(سیرتِ نبویؐ کے چند اسباق)
ارکانِ اسلام میں ’’صلوٰۃ‘‘ دوسرا اہم ترین رُکن ہے۔ لیکن صدیوں سے یہ کسی تبدیلی، نئے پَن اور اختراع سے محفوظ ہے۔ بلکہ اگر نماز میں اختراعات کی جائیں تو وہ فاسد ہوجائے گی۔ لگے بندھے طریقے سے ہر روز، بار بار ایک جیسی عبادت کی جاتی ہے اور قیامت تک کی جاتی رہے گی۔ لیکن اس لگی بندھی اور بار بار ایک ہی طرح دہرائی جانے والی۔۔۔ نماز جیسی عبادت میں بھی، دین کا حکم ہے کہ آنکھیں کُھلی رکھو۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمہ وقت مُتغیر دنیا، مُعاملاتِ دنیا اور مسلسل اور لحظہ بہ لحظہ بدلتے زمان و مکاں کے متعلق۔۔۔ ہمارا دین، آنکھیں کھلی رکھنے کا حکم نہ دیتا ہو۔ اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ہمیں سمع، بصر اور فواد کی تین زبردست قوتیں دی ہیں۔ سننے، دیکھنے، سمجھنے اور تجزیہ کرکے بہتر سے بہتر اقدام کرنے کی راہ دکھائی ہے۔ دین کے اس مزاج کو۔۔۔ خود ’’اِقامتِ دین‘‘ کی جدوجہد کے لیے بھی کیوں نہ اپنایا جائے اور بھرپور اپنایا جائے؟
اِسی زاویۂ نظر نے درجِ ذیل خیالات کے اظہار کی جسارت دی ہے۔
ایک سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ اگر ہمارے آقا و رہبر، نبئ اکرم، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفی بن عبداﷲ الہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم جزیرہ نمائے عرب کے بجائے۔۔۔ فارس یا روم میں پیدا ہوئے ہوتے۔۔۔ تو کیا تاریخی واقعات اور نتائج وہی ہوتے جو کہ ہمیں معلوم ہیں؟ اِس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر آپؐ فارس یا روم میں مبعوث کیے گئے ہوتے۔۔۔ تو کیا آپؐ کی دعوت کا اُسلوب اور طریقہ کار، سیاسی پالیسی اور حکمت کاری (Political Policy & Strategy) وہی ہوتی جو آپؐ جزیرہ نمائے عرب میں اختیار کرتے نظر آتے ہیں؟ زیادہ اہم، لیکن مشکل سوال یہ ہے کہ دوسری صورت میں، وہ پالیسی کیا ہوتی؟ وہاں حکمتِ عملی کیسی ہوتی؟ فارس میں کیا، کیا گیا ہوتا؟ اور روم میں دعوت اور سیاست سے کس طرح عہدہ برآ ہوا جاتا؟
یہ سوالات اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ کم از کم میرے علم کی حد تک یہ تینوں (رومی، ایرانی، عرب) مُعاشرے اور ان میں قائم سماجی، مَعاشی، سیاسی، تہذیبی، لسانی اور عسکری نظام (اگر کوئی تھا، اور جیسا بھی تھا) اور وہاں کے حالات ہرگز یکساں نہیں تھے۔ مثلاً یہ کہ فارس و روم میں عظیم الشان بادشاہتیں، صدیوں سے قائم تھیں۔ اُن کے پاس اپنے دور کے مُستحکم اور مؤثر ترین نظام ہائے سیاسی و معاشی و عسکری موجود تھے۔ باجبروت اور ہمہ مقتدر بادشاہوں کے سلسلے تھے۔ ان کے ہاں بڑے بڑے اور متمدَّن شہر اور قصبات تھے۔ صوبوں، ضلعوں، تحصیلوں جیسے کئی سطحی حکومتی ڈھانچے قائم تھے۔ قوت و اقتدار کا بڑا حصہ، بادشاہ یا شہنشاہ کی کرسی میں مرتکز تھا۔۔۔ لیکن مُعاشرتی طور پر۔۔۔ ایرانی سلطنت، رومی سلطنت سے جدا تھی۔۔۔ اور یہ دونوں معاشرے عرب سماج سے الگ تھے۔ اِسی طرح اِن خطوں کی صدہا برس کی تاریخ بھی اور آب و ہوا بھی جدا تھی۔ نتیجتاً وہاں کے انسانوں کے مزاج بھی الگ تھے۔
