نبی ﷺ کا ادب و احترام

رشد و ہدایت
رشد و ہدایت

ترجمہ: ’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو۔ اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ (الحجرات2:49)
یہ وہ ادب ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھنے والوں اور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہونے والوں کو سکھایا گیا تھا۔ اس کا منشا یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقات اور بات چیت میں اہلِ ایمان آپؐ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں۔ کسی شخص کی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے لوگ یہ بھول نہ جائیں کہ وہ کسی عام آدمی یا اپنے برابر والے سے نہیں بلکہ اللہ کے رسول سے مخاطب ہیں۔ اس لیے عام آدمیوں کے ساتھ گفتگو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو میں نمایاں فرق ہونا چاہیے اور کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونچی آواز میں کلام نہ کرنا چاہیے۔
مجلسی آداب کی وسعت:یہ ادب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے لیے سکھایا گیا تھا اور اس کے مخاطب وہ لوگ تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے، مگر بعد کے لوگوں کو بھی ایسے تمام مواقع پر یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہورہا ہو، آپؐ کا کوئی حکم سنایا جائے‘ یا آپؐ کی احادیث بیان کی جائیں۔ اس کے علاوہ اس آیت سے یہ ایما بھی نکلتا ہے کہ لوگوں کو اپنے سے بزرگ تر اشخاص کے ساتھ گفتگو میں کیا طرزِعمل اختیار کرنا چاہیے۔ کسی شخص کا اپنے بزرگوں کے سامنے اس طرح بولنا جس طرح وہ اپنے دوستوں یا عام آدمیوں کے سامنے بولتا ہے، دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں ان کے لیے کوئی احترام موجود نہیں ہے اور وہ ان میں اور عام آدمیوں میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام، خدا کا احترام ہے:اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں ذاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا کیا پیغام ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص، خواہ بجائے خود کتنا ہی قابلِ احترام ہو، بہرحال یہ حیثیت نہیں رکھتا کہ اس کے ساتھ بے ادبی خدا کے ہاں اس سزا کی مستحق ہو جو حقیقت میں کفر کی سزا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ ایک بدتمیزی ہے، خلافِ تہذیب حرکت ہے۔ مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں ذرا سی کمی بھی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے آدمی کی عمر بھر کی کمائی غارت ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام دراصل اس خدا کا احترام ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں کمی کے معنی خدا کے احترام میں کمی کے ہیں۔(تفہیم القرآن، پنجم، ص 71۔72۔ الحجرات، حواشی 3۔4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کرنے والے لوگ :ترجمہ:’’جو لوگ رسولِ خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجرِعظیم ہے۔‘‘ (الحجرات 3:49)
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورے اترے ہیں اور ان آزمائشوں سے گزر کر جنہوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے دلوں میں فی الواقع تقویٰ موجود ہے وہی لوگ اللہ کے رسول کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس ارشاد سے خودبخود یہ بات نکلتی ہے کہ جو دل رسول کے احترام سے خالی ہے وہ درحقیقت تقویٰ سے خالی ہے، اور رسول کے مقابلے میں کسی کی آواز کا بلند ہونا محض ایک ظاہری بدتہذیبی نہیں ہے، بلکہ باطن میں تقویٰ نہ ہونے کی علامت ہے۔(تفہیم القرآن،پنجم۔ ص 72، الحجرات، حاشیہ 5)
ناشائستہ لوگوں کو آدابِ ملاقات کی تعلیم :ترجمہ:’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انھی کے لیے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔‘‘ (الحجرات5-4:49)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں جن لوگوں نے آپؐ کی صحبت میں رہ کر اسلامی آداب و تہذیب کی تربیت پائی تھی وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقات کا ہمیشہ لحاظ رکھتے تھے۔ ان کو پورا احساس تھا کہ آپؐ اللہ کے کام میں کس قدر مصروف زندگی بسر فرماتے ہیں، اور ان تھکا دینے والی مصروفیتوں کے دوران میں لازماً کچھ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے لیے اور کچھ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہم مشغولیتوں کے لیے اور کچھ وقت اپنی خانگی زندگی کے معاملات کی طرف توجہ کرنے کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے اسی وقت حاضر ہوتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف فرما ہوں، اور اگر کبھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجلس میں موجود نہ پاتے تو بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برآمد ہونے کا انتظار کرتے تھے، اور کسی شدید ضرورت کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر تشریف لانے کی زحمت نہ دیتے تھے۔ لیکن عرب کے اس ماحول میں جہاں عام طور پر لوگوں کو کسی شائستگی کی تربیت نہ ملی تھی، بارہا ایسے ان گھڑ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے آجاتے تھے جن کا تصور یہ تھا کہ دعوتِ الی اللہ اور اصلاحِ خلق کا کام کرنے والے کو کسی وقت بھی آرام لینے کا حق نہیں ہے۔ اور انہیں حق ہے کہ رات دن میں جب چاہیں اس کے پاس آدھمکیں اور اس کا فرض ہے کہ جب بھی وہ آجائیں وہ ان سے ملنے کے لیے مستعد رہے۔ اس قماش کے لوگوں میں عموماً اور اطرافِ عرب سے آنے والوں میں خصوصاً بعض ایسے ناشائستہ لوگ بھی ہوتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے آتے تو کسی خادم سے اندر اطلاع کرانے کی زحمت بھی نہ اٹھاتے تھے بلکہ ازواجِ مطہرات کے حجروں کا چکر کاٹ کر باہر ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتے پھرتے تھے۔ اس طرح کے متعدد واقعات احادیث میں صحابۂ کرام نے روایت کیے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی ان حرکات سے سخت تکلیف ہوتی تھی مگر اپنے طبعی حلم کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے برداشت کیے جارہے تھے۔ آخرکار اللہ نے اس معاملے میں مداخلت فرمائی اور اس ناشائستہ طرزِِعمل پر ملامت کرتے ہوئے لوگوں کو یہ ہدایت دی کہ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں اور آپؐ کو موجود نہ پائیں تو پکار پکار کر آپؐ کو بلانے کے بجائے صبر کے ساتھ بیٹھ کر اُس وقت کا انتظار کریں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان سے ملاقات کے لیے باہر تشریف لائیں۔
(تفہیم القرآن، پنجم۔ ص 72۔73۔ الحجرات، حاشیہ 2)