نوشکی اور پنجگور میں دہشت گردی :غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت

بدھ 2 فروری 2022ء کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے جنوب میں افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے شہر نوشکی اورکوئٹہ سے تقریباً 500کلومیٹر دور ضلع پنجگور کے ضلعی صدر مقام میں فرنٹیئر کور کے کیمپوں پر بلوچ کالعدم عسکریت پسند گروہ کے حملوں نے بلاشبہ تشویش کی شدید لہر دوڑا دی۔ دونوں اضلاع کے اندر فرنٹیئر کور کیمپ شہر میں موجود ہیں جہاں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر، ضلعی سرکاری ہسپتال اور دوسرے سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں۔ نوشکی شہر افغان سرحد سے تقریباً 25کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ افغان سرحدی علاقہ ’’سرلٹھ‘‘ نوشکی سے متصل ہے جو ماضی کی شورشوں میں بھی خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پنجگور ایران کی سرحد سے متصل اور تقریباً 50کلومیٹر دوری پر ہے۔ ایران کے ساتھ پنجگور کی200کلومیٹر سے زائد سرحد ملتی ہے۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بالاچ مری سرلٹھ منتقل ہوئے تھے اور افغانستان ہی میں انتقال کر گئے۔
پاکستان بننے کے بعد مزاحمت کی پہلی کوشش خان آف قلات میر احمد یار خان کے بھائی نے کی تھی۔ آغا عبدالکریم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ’’سرلٹھ‘‘ منتقل ہوئے تھے۔ افغان حکومت سے حمایت و پذیرائی نہ ملنے پر آغا عبدالکریم واپس لوٹے۔ بعد کی تین مزاحمتوں کو تب کی افغان حکومتوں کی سرپرستی و مدد حاصل رہی۔ ان میں ستّر کی دہائی کی بلوچ و پشتون سیاسی و مزاحمتی تحریکات کی پشت پر افغانستان میں سردار دائود اور روسی حمایت یافتہ کمیونسٹ افغان حکومتیں تھیں۔ بڑے بڑے بلوچ پشتون رہنما اور جنگی کمانڈر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ چناں چہ موجودہ مزاحمت کی ابتدا2000ء کی دہائی کے اوائل میں ہوئی۔ افغانستان پر امریکی قبضے اور وہاں بھارت کے سیاسی اور جاسوسی نیٹ ورک کے قیام کے بعد ان گروہوں کی بڑی سطح پر پشت پناہی ہوئی۔ رفتہ رفتہ کئی گروہ قائم ہوئے اور عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان منتقل ہوئی۔ امریکی چھتری کے نیچے بننے والی کابل کی تمام حکومتیں بھارتی پالیسیوں پر عمل پیرا رہیں۔ 29فروری2020ء کے دوحا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں 15اگست2021ء تک امریکی و نیٹو انخلا کے بعد منظرنامہ تبدیل ہوا۔ یقیناً بلوچ مزاحمت سے مختلف حوالوں سے وابستہ افراد اب بھی موجود ہیں مگر انہیں سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے۔ نہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے مذہبی شدت پسندوں کو کابل کی سرپرستی حاصل ہے۔ نئی افغان حکومت ٹی ٹی پی اور بلوچ شدت پسندوں کے ساتھ بھی کسی تنازعے میں پڑنا نہیں چاہتی۔ وہ انہیں افغانستان میں رہنے کی اجازت تو دیتی ہے لیکن اپنی سرزمین استعمال کرنے یا عسکری سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتی۔ یقیناً افغانستان کی سرزمین سے مذہبی گروہوں کے حملے اب بھی ہورہے ہیں۔ نقل و حمل کا تدارک نہیں ہوسکا ہے، جس کی ایک وجہ افغان حکومت کی معاشی مشکلات بھی ہیں۔ نیز پاکستان کے سرحدی علاقوں کی ساخت ایسی ہے کہ مسلح گروہ انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ سو نئی کابل حکومت جتنی مستحکم ہوگی اس کی عمل داری ملک کے طول و عرض میں اتنی ہی یقینی بن جائے گی۔
