معاشرے میں ’’جنس زدگی‘‘ کا سیلاب

مغرب کی تہذیب سے ہم نے اچھی چیزیں بہت کم اور ’’جنس زدگی‘‘ بہت زیادہ لی ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ بے چاروں کے اعصاب پر عورت سوار ہے، لیکن اب تو جہاں دیکھیے جنس کے لیے اکساہٹ اور ترغیب مل رہی ہے۔ ٹی وی کی شکل میں ہر گھر میں فحاشی کی مشین چل رہی ہے اور ہمارے پاکستانی ٹی وی چینل بھی جنرل پرویزمشرف کے برسراقتدار آنے کے بعد اس سلسلے میں زیادہ آزادی حاصل کرچکے ہیں، اور اگر پاکستانی ٹی وی چینل کو بند کردیا جائے تو بھی ٹی وی کے دوسرے چینل ہیں، وی سی آر ہے اور اب تو انٹرنیٹ بھی آگیا ہے۔ کہاں تک اور کیسے آپ روک تھام کریں گے!
مغربی معاشرہ پریشان ہے کہ تعلیمی اداروں میں طالبات کے ساتھ زنا بالجبر کی وارداتیں کثرت سے ہورہی ہیں، اور یہ وارداتیں نوعمر لڑکے کررہے ہیں جو ابھی پوری طرح جوان بھی نہیں ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی اب لڑکے اور لڑکیاں سنِ شعور کو پہنچنے سے پہلے ہی جنس کا جذبہ بیدار کرلیتے ہیں۔ لڑکیوں پر نظر کیجیے، وہ آئینے کے سامنے بڑی دیر تک بیٹھی اپنے بال سنوارنے میں لگی رہتی ہیں۔ اخبارات کے رنگین صفحات پر کسی اداکارہ کی شوخ انداز کی تصویر پر ان کی نظر ایسی جم جاتی ہے کہ ہٹتی ہی نہیں۔ ہندوستانی فلموں کے بے ہودہ مناظر ماں، بیٹی، باپ، بھائی سب مل کر دیکھتے ہیں اور اس میں کئی شرمناک مناظر آتے ہیں، لیکن کوئی ٹی وی کے سامنے سے ہٹنا گوارا نہیں کرتا کہ چلو میں ہی ذرا شرم کرلوں۔
ان سب حالات کی اصلاح قانون کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ یہ ہوسکتا ہے اور ہونا چاہیے کہ فوجی حکم کے ذریعے پاکستان میں ہندوستانی فلموں کے کیسٹوں کی خرید و فروخت ممنوع قرار دی جائے اور چھاپے مار کر انہیں ضبط کیا جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اخبارات میں اشتہارات دینے والوں پر یہ پابندی ہو کہ وہ اپنا سیدھا سادہ اشتہار دیں گے، اور اس اشتہار میں بلاضرورت عورت کی نمائش نہیں ہوگی۔ اخبارات کے فلمی صفحے کو بھی حکماً بند کیا جاسکتا ہے، اور کہا جاسکتا ہے کہ آپ صرف ٹی وی پروگرام اور فلموں پر تبصرے کا ایک آدھ مضمون دیں، کسی علیحدہ صفحے پر اداکاروں اور اداکارائوں کی رنگین تصویریں دینے کی ضرورت نہیں، اس کے بجائے آپ ادب، سائنس و ٹیکنالوجی کے صفحات دیں۔ قانونی سطح پر اگر حکومت چاہے تو بہت سے اقدامات کرسکتی ہے۔ ہمارے سامنے کمیونسٹ ملکوں کی مثال ہے۔ روس، چین میں کوئی فلم فحش نہیں ہوتی تھی، کسی رسالے میں اخلاق باختگی کی کوئی تصویر نہیں ہوتی تھی، اخبارات میں اشتہارات سرے سے ہوتے ہی نہیں تھے کہ یہ چیزوں کی مصنوعی طلب پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو اسراف پر مائل کرتے ہیں۔ اس طرح کے اصولوں پر انہوں نے معاشرے کو چلا کر دکھایا اور مغرب کی فحاشی یا جنس زدگی سے اپنے معاشرے کو بہت حد تک محفوظ رکھا، لیکن آخر وہ مار کھا گئے، کیونکہ محض قانون سے کوئی معاشرہ نہیں چلتا، اقدار سے وابستگی ہونی چاہیے، خوفِ خدا ہونا چاہیے، ورنہ روس، چین اور مشرقی یورپ کا بھی وہی حال ہے جو یورپ اور امریکہ کا ہے۔ بلکہ ان ملکوں میں جنسی بگاڑ شاید یورپ، امریکہ سے بھی کہیں زیادہ ہوگیا ہے۔ خاص طور پر عصمت فروشی نے بہت ترقی کی ہے۔
