برطانیہ: اقلیتی گروہ امتیازی سلوک کا نشانہ

ایک برطانوی جامعہ کے زیر اہتمام تحقیق کے مطابق نفرت کا سامنا کرنے والے گروہوں میں خانہ بدوش ،یہودی اور مسلمان ہیں

برطانیہ میں اقلیتیں غیر مساوی سلوک کا شکار ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک فرد اپنی زبان، رنگ و نسل، مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بن رہا ہے۔ یہ بات دو سالہ تحقیق کے بعد سامنے آئی۔ یہ تحقیق سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی مانچسٹر اور کنگز کالج لندن کے تحت کی گئی۔ تحقیق کا مقصد اقلیتوں کو درپیش منافرت اور عدم مساواتی رویوں کی وجوہات کا تعین اور ان کے ریاست پر اعتماد کو ناپنا تھا۔ اس تحقیق میں 14000 افراد اور 21 اقلیتی گروہوں کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق کا سارا ڈیٹا کورونا وبا کے دوران اور اس سے قبل لیا گیا تھا، لیکن اس میں کورونا وبا کے دوران ان اقلیتی گروہوں سے روا رکھنے جانے والے امتیازی سلوک کو بھی معلوم کیا گیا ہے۔ تحقیق کا بنیادی مقصد برطانیہ جوکہ ایک کثیرالمذہبی و ثقافتی ملک ہے، اس میں اقلیتی گروہوں کے احساسات اور ان کے ریاست پر اعتماد کو جاننا بھی ہے۔ تحقیق کے مطابق اقلیتی گروہوں یعنی غیر انگریز و رنگ دار افراد کے گروہ کی ایک تہائی سے زائد آبادی کو ان کی زندگی میں زبانی یا جسمانی طور پر نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں سب سے زیادہ نفرت کا سامنا کرنے والے گروہ میں خانہ بدوش، یہودی اور مسلمان شامل ہیں۔

اقلیتی گروہوں کو تعلیم، ملازمت، حتیٰ کہ مکانات کے حصول میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں عدم مساوات یا امتیازی سلوک کا شکار افراد نہ صرف انفرادی طور پر اس سلوک کا شکار ہوئے بلکہ حکومتی سطح پر کیے گئے اقدامات میں بھی امتیازی سلوک کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیم، صحت اور مکان کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے وہاں پر بھی تعلیم کے معاملے میں اقلیتی گروہوں کو 29 فیصد غیر یکساں یا امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔ اسی طرح ملازمت کے حصول یا دورانِ ملازمت اس سلوک کا شکار افراد کی تعداد 29 فیصد رہی۔ پولیس کے حوالے سے بھی شکایات کا انبار ہے۔ پولیس کے ہاتھوں مبینہ طور پر غیر منصفانہ سلوک کا شکار افراد کی اکثریت افریقی نسل اور خانہ بدوشوں سے تعلق رکھتی ہے، اور 43 فیصد افراد نے اس کو امتیازی سلوک قرار دیا جو کہ اس تحقیق کے نتائج میں سرفہرست ہے۔ گوکہ برطانیہ میں پولیس کسی پر بھی بغیر ثبوت کے ہاتھ نہیں ڈالتی، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانوی پولیس کی سب سے زیادہ نظرِکرم اقلیتی گروہوں پر ہی رہتی ہے۔ مکان اور رہائش جہاں حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے، وہیں یکساں معیار کی رہائش کا انتظام کرنا بھی حکومت کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد چھوٹے مکانات، یا افراد کی گنجائش سے کم رقبہ رکھنے والے مکانات میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں، اور ان میں سب سے بڑی تعداد رومانیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے جن کی کُل آبادی کا 60 فیصد کم گنجائش والے مکانات میں رہائش پذیر ہے۔ اس کے علاؤہ 25 فیصد پاکستانی اور عرب باشندے بھی ایسی رہائشی سہولیات سے دور ہیں جیسی کہ مقامی گوروں کو دی گئی ہیں۔

یہ تحقیق اس بات کو تو ظاہر کررہی ہے کہ برطانیہ میں حکومت اور افراد کی جانب سے اقلیتی گروہ امتیازی سلوک کا شکار ہیں، لیکن اس تحقیق کے ضمن میں جب ان اقلیتی گروہوں اور امتیازی سلوک کا شکار افراد سے پارلیمنٹ و نظامِ عدل سے متعلق سوال کیا گیا تو اکثریت نے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتی گروہ بہت بڑی تعداد میں برطانوی سیاست میں کسی نہ کسی طور پر سرگرم ہیں۔

اس قسم کے سروے بظاہر براہِ راست حکومتی سرپرستی میں نہیں کیے جاتے، لیکن ان سروے و تحقیق کا بنیادی مقصد برطانوی معاشرے کی حرکیات کے متعلق حکومتِ وقت اور پالیسی سازوں کو بروقت آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ سماج کے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق پالیسیاں مرتب کرسکیں۔ اس تمام تر دو سالہ محنت، کثیر سرمائے (جوکہ اس تحقیق میں صرف ہوا) اور اس کی ترویج و اشاعت کا بنیادی مقصد برطانوی معاشرے میں پیدا شدہ خطرات و امکانات سے نہ صرف حکومت، پالیسی سازوں بلکہ عوام کو بھی آگاہ کرنا ہے۔ اس حوالے سے اب باقاعدہ طور پر پالیسیوں پر ایک بحث شروع ہوگی، اور اگر بنیادی نوعیت کی کسی قانون سازی کی ضرورت ہوئی تو باقاعدہ طور پر پارلیمنٹ میں بحث کے بعد نئی قانون سازی کی جائے گی، ورنہ ان اداروں اور محکموں کے قوانین میں جہاں کوئی کمی موجود ہے، اس کا تدارک کیا جائے گا۔

برطانیہ وہ کثیر الثقافتی و کثیر المذہبی ملک ہے جہاں حکومت کی تمام تر توجہ اس میں توازن برقرار رکھنے پر ہے۔ گوکہ اس ضمن میں امتیازی سلوک کا شکار اقلیتوں کا بھی اپنا مؤقف ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت کی توجہ، قانون سازی اور تمام تر اقدامات اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ عام افراد کے لیے ہیں۔ اس میں وہ کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں کہ جس سے ان کا معاشرہ عدم مساوات کی وجہ سے شکست و ریخت کا شکار ہوجائے۔ اب چونکہ برطانیہ میں بھی سفید نسل کے علاؤہ کثیر تعداد میں دیگر رنگ و نسل کے افراد شامل ہیں تو ریاست اب کسی حد تک ان کو بھی سیاست و حکومت کے مرکزی دھارے میں لانے میں کامیاب رہی ہے، اس کی واضح مثال بھارتی نژاد برطانوی وزیراعظم رشی سونک، پاکستانی نژاد میئر لندن صادق خان اور اسکاٹ لینڈ کے پاکستانی نژاد فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف ہیں۔

امتیازی سلوک کا شکار تمام تر اقلیتی گروہ اگر پارلیمان اور نظام عدل پر بھروسہ رکھتے ہیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ وہ ریاست اور اس کے اقدامات سے مطمئن ہیں، اور ان کا یہی اطمینان دراصل برطانوی ریاست کی کامیابی کی ضمانت ہے۔