سوڈان کا سیاسی بحران

گفتگو کے آغاز پر حضرت انور مسعود سے ان کے شعر میں بلا اجازت تصرف پر دست بستہ معذرت۔ نیو ورلڈ آرڈر کے عنوان سے یہ قطعہ دراصل کچھ اس طرح ہے:
انہیں ضد ہے، ہوا اِسلامیوں کی
کسی گاڑی کے ٹائر میں نہ ہووے
انہیں جمہوریت اچھی لگے ہے
اگر یہ الجزائر میں نہ ہووے
آج کی نشست میں ہم سوڈان کے حالیہ سیاسی بحران کا جائزہ لیں گے اور گفتگو کا آغاز اس ملک کی مختصر تاریخ سے، تاکہ قارئین کو معاملے کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔
بحر قلزم (یا احمر) کے ساحل پر واقع جنوب مشرقی افریقہ کے ملک سوڈان کی آبادی ساڑھے چار کروڑ کے قریب اور مسلمانوں کا تناسب 97 فیصد ہے۔ سوڈانیوں کو اپنی کالی رنگت پر ہمیشہ سے فخر رہا ہے۔ اس خطے کا نام پہلے بلادالسودان یا سیاہ فاموں کی سرزمین تھا۔ خلافتِ راشدہ کے دور ہی میں سوڈان نورِ ہدایت سے جگمگا اٹھا جب مصر سے آنے والے مبلغین نے یہاں کے لوگوں کو دینِ حق سے روشناس کیا۔ عثمانی ترکوں نے 1821ء میں سوڈان کے بڑے حصے کو ولایاتِ مصر کا حصہ بنالیا۔ آٹھ دہائیوں بعد 1899ء میں سوڈان اور مصر کے پورے علاقے پر برطانیہ کا قبضہ ہوگیا۔ یکم جنوری 1956ء کو سوڈان کو آزادی دے دی گئی۔ علما پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد اسماعیل الازہری سوڈان کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ریاست کے قیام کے ساتھ ہی جنوبی سوڈان کے مسیحی علاقے میں آزادی کی تحریک شروع ہوگئی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی طالع آزمائوں نے مداخلت شروع کردی۔ جلد ہی فوج کے دبائو پر اسماعیل الازہری کی جگہ عبداللہ خلیل وزیراعظم بنا دیے گئے۔ فوج کا ایک طبقہ جناب الازہری کا حامی تھا جس نے صرف دو سال بعد عبداللہ خلیل کو برطرف کرکے ایک فوجی افسر ابراہیم عبود کو وزیراعظم اور صدر نامزد کردیا۔ فوج کے دوسرے دھڑے نے 6 سال بعد اسماعیل الازہری کو ملک کا صدر بنادیا، لیکن الازہری کی صدارت صرف چار سال ہی چل سکی اور مئی 1969ء میں کرنل جعفر النمیری نے اسماعیل الازہری کا تختہ الٹ دیا۔ کرپشن اور غداری کے الزام میں سابق صدر جیل بھیج دیے گئے۔ خرابیِ صحت کی بنا پر الازیری صاحب اسپتال منتقل ہوئے اور دورانِ حراست ہی ان کا انتقال ہوگیا۔
سوڈان اپنی آزادی کے پہلے دن سے وردی والوں کے نرغے میں رہا، اور نمیری انقلاب کے بعد فوج نے سوڈان پر اپنے پنجے گاڑ دیے۔ اپریل 1985ء میں ایک جمہوریت پسند جرنیل عبدالرحمان سوارالذھب نے جعفرالنمیری کو برطرف کرکے انتخابات کے بعد اقتدار صدر احمد المغیرنی اور وزیراعظم صادق المہدی کے حوالے کردیا۔
منتخب حکومت صرف چار سال چلی اور جون 1989ء میں جنرل عمرالبشیر نے وزیراعظم صادق المہدی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ مسلم ممالک کے دوسرے جرنیلوں کی طرح عمرالبشیر کے خیال میں سارے سیاست دان بے ایمان اور نااہل ہیں، چنانچہ وہ سات سال تک سیاسی تطہیر کرتے رہے اور 1996ء میں انتخابات کرواکر صدر ”منتخب“ ہوگئے۔ پارلیمان کے انتخاب میں اخوان کی فکر سے وابستہ حزب الموتمر الشعبی یا پاپولر کانگریس پارٹی کو برتری حاصل ہوئی اور ممتاز اسکالر و دانشور ڈاکٹر حسن ترابی اسپیکر منتخب ہوگئے۔ جنرل صاحب نے دوامِ اقتدار کے لیے اسلام کا سہارا لیا اور ملک میں ”شریعت“ نافذ کردی گئی، جس کا اسلام کی روح یعنی انصاف، قانون کی حکمرانی، دیانت و احتساب وغیرہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان جرنیلوں کا خیال تھا کہ شریعت بس ہاتھ کاٹنے، گردن اڑانے اور سنگسار کرنے کا نام ہے۔