کابل کی حکومت دوحا معاہدے کے تحت اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی پابند ہے۔ افغان حکومت نے شمال کے صوبے بشمول پنجشیر کو مکمل طور پر اپنی قلمرو میں شامل کرکے دراصل نئی دہلی اور ایران کے دیرینہ نیٹ ورکس کا خاتمہ بھی کردیا ہے۔ روسی افواج کے نکلنے کے بعد ایران کو افغانستان کے شمالی علاقوں میں گہرا اثر و نفوذ حاصل ہوا۔ ایرانی جاسوسی ادارے نے وسیع جال پھیلایا، جنرل سلیمانی بھی افغانستان میں کام کرچکے تھے۔ افغانستان پر امریکی حملے اور ملا عمر کی حکومت کے سقوط کے بعد بھارت کے ساتھ ایران بھی اہم کھلاڑی بنا۔ عراق پر امریکی فوجی تصرف کے بعد ایران کا دائرہ عراق تک پھیل گیا۔ پھر امریکی و ایرانی مفادات کے خلاف عراق کے اندر اٹھنے والی مزاحمت کے تناظر میں ایران نے افغان باشندوں پر مشتمل ملیشیائیں قائم کرلیں، جو عراق اور شام میں حکومت مخالف گروہ کے خلاف استعمال ہوتی رہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے بھی نوجوان ان ملیشیائوں کا حصہ بنے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد حیرت انگیز طور پر القاعدہ کے ارکان بھی ایران منتقل ہوگئے تھے۔ غرض کہ افغانستان پر امریکی تسلط کے دوران تقریباً ایک ہزار بلوچ جنگجو ایران میں موجود تھے۔ چناں چہ 15 اگست2021ء کو امریکی و نیٹو افواج کے انخلاکے بعد بھی 700 کے قریب مزید جنگجو ایران منتقل ہوئے۔ حتیٰ کہ کراچی کے لیاری گینگ سے وابستہ 100کے قریب لوگ بھی ایران میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ سمیت کئی بلوچ کمانڈروں کی ایران آمدورفت رہتی ہے۔ ایران کے جاسوسی کے ادارے ان بلوچ عسکریت پسندوں کو شناختی اسناد کی فراہمی، علاج و معالجہ، مالی امداد اور رہائش، نقل و حرکت اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات دیتے ہیں، نیز پاکستان کے اندر کارروائیوں کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ بھارت کے ساتھ اشتراک بھی موجود ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ایران کے اندر بھی ان جنگجوئوں کو امداد و تعاون دے رہی ہے۔ انہیں رقوم دی جاتی ہیں، سہولت کاروں کے توسط سے ہر طرح کا تعاون کیا جاتا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی ایرانی سرحد پر گرفتاری اس کی بڑی مثال ہے۔ گویا حالیہ چند بڑے واقعات کے تانے بانے اور قدموں کے نشان ایران جاتے پائے گئے ہیں۔ اگرچہ بلوچستان کے پہاڑی سلسلوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کے کئی کیمپ موجود ہیں۔ ان کیمپوں کی طنابیں جہاں افغانستان سے ملتی تھیں، وہیں تہران سے بھی جڑی پائی جاتی ہیں۔ یہاں یہ امر بھی مدنظر رہے کہ ایران بلوچ عسکریت پسندوں کو اپنی ’بسیج ‘ملیشیا کے ذریعے تعاون فراہم کرتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ماتحت یہ ملیشیا پور ے ایران میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس فورس سے داخلی سیکورٹی، بچوں کی ذہن سازی اور ان کی عسکری تربیت، انقلاب مخالف عناصر کی نگرانی اور ان سے نمٹنے جیسے کام لیے جاتے ہیں۔ پاکستان سے ملحقہ ایرانی صوبے ’’سیستان بلوچستان ‘‘میں یہ بارڈر سیکورٹی فورس کے ہمراہ مل کر سرحدوں پر کام کرتی ہے۔ ان سرحدی علاقوں میں اس ملیشیا کے اہلکار مقامی ایرانی بلوچ ہیں جو عسکریت پسندوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ایران و بلوچستان کے سرحدی عوام کی زبان و قومیت ایک ہے۔ ان کے درمیان رشتے قائم ہیں۔ معاشی و تجارتی تعلق رکھتے ہیں۔ آبادیاں بھی جگہ جگہ منسلک ہیں۔