جزیرہ نمائے عرب (تقریباً وہ تمام خطّہ جو آج سعودی عرب کی ریاست میں شامل ہے) بالکل مختلف کیفیت کا حامل تھا۔ اس کی تاریخ بھی جدا، اس کی مُعاشرت اور آبادی کی تقسیم (Demography) بھی الگ، اس کی سیاست و معیشت بھی منفرد اور اس کا عسکری نظام بھی علیحدہ طرز کا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ پورے جزیرہ نمائے عرب میں کوئی دریا اور قابلِ ذکر جھیل نہیں ہے۔۔۔ وسیع و عریض قابلِ کاشت رقبے نہیں ہیں۔۔۔ وہاں زیادہ اور گھنی آبادیاں آج بھی نہیں ہیں۔۔۔ موسم سخت گرم رہتا ہے۔ تیل اور معدنیات کی دریافت سے قبل۔۔۔ یہ خطۂ زمین، کسی طالع آزما بیرونی حکمراں کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتا تھا۔ صرف یمن کا خطہ، بحری آمد و رفت کے اہم دروازے کی حیثیت سے۔۔۔ حملہ آوروں اور توسیع پسندوں کے لیے اہمیت اور کشش کا حامل تھا اور آج بھی ہے۔
بقیہ جزیرہ نمائے عرب پر صدیوں (بلکہ غالب امکان ہے کہ ہزاروں سال) سے کوئی بڑی لشکر کشی نہیں ہوئی اور نہ وہاں کوئی ’’بادشاہ‘‘ حکمراں رہا (ابرہہ کی لشکر کشی، الگ مُعاملہ تھی)۔ کوئی مرکزی اقتدار یا بڑا مرکزِ اقتدار بھی نبئ اکرمؐ کی آمد کے وقت وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔ بلکہ صدیوں سے نہیں تھا۔ اُس وقت وہاں کوئی بڑا شہر بھی آباد نہیں تھا۔ سب سے بڑا شہر مکہ تھا، جس کی آبادی بارہ سے سولہ ہزار کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔ اس سے چھوٹے شہر طائف اور یثرِب (مدینہ) تھے۔ یثرب کی آبادی چھے ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی آبادیاں تھیں، جو دور دور اور منتشر تھیں۔ ان شہروں اور آبادیوں کے بھی کوئی اکلوتے حاکم نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ ایک ایک شہر میں کئی کئی سردار مل کر نظام چلایا کرتے تھے۔ خود مکہ شہر پر کوئی فردِ واحد حکمراں نہیں تھا۔ دس نمائندہ سرداروں کی مجلس میں فیصلے ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے ان کا نظام، وحدانی اور آمرانہ نہیں، شورائی کہلا سکتا ہے۔
قبائلیت اور بَدوِیّت سے معمور، یہ عرب خطہ اور مُعاشرہ۔۔۔ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکو اتفاقاً نہیں ملا تھا یا اس معاشرہ کو آپؐ حادثاتی طور پر حاصل نہیں ہوگئے تھے۔ بلکہ ہمارا یقین ہے کہ اُن مخصوص نتائج کو۔۔۔ جو بِعثتِ محمدیؐ کے نتیجے میں تاریخ کا حصہ بنے۔۔۔ حاصل کرنے کے لیے اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ نے جزیرہ نمائے عرب کو صدیوں کے تعامل سے گزار کر ایسا بنا دیا تھا۔ اِسی طرح حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعوتی و سیاسی پالیسی اور حکمتِ عملی اپنائی، وہ بالکل اُسی معاشرے اور تاریخ کے اُسی مخصوص مرحلے کے لیے تھی اور بالکل درست تھی۔ وقت و حالات نے بھی اس کی گواہی دی ہے۔
یہاں پھر وہی سوال سامنے آتا ہے کہ اگر آپؐ فارس یا روم میں مبعوث کیے جاتے یا مثلاً آپؐ کسی بگڑی ہوئی مسلمان قوم میں بھیجے گئے ہوتے (انبیائے بنی اسرائیل کی طرح)۔۔۔ تو کیا آپؐ پھر بھی ویسی ہی دعوتی و سیاسی پالیسی اور حکمتِ عملی لے کر چلتے جو آپؐ جزیرہ نمائے عرب کے مشرک، اور ساتھ ہی منتشر مُعاشرے میں لے کر چلے؟ یکساں نتائج والا سوال بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔
بہت ڈرتے ہوئے، لیکن ذمہ داری کے ساتھ ایک اور سوال اٹھانا چاہتا ہوں کہ عموماً ایک عام مسلمان۔۔۔ سیرتِ نبوی کے انفرادی حوالوں کو اہمیت دیتا ہے تاکہ ذاتی زندگی میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرسکے۔۔۔ اور اگر وہ اجتماعی زندگی کے حوالوں سے دلچسپی رکھتا بھی ہے تو اس لیے کہ وہ اپنے دور کی اجتماعی زندگی میں، اُس شاندار اور بابرکت دور کی جھلکیاں دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن اپنے دور کو، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین کے دور جیسا بنا دینے سے۔۔۔ اور اُس میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے سے۔۔۔ عام آدمی کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی اور اکثریت کو ہو بھی نہیں سکتی۔۔۔ چاہے ہم کتنی ہی خواہش کریں یا خواب دیکھیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج جو مختصر سا گروہ، اسلامی تحریک کے نام سے (کئی نسلوں سے) مسلسل محوِ سفر ہے۔۔۔ کیا اس کا سماجی و تاریخی شعور، اُس کا سیرتِ نبوی اور جُہدِ نبوی کو دیکھنے کا انداز اور نقطۂ نظر۔۔۔ وہی ہونا چاہیے جو ایک عام مسلمان کا یا مُعاشرے کی اکثریت کا ہوتا ہے؟۔۔۔ اور یہ بھی کہ ’’محوِ سفر‘‘ رہنا ہی مقصود و مطلوب ہے؟ یا راہِ سفر کے احوال و کیفیات و تجربات پر غور و فکر کرنا اور سیرتِ نبوی کے نورِ حکمت سے رہنمائی لے کر۔۔۔ اپنی لگام (Steering)، اپنے ایکسیلیٹر اور اپنے بریک کا درست اور بہتر استعمال کرنا بھی، اس کی ذمہ داری ہے؟ مسلسل اور اَن تھک سفر کرنا، سفر کے درست ہونے کی دلیل نہیں۔۔۔ اور نہ ہی کولہو کے بیل کی طرح، صبح تا شام چلتے رہنا، مدام چلنا، کامیابی کی ضمانت ہے۔۔۔ حالانکہ یہ ’’سفر‘‘ خود ایک عمل ہے اور بڑے تسلسل، انہماک اور یکسوئی کا عمل ہے۔
ایک اور سوال جو میرے ذہنی اُفُق پر اٹک جاتا ہے کہ قرآن نے متعدد انبیا علیہم السلام کے جو قصے اور ان کے اجزا، تکرار و تواتر سے بیان کیے ہیں۔۔۔ تو کیا یہ محض عبرت و گداز پیدا کرنے کے لیے ہیں؟ یا ان کی کوئی اور زیادہ فعال (Dynamic) حکمت بھی ہے؟ کیا یہ قرآنی واقعات اور حوالے، اس لیے بھی نہیں ہیں، کہ قیامت تک بدلتے چلے جانے والے زمان و مکان۔۔۔ اور ایک ہی دور میں الگ الگ خطوں کے، الگ الگ احوال و کیفیات میں اسلامی جدوجہد کے لیے۔۔۔ یہ اشارات کا کام کریں، نورِ ہدایت و رہنمائی بنیں؟
جزیرہ نمائے عرب کے مشرک مُعاشرے کی کیفیات و احوال کو، آخر پاکستانی مسلم مُعاشرے میں کس طرح، جوں کا توں منطبق کیا جاسکتا ہے؟ یہاں نہ وسیع و عریض خطے میں بکھرا ہوا، لیکن کم آباد، بَدوی مُعاشرہ ہے۔۔۔ نہ ’’لامرکزی‘‘ اقتدار ہے اور نہ لات و منات کے پجاریوں کی اکثریت ہے۔ اس لیے ہماری جدوجہد مکی دور کی ہرگز نہیں۔ اسی طرح نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت و حاکمیت میں جو مدنی دور گزرا، ہم اس پر بھی اپنا انطباق نہیں کر سکتے۔ ہمارا مُعاشرہ ہرگز مدنی اوصاف کا حامل نہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی مُعاشرہ، بہت سے اسلامی اور بہت سے نااسلامی عناصر کا ملغوبہ ہے۔ یہاں اسلام، ریاست کا آئینی دین ضرور ہے۔۔۔ مگر عملاً بیشتر امورِ مملکت دین و شریعت سے غفلت و لاپروائی اور بے نیازی سے۔۔۔ اور شاید بعض امور سرکشی و بغاوت کی کیفیت میں چلائے جارہے ہیں۔ لہٰذا پاکستانی سماج بھی اور نظام بھی۔۔۔ اسلام و غیراسلام کا آمیزہ، بلکہ مرکب ہے۔ یہ ایک تیسری کیفیت ہے، مکی و مدنی تقسیم کے حوالے سے۔۔۔!!