حسبِ توقع بہت جلد ڈاکٹر ترابی، جنرل صاحب کے ناپسندیدہ لوگوں میں شامل ہوگئے۔ غداری، انتہا پسندوں سے تعلقات، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اس نوعیت کے دوسرے الزامات عائد کرکے ترابی صاحب کو جیل بھیج دیا گیا، اور 2016ء میں انتقال تک ترابی صاحب وقفے وقفے سے جیل یاترا کرتے رہے۔
دوسری طرف جنوبی سوڈان میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑ گئی۔ نسلی اعتبار سے سوڈان تین لسانی اکائیوں پر مشتمل ہے یعنی شمالی سوڈان جہاں عرب مسلمانوں کی اکثریت ہے، جنوبی سوڈان میں عیسائی اور روح پرست (Animist) افریقی قبائل آباد ہیں، جبکہ مغربی سوڈان دارفور کہلاتا ہے جو افریقی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا 1956ء میں مملکت کی آزادی کے ساتھ ہی جنوبی سوڈان میں علیحدگی کی تحریک شروع ہوچکی تھی۔ ایتھوپیا کے متعصب حکمران شہنشاہ ہیل سلاسی علیحدگی پسندوں کی پشت پر تھے۔ اصلاحِ عقیدہ کی غرض سے شہنشاہ ہیل سلاسی نے مسیحی مبلغین کے بھیس میں سیکڑوں عسکری ماہرین جنوبی سوڈان بھیجے، جبکہ اسلحہ کی ترسیل کینیا کی ذمے داری تھی۔ جنوبی سوڈان تحریک آزادی (SSLM)کے نام سے تربیت یافتہ گوریلوں نے سوڈانی فوج کا ناطقہ بند کردیا۔ جلد ہی سوڈان پیپلز لبریشن آرمی (SPLA) کے نام سے منظم مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا۔
علاقے میں تیل کی دریافت نے معاملہ اور خراب کردیا۔ تیل سے ہونے والی آمدنی کی ”غیر منصفانہ تقسیم“ پر SPLA نےجنگِ آزادی کا اعلان کردیا۔ نتیجے کے طور پر سوڈانی فوج اورSPLA کے درمیان خونریز تصادم ہوا۔ لیبیا، کینیا، ایتھوپیا اور یوگینڈا نے SPLAکو جنوبی سوڈان کا نمائندہ تسلیم کرلیا جس سے SPLA کو سیاسی و سفارتی اعتبار سے تقویت حاصل ہوئی۔ مغربی دنیا کھل کرSPLAکی پشت پر آکھڑی ہوئی اورجنوبی سوڈان میں جدید ترین اسلحہ کے انبار لگا دیے گئے۔ مسیحی مبلغین نے محلے محلے جذباتی تقریروں سے جنگ کی فضا پیدا کردی اور نو برس کے بچے بھی SPLAکی وردی پہن کر میدان میں آگئے۔
بار بار کے مارشل لا نے سوڈانی فوج کو سیاسی و نظریاتی اعتبار سے تقسیم کردیا تھا، جس کے نتیجے میں سوڈانی سپاہیوں کا حوصلہ بری طرح متاثر ہوا اور مغرب کے دبائو پر جنرل البشیر ریفرنڈم پر تیار ہوگئے۔ جنوری 2011ء کے ریفرنڈم میں98 فیصد افراد نے مکمل آزادی کے حق میں رائے دی اور سوڈانی پارلیمنٹ نے عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے جنوبی سوڈان کو آزاد کرنے کا اعلان کردیا۔
آزادی کے ساتھ ہی سوڈان بڑی آمدنی سے محروم ہوگیا کہ تیل اور گیس کے سارے میدان جنوبی سوڈان میں، جبکہ تیل صاف کرنے کے کارخانے خرطوم اور اس کے مضافات میں ہیں۔ خام تیل کی ترسیل رکنے سے جہاں آمدنی ختم ہوگئی وہیں یہ عظیم الشان کارخانے ملک پر بوجھ بن گئے اور لاکھوں کارکنوں کو ملازمتوں سے فارغ کرنا پڑا۔ جنوبی سوڈان میں ڈیم اور چھوٹے بڑے بندوں کی تعمیر سے دریائے نیل میں پانی کا حجم متاثر ہوا اور سوڈان کے لیے اپنے عوام کو غلہ و سبزی فراہم کرنا بھی مشکل ہوگیا۔
ان مشکلات کے باوجود فوجی جنتا کی لوٹ مار جاری رہی۔ تین سال پہلے سوڈانی عوام نے فوجی اقتدار کے خاتمے کے لیے زبردست تحریک چلائی۔ اس عوامی تحریک کے نتیجے میں جنرل عمرالبشیر کو فوجی جنتا نے معزول تو کردیا لیکن ملک کی باگ ڈور ”بلڈی“ سویلین کے حوالے کرنے کے بجائے ایک انقلابی عبوری کونسل تشکیل دے دی گئی جس کی سربراہی جنرل عبدالفتاح البرہان نے سنبھال لی اور ماہرِ معاشیات ڈاکٹر عبداللہ حمدوک کو وزیراعظم بنادیا گیا۔ ساتھ ہی 2022ء میں انتخابات کی نوید بھی سنادی گئی۔
