دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ

فلموں میں عموماً ایک ہی جیسی کہانی ہوا کرتی ہے۔ دو دلوں کا اچانک مل جانا۔ پھر کسی بھی سبب دوریاں ہوجانا اور پھر اچانک کسی موڑ پر ایک ہوجانا۔ کچھ ایسی ہی فلم پاکستان کی سیاست میں چلتی آ رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی پارٹی یا پارٹیاں اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کیلئے ایک ہو جاتی ہیں۔ دونوں قوتیں اپنے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد پہلے پہل تو کندھے سے کندھا ملاکر چلتی نظر آتی ہیں۔ محبت کی پینگیں خوب بڑھتی ہیں۔ ایک پیج ایک پیج کا شور و غوغہ بلند ہوتا ہے۔ پھر کون زبر ہے اور کون زیر، رسہ کشی شروع ہوجاتی ہے۔ دونوں کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرا فریق اُس کے پیج پر آجائے۔ کسی کو “دلیل” کا زعم ہوتا ہے اور کوئی “غلیل” کی کھونٹی کو مضبوط سمجھ بیٹھتا ہے اور پھر ہوتا یوں ہے کہ محبت کا انجام “طلاق” پر ختم ہوتا ہے۔

عمران خان وہ واحد حکمران ہیں جس پر تمام فقیہانِ سیاست متفق اور یک زبان ہیں کہ یہ آئے نہیں لائے گئے ہیں۔ خود عمران خان کی پارٹی کا ایک ایک فرد اپنی حکومت کی کارکردگی سے بڑھ کر عسکری اسٹبلشمنٹ کی رطب السانی میں زیادہ مصروف نظر آتا ہے اور اگر کسی بھی سیاسی، غیر سیاسی، مذہبی یا مسلکی سمت سے کوئی تیر اسٹبلشمنٹ کی جانب چلایا جاتا ہے تو تحریک انصاف کا ہر کھلاڑی، عرف عام میں “یوتھیا”، تیرچلانے والے پر توپ داغنے میں لمحہ بھی نہیں لگاتا۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کتنا غلو، اس بحث سے ہٹ کر، جو بات چند ہفتوں سے سامنے آ رہی ہے وہ کسی حد تک اُن رویوں سے مختلف ہے جس کا مظاہرہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً آٹھ ماہ تک دیکھا جاتا رہا۔ اب “جوڑا” تھکا تھکا اور بیزار بیزار ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑا نظر آنے لگا ہے۔

دلیل اپنی جگہ لیکن اگر دلیل “سچی” نہ ہو اور ایسی نہ ہو جس کو “لاجواب” کا مقام حاصل نہ ہواور تائید (رائے) غلیل کے “غلے” کا نتیجہ ہو تو پھر اس کی جیت مشکل ہی ہوتی ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں “دلیل” مانی ہی کب جاتی ہے یہاں تو “زور” ہی زوردار ثابت ہوتا رہا ہے خواہ ادارہ یا فورم کوئی بھی ہو۔ پاکستان کی سیاست میں نہ جانے کتنی بار “دلیلوں” نے اپنے آپ کو بھرپور انداز میں منوایا ہے لیکن ہر دلیل غلیل کے ایک “غلے” کی مار ہی ثابت ہوئی ہے۔ پھر ایسی دلیل جس کی سچائی خود غلیل کا غلہ ہو تو وہ نہ تو گھر کی ہوسکتی ہے اور نہ ہی گھاٹ کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ، وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان۔ یہ وہ نعرہ ہے جس کی سچائی پر کسی کو ذرہ برابر بھی بے یقینی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایک کثیرالمعنی نعرہ ہے۔ یہی وہ تعلیم ہے جو ہر مذہب کی اساس ہے۔ اسلام کا درس ہی یہی ہے کہ اس کی نظر میں کوئی گورا کسی کالے پر، کوئی امیر کسی غریب پر اور کوئی طاقتور کسی کمزور پر برتری یا فوقیت نہیں رکھتا اس لئے کہ بڑائی صرف اللہ کو زیبا ہے باقی سارے انسان یکساں حقوق رکھتے ہیں۔ بڑا صرف اور صرف وہ ہے جس کے دل میں اپنے خالق کا خوف اور ڈر ہو۔ دو نہیں ایک پاکستان کے چند لفظی نعرے میں پوری انسانیت کیلئے ایک بہت بڑا پیغام پوشیدہ تھا لیکن عملاً پاکستان کے کسی ادارے میں بھی “ایک پاکستان” نظر ہی نہیں آیا یہاں تک کے جو “دو” ہوکر بھی “ایک” دکھائی دینے لگے تھے وہ بھی دھوکے کی ٹٹی ثابت ہونے لگے ہیں۔

