بے قابو کورونا کی وبا اور امریکی صدارتی انتخابات

صدر ٹرمپ کے سخت رویّے سے انسدادِ کورونا کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں

امریکہ میں کورونا وائرس یا COVID-19کی وبا خطرناک رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ مئی کے مہینے میں بحر اوقیانوس کے ساحل پر نیویارک، نیوجرسی، پنسلوانیا، دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی اور ورجینیا کی ریاستیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اسی دوران مغرب میں کیلی فورنیا اور واشنگٹن کو اس نامراد مرض نے اپنا ہدف بنالیا۔ اتفاق سے یہ تمام ریاستیں حزبِ اختلاف یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کا گڑھ ہیں۔ ان ریاستوں کے تمام بڑے شہروں کے رئوسائے شہر (Mayors)بھی صدر ٹرمپ کے مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔ اس دوران وفاق اور ریاستی و شہری حکومتوں کے درمیان کشیدگی بہت کھل کر سامنے آئی۔ صدر ٹرمپ کورونا وائرس کے پھیلائو کا الزام ڈیموکریٹک پارٹی کی بدانتظامی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی کامی (کمیونسٹ) پالیسیوں پر لگاتے رہے۔ ہمارے خیال میں تو ڈیموکریٹس کو بائیں بازو کا کہنا ایسا ہی ہے جیسے بھارت کو سیکولر ریاست سمجھنا۔
جون کے آغاز سے وبا قابو میں آتی نظر آئی، چنانچہ مہینے کے آخری ہفتے میں لاک ڈائون نرم کرنے اور کاروبارِ زندگی دوبارہ بتدریج شروع ہوا۔ دوسری سرگرمیوں کے ساتھ مے کدوں کے دروازے کھول دیے گئے، اور اسی کے ساتھ تشنہ لب جام وسبو کے لیے دیوانہ وار دوڑ پڑے۔ اس دوران شراب خانوں کے باہر تک رندوں کے ہجوم نظر آئے۔ پینے، پلانے اور پی کر بہکتے ہوئے تن دوری (Social Distancing) کا کس کم بخت کو ہوش تھا! شوقِ جام و سبو کے ساتھ منچلوں نے ساحلِ سمندر پر بھی جمگھٹے لگا دیے۔ اس تفریح نے جہاں دوستوں کو ہنسنے بولنے کا موقع فراہم کیا، وہیں کورونا وائرس بھی تیزی لیکن خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا۔ یعنی مرزا غالب کی فاقہ مستی کی طرح امریکیوں کی بلانوشی اور غسلِ آبی و آفتابی نے رنگ دکھانا شروع کردیا۔
جولائی کے پہلے ہفتے سے امریکہ کی جنوبی ریاستوں ٹیکساس، فلوریڈا، لوزیانہ اور ایریزونا کے ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد بڑھ گئی۔اتفاق سے ان تمام ریاستوں میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی برسراقتدار ہے، تاہم اکثر بڑے شہروں کے میئر ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیں، چنانچہ ریاستی اور شہری حکومتوں کے درمیان چپقلش صاف نظر آرہی ہے۔ ری پبلکن پارٹی ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں علاقائی کنونشن منعقد کرنا چاہتی تھی جس کی گورنر نے منظوری دے دی، لیکن شہر کے سیاہ فام میئر نے مرکزی سماعت گاہ کو عارضی ہسپتال بنانے کا اعلان کردیا۔ NRG کے نام سے مشہور یہ وہی سماعت گاہ ہے جہاں گزشتہ سال ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے صدر ٹرمپ کے ہمراہ بہت بڑے جلسے سے خطاب کیا تھا۔
اتوار 12 جولائی کو صرف فلوریڈا میں 15 ہزار نئے مریض سامنے آئے۔ ایریزونا کے مُردہ خانوں میں جگہ نہ رہی، اور لاشیں رکھنے کے لیے خوراک ڈھونے والے منجمد یا Freezing Truck کرائے پر حاصل کیے گئے۔ ٹیکساس اور لوزیانہ کے ہسپتالوں میں جگہ تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ان ریاستوں میں لاک ڈائون کو دوبارہ سخت کردینے کی بات شروع ہوگئی ہے۔ شراب خانوں اور ریستورانوں میں بیٹھ کر پینے اور کھانے کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔ کئی جگہ ساحل پر پولیس کے ذریعے تن دوری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ ماسک کو بھی بہت سے شہروں میں لازم کردیا گیا ہے۔
