بارِشناسائی

ایک سفارت کار کی یادداشتیں

مصنف کا تعارف

کرامت اللہ غوری نے 36 برس پاکستان کے سفارت کار کی حیثیت میں جہاں گردی کی نذر کیے، دنیا کی خاک چھانی اور ایک خانہ بدوش کی مانند ملکوں ملکوں پھرتے رہے۔ اپنے کاندھوں پر اپنا گھر اٹھائے دنیا دیکھتے رہے، لیکن چکی کی مشقت نے اس عہد و پیمان میں خلل نہیں پڑنے دیا جو کرامت نے آنکھ کھولتے ہی قلم و قرطاس سے کیا تھا۔ قلم قبیلے سے ان کی وفاداری ہر حال میں استوار رہی اور غیر مشروط رہی!۔
پاکستان کا سفارت کار ہونے کے باوجود ان کے افسانے برسہا برس ہندوستان کے ممتاز رسائل و جرائد میں چھپتے رہے، خصوصاً ان کی جنم بھومی دِلّی سے شائع ہونے والے ’’شمع‘‘ اور ’’بیسویں صدی‘‘ میں۔قلم کے ناتے سے ہندوستان سے ان کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ اب شمالی امریکہ میں جابسے ہیں، بین الاقوامی سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر ان کے انگریزی زبان کے کالم پابندی سے ہندوستان کے مؤقر اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے ہیں، جن میں ’’دی ملّی گزٹ‘‘ اور ’’دی نیو انڈین ایکسپریس‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
زیر نظر کتاب ’’بارِشناسائی‘‘ پاکستان کے حوالے سے اور اس کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی تناظر میں مرتب ہونے والی تاریخ کے ضمن میں، ان مشاہدات اور تاثرات کا مجموعہ ہے جو کرامت نے ایک سفارت کار اور بیوروکریٹ کی حیثیت سے اخذ کیے ہیں۔ یہ اُن شخصیات کی کردار نگاری اور خاکہ کشی ہے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور جنہیں کرامت نے پاکستان میں اور بیرونِ پاکستان قریب سے دیکھا۔
یہ خاکے ایک ایسے سفارت کار کے رشحاتِ قلم ہیں جس نے بیوروکریسی کے بت کے قدموں پر نہ اپنے اندر کے انسان کو قربان کیا اور نہ ہی اس قلمکار کو بھینٹ چڑھایا جس نے اپنے قلم کی حرمت اور سچائی کو سربلند رکھنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔
……………………

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ یہ کتاب پاکستان میں پہلے کیوں نہ شائع ہوسکی؟ اس بارے میں کرامت اللہ غوری رقم طراز ہیں کہ ’’اس کتاب کا مسودہ دو برس تک پاکستان کے ایک بہت بڑے اور معروف اشاعتی ادارے کے پاس پڑا رہا اور وہ مجھے طفل تسلیاں دیتا رہا کہ کتاب اب آرہی ہے اور تب آرہی ہے، جبکہ یہ اشاعت گھر اس سے پہلے میری کئی کتابیں شائع کرچکا تھا۔
دو برس شدید انتظار کرانے کے بعد اس ادارے کے سربراہ کے بقول ان کے قانونی مشیر نے انہیں یہ کتاب نہ چھاپنے کا مشورہ دیا، کیونکہ اس کی اشاعت ان کے لیے مسائل کھڑے کردے گی۔ پاکستان کے موصوف پبلشر نے میرے پائوں تلے سے زمین کھینچنی چاہی تھی اور مفروضہ قہر سلطانی سے خوف زدہ ہوکر معذرت کرلی تھی کہ انہیں شوقِ شہادت نہیں ہے۔ لیکن خدا بھلا کرے میرے برادرِ عزیز اور محترم دوست ڈاکٹر ظفرالاسلام کا، جو دِلّی سے نکلنے والے مسلمانانِ ہند کے سب سے بڑے اور معتبر ترجمان و نقیب اخبار ملی گزٹ (Milli Gazatte) کے مدیر اعلیٰ اور بانی ہیں کہ انہوں نے میری پکار پر لبیک کہا اور مذکورہ کتاب کا پہلا ایڈیشن پاکستان میں اشاعت سے صرف چند ماہ پیشتر دلی سے شائع ہوگیا، جس کے بعد اس کتاب کے پاکستانی ایڈیشن کا سہرا عزیز دوست راشد اشرف کے سر ہے، جن کی ہمت اور حوصلہ ناقابلِ شکست ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے عزم و ہمت کو سدا جوان رکھے۔ آمین
