بھارت کے ہاتھ سے پھسلتے اتحادی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دھارے میں سیاست کرنے والی 6 جماعتوں کے سیاسی اتحاد کا قیام

’’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘‘کے مصداق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دھارے میں سیاست کرنے والی 6 روایتی جماعتوں نے فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ گپکار ہائوس کی نسبت سے مشہور ہونے والے گپکار ڈیکلریشن کے بعد پیپلزالائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے نام سے اتحاد تشکیل دے کر پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشن اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ہوں گے۔ پیپلز الائنس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے، بھارت کو تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کرکے اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس، محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، سجاد لون کی پیپلزکانفرنس، مظفر شاہ کی عوامی نیشنل کانفرنس، اور یوسف تاریگامی کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے ایک اجلاس میں متذکرہ بالا دو مقاصد کی تکمیل کے لیے اتحاد بنانے کا اعلان کیا۔ ان 6 جماعتوں نے دہلی سے آنے والے اشاروں اور پیغامات کو بھانپتے ہوئے گزشتہ برس چار اگست کو ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس کے دوسرے روز ہی بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور لداخ کی متنازع حیثیت کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی آزادی پسند اور بھارت نواز تمام قیادت اور سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں قید یا گھروں میں نظربند کردیا گیا تھا۔ کئی ماہ تک ان لوگوں کو نظربند رکھنے کے بعد مرحلہ وار رہا کیا گیا۔ ان میں تازہ رہائی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی ہے۔
محبوبہ مفتی رہائی کے بعد فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر پہنچیں تو وہ مکمل طور پر سبز لباس زیب تن کیے ہوئے تھیں۔ اس ملاقات میں گپکار ڈیکلریشن پر دستخط کرنے والی دوسری جماعتوں کو ایک اجلاس میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اجلاس میں ہی پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے نام سے اتحاد تشکیل دیا گیا۔ اس اجلاس میں محبوبہ مفتی مکمل سیاہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھیں جو پانچ اگست کے فیصلے پر ان کی ناخوشی اور ماتمی کیفیت کو ظاہر کررہا تھا۔
کشمیر کی سیاست میں ان علامتوں کی گہری معنویت اور اہمیت رہی ہے۔ سری نگر مظفرآباد بس سروس کے آغاز کے وقت بھی جب محبوبہ مفتی اپنے والد وزیراعلیٰ مفتی سعید کی طرف سے چکوٹھی کے کمان پل کے ایک طرف کے مسافروں کو الوداع اور دوسری طرف کے مسافروں کو خوش آمدید کہنے آئیں تو وہ سبز لباس پہنے ہوئے تھیں۔ اس کے چند ماہ بعد اگست 2005ء میں ہی سری نگر کے وزیراعلیٰ ہائوس میں مجھے دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ کشمیری عوام کے ذہنی طور پر بھارتی نہ بننے کی ایک وجہ شیخ عبداللہ کا گھرانہ ہے جس نے سبز رومال اور پاکستانی نمک دکھاکر کشمیریوں میں محرومی اور ناتمامی کا احساس زندہ رکھا۔ اس سوال پر کہ اب آپ بھی سبز لباس پہن کر وہی کام کررہی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اب حالات اور وقت بدل گیا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ پرویزمشرف من موہن پیس پروسیس جنوبی ایشیا کو نئے زمانوں اور راستوں تک پہنچادے گا اور کشمیری اس عمل میں پُل کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے ایک نئی دنیا کا نقشہ کھینچا۔ اب محبوبہ کا دکھ یہ ہے کہ بہت سوں کی طرح ان کے خواب بھی چکنا چور ہوگئے ہیں۔ جس پیس پروسیس کو من موہن سنگھ نے ’’ناقابلِ واپسی‘‘ کہا تھا وہ واپس مڑ کر آغازِ سفر سے بھی پیچھے جا چکا ہے۔ وہ امن گاڑی مستقل اور مسلسل ریورس گیئر میں ہے، اور اس کی قیمت کشمیری عوام بھی چُکا رہے ہیں۔ اس طرح ایک تاریخی سفر کے آغاز میں شراکت داری کا کریڈٹ بھی ان سے چھن چکا ہے، کیونکہ نہ وہ سفر باقی رہا، نہ اس کی تاریخی حیثیت باقی رہی، کیونکہ مودی نے ساری بساط ہی لپیٹ کر رکھ دی۔ یوں محبوبہ مفتی کا غم وغصہ دوسرے لیڈروں سے سوا ہے۔
