دنیا بھر میں 12مارچ کو ہر سال گردوں کے امراض کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جناح اسپتال کے شعبۂ امراضِ گردہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالمنان کے مطابق ’’گردے انسانی جسم کا ایک اہم عضو ہیں جن کا کام انسانی جسم میں پیشاب کے ذریعے زہریلے اور فاسد مادوں کا اخراج، بلڈ پریشر، نمکیات، معدنیات اور کیمیائی توازن برقرار رکھنا، اس کے علاوہ ہارمونز جیسا کہ Erythropoietin/ Vitamin D کی مقدار کو کنٹرول کرنا ہے۔ گردے کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد دنیا بھر میں 850ملین تک پہنچ گئی ہے، اور اس شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گردے کے امراض کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ گردے کی بیماری کی دو اقسام ہیں: گردے کا اچانک فیل ہوجانا اور گردے کے دائمی امراض۔ دنوں اور ہفتوں میں گردوں میں رونما ہونے والی تبدیلیاں سنجیدہ زخم کہلاتی ہیں۔ گردے کا مرض اگر تین مہینے سے تجاوز کرجائے تو دائمی مرض کہلاتا ہے۔ گردے کے امراض کی وجوہات میں سب سے اہم وجہ ذیابیطس (42فیصد)، بلند فشار خون (28 فیصد)، گردے کی جھلی کی سوزش اور کمزوری (7فیصد)، گردے میں پتھری (6فیصد)، غیرضروری ادویہ کا بے دریغ استعمال اور دورانِ حمل ہونے والی پیچیدگیاں ہیں۔ اس کی علامات میں تھکاوٹ، بوجھل پن، کمزوری، بھوک کا نہ لگنا، الٹی یا متلی، سانس میں دشواری، پیشاب کا کم یا زیادہ آنا، جلن، خون یا جھاگ کا آنا، جسم پر سوجن ظاہر ہونا شامل ہیں۔ گردے کے امراض کو تشخیص کرنے کے لیے مختلف ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں جن میں سب سے اہم سی بی سی، پیشاب کا ٹیسٹ، پروٹین کی جانچ، خون میں یوریا کریٹنین کی مقدار، اور گردے کا الٹراسائونڈ شامل ہیں،کہ بعض صورتِ حال میں گردے کی بیماری کا علا ج ادویہ اور پرہیز سے ہوجاتا ہے، اگر خیال نہ کیا جائے یا پھر گردے کا شدید مرض لاحق ہوجائے تو ڈائیلاسز کی ضرورت پیش آتی ہے۔ دائمی مرض میں مبتلا ہونے کی صورت میں گردے کی پیوندکاری کا آپشن بھی موجود ہے۔ گردے کے امراض سے بچائو کے لیے ضروری ہے کہ صحت مندانہ طرزِ زندگی اختیار کیا جائے، تمباکونوشی سے پرہیز کیا جائے، بازار کی تلی ہوئی چکنائی والی اشیاء سے پرہیز کیا جائے، ورزش کو معمول بنایا جائے، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض اپنی دوائیں باقاعدگی سے استعمال کریں اور معمول کے مطابق اپنا طبی معائنہ کرواتے رہیں۔ جبکہ غیرضروری ادویہ بالخصوص درد کی دوائوں کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔
کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی پہلی بار انسانوں پر آزمائش شروع
امریکہ میں کورونا وائرس ویکسین کی آزمائش 16 مارچ کو انسانوں پر شروع ہوئی، اور یہ اس لیے تاریخ ساز ہے کہ اتنی تیزی سے کسی ویکسین کا کلینکل ٹرائل شروع نہیں ہوتا، کیونکہ وائرس کا جینیاتی ویکسنس محض 2 ماہ قبل ہی تیار کیا گیا تھا۔