ابھی تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے، اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ خدانخواستہ راقم، سیرت و سنت کے اتباع کا قائل نہیں۔ الحمدﷲ، ہمارا دل اس پر پوری طرح مطمئن ہے کہ:
بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ اُو نہ رسیدی، تمام بو لہبیست
(خود کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمسے وابستہ رکھو اور وہیں سے سند لاؤ کہ وہی سراپا دین ہیں۔ اگر کوئی بات اُن کی سند سے خالی ہو تو پھر سب کچھ بو لہبی ہے۔)
اور اِس قرآنی ہدایت پر بھی پختہ ایمان ہے کہ:
وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُق وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا (رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تمہیں دیں، وہ لے لو۔۔ اور جس سے تمہیں روکیں، اُس سے رک جاؤ۔۔۔ الحشر:7)
قیامت تک کے لیے اب محمد عربیصلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے مستند حوالہ ہیں۔۔۔ انفرادی زندگی کے لیے بھی اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی۔ وہی سرچشمۂ ہدایت اور نورِ نظر نواز ہیں۔ درجِ بالا سطور کا مقصود، بس اس بات پر متوجہ کرنا ہے کہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین سماجی و تاریخی شعور کے ذریعے اپنے دور کے جزیرہ نمائے عرب میں اسلامی جدوجہد اُس طرح کی جیسی وہاں کی جانی چاہیے تھی۔ اس کا نتیجہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس تاریخی عمل کی ہو بہو ’’کاپی کرنا‘‘ دین کو مطلوب نہیں ہے، کیونکہ نہ ہمارا سماج ویسا ہے اور نہ تاریخ کا صفحہ وہی ہے۔ البتہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نورِ بصیرت اور سرچشمۂ حکمت سے رہنمائی لے کر۔۔۔ اپنے دورِ تاریخ اور اپنے سماج کے تقاضوں کے مطابق ہی جدوجہد، پالیسی اور حکمتِ عملی مرتب کرنی چاہیے۔ یہی اُسوۂ ہادئ برحق ہے، یہی سُنتِ داعئ اعظم صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔ ایسا ہی کرنا ہر اسلامی تحریک کی بنیادی اور اساسی ذمہ داری ہے۔
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکی اسلامی جدوجہد کا پہلا نکتہ تو یہی تھا کہ سماجی شعور اور تاریخی شعور۔۔۔ جتنا پختہ، ہمہ گیر اور مکمل ہوگا، اسی لحاظ سے جدوجہد بہتر اور زیادہ نتیجہ خیز ہوگی۔ دوسری رہنمائی یہ ملتی ہے کہ دعوت کا ایک الگ دائرہ ہے اور سیاست کا الگ۔ کبھی یہ دائرے، جزوی طور پر Overlap کرتے ہیں، کبھی بالکل یکساں ہوجاتے ہیں اور اکثر الگ رہتے ہیں۔ البتہ دعوت کا دائرہ، سیاست کے دائرے کی نفی نہیں کرتا اور نہ سیاست کا دائرہ دعوت کے دائرے سے متصادم ہوتا ہے۔ سیاست کے دائرے کو آج کی اصطلاح میں “Power Politics” کہنا، ہمارے مدعا کو زیادہ واضح کرے گا۔ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دور میں، اقتدار و اختیار کی حرکیات (Dynamics of Power Politics) کا جیسا غیرمعمولی شعور و ادراک تھا۔۔۔ اور جس خوبصورتی، کمالِ مہارت اور لچک و پختگی کے نازک توازن سے آپؐ نے اس کو برتا۔۔۔ وہ خود لاجواب و بے مثال ہے۔ آپؐ کی سیاسی کامیابیوں میں، اپنے عہد کی Power Politics کی حرکیات کا شعور و ادراک اور حُسنِ استعمال۔۔۔ سیرت کا نہایت روشن باب اور بڑا اہم سبق ہے۔
