اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ

Akhbar Nama اخبار نامہ
Akhbar Nama اخبار نامہ

قیامِ پاکستان اور قیامِ اسرائیل کے تقریباً 70 سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی کسی حکومت نے بلاخوفِ تردید بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور پاکستان پر مشترکہ حملہ کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔ قومی ریاستوں کے فتنے اور امتِ مسلمہ کو اس کے ذریعے تقسیم کرنے کے عمل کے بعد مسلمان ریاستوں نے اگر کبھی اسرائیل کے خلاف موقف اپنایا بھی تو اسے قومیت کے تناظر میں ہی اپنایا۔ یعنی اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے جس نے وہاں پر صدیوں سے آباد عربوں اور فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کردیا ہے۔ ایک طویل مدت تک اسے استعمار کی جنگ قرار دیا جاتا رہا اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو ایک قومی تحریک کا نام دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 28 مئی 1964ء کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO)کا قیام عمل میں آیا تو اسے فلسطینی عربوں کی قومی تحریکِ آزادی کے طور پر منظم کیا گیا۔ ایسی تنظیم جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل تھے۔ خصوصاً یروشلم کے عیسائی تو اس کا اہم ترین حصہ تھے۔ اسرائیل کے ساتھ1948ء سے لے کر اب تک ہونے والی جنگوں کو بھی عرب اسرائیل جنگ کا نام دیا گیا اور اسے قومیت کے تعصب سے باہر نہ نکلنے دیا گیا۔ سوویت یونین کے خاتمے تک دنیا بھر کے سیاسی مبصرین اسے خطے میں امریکی اور روسی مفادات کی جنگ قرار دیتے رہے۔ یہ مسلم امہ کی یک جہتی اور تصورِ جہاد کے مقابلے میں اسرائیل اور عالمی طاقتوں کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ ان کے تصورِ قومیت و وطن پرستی کو اُس زمانے کے مغرب زدہ علماء سے لے کر آج کے علماء و دانشوروں نے نئی دینی توجیہات تراش کر اور قومی ریاستوں کو نئے خودساختہ اجتہادی معانی پہناکر مسلمانوں کو تقسیم کیا۔ قومی ریاستوں کے یہ قصیدہ خواں ایک اصطلاح تراشے ہیں جسے ”نظمِ اجتماعی“ کہتے ہیں۔ اس ”نظمِ اجتماعی“ کا کمال یہ ہے کہ اس کے تحت شرعی حدود ایک سرحد سے شروع ہوکر دوسری سرحد پر ہی ختم ہوجاتی ہیں، وہ لکیریں جو پہلی جنگِ عظیم کے بعد عالمی طاقتوں نے کھینچ کر مسلمان امت کو 57 ممالک میں تقسیم کیا تھا، اسی تقسیم کے تصور کے تحت طورخم کے ایک طرف کھڑا شخص روزہ رکھتا ہے اور دوسری جانب رہنے والا عید منا رہا ہوتا ہے۔ قوم پرستی میں ڈوبے ہوئے یہ مفکرین، سیاست دان، یہاں تک کہ فلسطین کی آزادی کی تحریک پی ایل او کے جنگجو تک اس بات کا ادراک نہیں رکھتے تھے کہ ان کا مقابلہ اسرائیل سے ہے جو ہرگز ایک قومی ریاست نہیں ہے، اور نہ ہی وہ اپنے آپ کو ایک قومی ریاست کے طور پر شناخت دیتے ہیں، کیونکہ جدید تصورِ قومیت کے تحت ایک مخصوص علاقے میں رہنے والے لوگ خواہ کسی بھی نسل، رنگ، زبان اور عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں وہ ایک قوم ہیں۔ جبکہ اسرائیل کا قیام ہی اس تصورِ قومیت کی نفی ہے۔ 1917ء میں جنگِ عظیم اول کے دوران 2 نومبر کو ہونے والے بالفور ڈیکلیریشن میں واضح کردیا گیا تھا کہ تاجِ برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک وطن کے قیام کی کوشش کرے گا۔ اور یہ اصول بھی طے پایا کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والا کوئی بھی یہودی، خواہ کوئی بھی زبان بولتا ہو، کسی بھی نسل یا رنگ سے تعلق رکھتا ہوں، ایک قوم تصور ہوگا اور اس کو فلسطین کی سرزمین پر آباد ہونے کا حق حاصل ہوگا۔ یہودیوں کے اس عالمی تصورِ قومیت کی بنیاد پر قائم ہونے والے اسرائیل کے مقابلے میں مسلم امہ کے بجائے عرب یا فلسطینی قومیت کے تصور کو اجاگر کیا گیا، اور یہی وجہ ہے کہ ستر سال سے ذلت آمیز شکست ان کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ یہودیوں کا اس سرزمین پر دعویٰ اور اس سرزمین پر آباد ہونا اُن کی مذہبی اساس ہے۔ یہودی اسرائیل بننے سے چند سال پہلے پوری دنیا کے ممالک میں انتہائی امن و سکون سے آباد ہوچکے تھے، بلکہ وہ ان تمام ممالک کی سیاست، معیشت اور حکومت پر چھائے ہوئے تھے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ان کے بدترین دشمن ہٹلر اور نازیوں کو ذلت آمیز شکست ہوچکی تھی اور یہودیوں، ہولوکاسٹ اور صہیونیت کے خلاف آواز بلند کرنا ایک قابلِ تعزیر جرم بن چکا تھا۔ اس کے باوجود یہودی امریکہ اور یورپ کی آسائشیں چھوڑ کر ایک ایسی جگہ پر آباد ہوئے ہیں جو بے آب و گیاہ اور ویران تھی۔ حیفہ، جافہ، بیرشیا اور تل ابیب، یہ وہ علاقے تھے جو 14 مئی 1948ء کو یہودی ریاست اسرائیل کہلائے۔ اس اسرائیل میں یہودیوں کا کوئی مقدس مقام جیسے یروشلم یا دشتِ سینا شامل نہیں تھا۔ یعنی وہ کسی مقدس علاقے میں آباد ہونے کے نعرے پر وہاں نہیں پہنچے تھے، بلکہ وہ اپنے اس ایمان اور یقین کی بنیاد پر وہاں گئے تھے کہ اس خطے میں ان کا مسیحا آئے گا جو حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے ہوگا اور وہ اس پورے خطے سے ایک عالمی حکومت قائم کرے گا۔ یہودیوں کی مقدس کتابوں لیسعیاہ (Isaiah)، ایزاکیل (Ezakiel)، جرمیاہ (Jeremiah) اور دیگر میں اس وعدے کا بار بار ذکر ملتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے یروشلم اور سینا کے پڑوس میں ایک بے آباد خطہ حاصل کیا اور دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک سے امیر ترین یہودی اپنا گھر بار، کاروبار اور وطن چھوڑ کر ایک مذہبی پیش گوئی پر ایمان رکھتے ہوئے یہاں آباد ہوئے، اور پھر انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے مقابل قوم پرستی کے تعصب میں بکھرے ہوئے مسلمانوں کو شکست دے کر یروشلم کو بھی اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔ وہ شہر جہاں سے ان کے عقیدے کے مطابق مسیحا کو آکر تخت ِداؤدی سے عالمی حکومت قائم کرنا ہے۔ گزشتہ ستر سال سے یہ یہودی اسی مقصد کے لیے وہاں جمع ہیں، اور ان کے اس مقصد کے حصول کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ امتِ مسلمہ ہے۔ جب تک وہ اسے شکست دے کر تباہ و برباد نہیں کرتے، ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ان کے اس مقصد کے حصول کا پہلا راستہ امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے قومی ریاستوں کا قیام تھا جس کو مسلمانوں کے نام نہاد مجددین نے اپنے تصور ”نظمِ اجتماعی“کے ذریعے مزید مستحکم کردیا اور قوم پرستی کو شرعی جواز فراہم کردیا۔ آج وہ اس میں کامیاب ہیں۔ جس امت کو 1924ء میں تقسیم کیا گیا تھا، آج اسرائیل کے اردگرد قائم تمام مسلم ممالک کھنڈر بنادئیے گئے ہیں۔ خوفزدہ حکمران اور سول وار میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے عوام ہیں جو اسرائیل کے آنے والے مسیحا کی اس عالمی حکومت کے لیے اب کوئی خطرہ نہیں رہے۔ امریکہ اور یورپ کی غلامی میں لتھڑے ہوئے مسلمان حکمران اور محدود قوم پرستی میں ڈوبے ہوئے مسلمان ممالک میں صرف ایک ہی ملک ایسا ہے جو وطنیت کے اس تصور کی نفی کرتا ہے، اور وہ ہے پاکستان۔ جس کی بنیاد بھی عین اسرائیل کی طرح رکھی گئی تھی، ایک نظریے پر کہ بنارس، کلکتہ یا حیدرآباد دکن کا رہنے والا اگر مسلمان ہے تو پھر وہ پاکستان کا شہری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل پہلے دن سے پاکستان کا دشمن ہے اور قائداعظم نے بھی اپنی بصیرت کی وجہ سے اسرائیل کو یورپ کی ناجائز اولاد کہا تھا۔ 1967ء میں یروشلم کی فتح کے بعد جب پیرس میں اس کا جشن منایا گیا تو اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان ہمارا اصل دشمن ہے کیونکہ وہ ہمارا “ideological equal” یعنی ”نظریاتی مخالف“ ہے۔
(اوریا مقبول جان۔ 92نیوز، بدھ 6 مارچ 2019ء)