کورونا کی وبا کے ساتھ ہی 3نومبر کو ملک میں عام انتخابات بھی ہونے ہیں، اور سیاست کا اثر اس موذی مرض سے بچائو کی کوششوں پر نظر آرہا ہے۔ صدر ٹرمپ پُراعتماد تھے کہ بہتر اقتصادی صورتِ حال، بازارِ حصص کی اعلیٰ سطح، اور 3 فیصد سے بھی کم بے روزگاری کی بنا پر ان کے لیے دوبارہ انتخاب جیتنا زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ ملکی معیشت کو انھوں نے اپنی انتخابی حکمت عملی کی بنیاد بنایا تھا، لیکن کورونا سے ساری دنیا کی طرح امریکی معیشت بھی شدید دبائو میں ہے۔ بے روزگاری کا تناسب 13 فیصد ہے۔ سیانوں کا خیال ہے کہ کورونا کی وبا پر قابو پانے کے بعد بھی معیشت کی مکمل بحالی میں کم ازکم دوسال لگیں گے، اور اگلے سال کے اختتام تک بے روزگاری کی شرح 10 فیصد سے کم ہونے کا امکان بہت کم ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کووڈ 19اتناخطرناک اور مہلک نہیں جتنا ڈاکٹر حضرات کہہ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ڈیموکریٹک پارٹی اور بیماریوں کے کنٹرول کے قومی ادارے یا CDC نے اسے ایک ہوّا بنادیا ہے جس کی وجہ سے امریکیوں میں غیر ضروری خوف و ہراس ہے۔ امریکی صدر شبہ ظاہر کررہے ہیں کہ کورونا کا ہنگامہ کھڑا کرکے ان کے مخالفین ملکی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جسے انھوں نے چار سال کی محنتِ شاقہ سے بامِ عروج پر پہنچایا ہے۔ وہ CDCکے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فائوچی پر بھی ’’بہت سی غلطیاں‘‘ کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔
اب امریکی صدر کا اصرار ہے کہ اگست میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اسکول کھول دیے جائیں۔ گزشتہ روز سی این این پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرتعلیم بیٹسی ڈیواس نے کہا کہ اب ہفتے میں پانچوں دن کلاسیں شروع کرنے کا وقت آگیا ہے۔ فاضل وزیر کاکہنا تھا کہ بچوں کا اسکول آنا بالکل محفوظ ہے، لہٰذا آن لائن کے بجائے طالب علموں کو کمرۂ کلاس میں بیٹھ کر سبق لینا چاہیے۔ محترمہ ڈیوس کے مطابق سائنس دانوں کا بھی یہی خیال ہے کہ بچوں کو یہ وائرس نہیں لگتا، اس لیے اسکول بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بند رہنے والے اسکولوں کی وفاقی مدد معطل کردی جائے گی۔ دوسری طرف سی ڈی سی کو اسکولوں کے کھلنے پر شدید تحفظات ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے بغیر اسکولوں کو کھول دینا سخت خطرناک ہوسکتا ہے۔ ماسک کی پابندی تو زیادہ مشکل نہیں، لیکن تن دوری کا اہتمام اتنا آسان نہیں، اور ہر کلاس کے لیے کم ازکم 3 کمروں کی ضرورت پڑے گی۔ یعنی عمارت میں دوتہائی توسیع کے بغیر اسکولوں کو کھولنا ممکن نہیں۔ صحت کے ماہرین کو شدید تشویش اساتذہ کی جانب سے ہے۔ امریکہ میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی تعداد 15 لاکھ کے قریب ہے، جن میں سے 4 لاکھ کی عمر 60 سال یا اس سے زیادہ ہے۔ اکثر سینئر اساتذہ ذیابیطس، سانس کے عارضے یا بلند فشارِ خون میں مبتلا ہیں اور اس وبا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ والدین کی بڑی تعداد بھی اسکول کھولنے کے حق میں نہیں۔ 13 جولائی سے ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں جب اسکول کے گرما سیشن کا آغاز ہوا تو سینکڑوں والدین نے اس کے خلاف مظاہرہ کیا اور اسکول بسوں کے آگے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے اسکول کھولنے کے حق میں مظاہرہ کیا۔
