رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اصل مقابلہ سابق نائب صدر جوبائیڈن، سینیٹر برنی سینڈرز، پیٹ بیوڈیجج اور سینیٹر ایلزبتھ وارن کے درمیان ہے
۔3 فروری کی ٹھٹھرتی شام سے امریکہ میں موسمِ انتخاب کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ غیر رسمی مہم تو 20 جنوری 2017ء کو صدر ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے دن سے جاری ہے۔ امریکی صدر نے اپنے افتتاحی خطاب میں دوسری مدت کا انتخاب لڑنے کا عزم ظاہر کیا تو جناب برنی سینڈرز نے بھی اسی وقت سے لنگوٹ کس رکھے ہیں۔ فی الحال امتحانِ عشق کا پہلا مرحلہ ہے کہ لیلائے اقتدار سے وصل کے خواہش مند پارٹی ٹکٹ کے لیے باہم دست و گریباں ہیں۔ صدارتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے۔ اسی روز ایوانِ نمائندگان (قومی اسمبلی) کی تمام کی تمام 435 اور سیینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جبکہ 11 ریاستوں میں گورنروں کے لیے بھی معرکہ جمے گا۔
امریکہ میں انتخابات کا طریقہ کار خاصا پیچیدہ وگنجلک ہے۔ یہاں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے گہری جیب اور انتہائی مضبوط اعصاب کی ضرورت ہے۔ آج کی نشست میں ہم اسی پہلے مرحلے پر گفتگو کریں گے، جس کا آغاز 3 فروری کو ریاست آیووا سے ہوا ہے، اور یہ جاں گسل سلسلہ 9 جون تک جاری رہے گا، پھر کہیں جاکر اصل انتخابی مہم شروع ہوگی۔
امریکی انتخابات کا سب سے روشن اور قابلِ تقلید پہلو یہ ہے کہ یہاں پارٹی نامزدگی کا پروانہ نہ تو رائے ونڈ، بلاول ہائوس، بنی گالہ یا لندن سے جاری ہوتا ہے، اور نہ ہی ٹکٹ کے اجرا میں پارٹیوں کے پارلیمانی بورڈز کا کوئی کردار ہے۔ ٹکٹ کے لیے ہر ریاست میں عام انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ پارٹی کی رکنیت کے لیے مرکزی مجلسِ عاملہ یا قیادت کی منظوری کی ضرورت ہے اور نہ کوئی فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ ووٹر رجسٹریشن کے وقت رائے دہندہ سے پارٹی وابستگی کے بارے میں اس کی ترجیح معلوم کرلی جاتی ہے۔ اکثر ریاستوں میں تو اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں، اور پولنگ اسٹیشن کے دروازے پر ووٹر کے حسب خواہش متعلقہ پارٹی کا بیلٹ جاری کردیا جاتا ہے۔
تمام جماعتیں اپنے امیدوار کا انتخاب مرکزی اجتماع یا National Convention میں کرتی ہیں اور ریاستی انتخابات میں جنھیں پرائمری الیکشن کہا جاتا ہے، سالانہ اجتماع کے لیے مندوبین کا چنائو ہوتا ہے۔ ہر ریاست سے مندوبین کی نشستیں آبادی کے مطابق ہیں، یعنی سالانہ اجتماع میں چھوٹی ریاستوں سے کم اور بڑی ریاستوں سے زیادہ مندوبین شریک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آیووا (Iowa) سے جہاں گزشتہ پیر کو معرکہ جما، ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد صرف 41 ہے، جبکہ کیلی فورنیا سے415 مندوبین منتخب ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں امریکہ کے سیاسی ضمیر اور اجتماعی دیانت کا ذکر بہت ضروری ہے۔ یہ منتخب مندوبین سالانہ اجتماع میں اپنی مرضی سے ووٹ ڈال سکتے ہیں اور وہ قانونی طور پر اس بات کے پابند نہیں کہ ٹکٹ کے لیے ہونے والی رائے شماری میں اُسی امیدوار کو ووٹ دیں جس کی حمایت کا وعدہ کرکے وہ منتخب ہوئے ہیں، لیکن گزشتہ ڈھائی سو سال کے دوران ایک بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جب کسی مندوب نے اپنے ووٹ کا سودا کیا ہو۔ ہمارے یہاں ایسے مواقع پر جو مویشی منڈیاں سجتی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بیلٹ پر امیدواروں کا نام لکھا ہوتا ہے۔ ووٹ براہِ راست امیدوار کو ہی دیے جاتے ہیں، اور پرائمری انتخابات میں امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے ان کے مندوبین کو منتخب قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس مرحلے پر انتخابی اجتماع (Caucus) اور پرائمری انتخابات کا فرق؟ آیووا میں پرائمری انتخابات نہیں بلکہ ریاست میں جگہ جگہ اجتماعات (Caucuses)منعقد ہوئے۔ پرائمری انتخابات میں روایتی انداز میں ووٹنگ ہوتی ہے، یعنی لوگ مشین یا کاغذی بیلٹ پر مہر لگا کر اپنی رائے دیتے ہیں، جبکہ Caucus کی حیثیت اجتماعِ ارکان کی ہے جس میں ’بندوں کو گنا جاتا ہے‘۔ انتخاب کے روز حلقے کے ووٹر کسی ہال، جمنازیم، لائبریری، مسجد وگرجا یا کسی گھر میں جمع ہوتے ہیں۔ ہر امیدوار کے لیے الگ کمرہ یا جگہ مختص ہوتی ہے جہاں اس کے حمایتی بیٹھ جاتے ہیں۔ ووٹنگ سے کچھ پہلے گھنٹی بجائی جاتی ہے جو اس بات کا اعلان ہے کہ اب رائے شماری شروع ہونے کو ہے، اور لوگ آخری فیصلہ کرلیں۔ ووٹنگ کی گھنٹی بجنے کے بعد ہر امیدوار کے لیے مختص کمرے یا علاقے میں موجود ووٹروں کو گن لیا جاتا ہے۔ جس امیدوار کو 15 فیصد سے کم ووٹ ملیں اسے دوڑ سے فارغ کرکے تمام ووٹروں کو ایک بار پھر اپنے پسندیدہ امیدواروں کے علاقوں میں جمع ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے، جس کے بعد گنتی کرکے نتائج کا اعلان ہوتا ہے۔ کاکس کے دوران ووٹروں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ تمام امیدواروں سے الگ تھلگ رہیں، اور اگر یہ تعداد کُل ووٹروں کا 15 فیصد سے زائد ہوئی تو یہ لوگ آزاد مندوب منتخب کرسکتے ہیں جنھیں قومی کنونشن میں اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔
اس بار ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخابی اجتماع 13 تا 16 جولائی ریاست وسکانسن کے شہر مل واکی میں منعقد ہوگا جہاں 4750 مندوبین اپنے صدارتی امیدوار کا چنائو کریں گے۔ ضابطے کے تحت جیتنے کے لیے کم ازکم پچاس فیصد مندوبین کی حمایت ضروری ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن میں منتخب مندوبین کے علاوہ پارٹی کے ریاستی سربراہان، پارلیمان کے منتخب نمائندے، سابق صدور و نائب صدور بر بنائے عہدہ مندوب شمار ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو مندوبینِ اشرافیہ یاSuper Delegates کہا جاتا ہے۔ یہ سپر ڈیلیگیٹس امیدوار کے چنائو میں اپنی مرضی سے ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس سال ڈیموکریٹک پارٹی کے مندوبینِ اشرافیہ کی تعداد 771 ہے، جبکہ 3979 مندوبین ملک بھر سے منتخب ہوں گے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکن سپر ڈیلیگیٹس کے نظام کو پسند نہیں کرتے کہ یہ تعداد کُل مندوبین کے 19 فیصد سے زیادہ ہے۔ عام کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ کنونشن میں ٹکٹ کے لیے رائے شماری کے دوران سپر ڈیلیگیٹس عام طور سے اپنے منظورِ نظر امیدوار کو بلاک کی شکل میں ووٹ ڈال کر فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
