طلبہ یونینوں پر پابندی کے ہولناک نتائج

طلبہ یونین پر پابندی کا عجیب پہلو یہ ہے کہ یونین پر پابندی لگے ہوئے 37 سال ہوگئے، مگر آج تک کوئی سیاسی جماعت اور کوئی سیاسی رہنما یہ نہیں بتاتا کہ پابندی کے پیچھے کون ہے؟

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے لاہور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک وفد سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی وقت کا اہم تقاضا ہے، یونین کی بحالی طلبہ کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی حکمرانوں کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا ثبوت ہے۔
پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی جنرل ضیاء الحق کے دور میں عاید ہوئی تھی۔ یہ غالباً 1984ء کا سال تھا۔ اُس وقت عام خیال تھا کہ یہ پابندی جنرل ضیاء مرکز ہے۔ جنرل ضیاء الحق نہیں ہوں گے تو طلبہ یونین پر پابندی بھی نہیں ہوگی۔ مگر یہ ایک سرسری اور سطحی خیال تھا۔ طلبہ یونینوں پر پابندی پاکستان کے اصل حکمران طبقے کا ایک ’’تزویراتی اقدام‘‘ یا Strategic Initiative تھا۔ اس کا کسی فرد، کسی خاص حکومت، یا کسی خاص عہدے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ چنانچہ جنرل ضیاء الحق کے بعد بھی طلبہ یونین پر پابندی رہی۔ اس دوران بے نظیر بھٹو بھی اقتدار میں آئیں، میاں نوازشریف بھی کرسیِ اقتدار پر جلوہ افروز ہوئے، مگر طلبہ یونین پر پابندی برقرار رہی۔ ایک بار پیپلزپارٹی نے اعلان بھی کیا کہ وہ طلبہ یونین بحال کرنے والی ہے، مگر یہ بات بیان سے آگے نہ بڑھ سکی۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں ایم ایم اے کے پی کے میں برسراقتدار آگئی تھی۔ خیال تھا کہ ایم ایم اے کی حکومت کم از کم کے پی کے میں طلبہ یونین بحال کردے گی۔ مگر ایم ایم اے کی حکومت کو بھی طلبہ یونین بحال کرنے کی ’’توفیق‘‘ اور ’’جرأت‘‘ نہ ہوسکی۔
طلبہ یونین پر پابندی کا عجیب پہلو یہ ہے کہ یونین پر پابندی لگے ہوئے 37 سال ہوگئے، مگر آج تک کوئی سیاسی جماعت اور کوئی سیاسی رہنما یہ نہیں بتاتا کہ پابندی کے پیچھے کون ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی ’’اسٹیبلشمنٹ کا تزویراتی مفاد‘‘ ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے، مگر اس بات کو کہنے کی جرأت کوئی نہیں کرتا۔ سب لوگ اس سلسلے میں گول مول بیانات دیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی نے معاشرے، طلبہ برادری اور خود ریاست پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ نقصان بھی کہیں زیربحث نہیں آتا۔ سیاسی رہنما طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف بیان بھی دیتے ہیں تو عمومی نوعیت کا۔ وہ قوم کو بتاتے ہی نہیں کہ طلبہ یونین پر پابندی معاشرے، طلبہ برادری اور ریاست کے لیے کن ہولناک نتائج کی حامل ثابت ہوئی ہے۔
اقبال اسلامی جمہوریہ پاکستان کے روحانی اور فکری استاد ہیں، اور انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنی شاعری میں ’’شاہین‘‘ کا کردار تخلیق کیا، اس لیے کہ اقبال مسلم دنیا بالخصوص برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کے ہر نوجوان کو شاہین صفت دیکھنا چاہتے تھے۔ اقبال کا شاہین بلند پرواز ہے، بلند کردار ہے۔ وہ مُردار نہیں کھاتا۔ اقبال نے شاہین کی صفات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:۔

تُو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
