یقین

میں نے بہار اور یوپی کے بعض اضلاع کے قصبات و دیہات کا دورہ کیا، لکھنؤ اور پٹنہ کا مزاج دیکھا، بہڑائچ سے نانپارہ اور نیپال کی سرحد تک گیا، وہاں سے آگرہ کی طرف لوٹا، کانپور سے فرخ آباد چلا گیا، قنوج وغیرہ کے علاقے میں گھوما پھرا۔ سہارنپور سے مجلسِ احرار یوپی کے صدر خان محمود علی خاں امیدوار تھے، ان کے حلقے میں گیا، ڈیرہ دون پہنچا۔ غرض یوپی اور بہار کا سفر کیا، نتیجتاً میں اپنی رائے کو چھپانا نہیں چاہتا کہ ان دور افتادہ مسلمانوں کو پاکستان کا نشہ اتنا چڑھا ہوا تھا کہ وہ اس کے لیے اپنے مستقبل سے غافل ہوگئے تھے، انہیں آئندہ حادثات و سانحات کا قطعی احساس نہ تھا، وہ جذبات کے سفینہ میں بہہ رہے تھے، انہیں قطعی احساس نہ تھا کہ وہ من حیث المجموع ہندوئوں کے چنگل میں ہیں، ان کے پاس تعلیم نہیں، روپیہ نہیں، زمین نہیں، اور ان کے مکانوں سے پاکستان کا راستہ بہت دور اور بہت کٹھن ہے۔ لیکن ہزار کی ہندو آبادی میں ایک مسلمان کے لیے بھی یہ نعرہ بہت پُرکشش تھا کہ
’’جیسے لیا تھا ہندوستان ویسے ہی لیں گے پاکستان‘‘۔
یا
’’بولو بھیا ایک زبان… بن کے رہے گا پاکستان‘‘۔
ان مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ لیگ ان کا جوابی حملہ اور پاکستان ان کی عافیت کا حصار ہے۔ ان علاقوں کے مسلمان عوام، بالخصوص مسلمان کسان اندوہناک غربت کا شکار تھے۔ ان کی وضع قطع یکساں تھی، لباس بھی تقریباً ایک سا تھا، کوئی پہچان تھی تو ایک خاص قسم کی دوپلی تھی یا گھٹے پر سجدوں کی رگڑ… نیپال کی سرحد سے ذرا اِدھر میں نے ایک مسلمان کسان کو روک کر ’’السلام علیکم‘‘ کہا تو وہ رک گیا اور ’’وعلیکم السلام‘‘ کہا۔
”فرمایئے“، اس نے پوچھا۔
’’کہو بھائی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
وہ تاڑ گیا الیکشن کے شکاری ہیں۔
’’اللہ کا شکر ہے‘‘، اس نے جواب دیا۔
اللہ کا شکر ہے، ایک پاکیزہ کلمہ جو مراکش سے لے کر چین تک کا مسلمان زبان کے اختلاف لیکن معانی کی ہم آہنگی کے ساتھ بولتا ہے۔
’’ووٹ کسے دو گے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
اس نے غور سے دیکھا اور لاٹھی بڑھا کر چل پڑا، میں نے پیچھے سے آواز دے کر پوچھا:
’’بھائی کچھ تو کہہ جائو‘‘۔
’’میاں! ہمارا ووٹ کلمے کے ساتھ ہے‘‘۔
’’کلمے کے ساتھ؟‘‘
’’جی ہاں‘‘.
’’کلمے سے تمہارا مطلب کیا ہے؟‘‘
’’مسلم لیگ۔‘‘
24 سال ہوتے ہیں اس کسان کی تصویر ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ان الفاظ کو تحریر کرتے وقت میں اُس کو اپنے سامنے موجود پا رہا ہوں، مجھے کامل یقین ہے کہ وہ کسان پاکستان نہیں آیا ہوگا اور نہ وہ آسکتا تھا۔ یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ وہ زندہ ہے یا مارا گیا، لیکن جس یقین کے ساتھ اُس نے جواب دیا وہ میرے دل پر نقش ہے، اُس کا یقین ان بے یقین تعلقہ داروں سے کہیں زیادہ مضبوط تھا جو اپنے مفادات اور تحفظات کے لیے اسے استعمال کررہے تھے۔
(شورش کاشمیری۔”بوئے گل، نالۂ گل، دودِ چراغِ محفل“اشاعت اول جولائی 1972ء)

مجلس اقبال
اندھیری شب ہے، جدا اپنے قافلے سے ہے تُو
ترے لیے ہے میرا شعلہ نوا قندیل

علامہ اقبال امت ِ واحدہ یا ملّتِ اسلامیہ کی متحدہ قوت سے کٹے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں کہ میرے کلام سے رہنمائی حاصل کرو، اس لیے کہ غلامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اپنے ملّی قافلے سے کٹ کر تم قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہے ہو۔ ایسے میں میرے کلام کی روشنیاں چراغِ راہ بن کر تمہاری رہنمائی کرتی اور تمہارے دلوں کو ایمانی جذبوں اور آزادی کے لطف سے روشناس کراتی ہیں۔ یوں وہ اپنے اشعار کو اندھیری راہ میں جذبے اور روشنیاں بخشنے والے چراغ قرار دیتے ہیں۔