عبوری کونسل نے مغرب سے سندِ قبولیت کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب صدر ٹرمپ عرب ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دبائو ڈال رہے تھے۔ امریکی صدر کی کوششوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا، جبکہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود اسرائیلی کمرشل طیاروں کے لیے چوپٹ کھول دیں۔
سوڈان کو ترغیب دی گئی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں اسے دہشت گرد ملکوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔ کاروباری ٹرمپ نے کلنک کے اس ٹیکے کو ہٹانے کے لیے سوڈان سے 40 کروڑ ڈالر بھی وصول کیے۔ یہ رقم دہشت گرد واقعے کے متاثرین کو سوڈانی حکومت کی جانب سے بطور تاوان ادا کی جائے گی۔ جنرل صاحب نے یہ شرط قبول کرکے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا، یا یوں کہیے کہ تسلسلِ اقتدار کو یقینی بنالیا۔ اسی کے ساتھ وزیراعظم نے شرعی قوانین منسوخ کرکے سوڈان کو ایک سیکولر ملک قرار دے دیا۔ یہ گویا جنرل برہان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نہلے پر حمدوک صاحب کا دہلا تھا۔
ان دو اقدامات پر مغرب نے عبوری حکومت کی بڑھ بڑھ کر بلائیں لیں لیکن اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر جنرل برہان اور وزیراعظم حمدوک کے درمیان کھینچ تان جاری رہی، حتیٰ کہ 25 اکتوبر کو جنرل صاحب نے عبوری حکومت کو تحلیل کرکے وزیراعظم عبداللہ حمدوک اور کابینہ کے ارکان کو ان کے گھروں پر نظربند کردیا۔ قوم سے خطاب میں جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا کہ یہ قدم نہ تو فوجی انقلاب ہے اور نہ مارشل لا، بلکہ نااہلی اور بدعنوانی کی بنا پر انھوں نے حکومت کو گھر بھیجا ہے اور جلد ہی نئی عبوری حکومت قائم کردی جائے گی۔ ساتھ ہی انھوں نے اگلے سال جولائی میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ بھی کرلیا۔
فوجی قبضے کے خلاف ساری دنیا سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ امریکہ، یورپی یونین، افریقی یونین، عرب لیگ اور اقوام متحدہ نے فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے عبداللہ حمدوک کی حکومت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ دلچسپ بات کہ خلیج کے امرا، شیوخ اور سلاطین جیسے آمروں کو بھی سوڈان میں جمہوریت کی پامالی پر سخت تشویش ہے۔
قرنِ افریقہ (Horn of Africa) کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے جیفری فیلٹ مین (Jeffery Feltman) جنرل برہان کے نام صدر بائیڈن کا بہت سخت پیغام لے کر 2 نومبر کو خرطوم پہنچے۔ اس انتباہ سے جنرل صاحب پریشان اور معقولیت پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔ فوجی قیادت سے ملاقات کے بعد آن لائن اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب فیلٹ مین نے بتایا کہ سوڈانی فوج اب مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز اور تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنرل برہان جلد ہی سویلین کے ساتھ شراکتِ اقتدار پر راضی ہوجائیں گے۔