٭٭٭
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تُو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
٭٭٭
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پاکستان کے شاہین پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرنے کے بجائے قصرِ سلطانی کے گنبد پر بسیرا کریں اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ کہلائیں۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پاکستان کے نوجوان نئے آسمان دریافت نہ کریں۔ وہ پرواز پر توجہ نہ دیں اور اسٹیبلشمنٹ کی منڈیر پر بیٹھے غٹرغوں غٹرغوں کرتے رہیں۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ شاہین اسٹیبلشمنٹ کا رزق کھا کر شاہین نہ رہے بلکہ کرگس یعنی گدھ بن جائے۔ اقبال ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

مگر بدقسمتی سے پاکستان کا حکمران طبقہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں کبھی عقابی روح بیدار نہ ہو، اور انہیں کبھی اپنی منزل آسمانوںمیں نظر نہ آئے، بلکہ وہ ہمیشہ زمین پر رینگنے والے کیڑے بنے رہیں۔
اقبال کا ایک اور شعر ہے:۔

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

مگر پاکستان کے حکمران ’’آشیانہ اسکینڈل‘‘ میں پکڑے جاتے ہیں، اور ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ پاکستان کے نوجوان انسانوں کی دنیا کے ’’درویش‘‘ نہ بنیں، بلکہ ’’دنیا کے کتے‘‘ بنیں۔ ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی کا مقصد پاکستان کے طلبہ کو نظریاتی، فکری، تخلیقی، سیاسی اور تنظیمی نس بندی کے عمل سے گزارنا تھا۔
ہم نے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو طلبہ یونین پر پابندی لگے ایک سال ہوچکا تھا مگر اُس وقت بھی جامعہ کراچی میں زیرتعلیم طلبہ کی بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی قسم کے ’’نظریاتی شعور‘‘ سے آراستہ تھی۔ جن کا نظریہ اسلام تھا وہ اسلام کے بارے میں باخبر رہتے تھے۔ جن کا نظریہ کمیونزم تھا وہ کمیونزم کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ حریفوں سے گفتگو کے لیے ضروری تھا کہ آپ اُن کے نظریے اور اس کی تفصیلات سے آگاہ ہوں۔ چنانچہ اس فضا میں طلبہ کی ایک اچھی خاصی تعداد نہ صرف یہ کہ اقبال اور مولانا مودودی کو پڑھ رہی تھی، بلکہ وہ مارکسزم اور سیکولرازم سے بھی آگاہ ہونے کے لیے کوشاں تھی۔ ایک دن ہم سے ہمارے ایک کمیونسٹ دوست نے ایک عجیب سوال کیا۔ اس نے کہا کہ ’’جدید معیشت کا ہر ماڈل سود پر کھڑا ہے، تم کہتے ہو کہ معیشت کوغیر سودی ہونا چاہیے، آخر یہ کیسے ممکن ہوگا؟‘‘ ہم اُس وقت بی اے آنرز کے سیکنڈ ائیر میں تھے۔ سوال ہماری سطح سے بلند اور گہرا تھا، مگر ہم نے اُس وقت تک کمیونزم کا جو مطالعہ کیا تھا وہ اچانک ہمارے ذہن میں برق کی طرح کوندا۔ ہم نے کہا کہ ’’اگر دنیا کی 30 سے زیادہ کمیونسٹ ریاستیں سود کے بغیر معیشت کو چلا سکتی ہیں تو اسلامی ریاستیں ایسا کیوں نہیں کرسکتیں!‘‘ کمیونزم کے مطالعے کی وجہ سے ہمیں معلوم تھا کہ کارل مارکس سود کے سخت خلاف ہے، اور کمیونسٹ ریاستیں نہ سود دیتی ہیں نہ سود لیتی ہیں۔ ہمارا کمیونسٹ دوست ہمارا جواب سن کر سناٹے میں آگیا اور پھر وہ ہمارے ساتھ محتاط گفتگو کرنے لگا۔ مگر طلبہ یونین پر پابندی نے طلبہ کے نظریاتی شعور کو غارت کردیا۔ آپ آج کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کہیں چلے جائیں، آپ کو طلبہ کے اندر کوئی نظریاتی شعور نہیں ملے گا، بلکہ اکثر طلبہ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ نظریاتی شعور کس چڑیا کا نام ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ طلبہ یونین پر پابندی نے طلبہ تنظیموں اور طلبہ برادری کو نظریاتی اعتبار سے بانجھ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ غالباً ہماری اسٹیبلشمنٹ یہی چاہتی تھی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ چونکہ نظریے کے اعتبار سے خود بھی بانجھ ہے اس لیے وہ پاکستان کی نوجوان نسلوں کو بھی نظریاتی اعتبار سے بانجھ دیکھنا چاہتی ہے۔
ہم نے 1985ء میں جب جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو طلبہ کی اکثریت کو قومی اور بین الاقوامی سیاست سے کسی نہ کسی درجے کی دلچسپی ہوتی تھی، اور اس کا ایک قومی اور بین الاقوامی تناظر بھی ہوتا تھا۔ اُس زمانے میں طلبہ کی اچھی خاصی تعداد اخبار پڑھتی تھی۔ مگر اب ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں موجود طلبہ کا کوئی قومی یا بین الاقوامی وژن اور تناظر نہیں۔ اب 99 فیصد طلبہ کو صرف ایک چیز سے دلچسپی ہوتی ہے… اپنے ’’کیرئیر‘‘ سے۔ طلبہ کی کیرئیر سے دلچسپی بری بات نہیں۔ ہر طالب علم کو تعلیم کے اختتام پر کوئی نہ کوئی کیرئیر اختیار کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ مسئلہ کیرئیر نہیں ’’کیئرر ازم‘‘ ہے۔ کیرئیر ازم ایک ایسی ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے جس میں مبتلا شخص کو اجتماعی، قومی یا بین الاقوامی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ اُسے صرف ایک چیز عزیز ہوتی ہے… اپنا کیرئیر۔ ملک میں کیا ہورہا ہے؟ بین الاقوامی منظرنامے پر کون چھایا ہوا ہے؟ ’’کیرئیرسٹ‘‘ نوجوان کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کی نظر صرف اپنے کیرئیر اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ پر ہوتی ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی مادی آسائشوں میں ڈوب جائے… دنیا ظلم سے بھر گئی تو بے شک بھر جائے، قومی زندگی پر ڈاکو غالب آگئے ہیں تو بے شک آجائیں۔ بدقسمتی سے ہمارے جرنیل اور سیاست دان بھی ’’کیرئیرسٹ‘‘ ہیں اور انہوں نے پوری نوجوان نسل کو بھی ’’کیرئیرسٹ‘‘ بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ تحریکِ پاکستان میں طلبہ برادری نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اُس وقت بھی اگر ہمارے طلبہ ’’کیرئیرسٹ‘‘ ہوتے تو تحریک پاکستان کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔
چونکہ طلبہ کے ’’مفادات‘‘ نہیں ہوتے، اس لیے ساری دنیا میں نوجوان اپنی نوجوانی میں کچھ نہ کچھ ’’انقلابی‘‘ ہوتے ہیں، اور ان میں جبر اور ظلم کے خلاف ’’مزاحمت‘‘ کا رجحان موجود ہوتا ہے۔ طلبہ تنظیمیں اور طلبہ یونین نوجوانوں کے اس رجحان کو تقویت دیتی تھیں اور اسے ایک تناظر مہیا کرتی تھیں۔ اس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ موجودہ سماج اور موجودہ دنیا کو بدلنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ مگر اسٹیبلشمنٹ نے طلبہ یونین پر پابندی لگاکر ’’شیروں‘‘ کو ’’بکریوں‘‘ میں ڈھال دیا ہے۔ اب نوجوانوں کی آنکھوں میں دنیا کو بدلنے کا کوئی خواب نہیں۔ بلکہ اب تو نوجوانوں کی عظیم اکثریت خود کو دنیا کے مطابق بنانے کی جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔ اصول ہے ’’جو خواب دیکھتا ہے وہی دنیا کو بدلتا ہے… جو خواب نہیں دیکھتا وہ دنیاکو بھی نہیں بدل سکتا‘‘۔ آپ پورے ملک میں سروے کرالیں، بہت کم نوجوان ظلم ،جبر، ناانصافی کے خلاف مزاحمت کے عزم کا اظہار کریں گے۔ یہ ایک بہت ہی بڑا قومی نقصان ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ حکمرانوں کو قومی سطح پر تو جمہوریت کی ضرورت ہے، مگر انہیں طلبہ کی سطح پر نہ جمہوریت درکار ہے، نہ سیاست مطلوب ہے، نہ حکمران طبقہ یہ چاہتا ہے کہ طلبہ کی سوچ سیاسی ہو۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ طلبہ یونین نے ہر زمانے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ’’نئی قیادت‘‘ فراہم کی ہے۔ لیکن طلبہ یونین پر پابندی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے نئی قیادت کی فراہمی کے عمل کو روک دیا ہے۔ چنانچہ اکثر سیاسی جماعتوں پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا قبضہ ہوگیا ہے، اور سیاسی جماعتوں میں متوسط طبقے کی نمائندگی بہت کم ہوگئی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو طلبہ یونین پر پابندی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا ملک کو بہتر کے بجائے بدتر سیاسی قیادت کی فراہمی ہے۔
جب تک تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین موجود تھی طلبہ کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت موجود تھی۔ فیسوں میں غیر ضروری اضافہ ہوتا تھا تو طلبہ یونین اس کی منظم مزاحمت کرتی تھی۔ ٹرانسپورٹ کی سہولتوں میں کمی واقع ہوجاتی تھی تو طلبہ یونین ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولتوں کا بندوبست کرتی تھی۔ مگر اب تعلیمی اداروں میں طلبہ کے مفادات کے تحفظ کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں ہر سال فیسوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ کردیا جاتا ہے اور کوئی اس کی مزاحمت نہیں کرتا۔ فیسوں میں غیرمعمولی اضافے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم زیریں متوسط کیا، متوسط طبقے کی رسائی سے بھی باہر ہوگئی ہے۔ ہم نے 1990ء میں ایم اے کے آخری سمسٹر کی فیس کے سلسلے میں 450 روپے ادا کیے تھے۔ آج جامعہ کراچی میں ایم اے کے آخری سمسٹر کی فیس بارہ ہزار کے آس پاس ہے۔ اُس وقت اگر ہماری فیس یہی ہوتی تو ہم جامعہ کراچی میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے تھے۔
طلبہ کی تربیت صرف نصابی سرگرمیوں سے نہیں ہوتی، ان کی تربیت میں غیر نصابی سرگرمیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب تک طلبہ یونین موجود تھی، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شاندار مشاعرے ہوتے تھے، بہترین مباحثے ہوتے تھے، کھیلوں کے عمدہ مقابلے ہوتے تھے، کتب میلوں کا اہتمام ہوتا تھا۔ لیکن طلبہ یونین پر پابندی نے ان تمام سرگرمیوں کا یا تو گلا ہی گھونٹ دیا ہے، یا ان سرگرمیوں کی روح سلب کرلی ہے۔ چنانچہ اب طلبہ کی عظیم اکثریت کا نہ کوئی شعری ذوق ہے، نہ اسے عمدہ مباحثوں کے مفہوم سے آگاہی ہے۔ تاریخ کے ہر بڑے رہنما نے کوشش کی ہے کہ وہ اپنی قوم کو شیروں کی قوم بنائے، مگر پاکستان کے حکمران اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ پاکستانی قوم کو گیدڑوں کی قوم بنانے پر تلے رہتے ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ پاکستانی قوم کو گیدڑوں کی قوم میں ڈھالا جائے۔