گوجرانوالہ :جعلی ڈاکٹروں کے میٹرنٹی ہوم کی تعداد میں اضافہ

پنجاب حکومت نے صحت کارڈ جاری کررکھا ہے، تاکہ شہریوں کو سستا علاج مہیا ہوسکے، مگر دوسری جانب ایسی لوٹ مار ہے کہ جس کا کوئی محاسبہ نہیں ہورہا۔ اس وقت شہرمیں جعلی گائناکالوجسٹ و لیڈی ڈاکٹرز کے غیر قانونی کلینکس اور میٹرنٹی ہومز کی تعداد بڑھ گئی ہے، جس سے خواتین میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن نے تاحال کسی زچہ بچہ سینٹر کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ یہ غیر قانونی کلینک اور میٹرنٹی ہوم سرکاری ہسپتالوں کی بیشتر لیڈی ہیلتھ ورکرز اور نرسیں چلا رہی ہیں، جہاں دورانِ زچگی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے آکسیجن، انتقالِ خون، الٹراساؤنڈ مشین، ٹیسٹوں کی سہولت، میڈیکل اسٹور اور دیگر سہولیات کا فقدان ہے، انستھیزیا کے ڈاکٹر تک موجود نہیں ہوتے، اور نومولود کی طبیعت بگڑنے کی صورت میں چائلڈ اسپیشلسٹ بھی نہیں ہوتا۔ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قوانین کے برعکس یہاں زچگی کے لیے شہریوں سے بھاری معاوضہ بٹورا جاتا ہے مگر سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔ 51 لاکھ کی آبادی پر مشتمل گوجرانوالہ میں کئی برس گزر جانے کے باوجود محکمہ صحت چلڈرن ہسپتال نہیں بنا سکا، جبکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بھی غیر قانونی میٹرنٹی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔
گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر گجرات مہتاب وسیم اظہر سے صدر گجرات چیمبر چودھری وحیدالدین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی اور گجرات چیمبر میں لگائی جانے والی صنعتی نمائش، شہر کی بیوٹیفکیشن اور اسمال انڈسٹریز اسٹیٹ2 کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں چیئرمین صنعتی نمائش کمیٹی احمد حسن مٹو، سیٹھ قمر خورشید سابق نائب صدر، ایگزیکٹو ممبر غلام محی الدین، سیٹھ معصوم قمر اور لطافت حسین بھی شامل تھے۔
مون سون کے دوران گیپکو کا بجلی کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہونے لگا ہے۔ بیشتر علاقوں میں مسلسل 5 تا8 گھنٹے بجلی غائب رہنا معمول بن گیا ہے۔ مون سون کی بارشوں سے سیکڑوں ٹرانسفارمرز کی خرابی سے گیپکو افسر بھی پریشان ہوگئے۔ گیپکو نے سسٹم کی اپ گریڈیشن اور مینٹی نینس کے لیے خطیر فنڈز استعمال کیے، مگر چند گھنٹوں کی بارش اور تیز ہواؤں سے بجلی کی ترسیل شدید متاثر ہونے لگی۔ گزشتہ دو دن کے دوران بیشتر علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے۔گیپکو حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی ہے۔ بجلی کی ترسیل کو بہتر کرنے کے لیے مون سون کے موسم میں عملہ کی ہنگامی ڈیوٹیاں لگادی گئی ہیں اور چوبیس گھنٹے تکنیکی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