لگتا ہے کہ عمران خان “سمجھوتا” کرتے کرتے تھک سے گئے ہیں اور اب وہ چاہتے ہیں کہ اگر یہ سمجھوتہ ایکسریس بند ہی ہوجائے تو شاید ان کی نیا کسی کنارے لگ جائے۔

جب کنبہ “بھان متی” کا سا ہو تو روڑھے اور اینٹیں کسی وقت بھی جدا جدا ہو سکتی ہیں سو کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دینے لگا ہے اور لگتا ہے کہ ہر ہر مقام پر ایک نہیں دو بلکہ دو دو پاکستان بننا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومتی اداروں کی ہر صف میں دو دو تین تین صفیں بنتی نظر آرہی ہیں اور ستارے ستاروں سے ٹکراتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ جس مقناطیس نے لوہے کے پرچونوں کو اپنے آپ سے چمٹا کر رکھا ہوا تھا اس کی مقناطیسیت یا تو ختم ہوتی جارہی ہے یا اب اسے ان سب کو یکجا رکھنے میں کسی اچھائی نہیں دکھائی دے رہی۔

وزیر خارجہ، پاکستان کا مؤقف رکھتے ہیں اور پاکستان کی عزت ان کی نظر میں ہر عزت سے بڑھ کر ہے لیکن ملک کے وزیر اعظم کی سوچ “مودی” کی زبان بولتی نظرآتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی براستہ سعودی عرب امریکہ کی جانب جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے لیکن وزیر اعظم ایران سے قربت کے خواہاں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودیہ سے قربت ایران سے دوری کا سبب بن سکتی ہے لیکن کیا پاکستان فی زمانہ سعودیہ یا باالفاظ دیگر امریکا سے دوریاں اختیار کرنے کی پوزیشن میں ہے؟۔

ایران بے شک ہمیں سستا تیل اور گیس فراہم کرسکتا ہے لیکن ماضی میں اس قسم کی جو پیش رفت زرداری دور میں کی گئی تھی وہ کیوں روک دی گئی؟۔ ایران سے تیل اور گیس کی مد میں مدد دینے کا عندیہ دیا گیا ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہو سکے گا؟، یہ ہے وہ اہم نقطہ جس پر پاکستان کے ہر ادارے کو نہایت سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ کیا پاکستان سعودی عرب اور امریکا سے دوری برداشت کر سکتا ہے؟۔ کیا پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اور سول حکومت اس سلسلے میں “ایک پاکستان” ہیں؟۔

تازہ ترین خبر کے مطابق “امریکا نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو دی گئی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی طرف سے تیل کی برآمد کو انتہائی محدود کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد روک دیں، ورنہ ان ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے”۔ ایک جانب یہ صورت حال ہے اور دوسری جانب پاکستان کی خارجہ پالیسی “دوپاکستان” بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس کا پاکستان پر بہت منفی اثر پڑسکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان کی جانب پلٹا جائے۔ کسی بھی قسم کی رسہ کشی سے اجتناب برتا جائے ورنہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان کا ہر ادارہ دو نہیں ایک پاکستان کی بجائے (خدانخواستہ) ایک نہیں کئی کئی پاکستان کا نمونہ پیش کررہا ہو۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں