قادیانی مسئلہ اور اس کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی پہلو

کتاب
:
قادیانی مسئلہ اور اس کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی پہلو
مصنف
:
مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ
صفحات
:
328 قیمت:320 روپے
ناشر
:
اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ
منصورہ، ملتان روڈ۔ لاہور
فون
:
042-35252501-2
فیکس
:
042-35252503
موبائل
:
0322-4673731
ای میل
:
islamicpak@gmail.com
ویب گاہ
:
www.islamicpublications.pk

’قادیانی مسئلہ‘ ایک پمفلٹ تھا جس کے لکھنے پر فوجی عدالت نے مولانا کو سزائے موت سنائی تھی، اور دوسرے کچھ اصحاب کو قید کی سزائیں دی تھیں۔ اس کتاب میں قادیانیت سے متعلق متعدد تحریریں جمع کردی گئی ہیں جن کی تفصیل کتاب میں یوں درج ہے:
’’اس سے پہلے اس کتاب کے مضامین حسب ذیل پمفلٹوں کی شکل میں طبع ہوچکے ہیں:
-1 قادیانی مسئلہ،-2 مقدمہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ،-3 تحقیقاتی عدالت میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کا پہلا بیان، -4 تحقیقاتی عدالت میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کا دوسرا بیان،-5 تحقیقاتی عدالت میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کا تیسرا بیان
اب ان تمام مضامین کو یکجا شائع کیا جارہا ہے تاکہ قارئین بیک وقت اس پورے مسئلے سے واقف ہوسکیں۔ اس کے ساتھ حسب ذیل مضامین کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے:
-1 قادیانیت… علامہ محمد اقبالؒ کی نظر میں
(1) اس میں علامہ موصوف کی چند تحریروں کے اقتباسات ہیں جو آپ نے اس مسئلے پر تحریر فرمائی تھیں۔ 2) )اُس خط کا ترجمہ جو روزنامہ اسٹیٹسمین، کلکتہ کو اس مسئلے کے بارے میں لکھا تھا۔ 3)) پنڈت جواہر لال نہرو کے اُن سوالات کے جوابات جو پنڈت نہرو نے اس مسئلے میں اٹھائے تھے۔
(2)منشی محمد اکبر خاں صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر کے اس مشہور فیصلے کا ترجمہ جو آپ نے قادیانیوں کے بارے میں ایک مقدمے میں قیام پاکستان سے قبل 7 فروری 1935ء کو دیا تھا۔
(3)پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے 33 جید علما کی متفقہ تجویز، جو انہوں نے قادیانیوں کے بارے میں دستور ساز اسمبلی کے سامنے پیش کی تھی۔ (باقی صفحہ 00پر)

(4) شیخ محمد اکبر صاحب پی۔ سی ۔ایس۔ ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی کا فیصلہ، جو آپ نے قیام پاکستان کے بعد 3جون 1955ء کو قادیانیوں کے متعلق ایک مقدمے میں دیا تھا۔
ہمیں یقین ہے کہ اب اس مجموعے میں ہر اُس شخص کی کامل تشفی کا سامان ہے جو قادیانیت کے مسئلء کو سمجھنا چاہتا ہے، اور اس کے جو دینی، سیاسی، معاشرتی اور قانونی اثرات مرتب ہوتے ہیں ان سے کماحقہٗ واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
وماتوفیقی الاباللہ‘‘
مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ’قادیانی مسئلہ‘ میں اپنی تحریر پر جو نوٹ لکھا ہے وہ یہ ہے:
’’اس مختصر کتابچے میں وہ تمام دلائل جمع کردیئے گئے ہیں جن کی بنا پر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ اُن تمام اعتراضات اور عذرات کا جواب بھی دیا گیا ہے جو اس مطالبے کے خلاف مختلف حلقوں سے پیش کیے جاتے ہیں۔
جمہوری نظام کا یہ مسلّمہ قاعدہ ہے کہ یا تو دلیل سے بات مانو یا دلیل سے منوائو۔ محض طاقت کے بَل پر ایک معقول و مدلل بات کو رد کردینا جمہوریت نہیں ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے آئین ساز حضرات یا تو دلیل سے ہماری بات مانیں، یا نہیں تو سامنے آکر اپنے وہ دلائل پیش کریں جن کی بنا پر وہ ہماری اس بات کو نہیں مانتے۔ محض اس بھروسے پر کہ مجلسِ آئین ساز میں انہیں اکثریت حاصل ہے، اگر وہ ایک معقول عوامی مطالبے کو بلا دلیل رد کریں گے تو یہ اُن کے اپنے ہی حق میں نقصان دہ ہوگا۔ عوامی مطالبہ آخرکار پورا ہوکر ہی رہے گا‘‘۔
یہ اس کتاب کا پندرہواں ایڈیشن ہے اور یہ اس مسئلے پر جامع کتاب ہے۔
قادیانی مسئلے کا پہلو مذہبی ہے جو بالکل واضح ہے۔ نبی پاکؐ نے جب فرمادیا لانبی بعدی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور قرآن مجید نے آپؐ کو ختم النبیین کہہ دیا تو بحث ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اب اس بات کا فیصلہ کہ کوئی دوسرا نبی، نبی کریمؐ کے بعد آسکتا ہے یا نہیں، اس کی جامع تشریح مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی تحقیق سورۃ الاحزاب کے ضمیمے میں پیش کردی ہے۔ تفہیم القرآن میں اس کو وہاں دیکھنا چاہیے۔ ضروری ہے کہ کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں اس کو بھی شامل کرلیا جائے۔
اس مسئلے کا دوسرا پہلو سیاسی ہے۔ حکمران طبقے کو جب بھی ضرورت ہوتی ہے وہ قادیانی کارڈ کا استعمال کرتا ہے۔ سو، سوا سو سال سے یہی ہورہا ہے۔ پہلے برطانوی حکومت استعمال کرتی تھی، اب سامراج کی وارث حکومتیں اس کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اور اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے بار بار عامۃ المسلمین کو پریشان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ایک جامع کتاب ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے جاننے والے کسی قادیانی کو بطور تحفہ پیش کرے، ہوسکتا ہے اس سے متاثر ہوکر وہ راہِ راست اسلام پر آجائے۔
قیمت بھی انتہائی مناسب ہے۔ کتاب سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔
nn