اکتوبر 2018ء میں امریکی حکومت نے’’ بسیج‘‘ فورس پر پابندی بھی عائد کی۔ 25جنوری 2022ء کو کیچ میں فورسز پر حملہ جس میں دس فوجی جوان جاں بحق ہوئے، کے بعد نوشکی و پنجگور کے سنگین حملوں کو بھی اس تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے اسلم اچھو دھڑے کے سربراہ بشیر زیب،کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی اور باقی تنظیموں کے سربراہان بھی ایران آتے جاتے بتائے گئے ہیں۔ یہ گروہ ایران کی حدود سے آکر حملے کرچکے ہیں اور پناہ کے لیے واپس چلے جاتے ہیں۔ پاکستان نے دسمبر 2018ء میں کیچ میں ہونے والے ایک حملے کے بعد باقاعدہ اسلام آباد میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر منددوست کو دفتر خارجہ طلب کرکے ایرانی سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ جانے کیوں پاکستان کا رویہ دھیما اور مصلحت پسندی پر مبنی ہے! جبکہ ایران پاکستان کے خلاف بارہا شدید ردعمل دے چکا ہے۔ ایرانی فورسز پاکستان کی حدود میں بارہا داخل ہوئی ہیں، وہ لوگوں کو اٹھا کر لے جاچکی ہیں، میزائل حملے کرچکی ہیں، آبادیوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بناچکی ہیں۔ چند سال پہلے تک پاکستان کی حدود میں ڈرون کی پروازیں معمول تھیں۔ پاکستانی فضائیہ نے جون2017ء میں ایران کا ڈرون مار گرایا تو یہ سلسلہ رکا۔ حتیٰ کہ ایرانی فوجی حکام میڈیا کے ذریعے پاکستان کی حدود کے اندر کارروائیوں کے لیے سنگین نوعیت کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں۔ پاکستان کا رویہ تعاون کا رہا ہے جس کی ایک مثال جون2008ء میں جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی کے بھائی عبدالحمید ریکی کی ایران کو حوالگی ہے، جسے بعد ازاں ایران نے پھانسی دے دی۔ پاکستان نے انہی مشکلات کے پیش نظر افغان سرحد کے بعد 2019ء میں ایران کے ساتھ909کلومیٹر طویل سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام شروع کیا۔ مجموعی طور پر 1080کلومیٹر طویل آہنی اور خاردار تاروں پر مشتمل باڑ لگانے کا خطیر مالیت کا منصوبہ ہے، جس پر اب تک 67فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ نوشکی پنجگور حملے اس گروہ کے مجید بریگیڈ کے فدائین یونٹ نے کیے، یہ خودکش کارروائیاں تھیں۔
2018ء میں چاغی میں چینی انجینئرز،کراچی میں چینی قونصل خانے،2019ء میں گوادر میں پی سی ہوٹل، اور2020ء میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں کے برعکس نوشکی و پنجگور حملے بھیانک تھے۔ ان حملوں نے انٹیلی جنس اور حفاظتی حصار و نظام کو مات دے دی ہے۔ نوشکی آپریشن 3 فروری کی صبح تک مکمل ہوا۔ جبکہ پنجگور میں ایف سی کیمپ اگلے تین دنوں تک کلیئر نہ ہوسکا۔ دونوں شہروں میں کرفیو کی کیفیت تھی۔ ان شہروں کا ملک کے دیگر علاقوں سے مواصلاتی سمیت ہر قسم کا رابطہ منقطع رہا۔ نوشکی میں 9 اور پنجگور میں7عسکریت پسند مارے گئے، جن کی، گروہ نے خود نام و تصاویر جاری کرکے تصدیق بھی کردی۔ مقابلے میں سیکورٹی فورسز کے9 اہلکار جاں بحق ہوئے جن میں 2 افسران بھی شامل تھے۔ آئی ایس پی آر نے پنجگور میں 5 اور نوشکی میں 4 اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔ چناں چہ بات چیت کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔ خصوصاً بلوچستان کے اندر حقیقی سیاسی جماعتوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ البتہ سیاسی لوگ بھی دو رنگی اور فساد کا قلادہ اتار دیں۔ یقینی طور پر مصنوعی قیادت مسلط کرنے اور بالادستی کی سوچ و طرزِعمل، اور آئینی حقوق کا غصب ہونا بلوچستان کے امن کی خرابی کی وجوہات ہیں۔ مصنوعی سیاسی جماعت اور اس پر مشتمل صوبائی حکومت کہ جس کی خواتین پارلیمنٹرین تک بدعنوانی میں لت پت ہیں، مسلط ہوں تو عوام کے جذبات اور رائے قطعی مثبت نہیں رہے گی۔ لہٰذابلوچ معاشرے کے اندر رائے عامہ موافق بنانے کی ضرورت ہے، جو مستقل وبامعنی آئینی، سیاسی اور معاشی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