تاہم اس ویکسین کی عام دستیابی میں ابھی خاصا وقت درکار ہوگا۔ فی الحال اس کی آزمائش کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے محفوظ ہے۔ اگر یہ محفوظ ثابت ہوئی تو مستقبل قریب میں زیادہ افراد پر اس کا ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا کہ یہ کس حد تک انفیکشن کی روک تھام کے لیے مؤثر ہے۔ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ انفیکشنز ڈیزیز کے سربراہ انتھونی فیوسی کے مطابق کلینکل ٹرائل کا دورانیہ کم از کم ایک سال سے 18 ماہ تک ہوسکتا ہے، جس کے دوران اس کے محفوظ اور مؤثر ہونے کا تعین کیا جائے گا۔ اگر یہ منظوری کے مرحلے تک پہنچی تو یہ پہلی ویکسین ہوگی جس کی تیاری کے لیے میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) نامی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والی کمپنی موڈرینا نے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ویکسین کو جلد از جلد یعنی 42 دن میں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ واشنگٹن میں 45 افراد پر اس کی آزمائش کا عمل شروع ہوا ہے جن کی عمریں 18 سے 55 سال کے درمیان ہیں، اور وہ سب صحت مند ہیں۔ اس ویکسین کی تیاری کے لیے وائرس کی نقول کے بجائے کورونا وائرس کی جینیاتی معلومات کی ضرورت پڑی، اور 42 دن میں ویکسین کو ایچ آئی ایچ حکام تک پہنچا دیا گیا۔کمپنی کے مطابق یہ ویکسین ایم آر این اے کے ساتھ درست کورونا وائرس پروٹین کے کوڈز سے لوڈ کی گئی ہے جس کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔ جسم میں جانے کے بعد لمفی نوڈز میں موجود مدافعتی خلیات ایم آر این اے کو پراسس کرتے ہیں اور ایسے پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں جو دیگر مدافعتی خلیات کو وائرس کی شناخت اور تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہماری ویکسین جسم کے لیے کسی سافٹ وئیر پروگرام کی طرح ہے، جو پروٹینز تیار کرکے مدافعتی ردعمل بناتی ہے۔
کورونا وائرس کھلی ہوا میں گھنٹوں اورسطح پر دنوں تک زندہ رہتا ہے، تحقیق
امریکی حکومت اور سائنس دانوں کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس ہوا اور اس سے آلودہ ہونے والی کسی شے کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک انسان سے دوسرے کو بھی منتقل ہوتا ہے۔ تحقیق کے لیے وائرس سے متاثرہ افراد کے زیراستعمال نیبولائزر ڈیوائس سے نمونے حاصل کرکے فضا میں چھوڑے گئے، جس سے معلوم ہوا کہ ہوا میں یہ وائرس تین گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔ جب کہ مختلف سطح پر یہ نمونے چھوڑے گئے تو معلوم ہوا کہ تانبے پر یہ 4 گھنٹے، گتے پر 24 گھنٹے اور پلاسٹک اور اسٹین لیس اسٹیل پر دو سے تین دن تک باقی رہتا ہے۔ ایسے ہی ٹیسٹ 2003ء میں پھیلنے والے سارس وائرس کے بعد بھی اس کے مختلف حالتوں میں باقی رہنے کی استعداد معلوم کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، پرنسٹن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا اینجلس سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے امریکی حکومت کی نیشنل سائنس فائونڈیشن کے فراہم کردہ مالی وسائل سے یہ تجربہ کیا۔ جارج ٹائون یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی مائیکرو بائیولوجی کی پروفیسر جولی فشر کا کہنا ہے کہ ان تجربات کے نتائج بہت اہم ہیں اور ان سے صفائی ستھرائی سے متعلق بتائی جانے والی احتیاطی تدابیر کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ہاتھ دھونے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے اور خاص طور پر کسی سطح کو چھونے کے بعد لازمی ہاتھ دھونے چاہئیں، کیوں کہ ممکن ہے اس جگہ پر کسی متاثرہ شخص کے ہاتھ بھی لگے ہوں۔