کرامت اللہ غوری نے تقریباً چالیس برس سفارت کاری میں گزارے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں وہ پاکستان کے سفیر بنا کر بھیجے گئے۔ غوری صاحب کو اُن سفارت کاروں کے مقابلے میں یہ برتری حاصل رہی کہ وہ سفارت کار سے پہلے قلم کار رہے، اور سرکاری فرائض کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی قلم کاری جاری رکھی۔ غوری صاحب نے معمول سے ہٹ کر ایک عمدہ کام یہ کیا کہ جو دیکھا یا محسوس کیا وہ نہ صرف صاف لکھ دیا بلکہ اس پر اپنا واضح فیصلہ بھی صادر کردیا۔ یہ ان کی سفارت کاری کی تربیت سے ذرا ہٹ کر ہے۔ یہی سبب ہے کہ کرامت اللہ غوری کو وقت سے پہلے اپنی سفارت کاری سے دست بردار ہونا پڑا۔
ہمارے حاکموں کا ذہن جتنا پختہ ہوتا ہے، کان اتنے ہی کچّے ہوتے ہیں، پھر یہ کہ ہمارے سفیرِ محترم بعض لوگوں کی طبیعت پر گراں گزرتے تھے، کیونکہ ان کے شین قاف صاف تھے۔ ہر چند کہ وہ فوجی حکمراں پرویزمشرف کے مداح نہ تھے، دلی میں ان کے محلّے دار ضرور تھے۔ پرویزمشرف سے خود انہوں نے کہا کہ آپ کا لب و لہجہ دلی کا نہیں رہا، تو جواب ملا کہ فوج میں رہ کر دہن بگڑا ہے۔کتاب میں اس طرح کے مکالمے جا بجا ملتے ہیں۔ کتاب کا نام ’’بارِ شناسائی‘‘ ہے، وہی بار جس کو بقول میرؔ یہ ناتواں اٹھا لایا۔
٭ کتاب کا آغاز جنرل ضیا الحق کے تذکرے سے ہوتا ہے، جن کے بارے میں مصنف کا کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی متنازع شخصیت تھے اور رہیں گے۔ لیکن یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ انہوں نے اپنی 35 برس کی سفارتی اور سرکاری ملازمت میں ضیاالحق سے زیادہ نرم خو اور حلیم انسان نہیں دیکھا۔ اپنی اس تحریر میں غوری صاحب نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ زندگی کے صرف اُن تجربوں کا ذکر کیا جائے جن میں وہ خود بھی شریک تھے۔
٭ کتاب کے اگلے باب کا عنوان ذوالفقار علی بھٹو ہیں جن کی شخصیت کو انہوں نے شروع ہی میں ایک معمّا قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’میں نے اپنی زندگی میں ذوالفقار علی بھٹو جیسا ذہین انسان نہیں دیکھا، اور نہ ہی اپنی زندگی میں بھٹو جیسا مغرور اور متکبّر انسان دیکھا‘‘۔ مصنف نے خوشامد کے لیے بے قرار قومی اسمبلی کے ایک رکن اور پارٹی کے معزز کارکن کو بھٹو صاحب کے سامنے جھکتے ہوئے اور ان کے قدموں میں سر رکھتے ہوئے دیکھا۔ اوپر سے یہ کہ بھٹو صاحب نے نہ اُس شخص کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اسے اپنے قدموں پر سے ہٹایا۔ کرامت اللہ غوری اس بات پر مُصر ہیں کہ بھٹو کی سحر بیانی کی تاثیر اور اعجاز اپنی جگہ، لیکن کھرچ کر دیکھا جائے تو وہ سخت گیر وڈیرے اور منتقم مزاج جاگیردار تھے۔
٭ اس کے بعد بے نظیر بھٹو کا تذکرہ ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ بے نظیر کے ساتھ رہ کر ان پر کیا گزری اور انہوں نے کیا دیکھا۔
٭ اسی ضمن میں نواب زادہ نصراللہ خان اور مولانا فضل الرحمٰن کا ذکر ہے جنہیں کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنا کر دنیا کے دورے کرائے گئے کہ وہ شہر شہر جاکر کشمیر کے بارے میں پاکستان کا مؤقف اجاگر کریں۔ دنیا کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں قیام کا لطف اٹھاتے ہوئے نواب زادہ صاحب اور مولانا صاحب سرکاری خرچ پر دنیا کی سیر کرتے رہے۔
٭ کتاب میں فاروق لغاری صاحب کا بھی ذکر ہے، عمران خان کے شفاخانے کے لیے عطیات جمع کرنے کی اُس کارروائی کا احوال بھی ہے جو اوپر والوں کی برہمی کا سبب بنی۔ اسی موقع پر اسلام آباد سے حکم آیا کہ کویت میں رہنے والے پاکستانی یہ شکایت کیوں کررہے ہیں کہ تم صرف ایک مخصوص لسانی گروہ کی سرپرستی کرتے ہو؟ اس کے جواب میں مصنف نے لکھا ہے ’’میں نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ میری پاکستان کے ساتھ غیر مشروط وفاداری پر ایسے لوگوں کی اول فول کے نتیجے میں شبہ کیا جارہا ہے جن کو نہ پاکستان سے محبت ہے اور نہ ہی پاکستان کے فلسفۂ حیات سے۔‘‘
