پڑھ کے بخشنا جو کبھی یاد آئیں ہم

معاف کیجیے گا، ایک مطلب رہ گیا، وہ ہے ’معاف کردینا‘۔ ’’بس اب اس غریب کو بخش دو‘‘۔ معاف کردینے کے معنوں میں ’بخشش‘کا لفظ گناہوں کی معافی یا مغفرت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے ’’یااللہ! ابونثرؔ کو بخش دیجو، کالم نگاری پر اس کی پکڑنہ کیجو‘‘۔ غالب ؔکو فرشتوں کے لکھے پر پکڑدھکڑ کا خوف تھا، اِس مغلوب کو اپنے ہی لکھے پر پکڑے جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔

ہاںتو ہوا یوں کہ ہمارا ایک پچھلا کالم پڑھ کر ایک معلّمہ نے ایک مختصر اور پُراثر پیغام ارسال کیا جس میں لکھا تھا:

’’واہ، ایک کالم میں اتنی معلومات، ہم توآپ کا کالم پڑھ کر ششدر رہ گئے‘‘۔

ہم اُستانی جی کے ششدر رہ جانے پر ششدر ہوگئے۔ ’شش در‘ کا لفظی مطلب ہے ’چھے دروازے‘۔ جو لوگ ششدر ہوا کرتے ہیں وہ چھے دروازوں کی دلچسپ توضیح پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ لومڑی اپنے گھر کے چھے در بناتی ہے۔ اگر شکاری یا کوئی اور دشمن لومڑی کو دوڑالے اور وہ دوڑ کر اپنے بھٹ میں گھس جائے تو دشمن گڑبڑا جاتا ہے کہ چھے دروازوں میں سے جانے کس دروازے سے وہ نکل بھاگے۔ میں اِس در پرجاؤں کہ اُس در پر؟ گھات لگاؤں تو لگاؤں آخر کس در پر؟ حیرانی اور پریشانی کی اسی کیفیت کو ’ششدر رہ جانا‘ کہتے ہیں۔

دوسری تشریح لغات میں ملتی ہے۔ نرد، تختۂ نرد یا نرد شیر وہ کھیل ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ تقریباً پانچ ہزار سال پُرانا کھیل ہے۔ نَرَد کے ’ن‘ اور ’ر‘ دونوں پر زبر ہے۔ اس کھیل کو ’نَرَد شیر‘ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کا موجد ’ارد شیر‘ تھا۔ یہ کھیل گوٹیوں اور پانسوں کی مدد سے کھیلا جاتا ہے۔ ہمارے بچپن تک بچے بارہ گوٹی یا نو گوٹی کھیلا کرتے تھے۔ اس کھیل کی مختلف شکلوں میں سے چوسر، شطرنج، ڈرافٹ، نوگوٹی، بارہ گوٹی اور لوڈوکے کھیل ہیں۔ ان کھیلوں میں کوڑیاں، مُہرے یا گوٹیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ سب کھیل کسی نہ کسی بساط پر کھیلے جاتے ہیں۔ کوڑیوں، پانسوں یا چھکوں کی مدد سے چال کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ چال نرد یا گوٹ سے چلی جاتی ہے۔ شطرنج اور ڈرافٹ میں زیادہ تر ذہانت اور حکمت عملی کا دخل ہوتا ہے۔ باقی کھیل قسمت کے کھیل ہیں۔ تختہ نرد کی بازی میں چھے گھر ہوتے ہیں۔ جس وقت نرد (یعنی گوٹ یا گوٹی) آخری گھر میں جا کر پھنس جاتی ہے، چال رُک جاتی ہے اور چھے کے چھے گھربند ہوجاتے ہیں۔ تب کھیلنے والا ’ششدر‘ رہ جاتا ہے، یعنی عاجز، حیران، پریشان اور سرگرداں۔ بہرحال، پس منظر جو بھی ہو، ’ششدر رہ جانا‘ وہ کیفیت ہے جس سے نکلنا دشوار اور رہائی مشکل ہو۔ بندہ بھونچکّا ہوکر بھنویں اُچکانے لگے کہ اب کروںتو کیاکروں؟ ایک بار شیخ قلندر بخش جرأتؔ بھی ششدر رہ گئے تھے:

کہیں ہے کاغذ، کہیں قلم اور کہیں دوات، آپ چپ ہے جرأتؔ
کسی کا خط اس کو ایسا آیا کہ جس سے ششدر جواب میں ہے

