ابوسعدی
فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید میں شاہ ولی اللہ کا نام اور ان کی خدمات برصغیر میں ایک اساسی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ 1703ء میں علما اور صوفیہ کے ایک خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شاہ عبدالرحیم بھی عالم تھے۔ پچیس سال کی عمر میں جملہ علوم و فنون سے فارغ التحصیل ہوئے۔ حج کے لیے عازمِ حجاز ہوئے تو وہاں کے محدثین سے علم ِحدیث کی سند حاصل کی۔ واپسی پر تعلیم و تحقیق میں لگ گئے۔ برصغیر میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل ان کا مطمح نظر تھا، جس کی خاطر انہوں نے بہت مفید علمی اور فکری کام کیا۔ وہ ایک اجتہادی شان کے ساتھ عصری مسائل پر غور و فکر کرکے رہنمائی فراہم کرنے والے مفکرین میں سے ہیں۔ ان کی تصانیف میں حجتہ اللہ البالغہ، البدور البازغہ اور تفہیماتِ الٰہیہ کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ ان کی سیاسی، اقتصادی اور عمرانی فکر نے بعد میں آنے والے مفکرین پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔ برصغیر کی ملت ِاسلامیہ کو شرک و بدعات سے نکالنے، راہِ سنت پر ڈالنے اور طریقِ معرفت سکھانے میں ان کی مساعی اور تصانیف کو بہت دخل ہے۔ 1762ء میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے اور دہلی میں مدفون ہوئے۔ علامہ اقبال ان کی فکر سے بہت متاثر تھے۔ اپنے نثری افکار میں خصوصیت کے ساتھ انہوں نے شاہ ولی اللہ کی علمی اور فکری مساعی کا تذکرہ کیا ہے۔ (پروفیسر عبدالجبار شاکر)۔
صبر و تحمل کی عادت
نبوت سے قبل حضرت شعیبؑ کے ہاں حضرت موسیٰؑ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ ایک دن ایک بکری ریوڑ سے الگ ہوکر کہیں کھوگئی۔ حضرت موسیٰؑ جنگل میں اسے آگے پیچھے تلاش کرتے کرتے بہت دور نکل گئے۔ اس سے آپؑ کے پائوں مبارک پر ورم آگٔیا اور زخمی بھی ہوگئے۔
بکری تھک ہار کر ایک جگہ کھڑی ہوگئی، تب جاکر کہیں حضرت موسیٰؑ کے ہاتھ آئی۔ آپؑ نے اس پر بجائے غصہ اور زدوکوب کرنے کے اس کی گرد جھاڑی اور اس کی پشت اور سر پر ہاتھ پھیرنے لگے، ماں کی ممتا کی طرح اس سے پیار کرنے لگے۔ باوجود اس قدر اذیت برداشت کرنے کے ذرہ برابر بھی اس پر کدورت اور غیظ و غضب نہ کیا، بلکہ اس کی تکلیف کو دیکھ کر آپؑ کا دل رقیق ہوگیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔
بکری سے کہنے لگے: ’’فرض کیا تجھ کو مجھ پر رحم نہیں ایا، اس لیے تُو نے مجھے تھکایا اور پریشان کیا۔ لیکن تجھے اپنے اوپر رحم کیوں نہ آیا؟ میرے پائوں کے آبلوں اور زخموں پر تجھے رحم نہ آیا، کم از کم تجھے اپنے اوپر تو رحم آنا چاہیے تھا‘‘۔
اسی وقت ملائکہ سے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نبوت کے لیے حضرت موسیٰؑ زیبا ہیں۔ امت کا غم کھانے اور ان کی طرف سے ایذا رسانی کے تحمل کے لیے جس حوصلے اور جس دل و جگر کی ضرورت ہوتی ہے، وہ خوبی ان میں موجود ہے۔
باملائکہ گفت یزداں آں زماں
کہ نبوت راہمی زیبد فلاں
نبوت سے قبل تقریباً کئی نبیوںؑ نے بکریاں چرائیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ
تاشود پیدا وقار و صبر و شاں
کرد شاں پیش از نبوت حق شباں
(تاکہ بکریوں کے چرانے سے انبیا کرامؑ کا صبر اور وقار ظاہر ہوجائے۔ یہ بکریوں کی چرواہی صبر و حلم کی عادت پیدا کرتی ہے)
کیوںکہ بکریاں اکثر مختلف جانب بکھر جاتی ہیں۔ ان کے جمع رکھنے اور نگرانی میں پریشانی ہوتی ہے۔ اس کام کے لیے دل و دماغ کا قابلِ برداشت ہونا ضروری ہوتا ہے۔
درسِ حیات: مخلوق ِخدا پر رحم کرنے سے دنیا اور آخرت میں سرفرازی عطا ہوتی ہے۔
(مولانا جلال الدین رومیؒ، حکایاتِ رومیؒ)
بلی، شیر اور انسان
ایک دفعہ ایک شیر کو ایک بلی نظر آئی، بلاکر پوچھا کہ تمہاری شکل صورت تو بالکل میری طرح ہے لیکن قد بہت چھوٹا ہے، اس کی وجہ؟ بلی کہنے لگی:
دادا جان! میں دراصل آپ ہی کے خاندان سے تعلق رکھتی تھی لیکن ظالم انسان کے پنجے میں پھنس گئی اور اس نے مجھے رگڑے دے دے کر باریک کردیا۔ شیر جلال میں آکر کہنے لگا: ’’میں انسان کو آج ہی اس ظلم کا مزہ چکھائوں گا، چلو میرے ساتھ اور دکھائو مجھے انسان‘‘۔ بلی نے بہتیرا سمجھایا کہ انسان بڑا خوفناک جانور ہے، اس سے بچو۔ لیکن شیر نہ مانا۔ تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ ایک کسان سر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے آرہا تھا، بلی نے کہا:’’یہ ہے انسان‘‘۔ شیر نے آگے بڑھ کر اسے روک لیا اور کہاکہ ’’میں تم سے جنگ کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ کسان نے کہا: ’’معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے، کیا بلی نے تمہیں بتایا نہیں کہ میں کس قدر خوفناک ہوں!‘‘
شیر: ’’یہی تو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم کس حد تک خوفناک ہو؟‘‘
آدمی: ’’بہت اچھا، تو پھر یہیں ٹھیرو، میں سامنے کٹیا میں یہ گٹھا پھینک کر آتا ہوں‘‘۔
شیر: ’’شوق سے‘‘۔
آدمی: ’’لیکن مجھے صرف ایک ہی صورت میں اطمینان ہوسکتا ہے کہ تمہیں اس درخت سے باندھ جائوں‘‘۔
شیر: ’’بے شک باندھ دو‘‘۔
چنانچہ کسان نے شیر کو درخت کے ساتھ باندھ کر لٹھوں سے پیٹنا شروع کردیا اور اتنی مار دی کہ شیر نڈھال ہوکر گر پڑا۔ کسان بھی مار مار کر تھک گیا تھا، لٹھ زمین پر پھینک کر کہنے لگا: ’’میں کٹیا سے پانی پی کر ابھی آتا ہوں‘‘۔
کسان کے جانے کے بعد شیر نے بلی کو پاس بلاکر نہایت مایوسی کے عالم میں پوچھا: ’’جب میں تمہاری طرح باریک ہوجائوں گا تو اس کے بعد بھی یہ ظالم چھوڑے گا یا نہیں؟‘‘۔
(ماہنامہ چشم بیدار۔ اپریل 2018ء)