وزیراعظم کا دورۂ چین اور یومِ یکجہتیِ کشمیر

پوری پاکستانی قوم نے پانچ فروری کو ایک بار پھر یوم یکجہتیِ کشمیر منایا۔31 سال پہلے جب یہ دن منایا گیا تھا اُس وقت پوری قوم متحد تھی، آج اس میں بہت فرق آچکا ہے، یوم یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنے اپنے مفادات کے کھونٹوں سے بندھی ہوئی دکھائی دی ہے۔ اس وقت ایک ایسا سیاسی منظرنامہ سامنے ہے کہ جہاں ایک گروہ اپنا اقتدار بچانے اور دوسرا اُس سے اقتدار چھین لینے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ جماعت اسلامی ہی ایک ایسی جماعت تھی جو اس روز کشمیری عوام سے یکجہتیِ کے لیے عوام کے ساتھ شاہراہوں، چوراہوں اور سڑکوں پر تھی۔ یہ دن منانے کی سب سے پہلے اپیل محترم قاضی حسین احمد نے کی تھی۔ یوم یکجہتیِ کشمیر کی تاریخ یہ ہے کہ جب اس بارے میں اپیل کی گئی تھی تو اُس وقت بھی وفاق میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں آئی جے آئی کی حکومت تھی، تاہم وزیراعلیٰ پنجاب اور اُس وقت کی وزیراعظم یوم یکجہتیِ کشمیر کو قومی سطح کے دن کی حیثیت سے منانے کے لیے تیار نہیں تھے، مگر انہیں رائے عامہ کے سامنے سرنڈر کرنا پڑا تھا۔ اِس سال یہ دن ایک بار پھر منایا گیا، اور اس کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ حکومت نے ایک قومی سلامتی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں یہ پیغام واضح طور پر دیا گیا ہے کہ ہماری قومی سلامتی ہماری معاشی ترقی کی محتاج منت ہے، اس لیے ہماری ساری توجہ اپنے معاشی حالات بہتر بنانے اور معیشت کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی واضح ہے کہ معاشی ترقی کی اس دوڑ میں جو بھی رکاوٹیں آئیں گی انہیں ہٹادیا جائے گا، یا ان سے راستہ بدل کر معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔ چونکہ ہماری معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے ہمسایہ ملک کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں تو اس نئی پالیسی کے مطابق ان کشیدہ تعلقات میں بہتری کے لیے متنازع معاملات کو ایک طرف رکھ کر معاشی ترقی کا سفر طے کیا جائے گا۔
اس پالیسی کے نکات سے ایک سوال ابھرتا ہے کہ معاشی ترقی کی اس دوڑ میں ہم اب کشمیری عوام کو پہلی جیسی اخلاقی، سیاسی یا سفارتی مدد دے سکیں گے؟ اب ہماری پہلی ترجیح کیا ہے؟ کشمیر یا معاشی ترقی؟ ہوسکتا ہے مستقبل میں کشمیری عوام کو اپنی حقِ خودارادی کی جدوجہد خود ہی کرنا ہوگی۔ 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کے بعد جس طرح مقبوضہ کشمیر کے بارے میں قانون سازی ہورہی ہے اس سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تحریک جاری بھی رہ سکے گی؟ کشمیری عوام کی یہ طویل جدوجہد اور بے بہا قربانیاں اس بات کا پتا دے رہی ہیں کہ انہیں کوئی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت ملے نہ ملے وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حقِ خودارادیت کی اس جدوجہد کو ترک کرنا آخر میں کشمیری تشخص کے خاتمے پر بھی منتج ہوسکتا ہے۔ نریندر مودی کشمیر کی مسلم شناخت کو ہی مٹانے پر تلا ہوا ہے۔ نسل کُشی کے بین الاقوامی ماہرین بھی اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ بھارتی ظالمانہ اقدامات سے کشمیریوں کی نسل کُشی کی ابتدا ہوچکی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’’جینوسائیڈ واچ‘‘ کے ایک ماہر نے امریکی کانگریس میں حال ہی میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں نسل کشی کا عمل اور اس کے واضح نشانات دکھائی دینے لگے ہیں۔ بھارتی حکومت ایسے ہی اقدامات اپنی دوسری ریاست آسام میں بھی کررہی ہے۔ اب یہاں سب سے اہم سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد کے ان مشکل ترین حالات کا مقابلہ کیسے کریں گے جبکہ اُن کا وکیل اپنی معاشی مشکلات کا حل سوچ رہا ہے اور اسے اپنی پہلی ترجیح قرار دے رہا ہے؟ اور بھارت کی سرکار وادی میں نسل کشی، آبادی کے تناسب میں تبدیلی سمیت جو کچھ بھی کررہی ہے اس کی راہ میں اب سید علی گیلانی کی صورت میں مزاحمت کی توانا آواز موجود نہیں ہے، کشمیر میں مسلم اکثریت اقلیت میں تبدیل کی جارہی ہے۔ کشمیری عوام کے پاس شاید دو راستے بچے ہیں، پہلا حالات سے سمجھوتے کا، اور دوسرا مقامی جدوجہد کا۔ دوسرا راستہ منظم اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت مانگتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستان سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے کوئی نئے راستے تلاش کرے تاکہ تحریکِ مزاحمت کی آواز اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تک پہنچتی رہے، کیوں کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں حقِ خودارادیت کی مدد کو جائز قرار دیتی ہیں اور بھارتی قابض فوجیوں سے مقابلہ کرنے کی مزاحمت کی صلاحیتوں کو بڑھانے کا قانونی جواز رکھتی ہیں۔ یہ کام کشمیری عوام منظم مالی وسائل کے ساتھ ہی کرسکیں گے تاکہ مغربی ممالک اور خصوصاً امریکہ میں قانون سازوں کے ساتھ رابطوں میں اضافہ ہو اور انہیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے بارے میں مسلسل معلومات مہیا کی جاتی رہیں۔
مغربی ممالک امریکہ کے زیر اثر ہیں اور امریکہ ابھی کابل میں شکست کے رخم چاٹ رہا ہے، ساتھ ہی وہ ایک زخمی ریچھ کی مانند پاکستان کی جانب بھی آنکھیں نکال رہا ہے۔ اس پس منظر میں آرمی چیف کا دورۂ امریکہ اور وزیراعظم کا دورۂ چین نہایت عمیق نظروں سے تجزیے کا متقاضی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سرمائی اولمپک مقابلوں کے موقع پر چین کا چار روزہ دورہ کیا ہے، دورے سے واپسی پر وزیراعظم نے مژدہ سنایا کہ چین ہماری کشمیر اور افغان پالیسی سے متفق ہے۔ ہماری افغان اور کشمیر پالیسی سے ملک کے عوام تو بے خبر ہیں اور عوام کی نمائندہ مجلس پارلیمنٹ کو بھی کچھ علم نہیں ہے کہ حکومت کی کشمیر اور افغان پالیسی کیا ہے؟ وزیراعظم نے چین میں معروف تھنک ٹینکس، جامعات اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہوں اور نمائندوں پر مشتمل خصوصی اجلاس سے خطاب بھی کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق منصفانہ حل تلاش کرنا ہوگا۔ وزیراعظم کا خطاب اپنی جگہ، مسئلہ کشمیر کا سات دہائیوں سے زائد مدت گزر جانے کے بعد بھی حل نہ ہونا، اور پاکستان کی جانب سے بھی محض بیانات تک محدود رہنا مناسب نہیں، بلکہ یہ مسئلہ سنجیدہ اور ٹھوس کاوشوں کا طالب ہے۔ مودی حکومت توکھلی ہٹ دھرمی دکھا چکی ہے، پاکستان بھی عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری پر بھی وزیراعظم نے اظہار خیال کیا ہے۔ پاک چین معاشی تعاون کے عملی اقدامات کے ضمن میں وزیراعظم کا یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم نے بیجنگ میں چیئرمین این ڈی آر سی ہی لی فنگ سے ون ٹو ون ملاقات کی ہے۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے میں چین کس قدر معاون ثابت ہوسکتا ہے؟ اِس پر اس خطے کے حالات اور مسائل کوسامنے رکھ کر ہی بات ہوسکتی ہے۔ مستقبل میں بحر ہند عالمی معیشت کا مرکز ہوگا، کیونکہ دنیا کی پچاس فی صد معاشی سرگرمیاں انہی پانیوں میں ہورہی ہیں۔ پاکستان نے بھی مستقبل کے معاشی نقشے کو سامنے رکھ کر گہری سوچ بچار کی ہوگی۔ عمران خان سے پہلے وفاق کی سطح پر سابق حکومت نے ارکانِ پارلیمنٹ کے علاوہ صنعت کار، بزنس مین، سول سوسائٹی کے اہم افراد کی ایک ایسی ٹیم تیار کی ہے جس کی تربیت کے لیے ملک گیر سطح پر ایک ورکشاپ منعقد کی گئی تھی جس میں 8 کورسز ہوئے، جس میں 6 صرف بلوچستان پر تھے، اور اس کے بعد پنجاب، سندھ، کے پی کے اور گلگت بلتستان شامل کیے گئے۔ ان کورسز کے ذریعے چھے سو افراد کی ایک ٹیم تیار کی گئی جن کی کاوشوں اور تربیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ پاک چین دوستی اور معاشی مفادات بحرہند سے جڑے ہوئے ہیں، جس نے بھی یہاں اپنی دھاک بٹھا دی وہی مستقبل کی عالمی معیشت کا بادشاہ ہوگا۔ اس تناظر میں وزیراعظم کے دورۂ چین کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس دورے پر امریکہ نے بہت ہی محتاط ردعمل دیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ نے ایک پالیسی بیان جاری کیا ہے اور یہ بیان وزیراعظم عمران خان کے دورۂ چین کے پس منظر میں ہے۔ ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’’اسلام آباد واشنگٹن کا اسٹرے ٹیجک پارٹنر ہے، دو طرفہ تعلقات کو خاص اہمیت حاصل ہے، کسی ملک کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ تعلقات رکھنے کے لیے امریکہ یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے‘‘۔
خارجی حکمت عملی ہر دور میں حساسیت کی حامل رہی ہے، اور آج کی بدلتی دنیا میں زیادہ احتیاط کی متقاضی ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرد جنگ جیسے پولرائزیشن کے ماحول میں بھی بعض ممالک باہمی معاملات کے لیے ہمہ جہتی پالیسی اختیار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات برصغیر کی تقسیم کے بعد ہی دفاعی امور سمیت ہر سطح پر قائم رہے ہیں، ان میں کبھی گرم جوشی اور کبھی سردمہری کے ادوار آتے رہے ہیں، تاہم پاک امریکہ اسٹرے ٹیجک شراکت داری کی اپنی اہمیت ہے جسے اگر افغانستان کے پس منظر میں دیکھا جائے تو کبھی خاموشی اور کبھی عقابی نگاہیں بھی بہت سے سوالوں کا جواب دیتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ دوسری جانب اس خطے کے اہم ملک چین سے پاکستان کے قریبی تعلقات کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ امریکہ ہو، چین ہو، یا دنیا کا کوئی بھی ملک… سفارت کاری میں سب سے پہلے وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے، یہ دنیا کا اصول ہے۔ تاہم امریکہ بازو مروڑ کر اپنا کام نکلواتا ہے۔ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور بعض اوقات تو دنیا کے بڑے ملک اور مسلم دنیا کے اہم ملک بھی سفارت کاری سے پہلے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں۔ یہ صورتِ حال پاکستان کے لیے کسی آزمائش اور امتحان سے کم نہیں ہے۔ آئی ایم ایف ایک کھونٹا ہے، اگر کوئی ملک اس کے ساتھ نہیں بندھا ہوا تو عالمی برادری بھی اس پر اعتبار نہیں کرتی۔ یہی وہ عالمی ادارہ ہے جسے پاکستان کا بازو مروڑنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی شرائط پوری کرنے کے لیے منی بجٹ لایا گیا، اب ایک اور بجٹ آرہا ہے، جس میں انکم ٹیکس بڑھایا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف کے باعث ہی پاکستان کو منی بجٹ 2021کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ سے اسٹیٹ بینک خودمختاری کا بل بھی منظور کرنا پڑا ہے۔ بات یہیں نہیں رکے گی، ایک مزید منی بجٹ اور بھی آسکتا ہے جس میں ایمنسٹی پر نظرثانی کی جاسکتی ہے اور بجلی کے نرخ بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے مطالبوں پر مبنی پاکستان سے طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات جاری کی ہیں جس میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تعمیراتی شعبے کے لیے ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرنے اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے لیے کہہ دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کے ہدف میں 1155 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کی تجویز دی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے ایف بی آر کو ٹیکس ہدف 7255 ارب روپے اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں 406 ارب روپے کی وصولیوں کی تجویز دی ہے۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کو تجویز دی ہے کہ براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 2711 ارب، سیلز ٹیکس کی مد میں 3295 ارب، اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 843 ارب روپے وصول کرے۔ آئی ایم ایف کی ایما پر ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خلاف ایف اے ٹی ایف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا ہے، اب پلان پر عمل درآمد مکمل کرے۔آئی ایم ایف نے مطالبات میں کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے قرار دیے گئے دہشت گرد گروپوں کے رہنمائوں کے خلاف تحقیقات کرکے سزا دلوائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان مالیاتی نظام میں خامیاں دور کرے اور آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں 559 ارب روپے مختص کرے۔اس پر پاکستان کو ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر مارنے تھے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ باڑ ہی کھیت کو کھانے لگ گئی ہے۔ یہ قوم تو پہلے ہی جاں بہ لب اور نڈھال تھی، اس پر رحم کھانے کی ضرورت تھی، مگر حکومت اس کی کمر پر تازیانے برسا رہی ہے۔ اب حکومت نے قومی سلامتی پالیسی دے دی ہے اور اسے ڈھال بنا کر اس کے پیچھے چھپ کر معیشت مستحکم کرنے کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب خارجہ پالیسی کا طے شدہ بنیادی پتھر نکال دیا جائے۔
تاریخی لحاظ سے پاکستان کا آئی ایم ایف سے قرضے لینے کا سلسلہ 1958ء سے جاری ہے۔ اب تک کم و بیش 22 مرتبہ قرضہ لیا جاچکا ہے، تاہم 1991ء کے بعد نوازشریف کے دور (1998ء) میں اس سے نجات کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ جنرل پرویزمشرف سے معاہدے کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو دوبارہ پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا۔ اب تحریک انصاف کی حکومت سابق حکومتوں پر الزام تراشی کرکے معیشت کی بگڑتی صورتِ حال کو سنبھالا دینے کے نام پر آئی ایم ایف کے پاس پہنچی۔ عالمی مالیاتی ادارہ ای ایف ایف سہولت کے تحت قرضہ اُن ملکوں کو جاری کرتا ہے جو ساختی کمزوریوں کی وجہ سے درمیانی مدت کی ادائیگیوں کے توازن کے سنگین مسائل سے دوچار ہوں، جنہیں دور کرنے میں وقت لگتا ہے۔ پاکستان کے اس پروگرام کا مقصد معیشت کی بحالی اور کووڈ 19کی وبا سے انسانی زندگیوں اور روزگار کو بچانے سمیت جملہ اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اور ملک کے اقتصادی ماہرین آئی ایم ایف کی شرائط کو پارلیمنٹ اور حکومتی خودمختاری پر سمجھوتا قرار دے رہے ہیں۔
حکومت کوئی بھی مجبوری بیان کرے، یہ بات طے ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں عوام کے لیے کوئی خیر نہیں ہوتی۔ ویسے بھی ایک بلین سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، صرف یہ ہوگا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے۔ یہ پیکیج پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین پیکیج ہوگا کیونکہ یہ پیسہ صرف ذخائر بڑھانے کے کام آئے گا، یوں یہ معاشی خودمختاری کا بھی سودا ہے۔ اب جو قانون اسٹیٹ بینک کے لیے بنا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارا گورنر ویسٹ مینجمنٹ ڈائریکٹر کو براہِ راست رپورٹ کرے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف اپنے اعلامیے کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے FATF کی شرائط پر عمل کرنے کا مطالبہ بھی کررہا ہے۔سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کون ہے جو ہم سے فیٹف کی شرائط منوا رہا ہے؟