سینیٹ کے انتخابات گیلانی کی فتح حفیظ شیخ کی شکست

حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھے گا

اسلام آباد کی سینیٹ کی نشست پر پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جیت نے پورے ملک کے سیاسی منظرنامے میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو سخت مقابلے کے بعد پانچ ووٹوں سے شکست دی ہے۔ یہ سب سے بڑا سیاسی اَپ سیٹ ہے جو حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکے سے کم نہیں ہوگا، کیونکہ اس جیت سے یقینی طور پر پی ڈی ایم کو حکومت کے خلاف سیاسی برتری حاصل ہوئی ہے، جبکہ اس شکست کے بعد حکومت کو شدید سیاسی دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مذکورہ نتیجہ یہ بھی ظاہرکرتا ہے کہ حکومت جو ہر صورت میں اوپن بیلٹ کی بنیاد پر ووٹنگ کروانا چاہتی تھی اس کی وجہ یہی ڈر اور خوف ہوگا کہ کہیں حکومت کو خفیہ ووٹنگ کی صورت میں کسی بڑے سیاسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حفیظ شیخ کی ہار کو بہت سے لوگ آئی ایم ایف کی ہار سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ بہت سے ارکانِ اسمبلی اُن کی معاشی پالیسیوں سے نالاں تھے، اور ان ناراض لوگوں میں خود حکومتی جماعت کے لوگ بھی شامل تھے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ حفیظ شیخ کو اس معاشی بدحالی کے دور میں میدان میں اتارنا حکومت اور وزیراعظم کا غلط فیصلہ تھا۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت کو آصف زرداری کی بڑی سیاسی چال سے جوڑ کر بھی دیکھا جارہا ہے، اور ان کا یہ مؤقف بھی درست ثابت ہوا کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نیوٹرل رہنے کا پیغام ملا ہے۔ اب پی ڈی ایم کا یہ بیانیہ کافی حد تک آگے بڑھے گا کہ اسٹیبلشمنٹ عمرا ن خان حکومت سے نالاں ہے، اور بظاہر یہ خیال پیش کیا جائے گا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ حکومت حفیظ شیخ کی شکست کے صدمے سے خود کو کیسے باہر لاتی ہے۔ کیونکہ حکومت کی شکست کے بعد اپوزیشن کی کوشش ہوگی کہ وہ حکومت کو سنبھلنے ہی نہ دے، کیونکہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اس وقت دبائو ڈال کر حکومت کو گھر بھیجا جاسکتا ہے۔ اس شکست کے بعد وزیراعظم کو سیاسی محاذ پر بہت کچھ بدلنا ہوگا اور اپنی ٹیم میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنا ہوں گی، کیونکہ ان کی میڈیا ٹیم سمیت بہت سے لوگ ان کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح حکومتی اتحادیوں کے حوالے سے بھی ان کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔
دراصل پہلی بار ملکی سیاسی تاریخ میں سینیٹ کا انتخابی معرکہ حکومت، حزب اختلاف اور سپریم کورٹ سمیت سیاسی پنڈتوں میں خاص توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔ اس کی تین بڑی وجوہات تھیں: ۔
(1) حکومت نے ایک طرف سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور ایک آرڈیننس کا اجرا بھی کیا جسے عدالتی فیصلے سے مشروط کیا گیا تھا۔ اس میں یہ مطالبہ شامل کیا گیا تھا کہ موجودہ سینیٹ کے انتخاب میں کرپشن اور ووٹوں کی خرید وفروخت کو روکنے کے لیے عدالت ہماری راہنمائی کرے کہ یہ انتخابات خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹ کی بنیاد پر منعقد ہوں اور کرپشن یا ووٹوں کی خرید و فروخت کو ختم کیا جاسکے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ معاملہ محض قانون سازی سے مشروط ہے، اوراس کے لیے ان کو آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ جبکہ اس کے برعکس حزبِ اختلاف خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی انتخاب چاہتی تھی۔ حالانکہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میثاق جمہوریت میں اوپن بیلٹ کی حمایت کرچکی تھیں۔
(2) 2018ء کے سینیٹ کے انتخابات کے دوران خیبر پختون خوا کے ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کی ویڈیوکے سامنے آنے کے معاملے نے بھی اوپن بیلٹ کی حمایت میں ایک سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔
(3) حزبِ اختلاف نے یہ تاثر دیا کہ پوری حکومتی جماعت اور اتحادی جماعتیں داخلی محاذ پر تقسیم کا شکار ہیں جس کا براہِ راست فائدہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی حکومت پر سیاسی برتری کی صورت میں سامنے آئے گا۔