٭ آگے چل کر محمد خان جونیجو کا احوال ہے جن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’میری دانست میں وہ پاکستان کے سب سے معصوم اور بھولے سیاست دان تھے، اور شاید اُن کی اسی صفت کی وجہ سے ضیاالحق نے انہیں وزارتِ عظمیٰ سونپی کہ وہ ان کے لیے کوئی پریشانی پیدا نہیں کریں گے۔ مگر پھر یہ ہوا کہ جونیجو صاحب نے درپردہ ہونے والی حرکتوں کو درست کرنے کے عزم کا کھلے عام اعلان کردیا۔ اُسی روز ان کا ہوائی جہاز مشرق بعید سے اسلام آباد آرہا تھا اور ابھی فضا ہی میں تھا کہ صدرِ مملکت نے انہیں نوکری سے نکال دیا۔ ان کے سارے عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پاکستان میں بااختیار لوگوں کو فضا میں معلق کرنے کا چلن خوب ہے۔‘‘
٭ کتاب کے آخر میں میاں نوازشریف، جنرل پرویزمشرف، پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام ، حکیم محمد سعید اورفیض احمد فیض کے متعلق اپنی یادوں کو بھی صفحاتِ قرطاس پر آراستہ کیا گیا ہے اور بڑی خوبی سے کیا گیا ہے۔
’’بے نظیر بھٹو… ایک ادھوری کہانی‘‘ کے عنوان سے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے الجزائر کے سرکاری دورے کا تذکرہ کرتے ہوئے صفحہ نمبر 96 پر وہ لکھتے ہیں کہ دارالحکومت الجیرز (Algiers) میں بے نظیر کا استقبال انتہائی والہانہ اور گرمجوشی کا حامل تھا، اور اس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں۔ محض بیٹی ہی نہیں بلکہ ان کی سیاسی وارث اور جانشین بھی، اور الجزائر کے سوشلسٹ سیاسی کلچر میں زلفی بھٹو کا بڑا نام تھا۔ ان کی بے انتہا قدرومنزلت تھی جو اس سبب سے اور بھی زیادہ تھی کہ وہ الجزائر کے آنجہانی صدر ہواری بومدین جن سے الجیرز کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ معنون ہے، کے بہت عزیز اور قریبی دوست سمجھے جاتے تھے۔ الجزائر نے سامراج کے خلاف آٹھ برس کی طویل جدوجہدِ آزادی کی قیمت پندرہ لاکھ قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں ادا کی تھی، لہٰذا نہ صرف فرانسیسی استعمار کے خلاف اس حریت پسند قوم میں شدید قسم کی جذباتی مزاحمت تھی، بلکہ پورے مغرب اور اس کے بنیادی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف الجزائری قوم دنیا کی دیگر مغلوب اور مظلوم اقوام کی صف میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ ہواری بومدین نے 1962ء کی الجزائر کی آزادی اور خودمختاری کے صرف تین برس بعد جنگ آزادی کے نامور ہیرو کی حیثیت سے فائدہ اٹھاکر جنگِ آزادی کے سب سے نامور بطلِ جلیل اور آزاد الجزائر کے پہلے صدر احمد بن بیلا کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، اور پھر 1979ء میں اپنی موت تک وہ الجزائر کے بلاشرکت غیرے حکمراں رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے ان کی نظریاتی قربت تھی اور بھٹو نے 1974ء میں لاہور میں جو اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی تھی، اُس میں بومدین اور لیبیا کے نوجوان اور شعلہ صفت معمر قذافی ان کے ساتھ ہر جگہ نمایاں نظر آتے تھے۔
لیکن بے نظیر کے لیے الجزائر کے عوام کے دلوں میں نرم گوشہ اس لیے بھی تھا کہ وہ عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم اور رہنما تھیں۔ الجزائریوں کے نزدیک یہ بہت بڑی بات تھی کہ ایک ایسے مسلم معاشرے میں جہاں عورت پر مذہب اور دقیانوسی قبائلی اور جاگیردارانہ رسوم و رواج نے قدم قدم پر پہرے لگا رکھے تھے، پینتیس برس کی ایک خوبصورت، پڑھی لکھی اور مغربی علوم اور مغربی جامعات سے بہرہ یاب نوجوان خاتون اس ملک کی سیاست اور ریاستی اقتدار کی اعلیٰ ترین مسند پر فائز ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
