امریکہ، روس اور اس کے اتحادیوں نے ملوکیت و آمریت کے خلاف عوامی جدوجہد کو خانہ جنگی میں تبدیل کردیا

دورِ جدید کے انسانی مذبح یعنی شام میں 6 سال سے جاری خون کی بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ گزشتہ ہفتے ادلب کے قصبے خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر دنیا کا ضمیر انگڑائی لیتا نظر آیا، لیکن خون تھوکتے بچوں کی چیخوں پر مفادات و خودغرضی کی افیم غالب آگئی۔ صدر ٹرمپ نے بہت ہی طمطراق سے اس ہوائی اڈے پر ہلاکت خیز میزائل داغے تھے جن سے اڑنے والے جہازوں نے ان مہ پاروں کو خاک چاٹنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن ان پھلجھڑیوں سے دشمن کا کچھ بھی نہ بگڑا، اور 1000 پاؤنڈ بموں سے لیس 59 ٹاماہاک میزائلوں کا حملہ سہنے والے ہوائی اڈے سے دوسرے ہی دن مزید طیارے خان شیخون کی طرف روانہ ہوئے اور کیمیائی بموں سے بچ جانے والے سخت جان، بیرل بموں سے فنا کردیئے گئے۔
شام کی عوامی تحریک دراصل ملوکیت و آمریت کے خلاف عرب نوجوانوں کا منظم احتجاج ہے جس کا آغاز دسمبر 2010ء میں تیونس سے ہوا۔ جس کے بعد مصر، یمن، بحرین، الجزائر، کویت، اردن اور مراکش کے عوام اللہ، وطن اور آزادی کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔ سیاسیات کے علما نے بیداری کی اس لہر کو ربیع العربی یا عرب اسپرنگ (Arab Spring) کا نام دیا تھا۔ اس دوران شام میں بھی مظاہروں کی بازگشت سنائی دی، مگر خفیہ پولیس کی مؤثر پیش بندیوں کی بنا پر کوئی عوامی سرگرمی سامنے نہ آئی۔ 15 مارچ 2011ء کو اردن سے ملحقہ شہر درعا کے ہائی اسکول کی دیوار پر اللہ، السوریہ (شام) اور آزادی کا نعرہ لکھا پایا گیا۔ اور اس کے بعد شہر کے سارے اسکولوں میں یہ نعرہ نوشتۂ دیوار بن گیا۔ یہ ایک ناقابلِ معافی جسارت تھی، چنانچہ خفیہ پولیس حرکت میں آئی اور دو سو بچیوں سمیت پانچ سو طلبہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان طلبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، معصوم بچیوں کی بے حرمتی کی گئی، اور پچاس بچوں کی اُن انگلیوں کو کاٹ دیا گیا جن سے انھوں نے نعرے لکھے تھے۔ ایک 16 سالہ طالب علم حمزہ الخطیب کے جسم کا ایک ایک عضو کاٹ کر گوشت کے ان لوتھڑوں کو اس کے والدین کے پاس بھجوا دیاگیا۔ بہیمانہ تشدد کے دوران اس بچے کی چیخیں ریکارڈ کی گئیں اور آڈیو کیسٹ بھی اس بوری کے ساتھ منسلک تھی۔ اس پر بھی ظالموں کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا اور حمزہ کی ایک بہن کو یرغمال بناکر اس کے ماں باپ کو ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا، جہاں انھوں نے ایک تحریری بیان پڑھا جس کے مطابق بشارالاسد کے مخالفین نے اس کے جگر گوشے کا یہ حشر کیا ہے۔ جلد ہی حقیقت لوگوں کے سامنے آگئی اور18 مارچ 2011ء کو جمعہ کی نماز کے بعد ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ حمزہ کا سوگوار باپ اس مظاہرے کی قیادت کررہا تھا۔ پولیس کی فائرنگ سے درجنوں افراد جاں بحق ہوئے لیکن درعا شہر کی جامع مسجد عمر بن خطاب المعروف عمری مسجد سے شروع ہونے والی یہ تحریک سارے ملک میں پھیل گئی۔
معاملہ ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر فرقہ وارانہ منافرت کے شجرِ زقوم کی کاشت شروع ہوئی۔ اس کا آغاز بحیرہ روم کے ساحلی شہر بنی یاس سے ہوا۔ بنی یاس ایک صنعتی شہر ہے جہاں شام کی سب سے بڑی آئل ریفائنری واقع ہے۔ بنی یاس کی خواتین ان مظاہروں میں آگے آگے تھیں۔ شہر کو قابو کرنے کے لیے صدر بشارالاسد کے بہنوئی جنرل آصف شوکت بنفسِ نفیس تشریف لائے۔ جنرل شوکت شامی افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ہیں۔ فوج نے شہر میں داخل ہوتے ہی خواتین کے ایک جلوس کو گھیر لیا اور عینی شاہدین کے مطابق مشین گنوں سے گولیاں برسائی گئیں، جبکہ بحیرہ روم میں لنگرانداز جنگی جہازوں نے بھی گولے داغے۔ اسی دوران حلب اور حمص کے شہروں میں صورت حال قابو سے باہر ہوئی تو جنرل آصف بنی یاس کی کمان اپنی اہلیہ بشریٰ کے حوالے کرکے حمص روانہ ہوئے۔ صدر بشارالاسد کی ہمشیرہ ڈاکٹر بشریٰ الاسد شامی فوج کے میڈیکل کور کی کرنل ہیں۔ بنی یاس کی ستّر فیصد آبادی سنّیوں پر مشتمل ہے جبکہ شام کے حکمراں طبقے کا تعلق اہلِ تشیع کے علوی مکتبہ فکر سے ہے۔ بدقسمتی سے فوج کے کچھ اوباش علوی افسران نے گرفتار سنّی خواتین سے زیادتی کی کوشش کی جس پر شہر میں شدید اشتعال پھیلا۔ حسنِ اتفاق کہ شام کی خاتونِ اوّل اسماء الاسد کا تعلق بھی بنی یاس کے ایک دیندار سنی گھرانے سے ہے، چنانچہ علاقے کی خواتین نے اسماء سے ان کی نند بشریٰ کے متعصب رویّے کی شکایت کی۔ کہا جاتا ہے کہ نند و بھاوج میں پہلے ہی سے کچھ رنجشیں تھیں اور اسماء نے اپنے شوہر پر دباؤ ڈال کر بنی یاس کا آپریشن رکوا دیا، لیکن نفرت کی کونپل اس سے پہلے ہی پھوٹ چکی تھی۔
13 مئی 2011ء کی شب صوبہ حمص کے شہر تلکلح میں خونیں آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ ایک لاکھ آبادی والا یہ شہر لبنان کی سرحد پر واقع ہے۔ تلکلح کی آبادی کا بڑا حصہ سنیوں پر مشتمل ہے جبکہ اس سے ملحقہ دیہاتوں میں علویوں کی اکثریت ہے۔ یہاں ایک دن پہلے مظاہرین سے تصادم میں ایک شامی سپاہی ہلاک ہوگیا تھا جو اتفاق سے علوی تھا۔ ایک کھلے فوجی ٹرک پر اس کی لاش مضافات کی علوی بستیوں میں گھمائی گئی۔ مقتول کے جسم سے خون رس رہا تھا۔ ٹرک پر نصب لاؤڈ اسپیکروں سے اعلان کیا گیا کہ اس نوجوان کو اخوانی سلفیوں نے قتل کردیا ہے اور ان کا ایک جتھہ علوی آبادیوں پر حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ فوجی افسران نے اس موقع پر انتہائی اشتعال انگیز تقریریں کیں۔ نتیجے کے طور پر علویوں کا ایک مسلح جلوس تلکلح پر چڑھ دوڑا۔ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ حملہ آور شامی سپاہی تھے۔ نہتے شہریوں پر مشین گنوں کے ساتھ ٹینکوں اور توپ خانے کا بھی استعمال ہوا جس سے 50 ہزار افراد مارے گئے۔ بچ جانے والے لوگ پناہ لینے لبنان کے علاقے عکار ہجرت کرگئے۔ تلکلح میں ایک علوی فوجی کے قتل نے تحریک کو فرقہ وارانہ جنگ بنادیا۔ صدر بشارالاسد نے عوامی تحریک کو علویوں اور شیعوں کے خلاف سنیوں کا غدر قرار دیا اور ایران ان کی حمایت میں کود پڑا۔ ایرانی حکومت مبینہ طور پر نہ صرف بشارالاسد کی فوج کو اسلحہ فراہم کررہی ہے بلکہ پاسدارانِ انقلاب کے سپاہی شامی فوجوں کے شانہ بشانہ مظاہرین کا قتلِ عام بھی کررہے ہیں۔ تاہم ایرانی حکومت نے بارہا یہ وضاحت کی ہے کہ تہران نے شام میں فوج نہیں بھیجی تاہم کچھ ایرانی رضاکار اپنی مرضی سے صہیونی توسیع پسندوں کے عزائم کو ناکام بنانے شام گئے ہیں۔ اسی طرح لبنان کی حزب اللہ پر بھی شامی حکومت کی حمایت کا الزام لگایا جارہا ہے۔ اسی دوران دیرالزور پر داعش کے قبضے نے سنسنی پھیلادی۔
دیرالزور کو قدرت نے دولت سے نوازا ہے۔ اس کے میدانی علاقوں کو دریائے فرات سیراب کرتا ہے اور زرخیز زمین ہرے بھرے کھیتوں سے ڈھکی ہوئی ہے، جبکہ اس کے صحراؤں کے نیچے تیل کی دولت پوشیدہ ہے۔ شام کی معیشت کا دارو مدار تیل اور زراعت پر ہے۔ خام تیل کی پیداوار تین لاکھ بیرل روزانہ ہے اور تیل کی تمام مقامی کمپنیاں صدر اور ان کے خاندان کی ملکیت ہیں، جبکہ بینکوں میں صدر، ان کے بھائی ماہرالاسد اور ہمشیرہ بشریٰ الاسد کے حصے ہیں۔ دیرالزور میں داعش کا ظہور کیسے ہوا، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ بس وہ اچانک آئے اور چھا گئے۔ مزے کی بات کہ دیرالزور کے تیل کو وہ اب تک دھڑلے سے فروخت کررہے ہیں۔
ہماری ساری زندگی تیل اور تیل کی دھار دیکھنے میں گزری ہے لیکن ہمیں اب تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ داعش کے گوریلے کس قسم کی سلیمانی ٹوپیاں استعمال کرتے ہیں کہ بحیرہ روم تک 250 میل طویل سفر کے دوران اُن کے تیل بردار ٹینکروں کے قافلے شامی، روسی اور ایرانی فوج کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں، اور پھر بندرگاہ پر شامیوں کو غچہ دے کر چپکے سے یہ تیل جہازوں پر لاد کر روانہ کردیا جاتا ہے اور لوگوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی! تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم داعش تک کس بینک کے ذریعے پہنچتی ہے یہ بھی ایک راز ہے۔
دیرالزور پر داعش کے ’’قبضے‘‘ نے روس کی مداخلت کا راستہ ہموار کیا۔ شام میں روسی فوجی اڈے نصف صدی سے موجود ہیں جبکہ اس کی سمندری حدود (بحیرہ روم) میں تباہ کن جہاز اور جوہری آبدوزوں پر مشتمل روسی بحری بیڑے گشت کرتے رہتے ہیں۔ روس نے شامی افواج کو کیمیکل ہتھیار بھی فراہم کیے ہیں جو کھلے عام استعمال ہورہے ہیں۔ امریکی سی آئی اے کو شک ہے کہ منگل کو خان شیخون پر حملے کے لیے کیمیاوی بم روسی ماہرین نے خود شامی طیاروں پر نصب کیے تھے، اس لیے کہ شامی فوج کو ان ہتھیاروں کے استعمال کا تجربہ نہیں۔