اسی کیفیت میں ایک روز شیخ امام بخش ناسخؔ بھی پائے گئے۔ جب وہ محبوب کے در پر حاضری لگانے پہنچے تو وہاں دیوار کھڑی تھی:

ششدر سا رہ گیا ہوں درِ یار دیکھ کر
دیوار بن گیا ہوں میں دیوار دیکھ کر

مشتاق احمد یوسفی مرحوم نے اپنی ’’زرگزشت‘‘ بیان کرتے ہوئے ایک صاحب کا قصہ سنایا ہے جن کو انگریز اکاؤنٹنٹ نے کچھ اس طرح پُکارا کہ اُس کی پُکار سن کر وہ عمر بھر کے لیے ششدر ہوگئے۔ ’’زرگزشت کے باب ’’پروٹوکول‘‘ میں ’’چہار درویش‘‘ کے عنوان سے شامل شہ پارے میںیوسفی صاحب لکھتے ہیں:

’’دائیں جانب چار پائی پر احمد اللہ ششدرؔ دراز تھے۔ فرماتے تھے کہ احمد اللہ کچھ ادھورا ادھورا، سپاٹ سا لگتا تھا۔ پینتیس سال پہلے بمبئی میں ملازمت کی تو انگریز اکاؤنٹنٹ مسٹر اُللہ کہہ کر مخاطب کرنے لگا۔ لہٰذا میں نے نام کے ساتھ ششدرؔ جوڑ لیا‘‘۔

’شش‘ فارسی میں چھے کو کہتے ہیں۔ اُردو والوں کے لیے یہ لفظ اجنبی نہیں ہے۔ ابتدائی مدرسے کے امتحانات میں کامیاب ہو کر جب ہم ثانوی جماعتوں میں پہنچے تو اپنی بزرگی جتانے کو لوگوں سے کہاکرتے تھے کہ اب ہم ’جماعت ششم الف‘ کے طالب علم ہیں۔ شوال کے چھے روزوں کو ہماری والدہ محترمہ آج بھی ’شش عید‘ کے روزے کہتی ہیں۔’ششماہی امتحان‘ کی ترکیب اب بھی کہیں نہ کہیں سننے کو مل جاتی ہے۔ چھے کونوں والی شے ’شش پہلو‘ کہلاتی ہے۔ شاعری ہی میں نہیں نثر میں بھی ’شش جہات‘ کاتذکرہ ملتا ہے۔ جہات، جہت کی جمع ہے۔ ’جہت‘ سمت، طرف یا جانب کو کہتے ہیں۔ چار سمتیں تو معلوم ہی ہیں۔ اوپر اور نیچے کی جہت بھی شامل کرلیجیے تو کُل شش جہات ہوجاتی ہیں۔’شش جہات‘ سے مراد ’تمام عالم‘ لیا جاتا ہے۔ مگر متقدمین نے ’شش جہات‘ نہیں، ’شش جہت‘ کی ترکیب استعمال کی ہے۔ مثلاً جرأتؔ کا دعویٰ ہے کہ ’’جو شش جہت میں نہیں ہے وہ لکھنؤ میں ہے‘‘۔دلّی میں میر تقی میرؔعشق کرکر ششدر ہو ئے توآپ اپناسر پیٹا:

شش جہت اب تو تنگ ہے ہم پر
اُس سے ہوتے نہ ہم دوچار اے کاش

جب کہ غالبؔ کسی نامعلوم طوطی کو ششکار ششکار کر ششدر کیے دے رہے ہیں:

از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئینہ
طوطی کو ’شش جہت‘ سے مقابل ہے آئینہ

’شش و پنج میں پڑنا‘ بھی پانسوں ہی کے کھیل کا حصہ ہے۔کھلاڑی چھے اور پانچ کے پھیر میں پڑ جاتا ہے۔ چھکا لاؤں یا پنجی؟ لغت نامۂ دھخدا کے مطابق ’شش و پنج‘ میں پڑنا نرد بازی میں قمار بازی کرنے والوں کا مسئلہ تھا۔ مگر اب توکوئی شخص جواری نہ ہوتب بھی شش و پنج میں پڑ جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے اُدھیڑبُن (یعنی اُدھیڑوں یا بُنوں)

تردد، اندیشہ، دُبدھا، گومگو اورتذبذب کی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔
اب ہم بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ورق تمام ہوا۔ مزیدلکھیں توکہاں لکھیں؟