ان تینوں معاملات کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر حتمی رائے نے اگرچہ حکومتی مؤقف کی نفی کردی اور فیصلہ دیا کہ سینیٹ کے انتخابات پرانے طریقہ کار یعنی خفیہ بیلٹ کے تحت ہی ہوسکتے ہیں اور آئینی ترمیم کا حق پارلیمنٹ کو ہی حاصل ہے۔ البتہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو رائے دی کہ وہ خودمختار ادارہ ہے اور اس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ الیکشن کی شفافیت کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کے بجائے پرانے طریقہ کار کے تحت ہی سینیٹ کے انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا، جس سے یقینی طور پر حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب سینیٹ کے انتخابات سے قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جو سینیٹ کی نشست پر اسلام آباد سے حصہ لے رہے تھے، کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی سے لابنگ کرتے نظر آئے، اورکہا جاتا ہے کہ یہ ویڈیو ظاہر کرتی ہے کہ وہ انتخابات کی شفافیت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ علی حیدر گیلانی نے اس ویڈیو کا اعتراف کیا ہے مگر اُن کے بقول اس ویڈیو میں پیسے کے لین دین کی کوئی بات نہیں تھی، وہ صرف ووٹ مانگ رہے تھے۔ اسی طرح سندھ کے وزیر ناصر حسین شاہ کی بھی ایک آڈیو جاری ہوئی ہے جس میں وہ ووٹ دینے والوں کو جواب دے رہے تھے کہ اگر وہ ان کو ووٹ دیں گے تو ہم ان کے مفادات کا خیال رکھیں گے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے اس پر نوٹس لیا ہے، لیکن دیکھنا ہوگا کہ اس کا کیا اقدام سامنے آتا ہے۔ اسی طرح سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے تین ارکان کے اغوا کی کہانی اور اسمبلی فلور پر ان پر کیا جانے والا تشدد بھی حیران کن ہے۔ اس سے یقینی طور پر سیاست اور جمہوریت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں سینیٹ کی گیارہ نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں حکومت اور اپوزیشن کے تمام امیدواروں کا بلامقابلہ انتخاب بھی حیران کن فیصلہ ہے۔کیونکہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) میں خاصی سرد مہری ہے اور وہ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں چودھری برادران نے ایسا کیا کھیل کھیلا جس سے عمران خان کی حکومت اور اپوزیشن دونوں مطمئن ہوئے! کہا جاتا ہے کہ چودھری برادران نے پس پردہ شہباز شریف اور حمزہ سے مل کر یہ کھیل کھیلا ہے، اور کہا جارہا ہے کہ مریم نواز زیادہ خوش نظر نہیں آرہیں۔ حکومت نے پنجاب فارمولے کے تحت دیگر دونوں صوبوں بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں بھی حزب اختلاف کو بالترتیب چار اور دو نشستوں کی پیشکش کی تھی تاکہ ان صوبوں میں بھی تمام نشستوں پر بلامقابلہ انتخاب ممکن ہوسکے۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ زیادہ نشستوں کا تھا جس کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنی آبزرویشن میں کہا تھا کہ ہمیں طے کرلینا چاہیے کہ جس جماعت کی جتنی نشستیں بنتی ہیں اسی حساب سے ان میں نشستیں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے جہاں ہمیں اوپن بیلٹ کے تناظر میں ایک بڑی بحث سننے کو ملی ہے، وہیں دوسری طرف بہت سے لوگوں نے سینیٹ کے براہ راست انتخاب کی بات کی ہے۔ اسی طرح یہ بحث بھی سامنے آئی ہے کہ ایک صوبے کا فرد کیسے دوسرے صوبے سے انتخاب لڑسکتا ہے، اور اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے، کیونکہ یہ صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حالیہ سینیٹ انتخابات کے بعد کیا دوبارہ ووٹوں کی خرید وفروخت کے الزامات سننے کو ملیں گے؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر سینیٹ کے انتخابات اور اصلاحات کے حوالے سے نئی بحث دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔کیونکہ کہا یہی جارہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد کی نشست پر ناکامی پر اس نتیجے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الزام وہی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ارکانِ اسمبلی کی بولی لگا کر ووٹ کی خرید و فروخت کی ہے۔ یعنی ایک طرف پی ڈی ایم جشن منائے گی، دوسری طرف حکومت اس شکست کو ہر سطح پر چیلنج کرے گی۔ یہ صورت حال یقینی طور پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئی جنگ شروع ہونے کا اشارہ دے رہی ہے۔ کیونکہ عمران خان کو جو لوگ جانتے ہیں اُن کے خیال میں عمران خان آسانی سے اپنی ہارکو تسلیم نہیں کریں گے۔ اسی طرح ہمیں سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف کا داخلی بحران بھی بہت شدت سے دیکھنے کو ملا ہے۔ اس میں خاص طور پر ٹکٹوں کی تقسیم پر زیادہ مسائل دیکھنے کو ملے۔ یہ الزامات بھی تحریک انصاف پر اُس کے اپنے لوگوں کی طرف سے لگے ہیں کہ بعض لوگوں نے پیسے دے کر سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کیا ہے۔ ضمنی انتخاب میں نوشہرہ کی صوبائی نشست پر پی ٹی آئی کی ناکامی نے بھی وہاں پارٹی کی گروپ بندی کو نمایاں کردیا ہے۔