اس وحشیانہ قتل عام پر بھی امریکہ کی جانب سے میزائل حملے کے سوا کوئی اور مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خود امریکہ کا حملہ کتنا مؤثر تھا اس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ واشنگٹن کے سیاسی منچلے تو یہاں تک کہہ گئے کہ میزائل حملوں کا مقصد بشارالاسد کی گوشمالی سے زیادہ ان موذیوں کا منہ بند کرنا تھا جنہوں نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت اورکریملن کی جانب سے ٹرمپ کی حمایت پر ان کے خلاف تحریک شروع کررکھی ہے۔ سینیٹ و کانگریس کی مجالس قائمہ کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ یا FBI روسی مداخلت کی باقاعدہ تحقیقات کررہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مشیروں کا خیال ہے کہ شام کو بشارالاسد سے آزادی دلانے کے بجائے اسے روس اور ایران کے لیے خوفناک دلدل بنادینا واشنگٹن کے بہترین مفاد میں ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ امریکہ انہی خطوط پر کام کررہا ہے۔
دوسری طرف سفارتی محاذ پر پھرتیاں جاری ہیں۔ بشارالاسد کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر امریکہ اور یورپی یونین نے شام پر اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں، لیکن ان ملکوں کے نجی ادارے اور تیل کمپنیاں شام سے تجارت میں مصروف ہیں۔ شام ملکی ضرورت سے زیادہ تیل پیدا کرتا ہے لیکن اس کی ریفائنریوں کی پیداوار ضرورت سے بہت کم ہے اور اسے اپنی ضرورت کا ڈیزل اور پیٹرول باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اگر مغربی ممالک چاہیں تو ایک مؤثر بحری ناکہ بندی ہی صدر بشارالاسد کا مزاج درست کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران پانچ لاکھ سے زیادہ شامی جاں بحق اور ڈیڑھ لاکھ لوگ زخمی ہوئے۔ اس ملک گیر وحشت کے نتیجے میں ایک کروڑ دس لاکھ لوگ بے گھر ہیں، جن میں سے 50 لاکھ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ 60 لاکھ بدنصیب IDP بنے اپنے ہی ملک میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
مہاجرین کے ضمن میں بھی مبالغہ آمیز اعداد و شمار پیش کیے گئے اور ابلاغ عامہ کے مغربی ذرائع تاثر دے رہے ہیں کہ شامی پناہ گزینوں کو یورپ و امریکہ پناہ فراہم کررہے ہیں، حالانکہ 50 لاکھ میں سے 30 لاکھ شامیوں کو ترکی نے پناہ دی ہے، 10 لاکھ شامی لبنان کے کیمپوں میں ہیں اور اردن 7 لاکھ شامیوں کی میزبانی کررہا ہے، اور صرف 3 لاکھ شامی پناہ گزین یورپی یونین، مشرقی یورپ، مشرق بعید، وسطی ایشیا، امریکہ اور کینیڈا میں ہیں۔
شامیوں کی مدد و اعانت اور ان کی نسل کُشی رکوانے کی اولین ذمہ داری او آئی سی، عرب لیگ اور مسلمان ممالک پر ہے، لیکن مسلم قوم اس معاملے پر یکسو نہیں۔ ایران کھل کر بشارالاسد کی حمایت کررہا ہے۔ خلیجی حکمرانوں کو ڈر ہے کہ اگر شام میں سلطانئ جمہور کا دور آگیا تو کہیں ان کی جمہور بھی اپنی سلطانی کا اعلان نہ کردے۔ الجزائر، تیونس، مراکش، اور مصر جہاں بھی عام انتخابات ہوئے، ہر جگہ اخوان المسلمون عوامی امنگوں کی ترجمان بن کر ابھری ہے، اور ایسا ہی شام میں بھی متوقع ہے۔ اسی خوف کی بنا پر او آئی سی، عرب لیگ، امریکہ اور مغربی ممالک بشارالاسد کے اقتدار کو گرانے میں سنجیدہ نہیں۔ باقی رہا سفارتی شور شرابا۔۔۔ تو یہ سیاست کا حصہ اور مہذب دنیا کا چلن ہے۔