افغان امن معاہدہ ، کیا امن ممکن ہوسکے گا؟۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اگرچہ اس معاہدے سے کامیابی کے تناظر میں فوری نتائج نکالنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دستاویز ایک ابتدائی معاہدہ ہے جس پر عمل درآمد کرکے مستقبل میں افغانستان سمیت خطے کی سیاست میں امن کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یہ معاہدہ نہ تو فوری طور پر ہوا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی تنہائی میں کیا گیا ہے۔ اس معاہدے پر پہنچنے کے لیے کئی برس تک مختلف فریقوں کے درمیان مشاورت کا عمل چلتا رہا، جو کبھی ٹوٹتا اورکبھی جڑ جاتا تھا، کیونکہ فریقین میں بہت زیادہ بداعتمادی تھی۔ اس معاہدے کی تکمیل میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے، اور تمام فریقوں سمیت دنیا بھر نے اس معاہدے پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ کردار ادا کرنا آسان نہیں تھا، اور نہ ہی افغان طالبان کے فیصلے ہمارے ہاتھ میں تھے۔ خاص طور پر بداعتمادی کے سائے میں پاکستان کا مثبت کردار اور سب اہم فریقوں کو مذاکرات اور اب معاہدے تک لانا واقعی غیر معمولی بات تھی۔ ماضی میں امریکہ نے پاکستان کو باہر نکال کر افغان مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، جو سودمند نہیں ہوسکی تھی۔
اس تاریخی معاہدے کے تناظر میں چار براہِ راست اہم فریق تھے: افغان حکومت، افغان طالبان، امریکہ اور پاکستان۔ جبکہ دنیا کی توجہ کا مرکز بھی افغانستان تھا۔ پاکستان بنیادی طور پر افغان بحران کے حل کو محض افغانستان تک محدود کرکے نہیں دیکھتا تھا بلکہ اس کے بقول اس سے دونوں ممالک سمیت خطے کی سیاست کا استحکام بھی جڑا ہوا ہے، اور افغان بحران کے حل کے بغیر پاکستان بھی داخلی محاذ پر مستحکم نہیں ہوسکے گا۔ امریکہ اور بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تاریخی معاہدے کی صورت میں امریکہ اور اپنے ووٹروں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ افغان بحران انہوں نے حل کیا ہے اور امریکہ کو ایک بڑی جنگ سے باہر نکالا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی کوشش تھی کہ وہ اس معاہدے کی صورت میں یہ تاثر نہ ابھرنے دے کہ اسے کوئی شکست ہوئی ہے۔ وہ عملی طور پر ایسی صورتِ حال چاہتا ہے جس میں سب فریق اسے اپنی اپنی جیت کی صورت میں پیش کریں۔ امریکہ کی خواہش یہ بھی ہے کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے باوجود اس کا ایک اثر یہاں کی فیصلہ سازی میں عملاً کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔
جبکہ افغان طالبان اس معاہدے کو اپنی بڑی جیت اور امریکہ کی پسپائی سے جوڑنا چاہتے ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ تاثر نہ ابھرے کہ یہ معاہدہ ہماری کمزوری تھا۔ اسی طرح وہ امریکی فوجی انخلا کی صورت میں امریکہ سے چاہتے ہیں کہ وہ اصل طاقت، اقتدار اور اختیار کسی اورکو منتقل کرنے کے بجائے افغان طالبان کو منتقل کرے۔ جبکہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ اس معاہدے کی صورت میں اس کا اپنا کردار ختم نہ ہو، اور طالبان اُس کو ایک بڑے فریق کے طور پر تسلیم کریں، اور اگر امن کی طرف بڑھنا ہے تو افغان طالبان عملی طور پر افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ ماضی کی طرح یہاں سے انخلا کے بعد فوری طور پر نہ جائے اور اس کی موجودگی ہی یہاں کے مستقل امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔ امریکہ میں بھی یہ احساس موجود ہے کہ ہم ماضی کی غلطی نہ دہرائیں اور فوری طور پر افغانستان سے نکلنے کی پالیسی سے گریز کیا جائے۔
اس تاریخی معاہدے کی صورت میں امریکہ اور اتحادی فوجیوں کا انخلا، دونوں طرف سے قیدیوں کا تبادلہ،بین الافغان مکالمہ، طالبان کی جانب سے مستقبل میں امریکہ یا پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال نہ کرنے دینا، افغانستان اور طالبان پر لگی تمام پابندیوں کا خاتمہ بشمول ان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنا، طالبان کو تمام دہشت گردوں سے اپنے رابطے ختم کرنا سمیت بہت سے اہم نکات ہیں۔ اس معاہدے کو یقینی بنانے میں چین، روس اور قطر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس معاہدے میں شامل تمام نکات بتدریج آگے بڑھیں گے، اور اس کا انحصار تمام فریقوں کے باہمی کردار اور اعتماد کے ماحول سے جڑا ہوا ہوگا۔ کیونکہ اگر فریقین نے اس معاہدے کی پاسداری نہ کی اور اسے اپنی ذاتی اَنا اور ضد کی بھینٹ چڑھایا تو یقینی طور پر یہ معاہدہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ امریکہ اور افغان حکومت کے بقول اس معاہدے کی کامیابی افغان طالبان کے مثبت کردار سے جڑی ہوئی ہے۔ جبکہ افغان طالبان ہی نہیں، بلکہ خود افغان حکومت اور امریکہ کا اپنا کردار بھی اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی سے جڑا ہوگا۔
