درس قرآن’

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ر وایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرنے والوں پر اللہ رب العزت رحم فرماتے ہیں، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا“۔
(ابودائو د، ترمذی)

مفکر ِاسلام سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے مسجد مبارک، عبدالکریم روڈ، لاہور میں درسِ قرآن کا آغاز ستمبر 1959ء میں کیا تھا اور یہ سلسلہ ستمبر 1969ء تک مختلف وقفوں سے جاری رہا۔ درسِ قرآن کے بعد مشکوٰۃ سے درسِ حدیث دیا جاتا اور آخر میں سوالات ہوتے تھے۔ حفیظ الرحمن احسن مرحوم نے اس کی ریکارڈنگ کی اور درسِ قرآن و حدیث کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ان دروسِ قرآن میں تفہیم القرآن کے علاوہ فہم قرآن کے نکات سامنے آتے ہیں۔ یہ درس ترجمان القرآن میں بھی شائع ہوتے رہے۔ اس سلسلے کے کچھ درس غیر مطبوعہ ہیں۔ یہاں سورۂ اخلاص کا غیر مطبوعہ درس پیش کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)


قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ oاَللّٰہُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ o وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ o (الاخلاص 112: 6-1) ”کہو، وہ اللہ ہے، یکتا۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔“

٭… شانِ نزول اور پس منظر: یہ بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے اور اس کے نزول کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب اپنی دعوت کا آغاز فرمایا تو لوگ آکر پوچھتے تھے، سنجیدگی سے بھی اور مذاق کے طور پر بھی، دونوں قسم کے لوگ تھے۔ ایسے لوگ بھی تھے جو سنجیدگی کے ساتھ آ کر سمجھنے کے لیے سوال کرتے تھے، اور ایسے لوگ بھی تھے جو مذاق کے طور پر سوال کرتے تھے۔ ان کا سوال یہ ہوتا تھا کہ وہ خدا جس کی طرف تم بلاتے ہو، وہ کیسا ہے؟

ہمیشہ قاعدے کی بات یہ ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی تحریک شروع ہو اور پوری قوت کے ساتھ اس کو چلایا جائے، تو کثرت سے لوگوں کے ذہنوں میں سوالات آتے ہیں۔ لوگ کھنچ کر آتے ہیں اُس شخص کے پاس جو اس بات کی طرف دعوت دے رہا ہو، اور اس سے سمجھنے کے لیے بھی اور مذاق اڑانے کے لیے بھی، ہر طرح کے لوگوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہوتے ہیں اور وہ آکر سوال کرتے ہیں۔

ایک داعی کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی دعوت کا خلاصہ تین چار لفظوں میں بیان کردے۔ اگر تفصیل بیان کرنے پر آئے تو کتابوں کی کتابیں بھی کافی نہ ہوں، لیکن اگر کوئی شخص اس کا خلاصہ معلوم کرنا چاہے تو وہ دو چار فقروں میں بیان کردیا جائے، تاکہ وہ ایک ایک آدمی کے ذہن نشین ہوجائے اور اس کو یاد رکھنا بھی کسی کے لیے مشکل نہ ہو۔ مخالف کے ذہن میں بھی وہ اتر جائے اور اس کی زبان پر چڑھ جائے۔

نبیﷺ نے جب اپنی دعوت کا آغاز کیا تو آپؐ کی دعوت کے دو ہی بنیادی نکات تھے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور دوسرے آخرت۔ یہ دو بنیادیں تھیں جن کے اوپر آپؐ نے اپنی تعلیم کی پوری عمارت کھڑی کی تھی۔ آپؐ نے کیا کھڑی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود کھڑی کی تھی۔

مکی دور کی سورتوں میں آخرت کے متعلق مسلسل بیان ہے اور بڑے مختصر اور چھوٹے چھوٹے فقروں میں آخرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ سورۂ اخلاص وہ سورت ہے جس میں اسلام کے عقیدۂ توحید کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ اگر اس کو کھول کر بیان کیا جائے تو پورا قرآن توحید کی تعلیمات پر مبنی ہے، اور اگر رسول اللہﷺ کے خطبات اور ارشادات جمع کیے جائیں تو ایک پوری کتاب کی کتاب بن سکتی ہے جو اسی چیز کی شہادت ہے۔ لیکن مختصر الفاظ میں یہاں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، غالباً دنیا میں کسی بھی کتاب میں توحید کو ایسے مختصر اور جامع الفاظ میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے لیے سورۃ الاخلاص کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی وہ سورت جو خالص توحید بیان کرتی ہے اور جو خالصتاً توحید پر مشتمل ہے، اور کوئی دوسرا مضمون اس میں نہیں ہے۔

٭… تصورِ خدا: روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ نبیﷺ کے پاس آتے تھے اور پوچھتے تھے کہ آپ کس خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ یعنی آپ کا تصورِ خدا کیا ہے؟ آج بھی لوگ سوال کرتے ہیں کہ تمہارا تصورِ خدا کیا ہے؟

اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکرین دنیا میں کبھی بھی بڑی تعداد میں نہیں پائے گئے، ہمیشہ ان کی بہت قلیل تعداد پائی گئی ہے۔ آج بھی قلیل تعداد ہے۔ الحاد اور دہریت کا کتنا زور ہے مگر آج بھی اگر گنا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کی آبادی میں ایک فی ہزار بھی ایسے لوگوں کی تعداد نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر ہیں۔

قدیم زمانے میں بھی یہ خیال نہ کیجیے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر تھے۔ مشرکینِ عرب بھی اللہ کی ہستی کے منکر نہیں تھے۔ ان کی اپنی زبان میں ’’اللہ‘‘ کا لفظ موجود تھا۔ اگر قرآن مجید میں اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے تو اسی وجہ سے استعمال ہوا ہے کہ ان کی اپنی زبان میں یہ لفظ موجود تھا۔ رسول اللہﷺ کی پیدائش سے پہلے آپؐ کے والد ماجد کا نام اگر عبداللہ رکھا گیا تھا تو اسی وجہ سے رکھا گیا تھا کہ نہ صرف یہ لفظ ان کی زبان میں موجود تھا بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ معبود ہے اور ہم اس کے عبد ہیں۔ اب سارا جھگڑا صرف اس بات پر تھا کہ رسول اللہﷺ یہ دعوت لے کر اٹھے تھے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اور وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بھی معبود ہے اور دوسرے بھی معبود ہیں۔ اس کے ساتھ جو غلط فہمیاں لوگوں کے دماغوں میں تھیں وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اور کثرت کے بارے میں تھیں، اور اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔ آخر دنیا بھر کے نصاریٰ حضرت عیسیٰ ؑ ؑکو ابن اللہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سی مشرک قومیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں مختلف عقیدے رکھتی ہیں۔

(ریکارڈنگ:حفیظ الرحمٰن احسن/ تدوین: امجد عباسی) (جاری ہے)