عمران خان کی حکومت میں آٹا، چینی اسکینڈل

کچھ لوگوں کے پاس ضرورت سے بہت زیادہ جمع ہوجائے تو پسے ہوئے لوگ بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں صنعتی ترقی کے نام پر چند خاندانوں کو سنورنے کا موقع سب سے پہلے ایوب خان نے دیا، پھر جنرل ضیاء الحق نے۔ یہ ادوار اقتصادی ترقی کے نام پر صنعت کاروں کے لیے لکڑ ہضم پتھر ہضم جیسی پالیسی لے کر آئے۔ اس پر عدلیہ خاموش رہی اور میڈیا ان کا دست و بازو بنا، جس کے ذریعے گدھے زیبرے بناکر پیش کیے گئے۔ پھر پیپلز پارٹی جو جاگیرداروں کی نمائندہ تھی، کے مقابل صنعت کار کھڑے کیے گئے، یوں انہیں سیاسی پلیٹ فارم بھی دے دیا گیا۔ ساری خرابی انہی دو غیر جمہوری ادوار میں ہوئی۔ ری بیٹ، سبسڈی، اور فری ٹیکس زون جیسی اصطلاحات گھڑ کے انہیں فائدہ پہنچایا گیا۔ یہ نظام ملک میں سیاسی و اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا موجب بنا۔ آٹے اور چینی کے حالیہ بحران پر اگرچہ ایف آئی اے کی فرانزک آڈٹ رپورٹ میں بعض حکومتی اقدامات، برسر اقتدار شخصیات اور بیوروکریٹس کے ناموں کے گرد سرخ نشان لگایا گیا ہے، اس پر اصل نقشہ تو 25 اپریل کو سامنے آئے گا، تاہم وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے وزیروں اور مشیروں کی ذمہ داریوں میں ردو بدل اور برطرفیاں کی ہیں۔ وزیراعظم نے جن وزرا اور افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ کی ہے ان کا تعلق اُن محکموں اور اداروں سے ہے جو کسی نہ کسی طور آٹے اور چینی کی پیداوار اور ان کے انتظام و انصرام کے ذمے دار ہیں۔ دو کے سوا کسی وزیر یا مشیر کو فارغ نہیں کیا گیا بلکہ ان کے محکمے تبدیل کیے گئے ہیں۔ مشیر شہزاد ارباب اور زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین جہانگیر ترین کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا، جبکہ بیوروکریٹس کو فی الحال او ایس ڈی بنادیا گیا ہے۔ دو نئے وزیر سید فخر امام (فوڈ سیکورٹی) اور امین الحق (آئی ٹی) مقرر کیے گئے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں سب سے زیادہ تنقید شوگر مل مالکان کو دی جانے والی اربوں روپے کی سبسڈی پر کی گئی جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر حکومت کے بعض لوگوں نے غیر معمولی ناجائز منافع کمایا۔ اس طرح کا زرتلافی تو ماضی کی حکومتیں بھی دیتی رہی ہیں جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ کرنا ہوتا ہے، لیکن اصل خرابی یہ ہوئی کہ سابق حکومتوں کی سبسڈی سے آٹے اور چینی کی قیمتیں کم ہوئیں، جبکہ موجودہ حکومت کے اقدام سے ان میں اضافہ ہوا۔ چینی کے فی کلو نرخ 55 سے 85 روپے، اور آٹے کے 33 سے 55 یا اس سے بھی زیادہ ہوگئے۔ چینی برآمد بھی کی گئی جس سے حکومتی شخصیات کو مالی فائدہ ہوا۔ چینی مافیا نے عوام کے کم سے کم ایک کھرب روپے لوٹے ہیں۔ بلاشبہ انصاف کا تقاضا ہے کہ جو حضرات اعتراضات کی زد میں ہیں اُن کا مؤقف بھی سنا جائے، لیکن حکومت گھی، ڈالر مہنگا کرنے والوں کے خلاف حرکت میں آئے اور اپنی رٹ ضرور دکھائے جو ابھی تک کہیں نظر نہیں آرہی۔ حالیہ دنوں میں ڈالر مہنگا ہونے سے ملک 9 کھرب ڈالر کے مزید قرضوں میں جکڑ چکا ہے۔
