نئی جماعت آگئی

ملکی سیاست میں نئی جماعتوں کے اضافے ہوتے رہتے ہیں، کوئی بالکل نئی اور کوئی پہلے سے موجود جماعت سے نکل کر سامنے آگئی۔ کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جس میں ٹوٹ پھوٹ نہ ہوئی ہو، ایسے ہی ن لیگ قیادت سے اختلافات کے بعد خارج ہونے والوں نے مل کر نئی جماعت بنا لی۔ یقینا یہ جماعت بھی موجودہ حکومت کے ساتھ اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی تاہم اس سے تھوڑا پیچھے جائیں تو عام انتخابات سے قبل کئی جماعتیں وجود میں آئیں۔

جماعتوں کے وجود میں آنے کے پیچھے کئی طرح کے عوامل رہے ہیں۔ جیسے پارٹی سے اچانک نظریاتی اختلافات ہوگئے یا پھر پسندیدہ قیادت ناپسند آنے لگی، بڑوں پر چھوٹوں کو ترجیح دی تو سینارٹی کا مسئلہ آڑے آگیا، کچھ پیسے والے دوستوں نے کہا کچھ نیا کرتے ہیں اور مل کر الگ شناخت بنانے نکل پڑے، نظام میں تبدیلی بھی ہمیشہ اہم وجہ رہی ۔ نئی جماعت بننے، بنانے یا بن جانے کی ایک دو اور بھی بڑی وجوہات ہیں۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ جو بھی نئی جماعت آئی ہے اس کا منشور کتنا متاثر کن ہے اور وہ خود اپنے منشور پر عمل کرنے والی ہے۔ عوام پاکستان پارٹی کے گزرے دنوں کو مدنظر رکھیں تو بننے کا مقصد بالکل واضح ہے۔ لیکن کیا یہ جماعت اپنے مدمقابل کے لیے مشکلات پیدا کرسکے گی یا نہیں، موجودہ حالات و واقعات میں مدمقابل کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے گی یا پھر گزشتہ دنوں نئی بننے والی کچھ جماعتوں کی طرح سمندر کی جھاگ ثابت ہوگی یہ تو وقت طے کرے گا البتہ اب تک جوش و جذبہ روایتی ہے۔

ایک اور پیش رفت بھی ان دنوں ہوئی ہے وہ بھی ایک سابق نئی جماعت کے حوالے سے ہے۔ اس جماعت نے اپنا تعارف کچھ انوکھے انداز سے پیش کیا تھا۔ لوگوں میں کافی چہ مگوائیاں بھی ہوئیں یہاں تک کہ میڈیا پر ان کے اس طرز تعارف پر حیرت کا اظہار کیا گیا، بس لوگ اندازے لگا رہے تھے۔ کسی نے ن لیگ کا دھڑا بنادیا اور کسی نے نظر انداز کرتے ہوئے صرف ان کے تعارفی انداز پر بات کی۔ تعارف واقعی انوکھا تھا۔

اس جماعت کی تنظیم نو کی گئی اور مختلف اضلاع، صوبوں، شعبوں اور حلقوں کی سطح پر اپنے ذمے داران کے تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ اعلانات بھی کیا گیا مگر اب تک کسی نے تعیناتی پر سوال اٹھایا نہ اپنا حق جتایا۔ اس جماعت کی اب تک کی کارکرگی سے وابستہ لوگ مطمئن ہیں اور کچھ غیر وابستہ بھی ان میں شامل ہیں۔

یہ جماعت مرکزی مسلم لیگ کے نام اس وقت زیر بحث آئی ہے جب ملکی سطح پر اس جماعت کے لوگ اچانک نکلے اور شدید مہنگائی کے وقت جب کسی بھی جماعت کو دوسری جماعت پر بھروسہ نہیں ہورہا تھا اور وہ حکومت کیخلاف نکلنے کے لیے تیار نہیں تھی اکیلے مہنگائی کیخلاف اپنا شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا۔

عوامی حلقوں سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر پلیٹ فورم پر متاثر کن آواز بلند کی اور یوں لوگوں کو ایک تسلی ملی کہ بڑھتی ہی جاتی اس مہنگائی پر کسی نے تو آواز اٹھائی۔ حیرت تو ہوئی کہ کوئی جانتا نہیں تھا لیکن یہ گلی محلوں سے نکل کر مرکزی شاہروں پر کھڑے تھے۔ جگہ جگہ بینرز لگے تھے، اپوزیشن تھی نہ رولنگ پارٹی نہ پی ڈی ایم کی متحدہ جماعت تھی اور نہ ہی اپوزیشن کی اتحادی پھر ان کو مسئلہ کیا تھا شاید یہی کہ عام الیکشن میں اپنا اثر و رسوخ بنائیں۔ لیکن تب تو عام الیکشن کا نام و نشاں تک نہیں تھا خیر جیسے بھی انہوں نے آواز اٹھائی۔