ری پبلکن پارٹی نے اپنے کنونشن کے لیے ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلیٹ کا انتخاب کیا ہے جہاں 24 سے 27 اگست تک مجلس جمے گی۔ عام انتخابات کے لیے صدر ٹرمپ کے مقابلے پر کوئی دوسرا مضبوط امیدوار موجود نہیں، اس لیے صدارتی ٹکٹ کے لیے ری پبلکن پارٹی کے پرائمری انتخابات محض رسمی کارروائی ہے، اور امریکی صدر اس دوڑ میں اکیلے ہیں۔
آیووا کے بعد پہلا پرائمری معرکہ 11 فروری کو نیوہمپشائر میں ہوگا، جس کے نتائج اس مضمون کی اشاعت سے پہلے آپ کے سامنے ہوں گے۔ ایووا میں پیٹ بیوڈیجج (Pete Buttgieg) اور سینیٹر برنی سینڈرز کے درمیان مقابلہ تقریباً برابر رہا، اور دونوں امیدواروں نے بالترتیب 13 اورٍ12 مندوبین کے ساتھ اپنے کھاتے کھول لیے۔ سینیٹر ایلزبتھ کے حصے میں 8، اور سابق نائب صدر جو بائیڈن کو 6 مندوبین کی حمایت حاصل ہوگئی۔
ایک بڑا مقابلہ 3 مارچ کو برپا ہوگا جسے Super Tuesday کہا جاتا ہے۔ اُس روز کیلی فورنیا اور ٹیکساس سمیت 14 ریاستوں سے 1357 مندوبین کا فیصلہ ہوگا۔ خیال ہے کہ ’منگلِ اعظم‘ کے بعد صورتِ حال خاصی واضح ہوجائے گی۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے لیے اب بھی ایک درجن کے قریب امیدوار برسرپیکار ہیں، جن میں سابق نائب صدر جوبائیڈن اور سینیٹر برنی سینڈرز پہلے بھی قسمت آزمائی کرچکے ہیں۔ جوبائیڈن 1988ء اور اس کے بعد 2008ء میں صدارتی ٹکٹ کے خواہش مند تھے لیکن ناکام رہے، تاہم صدر بارک حسین اوباما نے 2008ء میں انھیں نائب صدر کا امیدوار نامزد کردیا اور موصوف 2016ء تک ملک کے نائب صدر رہے۔ برنی سینڈرز 2016ء کے انتخابات میں ہلیری کلنٹن سے شکست کھاگئے تھے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے دوسرے معروف امیدواروں میں ایک ابھرتا ستارہ پیٹ بیوڈیجج ہیں۔ 38 سالہ پیٹ ریاست انڈیانا (Indiana)کے ایک چھوٹے سے شہر سائوتھ بینڈ کے دو بار رئیسِ شہر رہ چکے ہیں۔ اس دوران انھوں نے سات ماہ افغانستان میں فوجی خدمات بھی انجام دیں۔ جناب پیٹ علی الاعلان ہم جنس پرست (Gay) ہیں اور 2018ء میں انھوں نے ایک مرد چیسٹن گلیزمین سے شادی کی جنھیں وہ اپنا شوہر کہتے ہیں۔ پیٹ بیوڈیجج جوبائیڈن کی طرح دائیں بازو کی طرف مائل ڈیموکریٹ ہیں۔ آزاد تجارت، کارپوریشنز کو ٹیکسوں میں چھوٹ کے علاوہ پیٹ اسرائیل کے پُرجوش حامی ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کی ایک اور خواہش مند ریاست میساچیوسٹس (Massachusetts)کی سینیٹر ایلزبتھ وارن ہیں۔ 70 سال کی ایلزبتھ پیشے کے اعتبار سے استانی ہیں۔ وہ 2012ء میں سینیٹر منتخب ہوئیں اور 2018ء کے انتخابات میں انھوں نے اپنی نشست برقرار رکھی۔ محترمہ وارن صاحبہ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نائب پارلیمانی قائد ہیں۔ صدر ٹرمپ ایلزبتھ وارن اور برنی سینڈرز پر سوشلسٹ کی پھبتی کس رہے ہیں کہ یہ دونوں محصولات کے نظام کو منصفانہ بناتے ہوئے بڑی کارپویشنوں کے لیے ٹیکس میں چھوٹ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مضبوط اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کے لیے آزاد و خودمختار ریاست ایلزبتھ وارن کے منشور کا حصہ ہے۔ ایلزبتھ تمام امریکیوں کے لیے صحت بیمہ، دوائوں کی قیمتوں میں کمی، اعلیٰ تعلیم کے لیے سود سے پاک قرضے، اور تارکینِ وطن سے باعزت سلوک کی حامی ہیں، اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ برسراقتدار آتے ہی وہ امیگریشن کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے تمام حکم ناموں کو بیک جنبش قلم منسوخ کردیں گی جو اُن کے خیال میں تعصب، سفید فام احساسِ برتری اور مسلم مخالف جذبات کے آئینہ دار ہیں۔ زیادہ تر نظریاتی و معاشی امور پر برنی سینڈرز اور ایلزبتھ کے طرزِ فکر میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں افغانستان سے فوری اور غیر مشروط فوجی انخلا کے حامی ہیں۔