الجزائر کی حکومت اور عوام نے بے نظیر کے لیے اپنے دل کھول دیے تھے۔ مجھے اُس وقت تک یعنی جولائی 1990ء میں الجزائر میں سفارت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے دو برس ہوچکے تھے، لیکن اس عرصے میں، میں نے کسی اور سربراہِ مملکت یا حکومت کا الجزائر کی حکومت کو یوں والہانہ طور پر استقبال کرتے نہیں دیکھا تھا، اور عوامی جوش و خروش کا تو کہنا ہی اور تھا۔

آصف علی زرداری صاحب کے لیے بھنڈیاں پیرس سے خصوصی پرواز سے منگوائی گئیں

زرداری صاحب وزیراعظم کے ہمرکاب تھے اور نہیں بھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنی شریکِ حیات کے ساتھ بادلِ ناخواستہ وہاں آئے تھے۔ اس لیے کہ پہلی شب میزبان وزیراعظم کے عشائیے کے بعد سے وہ کسی بھی تقریب میں نظر نہیں آئے تھے۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے انہیں زبردستی وزیراعظم کا ساتھ دینا پڑرہا تھا۔ سرکاری مہمان خانے میں وہ اپنے کمرے میں یوں بند ہوگئے تھے جیسے اعتکاف میں بیٹھ گئے ہوں۔ ان کا ناشتا اور کھانا بھی کمرے میں جاتا تھا، بلکہ کھانے کے ضمن میں تو ان کی فرمائش یہ تھی کہ میرے گھر کے باورچی خانے سے ان کے لیے کھانا آئے، اور اس فرمائش کو میری بیگم نے بخوشی قبول کرلیا تھا۔ اس کے علاوہ زرداری صاحب کی خواہش یہ بھی تھی کہ انہیں ہندوستانی فلموں کی ویڈیو بھی فراہم کی جائیں، اور اس خواہش کی تکمیل میری بیٹی اور بیٹوں کے تعاون سے ہورہی تھی کہ ان کے پاس تو ایسی ویڈیوز کی ایک پوری لائبریری تھی۔
بے نظیر بھٹو میں جاگیرداری کا خمیر اُن کی اس کمزوری کا راز تھا کہ وہ اپنے گرد منڈلانے والے مطلبی جاہ پرستوں کو پرکھنے میں یا تو نادانستہ طور پر ناکام تھیں، یا شاید جاگیرداری کلچر کے تقاضے اسی طرح پورے ہوسکتے تھے کہ وہ ان مکھیوں کو اپنے گرد بھنبھناتے دیکھتی رہیں اور اسے اپنی مقبولیت سے تعبیر کریں۔
جاگیرداری کا یہی خمیر البتہ ان کے شوہرِ نامدار میں ان کی بہ نسبت کچھ زیادہ ہی قوی تھا۔ اگرچہ وہ اپنے خاندان کی بنیاد پر بے نظیر کے مقابلے میں بہت ہی معمولی قسم کے چھوٹے موٹے جاگیردار تھے، لیکن وہ جو خالی برتن کے زیادہ زور سے بجنے کی کہاوت ہے وہ زرداری صاحب پر زیادہ صادق آتی تھی، اور مجھے اس کا اندازہ اُس وقت ہوا جب کراچی سے پی آئی اے کے دو باورچی بطور خاص الجزائر بھجوائے گئے تاکہ وی وی آئی پی فلائٹ کے معزز مسافروں کے لیے کھانا تیار کرسکیں۔
ان باورچیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ انہیں بھنڈی فراہم کی جائے، کیونکہ بھنڈی زرداری صاحب کو بہت زیادہ مرغوب تھی اور اس کے بغیر ان کے لیے مینو مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔ میں نے معلوم کروایا تو بھنڈی شہر میں تو کیا ملک بھر میں دستیاب نہیں تھی۔ الجزائر کٹّر قسم کا سوشلسٹ نظریات کا ملک تھا جس میں موسم کے پھل اور ترکاریاں ہی ملتی تھیں، اور بھنڈی کا موسم نہیں تھا لہٰذا اس کی فراہمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
میں نے اور میرے عملے نے جب باورچیوں کی فرمائش پوری کرنے سے معذوری ظاہر کی تو کھلبلی مچ گئی۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ زرداری صاحب کی فرمائش، جو اُن کے خدام کی نظر میں پاکستان کے بے تاج بادشاہ تھے، پوری نہ ہو! لہٰذا پیرس میں پی آئی اے کے منیجر کو فون کیا گیا اور وہاں سے اگلی فلائٹ سے دو کلو بھنڈیاں ڈپلومیٹک کارگو کے عنوان سے الجزائر میں وارد ہوئیں۔ اگلی صبح وی وی آئی پی فلائٹ کے مینو میں بھنڈیاں نمایاں تھیں اور الجزائری حکومت کا پروٹوکول کا محکمہ اور اس کے کارکنان انگشت بدنداں تھے، کہ ان کے ہاں ایسی نازبرداریوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ (جاری ہے)