محبوبہ مفتی طویل نظربندی کے خاتمے کے بعد رہا ہوئیں تو ان کے تیور بگڑے بگڑے سے تھے۔ ان کی نظربندی کے دوران بھارت نے ان کی جماعت پی ڈی پی پر شب خون مارتے ہوئے منحرفین پر مشتمل ایک نئی جماعت ’’اپنی پارٹی‘‘ قائم کروا دی۔ الطاف بخاری نامی شخص جو محبوبہ کابینہ کے رکن رہ چکے ہیں، اس پارٹی کے سربراہ ہیں۔ محبوبہ مفتی نے رہائی کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں میز سے بھارتی ترنگا ہٹوا دیا اور صرف کشمیر اور پارٹی کے جھنڈے سامنے رکھے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اُس وقت تک بھارت کا جھنڈا نہیں اُٹھائیں گی جب تک کہ کشمیر کو اس کا جھنڈا واپس نہیں دیا جاتا۔ اس پریس کانفرنس میں پانچ اگست کے اقدام کے تناظر میں بھارت کو ڈاکو قرار دیا گیا اور مالِ مسروقہ برآمد کرنے کی بات بالیقین کہی گئی۔
محبوبہ مفتی کی پریس کانفرنس میں میز سے ترنگا ہٹانے پر بھارتی میڈیا سخت مشتعل ہے اور اسے غداری پر محمول کیا جارہا ہے۔ بھارت نے پانچ اگست کو جو فیصلہ کیا اُس نے کشمیر کی الگ ریاستی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کا پرچم بھی ختم کردیا تھا۔ کشمیر میں بھارت کا جھنڈا پہلے ہی انگریزی محاورے ’’سانڈ کے آگے سرخ رومال‘‘ کے مصداق تھا، اس اقدام کے بعد یہ کیفیت انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ کشمیر کا جھنڈا ہٹاتے ہٹاتے بھارت اب اپنا ترنگا ہٹوا بیٹھا۔ یہ مکافاتِ عمل ہے۔ جو سیاست دان کل تک خود کو بھارتی اور بھارت کو جمہوریت اور سیکولرازم کا گہوارہ قرار دیتے تھے، اب اسے ڈاکو کہہ رہے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک کررہا ہے اس کا جواب نفرت اور ردعمل کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔
شیخ عبداللہ اور ان کے دوست ساٹھ اور ستّر کی دہائیوں میں جب محاذِ رائے شماری کے نام پر طویل تحریک چلا رہے تھے تو وہ جیب سے سبز رومال نکال کر لہراتے، اور کشمیری عوام اسے شیخ صاحب کی پاکستان سے وابستگی سمجھ کر فرطِ مسرت سے جھوم اُٹھتے اور ان کا جوش و ولولہ دوگنا ہوجاتا۔ محبوبہ مفتی بھی ان علامتوں سے کام لینے میں مشاق ہیں۔
پانچ اگست کے بعد بھارت حالات کی جس دلدل میں دھنس کر رہ گیا ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے دست وبازو اور اس کے سیاسی عمل کو اعتبار اور ساکھ بخشنے والے سیاسی چہرے اس نئے سفر میں اس کے ساتھ نہیں۔ وہ سب ایک ایک کرکے بھارت سے فاصلہ اختیار کرچکے ہیں۔ سید علی گیلانی، شبیر شاہ، یاسین ملک، میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام لوگ تو پہلے ہی آزادی اور مزاحمت کے محاذ پر سرگرم ہیں، اور انہیں دہلی کے ساتھ آئینی رشتہ وپیوند سے قطعی کوئی غرض نہیں۔ یہ وہ سیاسی لوگ تھے جو بھارت کو غاصب سمجھ کر مزاحمت کا راستہ اپنائے ہوئے تھے، مگر عبداللہ خاندان، مفتی خاندان نسل در نسل کشمیر میں بھارت کے ہر سسٹم کو کندھا دئیے ہوئے تھے۔ بھارت جو سیاسی عمل کشمیر میں بحال کرتا، یہ لوگ آگے بڑھ کر اس میں اپنا حصہ ڈال کر اسے روبہ عمل آنے میں مدد فراہم کرتے۔ ان میں صرف شیخ خاندان نے ہی کشمیر کی آئینی حیثیت پر بھارت کے وار کو تسلیم نہ کرکے محاذ رائے شماری کے نام سے ایک طویل مزاحمتی تحریک چلائی تھی، مگر اس کا ڈراپ سین 1975ء میں اندرا عبداللہ ایکارڈ پر ہوا تھا جس کے تحت شیخ عبداللہ نے مزاحمت ختم کرکے کشمیر کا وزیراعلیٰ بننا قبول کیا تھا۔ پانچ اگست کے بعد یہ لوگ بھی بھارت سے ناراض اور نالاں ہوکر کسی نئے سیاسی عمل اور تجربے میں اپنا کندھا پیش کرنے سے انکاری ہیں۔ اس طرح بھارت نے کچھ پایا نہیں، بلکہ کھویا ہے۔ جب زمین ہی پیروں تلے برقرار نہ رہے تو کسی فیصلے کو خلاء میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت کشمیر کی زمین بھارت کے پیروں کے نیچے نہیں۔ کشمیر کے روایتی سیاست دان اگر استقامت کے ساتھ اپنے اعلان پر قائم رہیں تو بھارت پر قائم دبائو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان سیاست دانوں کو قدرت نے تاریخی غلطیوں کی اصلاح کے لیے لکیر کی درست سمت میں کھڑا ہونے کا موقع دیا ہے۔