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی اندرونی کہانی ان حقائق سے مختلف ہے جو اِس وقت ہمارے سامنے ہیں۔ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ تک لانے والے انہیں کسی قیمت پر بھی ناکام ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے، اور حکومت میں بھی انہیں کسی وزیر اور کسی مشیر کی پروا نہیں، صرف ایک عمران خان ہی ہیں جن پر ابھی تک اعتماد برقرار ہے، اور اسی لیے ان پر سب کچھ نچھاور کیا جارہا ہے، باقی سب کہانیاں ہیں۔ نوازشریف کو بھی اسی لیے ریلیف ملا کہ ان کی وجہ سے حکومت چل نہیں رہی تھی، اب شہبازشریف کو بھی اس لیے بلایا گیا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے، اور میڈیا ہائوسز کو بھی یہی بات سمجھائی جارہی ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم تسلیم کیا جائے۔ لیکن حمایت کی بھی ایک حد ہے، یہ بات وزیراعظم کو بھی معلوم ہونی چاہیے۔ جہاں تک حالیہ تبدیلیوں کا تعلق ہے، اس بارے میں گزشتہ کئی ماہ سے سوچ بچار جاری تھی، پہلا ہدف وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب تھے، اُن کے بہت سے فیصلوں اور اقدامات پر تحفظات ظاہر کیے جارہے تھے، حالیہ تبدیلیوں میں اصل میں یہی ایک فیصلہ ہوا ہے، اور باقی تو سب انتظامی مہرے تبدیل ہوئے ہیں، اور ٹیم میں اضافہ بابر اعوان کی صورت میں ہوا جنہیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے مقابلے کے لیے لایا گیا ہے۔ یہ عہدہ پہلے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان مانگ رہی تھیں تاکہ وہ پارلیمنٹ میں بیٹھ سکیں، مگر عثمان ڈار کی وجہ سے انہیں یہ عہدہ نہیں ملا، اور بابر اعوان معاونِ خصوصی بننے کو تیار نہیں تھے۔ خسرو بختیار وزارتِ فوڈ سیکورٹی کے وفاقی وزیر تھے، اب وزارتِ خزانہ کے تین ڈویژنز میں سے ایک ڈویژن کے وزیر ہوں گے، جبکہ حماد اظہر اب پروموٹ ہوکر ڈویژن سے وزارتِ صنعت و تجارت کے وفاقی وزیر بن گئے ہیں۔ حفیظ شیخ بدستور وزارتِ خزانہ کے دو اہم ڈویژنز فنانس اور ریونیو کے مشیر رہیں گے۔ حماد اظہر وزارتِ خزانہ کے تین ڈویژنز میں سے ایک اکنامک افیئرز ڈویژن کے وزیر تھے۔آئین کے تحت اور رولز آف بزنس کے مطابق وزیراعظم صرف پانچ مشیر رکھ سکتے ہیں۔ امین اسلم، حفیظ شیخ، رزاق دائود اور عشرت حسین مشیر ہیں، اس صف میں اب ڈاکٹر ظہیر الدین بابر اعوان بھی آگئے ہیں، اس کے باوجود علی محمد خان وزیر مملکت پارلیمانی امور برقرار رہیں گے اور ایوان میں حکومت کی نمائندگی کریں گے۔ علی محمد خان پارلیمنٹ میں سافٹ امیج کے ساتھ رہتے تھے، اب ایوان میں بابر اعوان تلخ بات شیریں لہجے میں کیا کریں گے اور شریف فیملی کے لیے وہ نیام سے باہر نکلی ہوئی تلوار بن کر رہیں گے۔ حالیہ تبدیلیوں میں خبروں کا اصل موضوع جہانگیر ترین بنے ہیں، انہیں نائب وزیراعظم کا غیر رسمی کردار ملا ہوا تھا، اب کہا جارہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کو مکمل طور پر مایوس کیا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ جہانگیر ترین کا گروپ اپنے انجام کو پہنچ چکا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب بھی ان کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے چینی پیدا کرنے والوں کے لیے سبسڈی کی منظوری کیوں دی؟ یہ اصل معاملہ نہیں، اصل معاملہ منافع خوری ہے جو اُس وقت شروع ہوتی ہے جب چینی کی برآمد کے بعد ملک میں اس کی قلت پیدا ہوجاتی ہے، تب منافع کا کھیل شروع ہوتا ہے، اور یہی اصل کھیل ہے۔ اگر چینی کی قیمت میں فی کلو پندرہ روپے بھی اضافہ ہوجائے اور یہ ہوتا رہا ہے کہ چینی پچپن سے ستّر روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے، تو مل مالکان کو ملک میں فی کس چینی کے استعمال کے حساب سے 82 ارب کا منافع ہوتا ہے۔ حالیہ رپورٹ2015ء سے2019ء تک کی ہے۔ ان پانچ برسوں میں ملک میں چینی کی قلت پیدا کرکے مل مالکان نے چار کھرب کا منافع کمایا ہے اور قوم رپورٹ کی روشنی میں پچیس ارب کو رو رہی ہے۔ شوگر کارٹل میں شریف خاندان کے علاوہ چودھری خاندان، ہمایوں اختر، عباس سرفراز، جہانگیر ترین، چودھری منیر کے علاوہ درجنوں خاندان ہیں۔ چونکہ تحقیقات منافع خوری سے شروع نہیں ہوں گی، لہٰذا اس معاملے کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔ اب رپورٹ آچکی ہے، تحقیقات بھی اس پر ہی ہوں گی کہ سبسڈی جاری رہنی چاہیے یا نہیں، جنہوں نے سبسڈی لی، اُن سے واپس لی جائے یا نہیں؟ تحقیقات اسی صورت میں نتیجہ خیز ہوں گی جب کابینہ کے فیصلوں کو تحقیقات میں شامل کیا جائے، کیونکہ سبسڈی تو کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں ملی ہے۔
شوگر انڈسٹری سے متعلق حالیہ رپورٹ میں دوسرا پہلو یہ ہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن بھی دو بڑے واضح گروپوں میں تقسیم ہے۔ کے پی کے اور پنجاب میں بھی ایک دوسرے سے متعلق تحفظات ہیں۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن یہ بھی سمجھ رہی ہے کہ ایسے مل مالکان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی جو کاشت کاروں کو گنے کی قیمت ادا نہیں کرتے۔ یہ معاملہ بہت حساس ہے۔ پاکستان میں چینی بحران پر ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں۔ ہنگامہ اس لیے بھی بڑھتا ہوا دکھائی دیا کہ وزیراعظم نے کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کردی۔ چینی کی صنعت کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو اسے گنے کے کاشت کاروں سے شروع کرنا ہوگا۔ یہ طبقہ ہمیشہ مل مالکان کے ہاتھوں لٹتا ہے جب ان کا گنا اصل سے کم وزن اور کم قیمت پر خریدا جاتا ہے، اور قیمت بھی قسطوں میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ کاشت کار مجبور ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے علاقے کے قریب مل کو ہی گنا فروخت کرنا ہوتا ہے۔
ملک میں چینی سالانہ کھپت سے زیادہ تھی، ای سی سی نے ستمبر2018ء میں ایکسپورٹ کی اجازت دی اور پنجاب حکومت نے 3 ارب کی سبسڈی دی۔3 ارب کی سبسڈی کے بدلے کم از کم 20 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان آیا۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کو پاکستان میں سالانہ 100 ارب کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ لکھنے والے لوگ ایف آئی اے کے ہیں جنہیں مارکیٹ کا پتا ہی نہیں ہے،اس رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔اس رپورٹ میں اُنہوں نے ایک ٹیبل بناتے ہوئے صرف یہ لکھ دیا ہے کہ ان لوگوں نے سبسڈی حاصل کی۔ ایف آئی اے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پچھلے پانچ سال میں چینی پر ربیٹ دیا گیا۔اس رپورٹ میں نوازشریف حکومت کا بھی ذکر ہے، اُس وقت بھی ربیٹ دیا گیا، اور جہانگیر ترین نے تو نوازشریف دور میں ڈھائی ارب روپے کا ربیٹ لیا، جبکہ موجودہ حکومت میں 56 کروڑ کا ربیٹ لیا ہے۔ جو کچھ رپورٹ میں لکھا گیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ منافع نہیں ہوتا کیونکہ باہر چینی سستی بیچنی پڑتی ہے۔ برآمدی قیمت اور مقامی مارکیٹ کی قیمت باہم ایک جیسی ہوجائیں تو اس میں کوئی منافع نہں ہوتا۔ اس رپورٹ میں کچھ بھی نیا نہیں ہے، یہ سب کچھ پہلے سے معلوم تھا، کچھ بھی افشاء نہیں کیا گیا، بلکہ اہم فیصلے اور ان فیصلوں کے محرکات چھپائے گئے ہیں جن کے دبائو پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ کی اجازت اور پنجاب حکومت نے سبسڈی جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رپورٹ کورونا وائرس کے خلاف حکومت کی ناکام حکمت عملی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو۔ بہرحال یہ ایک ایسی ایف آئی آر ہے جس سے جان چھڑانا اب ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد ملکی سیاست کا نقشہ بدل چکا ہے، ہر کوئی چینی اور آٹے کے بحران کے ذمہ داروں کو حکومتی صفوں میں موجود پا کر وزیراعظم عمران خان کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ انکوائری رپورٹ شائع نہیں کی بلکہ کروائی گئی ہے، لیکن رپورٹ کی اشاعت سے ایک ہفتہ قبل جہانگیر ترین کو یوٹیلٹی اسٹورز کو ٹینڈر کے ذریعے ساری JDW کی ذخیرہ کی ہوئی چینی فروخت کرنے کا موقع دیا گیا۔ حکومت سے یہ جائز مطالبہ کیا جارہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں شائع ہونے والے آٹے اور چینی چوروں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ اگر وزیراعظم نے کارروائی کی تو ان کی کمزور حکمتِ عملی اور ناکامیاں چھپ جائیں گی اور انہیں سیاسی سہارا مل سکتا ہے۔ وزیراعظم کے بارے میں ایک بات بہت نمایاں ہے کہ جہاں ان کی ذات پر حرف آنے کا معاملہ ہو وہاں حالات سے سمجھوتا نہیں کرتے۔ کارروائی کرنے سے انہیں سیاسی سہارا بھی مل جائے گا اور پارٹی کے اُن رہنمائوں کے دبائو سے بھی باہر آجائیں گے جن کا اُن پر احسان جتایا جاتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے بھی رپورٹ پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی بروقت آواز اٹھائی ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے ملک میں چینی اور آٹے کے بحران کی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد وزیراعظم کا اصل امتحان اب ہوگا کہ ان کے قریبی دوست گرفتار ہوتے اور جیل جاتے ہیں یا نہیں؟

تعمیراتی شعبے کے لیے رعایتی پیکیج…امتیازی ایمنسٹی اسکیم

