ایف بی آر لٹیروں کا محافظ ہے

فیڈریشن آف ریئلٹرز پاکستان کے مرکزی کوآرڈی نیٹر اسرار الحق مشوانی کا انٹرویو

فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان ملک بھر کے رئیلٹرز کی ایک پہچان اور ملک گیر سطح کا متفقہ پلیٹ فارم ہے، اور اس میں کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد، کوئٹہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد… غرض ملک بھر میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ایسو سی ایشنز شامل ہیں۔ سردار طاہر محمود اس فیڈریشن کے صدر ہیں جو رئیل اسٹیٹ بزنس برادری کے لیے قابلِ احترام نام ہے۔ اس فیڈریشن کے کو آرڈی نیٹر اسرار الحق مشوانی سے اسی حوالے سے انٹرویو کیا گیا ہے جو نذرِ قارئین ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: تحریک انصاف کی حکومت ڈیڑھ سال سے اقتدار میں ہے، ملک میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں، حکومت ملک میں معاشی اشاریے بہتر ہونے کا دعویٰ کررہی ہے۔ آپ فرمائیے کہ ملک کی معیشت کا اصل منظرنامہ کیا ہے؟
اسرارالحق مشوانی: قومی معیشت کے لیے چاہے وہ کسی بھی ملک کی ہو، معیار ایک ہی ہے کہ ملک کا تجارتی توازن کیا ہے۔ ہمارے ملک میں چار بنیادی باتیں ہیں کہ اپنی ضروریات کے لیے تیل اور گیس بھی بیرونِ ملک سے منگوانا پڑتے ہیں۔ ہم زرعی ملک ہیں اور ہماری زرعی اجناس بھی ویلیو ایڈڈ صلاحیت سے محروم ہیں۔ جب تک ہمیں درآمدی بل میں کمی کا ماحول نہیں ملے گا ملکی معیشت دبائو میں رہے گی، ملک میں ترقی کی شرح بھی اسی تناسب سے رہے گی۔ جس ملک کی تجارت کا توازن اس کے حق میں ہو وہ معاشی لحاظ سے مضبوط رہتا ہے۔ بس یہی معیار ہے کسی بھی ملک کی معیشت ناپنے کے لیے۔ ہمیں توانائی کے بحران پر قابو پانا ہوگا اور غیر ملکی قرضے کم کرنا ہوں گے تب کہیں ہمیں بہتر معیشت ملے گی۔ کوئی بھی ملک ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتا، البتہ یہ ضرور ہے کہ اس نظام میں شفافیت ہونی چاہیے۔ ہماری حکومتوں کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، اور ان اخراجات کی وجہ سے حکومتیں تعلیم، صحت، دفاع اور سماجی شعبوں، فلاحی منصوبوں میں کام نہیں کرسکتیں۔ جب یہ نہیں ہوتا تو پھر عام آدمی کو سہولتیں بھی نہیں ملتیں۔ لہٰذا وہ سمجھتا ہے کہ ٹیکس ایک بوجھ ہے۔ ٹیکس کے لیے فی کس آمدنی اور اخراجات کا ایک معقول اور قابل اعتماد ڈیٹا حکومت کے پاس ہونا چاہیے، اس کے بعد وہ منظم طریقے سے ٹیکس نافذ کرے جس میں شفافیت بھی ہو اور انصاف بھی۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا عام صارف کی قوتِ خرید بھی ملکی معیشت کی تصویرکشی کرتی ہے؟
اسرارالحق مشوانی: جی ہاں، یہ بنیادی بات ہے۔ اس وقت تو مہنگائی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، ہر طرف چیخ و پکار ہورہی ہے، گراں فروشی روکنے کے لیے وزیراعظم کی ہدایات نظرانداز ہورہی ہیں، انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخ بری طرح پٹ گئے ہیں۔ چھاپوں، سزائوں اور جرمانوں کے باوجود آٹے، دال، گوشت، سبزیوں اور پھلوں وغیرہ کے من مانے نرخ وصول کیے جارہے ہیں۔ حکمران بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ گرانی نے لوگوں کا جینا حرام کررکھا ہے، اعتراف کیا جاتا ہے کہ عوام مہنگائی سے بہت پریشان ہیں۔ مہنگائی دراصل ملک کی مجموعی معاشی صورتِ حال میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ ضروری اشیاء کی قلت کی وجہ سے مہنگائی میں ہر سال جو اضافہ ہوجاتا ہے اسے بھی کنٹرول کیا جارہا ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے معیشت میں بہتری آئے گی جس سے گرانی جیسے مسائل بھی حل کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان میں پچھلے 4برسوں کی نسبت افراطِ زر میں دگنا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بھی قابو سے باہر ہوگئی ہے۔ اس سے ہر آدمی کا بجٹ براہِ راست متاثر ہوا ہے۔ کاروباری حضرات نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا ہے۔ اِن سب عوامل کے پیشِ نظر اصل مہنگائی تو رہی ایک طرف، دکانداروں کی جانب سے مرضی کے نرخوں پر سبزیوں کی فروخت جاری ہے۔ سبزی کی دکانوں سے سرکاری نرخ نامے بھی غائب ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: حکومت کا مؤقف ہے کہ ماضی کی کرپشن اور غلط فیصلوں کی وجہ سے ان حالات نے جنم لیا؟
اسرارالحق مشوانی: ماضی اور آج کی حکومت کی ناقص پالیسیوں سے یہ حالات بنے ہیں۔ اس میں دونوں کا حصہ ہے۔سبزی منڈیوں میں موجود مخصوص مافیا عوامی استعمال کی زرعی اجناس کی قیمتوں کے اتار چڑھائو میں ملوث ہوتا ہے، اسٹاک مارکیٹوں کے بڑے بروکرز کی طرح سبزی منڈیوں کا ریموٹ کنٹرول بھی چند بڑے آڑھتیوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے، جو قیمتوں سے چھیڑ چھاڑ میں مصروف رہتے ہیں، اور اس سارے عمل میں زرعی مصنوعات کا ڈیٹا مرتب کرنے والے ادارے، محکمہ زراعت اور مارکیٹ کمیٹیوں کے اہلکار آڑھتیوں کا ساتھ دیتے ہیں، اور رہی سہی کسر سبزی فروش من مانی قیمتیں لگا کر پوری کرلیتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ سبزیوں کی گراں فروشی روکنے کے لیے محض دِکھاوے کی کسی کارروائی کے بجائے متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کا پابند بنایا جائے۔
فرائیڈے اسپیشل: ابھی ایک فیصلہ ہوا ہے کہ بینک اور ایف بی آر مل کر کام کریں گے، اور بینک ایف بی آر کو صارفین کی رقوم کا ڈیٹا دیں گے۔ اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
اسرارالحق مشوانی: جی، ہم نے سنا ہے، پڑھا ہے۔ اگر بینکوں نے اپنے کھاتے داروں کی معلومات ٹیکس حکام کو دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے، ایف بی آر کے ساتھ بینکوں کا معاہدہ ہوگیا ہے جس کے تحت یومیہ پچاس ہزار یا ماہانہ دس لاکھ روپے نکلوانے،ہر ماہ ایک کروڑ روپیہ جمع کرانے اور ماہانہ ڈھائی لاکھ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کرنے اور پانچ لاکھ سالانہ منافع کمانے والوں کی تفصیلات دی جائیں گی۔ اس نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ کمرشل بینک تو ایک ایسا جال ہیں کہ کھاتے دار اپنی رقم ان کے حوالے کرنے کے بعد ان کے غلام بن جاتے ہیں، یہ بینک جب چاہیں رقم ضبط کرلیں، جب چاہیں رقم نکلوانے پر پابندی لگادیں۔ کھاتے دار کی رقم سے اربوں روپے کمانے والے بینک کھاتے دار کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتے، لیکن چونکہ بینک اور پاکستان کا معاشی نظام سب سودی بنیادوں پر قائم ہے، اور ایف بی آر جن لوگوں کے پاس ہے وہ اس نظام کے محافظ ہیں، لہٰذا بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔کاروباری طبقے کو کچلنے کے لیے اسی طرح ڈرامے کیے جاتے ہیں۔ پہلے خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے مقابلے کا اعلان کیا جاتا ہے، عدالتوں میں مقدمے بازی ہوتی ہے، پھر پہلے سے طے شدہ فیصلہ کرکے اسے مفاہمت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایف بی آر اور بینکوں کے معاملے میں بھی یہی ہوا، اور ایف بی آر اور تاجروں کی تنظیموں کے درمیان بھی یہی کچھ ہونے جارہا ہے۔ اب بینک ایف بی آر کے خلاف اپنی پٹیشنز واپس لے لیںگے کیونکہ یہ معاملہ طے پاگیا ہے کہ اب کسی کی پرائیویسی برقرار نہیں رہے گی۔ جو رقوم متعین کی گئی ہیں وہ تو چھوٹے بڑے ہر تاجر کو ہلاکر رکھ دینے کے لیے کافی ہوں گی۔ اگر کوئی یومیہ پچاس ہزار روپے بینک سے نکلوا رہا ہے تو اس کی کُل رقم ماہانہ بارہ تیرہ لاکھ کے لگ بھگ ہوگی، اس کو ماہانہ دس لاکھ نکلوانے کے ذریعے بھی دائرہ اختیار میں لے لیاگیا ہے۔ بارہ تیرہ لاکھ نکلوانے والا اگر کوئی کاروبار کرتا ہے اور منافع حاصل کرتا ہے تو رقم بینک میں بھی جمع کرانا ہوگی۔ بات یہ دیکھنے کی ہے کہ اس نے ٹیکس دیتے وقت کیا ظاہر کیا ہے۔ بینکوں اور ٹیکس حکام کے اس فیصلے سے دو نمبر معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ اب لوگ چور بازاری کریں گے۔ جب پورا معاشی نظام جھوٹ پر چل رہا ہے تو درمیان میں کھاتے داروں کی معلومات حاصل کرکے کون سا سیدھا کام کیا جائے گا! یہ معلومات ہرگز محفوظ نہیں رہیںگی۔ جو لوگ ایک کروڑ روپیہ جمع کراتے ہیں وہ بھی یقیناً کاروبار کرتے ہوں گے، جب کاروبار کرنے والوں کو خوف زدہ کیا جاتا ہے تو اس کا اثر کاروبار اور ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ یہ کاروباری طبقہ اگر دس بیس کروڑ روپے کو حرکت نہ دے تو ملکی معیشت کو نقصان ہوگا۔ جب تاجر خوف زدہ ہوتا ہے تو محتاط ہوجاتا ہے، وہ یہ رقم حرکت میں نہیں لاتا تو ملک میں معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہونے لگتی ہیں۔ یہ شق بھی عجیب ہے کہ سالانہ5 لاکھ منافع کمانے والوں کی تفصیلات بھی ایف بی آر کو دی جائیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں، بڑے ہوٹل، ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیاں، یہ سب تو ماہانہ اربوں روپے اپنے اکائونٹ میں جمع کراتے ہیں، لیکن ان سے کتنا ٹیکس لیا جاتا ہے اور انہیں عوام کو لوٹنے کی کتنی چھوٹ ملی ہوئی ہے اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں۔ بڑے سرمایہ دار اپنا سرمایہ روک کر بیٹھ جائیں گے۔ جائدادوںکی خریدو فروخت میں رکاوٹ پیدا ہو گی اور اتنی سختی کی وجہ سے لوگ بینکوں میں رقم رکھنے سے کترانے لگیں گے۔ ایسے الٹے سیدھے اقدامات سے معیشت کا بیڑا غرق ہوگا اور ملک کو کچھ نہیں ملے گا۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ رئیل اسٹیٹ بزنس سے وابستہ ہیں، اس شعبے کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے؟
اسرارالحق مشوانی: حکومت سے ہمارا یہی مطالبہ رہا کہ بجٹ تیار کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ بزنس کے مسائل کے حل کی راہ تلاش کرے۔ رئیل اسٹیٹ کے بزنس سے وابستہ افراد کے بزنس مفادات کو تحفظ فراہم ہونا چاہیے۔ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ملکی معیشت کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس شعبے پر ٹیکسوں کی بھرمار کرنے کے بجائے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے اس شعبے کی سرپرستی کرے۔ یہ نجی شعبہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنا ہوا ہے، اس لیے اس شعبے پر جی ایس ٹی جیسا ٹیکس نافذ کرنے کے بجائے ریلیف دیا جائے۔ رئیل اسٹیٹ سے وابستہ لوگ بھی معاشی صورت حال کے بارے میں متفکر ہیں۔