دوسرا قدم جو آواز اٹھانے سے آگے کا تھا وہ تھا مہنگائی میں پسے عوام کے لیے سستے بازار کا انعقاد کیا، یونیک آئیڈیا تھا اور یہ چل بھی گیا۔ عوام نے استفادہ کیا اور دعائیں دیں، مگر تب بھی کم ہی لوگ ان کو جانتے تھے۔ عام الیکشن کا اعلان ہوا مرکزی مسلم لیگ نے بھی جوڑ توڑ میں بھرپور کردار ادا کیا۔ سیاسی داؤ پیج چلائے، الیکشن کے دن گزر گئے۔

الیکشن میں جو کچھ ہوا وہ ایک طرح سے ناقابل یقین تھا مگر سب کو معلوم تھا کچھ بھی ممکن ہے۔ الیکشن پر الزامات لگے، یقین دہانی نہ کرائی گئی جماعتوں نے اپنی تیاری بھی اچھی کی تھی مگر الیکشن الزامات کی نذر ہوا اور یوں کچھ پتا نہ چل سکا کہ حقیقت میں کس نے کیا کچھ حاصل کیا، شاید اس سے اندازہ ہوجاتا کہ اس جماعت نے عوامی سطح پر اپنی کیا حیثیت بنائی ہے۔

الیکشن کے ختم ہونے کے کچھ روز بعد مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ایک پروگرام متعارف کروایا گیا۔ روزگار سہولت پروگرام کے نام سے پرگرام کے تحت شہریوں کو آسان اقساط پر موٹرسائیکلیں اور رکشے دیے گئے۔ علاقوں میں سستے تندور کا بھی اہتمام کیا گیا اور بھی قابل ذکر کام کیے جارہے ہیں۔یہ عوامی سطح پر اپنے کاموں سے لوگوں میں نمایاں ہورہی ہے۔

یہ بات درست ہے ایک اندھے کو دو آنکھیں چاہئیں۔ عوام کو ان کے لیے آواز اٹھانے والی قیادت کی کمی ہمیشہ رہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ تحریک انصاف آئی تو مشکلات میں سانس لیتے عوام کی امیدیں بنی، ایسی ہی نئی جماعت اگر اپنے وژن میں درست ہو تو عوام ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں عوامی سطح پر اپنا مقام بنایا، عوام ہمیشہ ان کے لیے کھڑے لوگوں سے جڑتے ہیں اور اسے مضبوط کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن بہت عمدگی سے عوام کی آواز بنے، کراچی میں بھرپور کردار ادا کیا، یہاں تک اپنا پرایا سب ان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان کی قیادت پر بھروسہ کرنے لگ گئے۔

اب مرکزی مسلم لیگ یا کوئی بھی دوسری جماعت کو مفادات عامہ کے لیے ہی اپنی ترجیحات کو بنانا ہوگا۔ مرکزی مسلم لیگ نے کچے کے ڈاکووں اور کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز کےخلاف احتجاج کیے جو کہ وقت کی ضرورت تھے تاہم اب نئے ذمے داران کو خود کو ثابت کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی نے پنجاب میں کسانوں کے لیے تحریک شروع کی، اب مرکزی مسلم لیگ نے بھی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے یقینا یہ اقدامات حوصلہ بخش ہیں۔

لیکن ایک بات جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہ یہ ہے کہ اب عوام کو دھڑوں میں تقسیم نہیں بلکہ متحدہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سنجیدہ سیاسی قیادت اپنا کردار ادا کرے۔ یکجا ہوں اور تعمیر و ترقی کے لیے کردار ادا کریں۔ ملک کو نئی جماعتوں کی نہیں ، پرانی جماعتوں کو بہتر کرنے اور نئے انداز سے چلانے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومتی سطح پر کوئی ڈیلور نہیں کرسکتا تو ہٹاکر نئی قیادت لانے پر غور ہونا چاہیے۔ عوام کو منقسم کرنے سے ملک دشمن مضبوط ہوتے ہیں اور وہ ہورہے ہیں پھر چاہیے آپ کوئی بھی نام دے کر برا بھلا کہیں، فرق نہیں پڑتا، کمزوری تو آپ کے اپنے اندر ہوگی۔

حصہ
mm
عارف رمضان جتوئی روزنامہ جسارت میں نیوز سب ایڈیٹر اور نیوز کلیکشن انچارج ہیں ،مضمون و کالم نگاری بھی کرتے ہیں،مختلف رسائل و جرائد میں ان کے مضامین شایع ہوتے رہتے ہیں۔۔کراچی اپڈیٹس ڈاٹ کام کے بلاگ اور میگزین ایڈیٹر بھی ہیں۔