صدر ٹرمپ کے سخت رویّے سے انسدادِ کورونا کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے تک وہ ماسک لگانے پر اپنے حریف جو بائیڈن کا مذاق اڑاتے رہے، بلکہ یہ بھی فرماگئے کہ بہت سے مخالفین انھیں چڑانے کے لیے ماسک استعمال کرتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ ہورہا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت صدر کے رویّے کو پسند نہیں کرتی۔ حال میں لیے جانے والے ایک جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے 62 فیصد لوگوں کے خیال میں کورونا وائرس کے خلاف کوششوں میں صدر ٹرمپ کا رویہ غیر سنجیدہ نظر آرہا ہے۔
اب جبکہ انتخابات میں صرف چار ماہ باقی ہیں، ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار پر بھی گرما گرم بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ CDC کے افسران ووٹنگ کے دوران کورونا کے پھیلائو کا خطرہ ظاہر کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذاتی طور پر حاضر ہوکر ووٹ ڈالنے کے بجائے اس کا متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں آن لائن اور بذیعہ ڈاک ووٹنگ کے طریقے تجویز کیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر ووٹروں کا پولنگ اسٹیشن پر آنا ضروری ہو تو ووٹنگ کا دورانیہ بڑھاکر ہجوم کو کم سے کم کرنے کے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں ووٹنگ کا طریقہ کار طے کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ اس بنا پر معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ریاست کولوریڈو کے پرائمری انتخابات میں 99 فیصد ووٹروں نے بذیعہ ڈاک یا پوسٹل بیلٹ استعمال کیے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر اقلیتی ووٹروں کو ہراساں کیے جانے کی شکایات بہت عام ہیں اور پوسٹل بیلٹ سے اس شکایت کا ازالہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں قبل از وقت پولنگ کا طریقہ رائج ہے، یعنی پولنگ کی تاریخ سے دو ہفتے پہلے ہی بہت سے پولنگ اسٹیشن کھول دیے جاتے ہیں تاکہ پولنگ کے روز ہجوم نہ ہو۔ ایک تجویز یہ ہے کہ اِس بار قبل از وقت پولنگ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے۔
صدر ٹرمپ بذریعہ ڈاک ووٹنگ کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ طریقہ محفوظ نہیں اور بڑے پیمانے پر جعلی ووٹنگ ہوسکتی ہے۔ بہت سے شہریوں کو خدشہ ہے کہ بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے میں ان کی شناخت اور ذاتی نوعیت کی معلومات افشا ہوسکتی ہیں۔
اسی کے ساتھ کورونا وائرس کی وبا نے امیدواروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ان حالات میں روایتی جلسے یا انتخابی ریلیاں ممکن نہیں، اور 15 کروڑ ووٹروں سے رابطے کا سب سے مؤثر ذریعہ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹیلی وژن ہیں، جن پر خطیر رقم خرچ ہورہی ہے۔ 2016ء کی انتخابی مہم پر مجموعی طور پر ڈھائی ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے، اور اِس بار شاید اس سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم درکار ہو۔ صدر ٹرمپ اور جو بائیڈن ووٹ سے پہلے نوٹ جمع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انتخابی چندہ جمع کرنے کی مہم میں فی الحال جوبائیڈن کو امریکی صدر پر ایک کروڑ ڈالر کی برتری حاصل ہے۔ سوشل میڈیا میں صدر ٹرمپ صرف ٹویٹر کو استعمال کررہے ہیں جو بالکل مفت ہے، اس کے علاوہ وہ محدود پیمانے پر عوامی جلسے بھی کررہے ہیں۔ دوسری طرف جوبائیڈن فیس بک اور سوشل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارم پر خطیر رقم خرچ کررہے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک نشست میں عرض کیا تھا کہ امریکہ میں صدر کا انتخاب عام انتخابات میں ڈالے گئے پاپولر ووٹوں کے بجائے ریاستوں کے الیکٹورل ووٹوں سے ہوتا ہے، اس لیے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا آسان نہیں، اور اِس بارکورونا وائرس نے بے یقینی کو دوچند کردیا ہے۔ ماہرینِ طب کے خیال میں موسمِ خزاں میں کورونا وائرس کی ایک نئی لہر خارج از امکان نہیں۔ نیا حملہ رائے عامہ کی صورت گری کس نہج پر کرے گا اس کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا تناسب بھی بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔
اس وقت تک کی صورت حال جوبائیڈن کے حق میں نظر آرہی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں چار ریاستیں صدر ٹرمپ کی کامیابی کا باعث بنی تھیں۔ صدر کو مشی گن میں 0.03، پنسلوانیا میں 0.7، فلوریڈا میں 1.2 اور وسکونسن میں 0.77 فیصد ووٹوں کی برتری پر ان ریاستوں سے مجموعی طور پر 73 الیکٹورل ووٹ ملے تھے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان تمام ریاستوں میں اِس بار جو بائیڈن کو برتری حاصل ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار سینیٹر ہلیری کلنٹن سیاہ فام ووٹروں کو گھر سے نکالنے میں کامیاب نہ ہوسکیں، اور 2012ء کے ری پبلکن امیدوار مٹ رامنی سے کم ووٹ لینے کے باوجود صدر ٹرمپ کو ان ریاستوں میں اپنی مخالف پر برتری حاصل ہوگئی۔ اِس بار سیاہ فاموں میں خاصا جوش و خروش ہے جس کی وجہ سے ٹیکساس جیسے ری پبلکن کے قلعے میں بھی کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔
سیاہ فاموں کے علاوہ غیر ملکی تارکینِ وطن کے ووٹ بھی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن تارکینِ وطن ان انتخابات کے نتائج پر کس حد تک اثرانداز ہوں گے اس کا دار و مدار کئی عوامل پر ہوگا۔ امریکہ کے غیر جانب دار مرکزِ دانش (Think Tank) پیو (Pew)تحقیقی مرکز کے مطابق غیر امریکی نژاد ووٹروں کی دوتہائی کے قریب تعداد کیلی فورنیا، نیویارک، فلوریڈا، ٹیکساس اور نیوجرسی میں آباد ہے۔ ٹیکساس اور فلوریڈا کے سوا باقی تین ریاستیں ڈیموکریٹک پارٹی کا گڑھ ہیں، اس لیے ان ریاستوں میں تارکینِ وطن کے ووٹ شاید فیصلہ کن ثابت نہ ہوسکیں، لیکن فلوریڈا کے 25 لاکھ غیر ملکی نژاد ووٹر تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح ٹیکساس کے 18 لاکھ تارکینِ وطن اگر صدارتی انتخابات پر اثرانداز نہ ہوسکے تب بھی کانگریس اور سینیٹ کی نشستوں پر ری پبلکن امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ غیر ملکی تارکینِ وطن کے بارے میں صدر ٹرمپ کا رویہ توہین آمیز ہے، اورگزشتہ چار سال کے دوران امیگریشن سے متعلق ان کے فیصلوں اور اقدامات پر تارکینِ وطن کو خاصی تشویش ہے، چنانچہ ماہرین توقع کررہے ہیں کہ تارکینِ وطن بلاک کی صورت میں ری پبلکن پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔
سیاسی ماہرین کے خیال میں اِس بار مشی گن اور وسکونسن سے جوبائیڈن کی کامیابی یقینی نظر آرہی ہے، اور اگر ایسا ہوا تو فلوریڈا اور پنسلوانیا میں سے کسی ایک ریاست میں بھی کامیابی قصرِ مرمریں کی کنجی ان کے قدموں میں ڈال دے گی۔
معزز قارئین! ماہرین کی رائے سر آنکھوں پر، لیکن یہ تجزیہ رائے عامہ کے جائزوں اور اس مفروضے پر مبنی ہے کہ 2020ء کے نتائج 2016ء کے مطابق ہوں گے۔ شماریات اور تجزیاتی ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد رائے عامہ کے جائزے خاصے معتبر ہیں، لیکن یہ بہرحال رائے عامہ کا جائزہ ہے اور پھر ابھی انتخابات میں چار مہینے باقی ہیں، یعنی پلوں کے نیچے سے ابھی بہت سارا پانی بہنا ہے، اس لیے نتائج کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ اِن شااللہ اس موضوع پر آنے والے دنوں میں مزید گفتگو ہوگی۔

………
اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.com اور ٹویٹر Masood@MasoodAbdali پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹwww.masoodabdali.com پر تشریف لائیں۔