عقیدے کے اعتبار سے یہودی برنی سینڈرز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلمانو ں کو ساتھ لے کر چلنے کے حامی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان پر امریکی حملوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ سینیٹر سینڈرز آلودگی کے خاتمے اور ماحول کی حفاظت کے لیے انتہائی پُرجوش ہیں اور سمندر میں تیل کی تلاش کے منصوبوں کی کڑی نگرانی اُن کے منشور کا حصہ ہے۔ سلیٹی چٹانوں(Shale) اور ٹھوس و غیر نفوذ پذیر ریت (Tight Sand) سے تیل و گیس کشید کرنے کے لیے چٹانوں کو پھاڑنے کی حکمت عملی پر سینیٹر سینڈرز کو شدید تحفظات ہیں۔ اس طریقہ کار کو Fracturing (عام تلفظ فریکنگ) کہتے ہیں جس میں شدید دبائو کے ذریعے چٹانوں میں شگاف ڈال کر تیل و گیس کے بہائو کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پمپوں کے ذریعے ڈالے جانے والے دبائو سے سطح زمین سے متصل چٹانیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں اور فریکنگ کے دوران استعمال ہونے والا کیمیکل زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کو آلودہ کررہا ہے جس سے صحتِ عامہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں آلودگی کا خوف غیر ضروری ہے کہ فریکنگ کے دوران جو کیمیکل سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے وہ گوار سے تیار ہوتا ہے، اور گوار کی پھلی برصغیر کی ایک مقبول سبزی ہے۔ برنی سینڈرز نے سرکاری جامعات میں مفت تعلیم کا وعدہ بھی کیا ہے۔
نیویارک کے سابق رئیسِ شہر مائک بلوم برگ بھی قسمت آزمائی کررہے ہیں جو محتاط اندازے کے مطابق ایک ارب ڈالر اپنی انتخابی مہم پر پھونک چکے ہیں۔ لیکن ان کی کارکردگی مایوس کن ہے جس کی وجہ سے امیدواروں کے درمیان مباحثوں میں انھیں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ آیووا کاکس میں وہ 100 ووٹ بھی حاصل نہ کرسکے۔
ریاست مینی سوٹا (Minnesota) کی سینیٹر ایمی کلوبچر، چینی (تائیوان) نژاد تاجر اینڈریو یانگ، ریاست ہوائی سے رکن کانگریس ہندوستانی نژادڈیموکریٹک پارٹی ٹکٹ کی دوڑ میں تلسی گیبرڈ، ارب پتی ٹام اسٹیئر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اصل مقابلہ سابق نائب صدر جوبائیڈن، سینیٹر برنی سینڈرز، پیٹ بیوڈیجج اور سینیٹر ایلزبتھ وارن کے درمیان ہے۔ اسی بنا پر ہم نے اپنے مضموں میں ان چاروں کا ذکر نسبتاً تفصیل سے کیا ہے، تاہم ان جائزوں کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کرنا قبل ازوقت ہے کہ ابھی 50 میں سے صرف ایک ریاست میں رائے شماری ہوئی ہے، یا یوں کہیے کہ 3979 میں سے صرف 41 مندوبین کا فیصلہ ہوا ہے، اور دِلّی یعنی ہنوز (بہت) دور است۔ انتخابات کی مزید تفصیل ہم وقتاً فوقتاً آ پکی خدمت میں پیش کرتے رہیں گے۔
…………
اب آپ مسعود ابدالی کی تحریر و مضامین اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.com اور ٹویٹر masood@MasoodAbdali پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ تفصیل کے لیے www.masoodabdali.com پر تشریف لائیں۔