افغان حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس معاہدے کو اپنی سیاسی کمزوری سمجھتی ہے اور اسے اندازہ ہے کہ افغان طالبان اس کی سیاسی حیثیت اور کردار کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ موجودہ افغان حکومت کے حامی ہیں۔ اس لیے اگر افغان حکومت کو لگا کہ اس کا کردار محدود ہورہا ہے اور طالبان زیادہ بااختیار ہورہے ہیں تو وہ اس معاہدے کو ناکام بناسکتی ہے۔ لیکن طالبان کسی بھی صورت میں افغان حکومت کی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ خود افغان طالبان کی بڑی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ خود سے جڑے تمام فریقوں کو اس معاہدے کا حصہ بنائیں، کیونکہ اگر کسی نے اسے چیلنج کیا اور اپنی مزاحمت جاری رکھی تو مسائل پیدا ہوں گے۔ اگر اس معاہدے کو آگے بڑھنا ہے تو امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان بھی مسائل دیکھنے کو ملیں گے۔ اس کی ابتدائی شکل افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی جانب سے قیدیوں کی فوری رہائی کے امریکی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ اُن کے بقول قیدیوں کی رہائی کا نکتہ مذاکرات کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن فوری طور پر قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں ہوگی۔
بھارت اب تک اپنی خفیہ ایجنسی اور افغان خفیہ ایجنسی کی مدد سے افغانستان اور پاکستان کے داخلی استحکام کو متزلزل کرتا رہا ہے۔ اب اس تاریخی معاہدے کی صورت میں بھارت کس حد تک اس عمل میں مثبت کردار ادا کرے گا، یہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ لیکن اگر بھارت نے امریکی ایجنڈے کے برعکس اس افغان امن معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکہ بھی قبول نہیں کرے گا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو امریکہ اور روس جنگ کے تناظر میں پاکستان کا کردار زیادہ خوشگوار نہیں۔ کیونکہ ماضی میں امریکہ کی جانب سے افغان بحران میں پاکستان کو تنہا چھوڑنے کے نتائج نے افغانستان کو ایک گہری دلدل میں دھکیل دیا۔ پاکستان نے جس جامع انداز میں تمام فریقوں کو اس معاہدے پر راضی کیا وہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی بڑی کامیابی ہے، مگر خود پاکستان کے لیے بھی یہ بڑا چیلنج ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کے نظام کو کیسے شفاف اور باعمل بنایا جائے۔
افغان امن معاہدے نے ایک اہم موقع فراہم کردیا ہے، تمام فریقوں کو چاہیے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ اگر اس دفعہ یہ امن معاہدہ آگے نہ بڑھ سکا اور لڑائی یا تضاد میں الجھ گیا تو مستقبل کا افغانستان اور یہ خطہ مجموعی طور پر مزید دہشت گردی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ افغان حکومت کو بھی اب پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے اس معاہدے کی کامیابی کے لیے دو طرفہ تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوگا۔کیونکہ امریکہ سمیت سب نے جنگ کا نتیجہ دیکھ لیا، اورآخر میں انہیں مفاہمت کا راستہ ہی تلاش کرنا پڑا۔ اب بھی افغانستان کے بحران کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ ماضی میں جو لوگ افغان بحران اور طالبان کا حل فوجی طاقت میں دیکھنے کی کوشش کررہے تھے اُن کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اور بڑی طاقتوں کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ سیاسی راستے کی کڑوی گولی کو ہی ہضم کریں۔ اس وقت خطے اور دنیا کے استحکام کے لیے تمام ممالک کے پاس واحد راستہ افغان امن معاہدے کو کامیاب بنانا ہے۔