اٹھارہویں ترمیم کی برکت

وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیاہے کہ اٹھانوے فیصد اتفاقِ رائے کے بعد لاک ڈائون کچھ کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت کے ساتھ مزید دو ہفتے جاری رکھا جائے گا۔ دو فیصد عدم اتفاق والے امور کو صوبوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سندھ سمیت چاروں صوبوں، بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان نے وزیراعظم کے فیصلے پر صاد کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وزیراعظم نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل اختیار کو تسلیم کیا ہے جو ہر اعتبار سے خوش آئند بات ہے، جسے سراہا جانا چاہیے۔ اب حکومتی ترجمانوں کو پوائنٹ اسکورنگ کے چکر میں پڑ کر اس فضا کو خراب کرنے سے احتراز برتنا چاہیے، جس کے خراب ہونے سے سب سے زیادہ نقصان وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو ہوگا۔ اس لیے قومی مفاد کا تقاضا بھی یہی ہے اور خود جناب عمران خان کا بھی کہ وہ محاذ آرائی اور تصادم کی طرف لے جانے والے ترجمانوں کو الزام تراشی کے کھیل سے باز رکھنے کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری کردیں۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے ہماری سیاسی قیادت کو بھی بالغ نظری سے کام لینا چاہیے، اور قوم کی اجتماعی دانش کو بروئے کار لانے کے لیے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اس وژن کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے جس کا عملی مظاہرہ انہوں نے 1946ء کا الیکشن جیت کر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسلم لیگ کی مخالفت میں اپنا وزن کانگریس کے پلڑے میں ڈالنے والی مسلمانوں کی ایک جماعت، جمعیت العلمائے ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی مرحوم کے خط کے جواب میں یہ کہہ کر کیا تھا کہ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ماضی کی تمام تلخیاں بھولنے کو تیار ہیں، ماضی کو فراموش کرکے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کی خاطر آج بھی مل جل کر چلنے کو تیار ہیں۔ بانیِ پاکستان کا قیام پاکستان کے بعد یہی طرزِعمل پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن صوبہ سرحد کانگریس کے صدر خان عبدالغفار خان مرحوم سے ملاقات کے بعد مذاکرات کی دعوت دیتے وقت رہا تھا۔ یہ الگ بات کہ دونوں طرف کی صفوں میں موجود فتنہ گر سازشیوں نے یہ کوشش کامیاب نہیں ہونے دی، جس کی تفصیل بیان کرنے کا یہ محل نہیں ہے۔ تاہم یہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ قائداعظمؒ نے اپنے سیاسی مخالفوں کو ماضی فراموش کرکے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی پیشکش کی تھی۔
جناب وزیراعظم، قائداعظمؒ کے اس وژن پر عمل پیرا ہوکر تو دیکھیے کہ کس طرح وہ کنفیوژن دور ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم دن بہ دن نت نئے بحرانوں میں جکڑے چلے جارہے ہیں۔
وزیراعظم نے یہ فیصلہ بالکل درست کیا کہ سپریم کورٹ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔ یہ وزیراعظم کی آئینی ذمہ داری ہے جس کی تحقیقاتی رپورٹ جلد سامنے آنی چاہیے۔ اسی طرح جناب وزیراعظم پر یہ بھی لازم ہے کہ سپریم کورٹ نے کابینہ میں غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کی فوجِ ظفر موج کی جو نشاندہی کی ہے، اُس پر بھی توجہ دیں، اور مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے بارے میں جو بنیادی سوالات اٹھائے ہیں، اُن کا جواب بھی سپریم کورٹ کو فراہم کیا جائے۔ اس معاملے میں اگرچہ ماضی کی حکومتوں کا ریکارڈ کوئی اچھا نہیں رہا، مگر حکومت ان کی غلطی کا حوالہ دے کرسپریم کورٹ کو مطمئن نہیں کرپائے گی۔ ماضی میں کسی نے ایسی ہٹ دھرمی اختیار نہیں کی جیسی یہ حکومت کررہی ہے۔
بدقسمتی سے جناب عمران خان اس بنیادی حقیقت کا ادراک نہیں کر پارہے ہیں کہ وہ جس آئین کی وفاداری کا حلف اٹھاکر وزیراعظم بنے ہیں، وہ پارلیمانی نظامِ حکومت ہے جو وزیراعظم کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانچ سے زائد ایسے مشیر اور معاون نہیں رکھ سکتا جن کا درجہ وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کے برابر ہو۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے آئین کی اس شق کے تحت پانچ سے زائد معاونینِ خصوصی کی تقرری کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دیا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں بھی اعلیٰ عدلیہ اس طرح کے مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی تقرری کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی جمہوریت ہے، وہاں تو سارے وزیر مشیر غیر منتخب ہوتے ہیں۔ انہیں اس کا ادراک کیوں نہیں ہے کہ امریکہ کا آئین صدارتی ہے، جس میں اس کی اجازت ہے۔
جناب وزیراعظم نے امریکی آئین کا نہیں، پاکستان کے آئین کا حلف اٹھایا ہے، اس لیے امورِ مملکت اسی دستور کے طے کردہ پیرا میٹرز کے اندر رہ کر ادا کرنا ہوں گے۔ یہاں قائداعظم کے حوالے سے اس کا ذکر غیر ضروری نہیں ہوگا کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جس کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا، تبھی اس کی بات پر عوام بلاتامل آمنا و صدقنا کہتے ہیں اور وہ خود قانون اور ضابطوں کو عملاً اپنی ذات پر بھی نافذ کرتا ہے۔ قائداعظمؒ کو اطلاع ملی کہ عوام نے ٹرینوں میں بغیر ٹکٹ خریدے یہ کہہ کر سفر کرنا شروع کردیا ہے کہ انگریز چلا گیا ہے، اب ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں۔ اس پر قائداعظمؒ نے قوم کے نام پیغام جاری کیا کہ کوئی بغیر ٹکٹ سفر نہ کرے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ اگلے ماہ ریلوے کی آمدنی دگنی ہوگئی۔ دوسرا واقعہ پارلیمانی نظامِ حکومت کی اتھارٹی سے متعلق ہے، جس کا حوالہ سابق وزیراعظم چودھری محمد علی مرحوم نے اپنی تصنیف “Creation of Pakistan” جس کا اردو ترجمہ ’’ظہورِ پاکستان‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے، میں لکھا ہے کہ وزیراعظم شہیدِ ملّت خان لیاقت علی خان نے کابینہ میں یہ تجویز پیش کی کہ کابینہ کے اجلاس کی صدارت قائداعظم کریں۔ تو قائداعظم نے یہ درخواست اُس وقت قبول کی جب کابینہ نے باقاعدہ ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرکے قائداعظم کو پیش کی۔ چودھری محمد علی مرحوم مزید لکھتے ہیں کہ اس میں یہ صراحت بھی موجود تھی کہ اسے کسی دوسرے سربراہِ مملکت کے لیے مثال نہیں بنایا جاسکے گا۔ قائداعظم کا یہ استحقاق بابائے قوم کی وجہ سے ہے، پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم کی موجودگی میں کوئی دوسرا صدارت نہیں کرسکتا۔