تیسری دنیا کے غریب ملکوں میں فلم، ٹی وی اور اخبارات کی تہذیب جب جنس کے جذبات کو ہوا دیتی ہے تو اس سے جنسی جرائم بھی جنم لیتے ہیں، اور لگتا ہے کہ صورتِ حال آگے اور بھی بہت کچھ رنگ دکھانے والی ہے۔ فلم، ٹی وی اور اخبارات کے کلچر سے دنیاوی چیزوں کی طلب میں جو اضافہ ہوتا ہے وہ غریب ملکوں کے گھرانے اپنی جائز آمدنی سے پورے نہیں کرسکتے۔ اس لیے ناجائز آمدنی کے طریقے بھی بڑھ رہے ہیں اور ان میں عصمت فروشی بھی ہے۔ انڈونیشیا کے بارے میں مغربی اخبارات کہتے ہیں کہ کالج کی لڑکیاں بھی ’’دھندے‘‘ پر لگ گئی ہیں۔ وہ ایک مخصوص جگہ پر کھڑی ہوجاتی ہیں اور شائقین انہیں وہاں سے اشارہ کرکے بلاتے ہیں اور ساتھ لے جاتے ہیں۔
ہندوستان کا ہندو کلچر جو ہم نے دیکھا تھا اُس میں بہت برائی تھی مگر جنس کا شیطان مسلط نہیں تھا۔ ہندو عورت پردہ نہیں کرتی تھی، پھر بھی اس کا چہرہ عفت اور حیا کا آئینہ دار ہوتا تھا۔ اُس زمانے میں مغربی مصنوعات کا میک اپ بھی نہیں تھا، صرف سرمے، کاجل، مہندی، مسی سے ہی کام چل جاتا تھا۔ لیکن ہندوستانی فلموں نے ہندوستانی معاشرے میں ایسی بے حیائی پھیلائی ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ آزادی کے بعد اس آزادی نے ہندوستان کو دو تحفے دیے، ایک شراب خانہ خراب، دوسرا گندی فلمیں۔ حالانکہ کانگریس نے شراب کے خلاف تحریک چلائی تھی اور بمبئی میں اس پر پابندی لگوائی تھی، لیکن اب ہندوستان کے ہر شہر میں، ہر موڑ پر آپ کو ایک شراب خانہ نظر آئے گا، اور ہندوستانی فلموں کی وجہ سے کرپشن نے گھریلو عورتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پاکستان میں اس عمل کی ابھی انتہا نہیں آئی ہے، لیکن ٹی وی، فلم اور اخبارات کے ذریعے جنسی جذبات کو بھڑکانے کا عمل جاری ہے۔ اگر یہ عمل جاری رہتا ہے تو ہماری حالت اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہوجائے گی۔ اس لیے آج کے سوچنے کا مسئلہ یہ ہے کہ بے ہودگی کے کلچر سے کس طرح بچا جائے۔
(”پہلی بات“….عبدالکریم عابد)

بیادِ مجلس اقبال

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

علامہ بسااوقات غفلت اور بے عملی میں ڈوبی ہوئی اپنی قوم کو جگانے کے لیے غصے اور جلال کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں تو اگلے لمحے یہ بتا دیتے ہیں کہ میرے کلام کی تلخی دراصل اُس کڑوی دوا کی طرح ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مریض کو شفا نصیب ہوتی ہے، اور اسی طرح بعض اوقات کسی مہلک زہر کا مقابلہ بھی ایسے اجزا پر مشتمل دوا سے کیا جاتا ہے جو زہر کو کاٹ کر بے اثر کر دیتی ہے اور اسے تریاق کہا جاتا ہے۔