اسی دن امریکہ، برطانیہ اور ناروے کے سفیروں نے گھر پر نظربند عبداللہ حمدوک سے ملاقات کی، جس میں ”ڈٹے رہو“ پیغام کے ساتھ خوش خبری دی گئی کہ جنرل برہان سے بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے۔ گویا ”سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے“۔ سفیروں سے اس اہم ملاقات کے بعد ”قیدی“ معزول وزیراعظم نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی اقتدار کی تحلیل اور سول حکومت کی بحالی سے سوڈانی عوام کو درپیش مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
رائٹرز کے مطابق معتمدِ عام اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ووکر پرتھز (Volker Pertthes) نے خرطوم سے سمعی و بصری رابطے پر نیویارک میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ سوڈان کی فوجی جنتا سے مذاکرات جاری ہیں۔ بات چیت کے دوران مراعات اور سہولیات کے علاوہ عسکری قیادت کے لیے اس دلدل سے نکلنے کا باعزت راستہ تلاش کیا جارہا ہے۔ جناب پرتھز پُرامید ہیں کہ یہ ”بحران“ بہت جلد ختم ہوجائے گا۔
اتوار 7 نومبر کو جنرل برہان نے قوم سے خطاب میں سوڈانی عوام، سیاسی قائدین اور بین الاقوامی برادری کو یقین دلایا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے اور نتائج مرتب ہوتے ہی اقتدار منتخب حکومت کو منتقل کرکے فوج اپنی بیرکوں میں واپس چلی جائے گی۔ انھوں یہ وعدہ بھی کیا کہ عبوری دور کے خاتمے پر وہ کوئی حکومتی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔ جنرل صاحب نے اعلان کیا کہ سیاسی سرگرمیوں اور پُرامن مظاہروں پر کوئی پابندی نہیں۔ انھوں نے ماضی میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کردیا ہے۔
سوڈان کے حوالے سے یہ غیر معمولی ردعمل مغربی دنیا کے دُہرے معیار کی ایک مثال ہے۔ بلاشبہ ملکی امور میں فوجی مداخلت ایک قابلِ مذمت فعل ہے، تاہم عبداللہ حمدوک کی حکومت عبوری بندوبست تھا۔ وہ منتخب رہنما نہیں تھے۔ اس واقعے سے ٹھیک 3 ماہ پہلے 25 جولائی کو ایک اور افریقی ملک تیونس میں ”صدارتی مارشل لا“ لگاکر منتخب حکومت کو معطل اور پارلیمان کو منجمد کردیا گیا۔ اس پر دنیا کو کوئی تشویش نہیں، شاید اس لیے کہ پارلیمنٹ کا اسپیکر اخوانی ہے۔ ماہرینِ سیاست و سفارت کا خیال ہے کہ اس شب خون میں امریکی سفیر ڈانلڈ بلوم نے کلیدی کردار ادا کیا، موصوف کو اب پاکستان میں امریکہ کا سفیر نامزد کیا گیا ہے۔
اس سے 9سال پہلے ایک اور جنرل عبدالفتاح یعنی عبدالفتاح السیسی نے مصر میں ملکی تاریخ کے پہلے منتخب صدر کا تختہ الٹنے کے بعد قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کیا، وہ آج تک جاری ہے۔ اس ”انقلاب“ کو اسرائیل، امریکہ، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ مرسی کا تختہ الٹنے کے لیے 3 جولائی کا انتخاب کیا گیا، یعنی یہ امریکہ کے
یوم آزادی پر جنرل السیسی کی طرف سے صدر اوباما کو ایک تحفہ تھا۔ مصر میں کامیابی کے چار سال بعد ایسی ہی کارروائی ترکی میں کی گئی اور وہاں بھی جولائی کا انتخاب ہوا، لیکن ترک عوام نے مہم جو فوجی افسران کی سرِ عام مُشکیں کس کر ان کا اور ان کے سرپرستوں کا دماغ درست کردیا۔ یہ کھیل الجزائر میں بھی کھیلا گیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ فلسطین میں ہوا جب جون 2007ء میں منتخب وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کو صدر محمود عباس کے ہاتھوں معزول کراکے فلسطینیوں کے درمیان نفرت کا بیج بو دیا گیا۔ یعنی مسلمان ملکوں میں وہی جمہوریت قابلِ قبول ہے جو مغرب کے سیکولر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہو۔
…………….
آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