حکومت نے تعمیراتی شعبے کے لیے ’’تاریخی‘‘ پیکیج کا اعلان کیا ہے، اور یہاں تک رعایت دے دی ہے کہ حکومت تعمیراتی سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذریعہ آمدن تک نہیں پوچھے گی۔ اس اسکیم کی تفصیلات نوٹیفکیشن جاری ہوجانے پر ہی سامنے آئیں گی، تاہم جس طرح بیان کیا جارہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک امتیازی ایمنسٹی اسکیم ہے جو صرف ایک شعبے کو دی جارہی ہے، وجہ صرف یہ ہے کہ حکومت اگلے عام انتخابات سے قبل جون2022ء تک چند مخصوص تعمیراتی منصوبے مکمل کرکے اگلے الیکشن کے اکھاڑے میں کودنا چاہتی ہے۔ یہ اسکیم بھی چینی اور آٹا مافیا کی طرح محض چند چہروں کے لیے ہے، جن میں سب سے زیادہ اسٹیک ہولڈر بیرونِ ملک موجود پاکستانی ہیں، جو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، جب کہ ایف اے ٹی ایف نے ابھی تک رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے خلاف اپنی رائے تبدیل نہیں کی۔ رئیل اسٹیٹ کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا یہی ڈیزائن نوازشریف حکومت نے بھی’’گاجر اور چھڑی‘‘ پالیسی کے ساتھ دیا تھا، اب وزیراعظم عمران خان بھی وہی کچھ کررہے ہیں، اور مقصد ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم‘‘ کو فروغ دینا ہے، لہٰذا 30 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ اس اسکیم کا سب سے زیادہ فائدہ سرمایہ کاروں کو ہوگا۔ عام شہریوں اور مزدوروں کو اس پیکیج کی ہوا بھی نہیں لگنے دی جائے گی۔ اس مافیا کو حکومت سے سستی اور قسطوں پر اراضی خریدکر غیر معمولی منافع کے ساتھ حکومت ہی کو نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے لیے جگہ دینے کے نام پر فروخت کردینی ہے، جس پر حکومت فلیٹ تعمیر کرے گی اور بینک سرمایہ فراہم کریں گے۔ یہ فلیٹ نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم میں رجسٹرڈ ہونے والوں کو دیے جائیں گے جن کی ساری عمر قسطیں ادا کرنے میں گزر جائے گی۔ اس ممکنہ فیصلے کے خلاف ملک کی اپوزیشن جماعتیں اور پارلیمنٹ سب خاموش ہیں۔ ملک میں تعمیراتی شعبے کا ایک مافیا ہے جس نے بیرونِ ملک مافیا کے ساتھ مل کر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فیصلے کرائے ہیں۔ ملک میں اس وقت رئیل اسٹیٹ کا بزنس کرنے والے پچاس فی صد سے زائد وہی لوگ ہیں جو انویسٹر بھی ہیں اور بلڈر بھی، خود خرید کنندہ ہیں اور خود ہی فروخت کنندہ بھی۔ اب تو پیکیج کا اعلان ہوچکا ہے، اگر کورونا نہ ہوتا تو یہ طبقہ اس شعبے سے وابستہ غیر ملکی مافیا کے ساتھ مل کر 17 مارچ سے اسلام آباد میں ایک بہت بڑا لاک ڈائون کرنے جارہا تھا جس کی وجہ سے حکومت بھی پریشان تھی کہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، اس شعبے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ضروری ہے۔ تعمیراتی شعبے کے لیے کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ بھی تشکیل دیا جارہا ہے۔ حکومت اب تعمیراتی سیکٹر پر فکسڈ ٹیکس لگائے گی، غریبوں کے لیے تعمیر کیے جانے والے گھروں پر 10فیصد ٹیکس لے گی۔ نوٹیفکیشن سامنے آئے گا تو پتا چل جائے گا کہ کس کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ پانچ مرلے کا جو گھر چودہ لاکھ میں تعمیر کرنے کا خواب دکھایا گیا تھا اس کی قیمت اب چوالیس لاکھ تک کیسے پہنچ گئی ہے؟