پاکستانی معاشرے میں بھی دعوت کا کام، ایک الگ دائرے کا کام ہے اور Power Politics اپنا الگ دائرہ رکھتی ہے۔ ناچیز کی رائے میں اسلامی تحریک کا بڑا کمزور پہلو، پاکستانی سماج اور اس خطے کی تاریخ کا کمزور شعور و ادراک ہے۔۔۔ اور اس سے بڑھ کر، پاکستانی معاشرے کی ’’پاور پالیٹکس‘‘ کی حرکیات پر کم توجہی اور اس کے تقاضوں سے عہدہ برآ نہ ہوسکنا ہے۔ پھر یہ کہ خود پاکستانی سماج ہم آہنگ اور یک جہت نہیں ہے۔ یہ بہت سے دیگر ملکوں سے زیادہ رنگا رنگی کا حامل ہے۔ ہمارا معاشرہ یکساں و یک رنگ (Homogeneous) نہیں، بڑا متنوع اور بوقلموں (Heterogeneous) ہے۔۔۔ بلکہ بعض پہلوؤں سے متضاد عناصر کا آمیزہ ہے۔ جب تک پاکستانی سماج کی سیاسی حرکیات کے ادراک اور بہتر استعمال کی صلاحیت نہیں بڑھائی جائے گی، اُس وقت تک کوئی غیرمعمولی سیاسی پیش رفت بھی نہیں ہوسکے گی۔ مثلاً یہ کہ اس خطے میں مسلم اقلیت کی، غیر مسلم اکثریت پر صدیوں کی حکومت نے۔۔۔ ایک خاص قسم کا سماج و کلچر، اجتماعی مزاج اور مخصوص قسم کی ’’اسلامیت‘‘ پیدا کی ہے۔ یہ پورا خطہ، حنفی اکثریت کا حامل ہے۔ عادتاً ہی سہی، اکثریت ’’بریلوی‘‘ ہے۔ رویّے میں لوگ لبرل ہیں۔ خانقاہ و مزار، قوالی و دھمال، قرآن خوانی و عرس۔۔۔ اہلِ مُعاشرہ کے شعور سے بڑھ کر اُن کے لاشعور میں بسی ہوئی اسلامی علامتیں ہیں۔ برصغیر میں صرف مجدد الف ثانیؒ ، شاہ ولیؒ اﷲ اور اورنگزیب عالمگیر ہی نہیں۔۔۔ جلال الدین اکبر اور نورالدین جہانگیر بھی گزرے ہیں اور اُن کا ’’دینِ الٰہی اکبر شاہی‘‘ بھی یکسر ناپید نہیں ہوا ہے۔
’’پاور پالیٹکس‘‘ کے حوالے سے یہ نکتہ بھی، سیرتِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حرکیات کو بروئے کار لاکر۔۔۔ اختیار و اقتدار حاصل بھی کیا گیا اور اسے Snowball Effect سے بھی گزارا گیا۔ مدینہ جیسی ایک ’’شہری ریاست‘‘ (City State) بنائی گئی، جو اگرچہ کہ چھوٹی تھی، مگر آج کے معنوں میں ایک ’’قومی ریاست‘‘ (Nation State) تھی۔ جہاں مسلمانوں اور یہودیوں کو برابری حاصل تھی۔ دونوں گروہ جس معاہدے (میثاقِ مدینہ) میں بندھے تھے، اس نے یہ ’’قومی ریاست‘‘ بنائی تھی۔ (’’میثاقِ مدینہ‘‘ کی تحریر، بحمدﷲ تاریخ نے محفوظ رکھی ہے اور آج بھی دیکھی جاسکتی ہے)۔ تاریخ کی گواہی ہے کہ مدینہ کی ’’شہری ریاست‘‘ کو بنیاد بنا کر۔۔۔ ایک طرف اختیار و اقتدار کو ضرب دیا جاتا رہا، اُس کے ذریعے مزید اختیار و اقتدار حاصل کیا جاتا رہا اور حدودِ ریاست بڑھتی رہیں۔۔۔ تو دوسری طرف جوں جوں اسلام کا اختیار و اقتدار مستحکم ہوتا گیا، اسے زیادہ خالص اسلامیت کی طرف موڑا جاتا رہا۔۔۔ جہاں رکاوٹ محسوس ہوئی، توقف کیا گیا یا حکمت عملی بدلی گئی۔ بالآخر اُس معاشرے کی وہ ’’سیاسی حرکیات‘‘ (Dynamics of Power Politics) ہی بدل کر رکھ دی گئیں، جن کی سیڑھی استعمال کرکے اختیار و اقتدار کی منزل تک پہنچا گیا تھا۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت کی سیاسی حرکیات کو (حرام و ناجائز امور سے اجتناب کرتے ہوئے) پوری طرح بروئے کار لاکر، آگے بڑھا گیا۔ لیکن ایسا کرلینے کے بعد، ’’پاور پالیٹکس‘‘ کی اُس دور کی حرکیات اور تقاضوں کو، جوں کا توں برقرار نہیں رکھا گیا۔۔۔ بلکہ جوں جوں موقع ملا، نئی حرکیات اور نئے تقاضے پیدا کیے گئے۔ ایک نیا سیاسی جہاں ظہور میں لایا گیا۔
پاکستانی معاشرے میں کام کرنے والی اسلامی تحریک کو آج ’’لمحۂ قیام و سکون‘‘ یا ‘‘عرصۂ اعتکاف‘‘ (Pause) کی ضرورت ہے۔ اپنے سماج، اس کی نفسیات اور اِس خطے کے تاریخی عوامل کا جائزہ لینا، غور کرنا اور نئے سرے سے اپنی حکمتِ عملی بنانا۔۔۔ خود تحریکِ اسلامی کی بقا و ارتقا کے لیے ناگزیر ہے۔ مگر ایسا اسی وقت ہوسکے گا جب اہلِ دین اُس ذہنی سانچے (Mind-Set) سے باہر آئیں گے کہ جس میں یا تو دورِ صحابہ، اُن کے پیشِ نظر ہوتا ہے یا پھر اپنا دور۔ درمیان کی تمام صدیاں نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں یا زیادہ سے زیادہ کچھ ’’جزیرے‘‘ درمیان میں بھی ابھرے نظر آتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ ایک تسلسل کا نام ہے۔ زمانہ تنی ہوئی مسلسل اور لامتناہی، لیکن مربوط رسّی کی طرح ہے۔ لوگ قینچی لے کر اور تاریخ کو ٹکڑوں میں کاٹ کر دیکھنے اور زمان و مکان کے گملے لگانے کی ذہنی ساخت رکھتے ہیں۔ اسی لیے اس خطے میں اسلامی جدوجہد، گملوں میں پودے لگانے پر منتج ہوتی رہی ہے۔۔۔ پوری کی پوری کھیتیاں اور بڑے بڑے باغ و گلزار لگانے کی طرف اہلِ دین گئے ہی نہیں۔
آخری بات یہ ہے کہ سماج یا مُعاشرہ اُس سے زیادہ مضبوط و مستحکم اور جاندار و توانا وجود رکھتا ہے، جتنا سیاسی نظام۔ اگرچہ کہ سیاسی نظام کی کاٹ زیادہ ہوتی ہے۔۔۔ مگر مضبوطی اور توانائی میں سماج و مُعاشرہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک نیا سماج بنانے کے لیے اسلامی تحریک کا کیا ایجنڈا اور کیا حکمتِ عملی ہے؟ کبھی اس پر بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ ’’پاور پالیٹکس‘‘ بلکہ ’’روز مرہ کی سیاست‘‘ میں حد سے زیادہ، اور قد سے بڑھ کر مصروفیت نے۔۔۔ تحریک کی ترجیحات اور توازن کو متاثر کیا ہے اور اُسے بے وزن بھی کردیا ہے۔۔۔ سماجی تبدیلیوں کے عمل سے بے دخل بھی کیا ہے اور معاشرے کے اعصابی مراکز سے غافل اور دور بھی۔
اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ماضی میں یہاں کی اسلامی تحریک کو اقتدار و اختیار کے بعض دائروں میں پہنچایا بھی ہے۔ صوبہ خیبرپختون خوا میں شراکتِ حکومت اور کراچی میں دو بار بلدیاتی اختیارات اور ایک بار شہری حکومتی نظام کا اقتدار۔۔۔ تحریکِ اسلامی کے اصحاب کے حصے میں آیا۔ مگر اپنے مخصوص و محدود مائنڈ سیٹ کی وجہ سے اُن مواقع کو تاریخ ساز نہ بنایا جاسکا۔۔۔ اور نہ ہی Snowball Effect پیدا کرکے اقتدار و اختیار کو ضرب دیا جا سکا۔ بلکہ ’’اپوزیشن والی سوچ‘‘ لے کر (محدود) اقتدار کا یہ عرصہ گزار ڈالا گیا۔۔۔ نئے وِژَن، نئی سوچ، نئے دور کا کوئی سورج۔۔۔ مذکورہ بالا عرصۂ اختیار و اقتدار میں طلوع نہ ہوسکا۔
اب ضرورت ہے کہ پاکستان کی اسلامی تحریک۔۔۔ دعوت کا کام، دعوت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر کرے اور سیاست کاری، اپنے سماج کے مختلف حصوں کی ’’پاور پالیٹکس‘‘ کی حرکیات کو مدنظر رکھ کر۔ یہ کیا ضروری ہے کہ خیبرپختون خوا کی طرز کی سیاست، پنجاب اور سندھ میں کی جائے؟ یا کراچی جیسی سیاست، ملاکنڈ ڈویژن میں ہو؟ اسلامی تحریک کو تنہائی سے بچنے، کم سے کم دشمن بنانے، موجود دشمنیوں کو کم یا غیرفعال کرنے اور طاقت کے مراکز میں پہنچنے اور موجود رہنے کی حکمتِ عملی لے کر چلنا ہوگا۔ اسے تو ’’دربارِ فرعون‘‘ کے مومنین بھی درکار ہیں اور جادوگروں میں چُھپے اہلِ ایمان بھی۔ مکہ میں مستور ایمان رکھنے والے بھی چاہئیں اور اردگرد پھیلے ’’قبائل‘‘ میں اپنے لیے نرم گوشے رکھنے والے عناصر بھی۔
اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ پاکستان کی اسلامی تحریک کو نئے در، نئے راستے، نئے مواقع، کشادہ وِژَن اور توانا تر عزمِ سفر عطا فرمائے۔
اہم بلاگز
یومِ خواتین
ہم عورتوں کے غم میں گھلی جارہی ہیں ، کیا انہیں اس بات کا احساس ہے ؟ کوئی ہے جو انہیں احساس دلائے ؟ انہیں ان کی ذات کا شعور دے ؟۔
رویے ، معاملات، طریقے
حل کیا ہے ؟حل کہاں ہے؟
"اے اولاد آدم ہم نے نہیں کہہ دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا،وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور میری ہی عبادت کرنا ، یہی سیدھا رستہ ہے ۔تم سے پہلے وہ کئ نسلوں کو گمراہ کر چکا ہے ،کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟"(سورہ یٰسین )۔
ہمیں جن رشتوں میں بھی مرد سے اختلاف ہےوہ ہمارے اپنے رشتے ہیں ۔ ہم مرد عورت نے مل کر اپنے دشمن کے خلاف ایک ہونا ہے۔ اس کے لیے جاننے کے ساتھ ساتھ ماننے کا علم اور عمل چاہیے۔ ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے دشمن کا سلیبس لے کر صراط مستقیم پر چلنا چاہ رہے ہیں لہذا یہ فتنہ گھیرے رکھے گا ان رشتوں کو۔
ام سلمیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے عورتوں کی طرف سے سوال کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ" مرد تو سارا اجر لے جاتے ہیں۔ ہم عورتیں ان کے گھر ،بچے پالتی ہیں ،ہمیں کیا ملا؟ "جواب دینے والی ہستی (جس پہ اللہ تعالی اور اس کے فرشتے ہروقت درود بھیجتے ہیں) نے فرمایا "اجر میں کوئی کمی نہیں ۔ اللہ کے ہاں تقویٰ کی اہمیت ہے۔ تم گھر رہتے ہوئے جہاد کا اجر پاؤ گی"۔
ہے کوئی دنیا میں ایسی تہذیب جو عورت کو گھر بٹھا کر عزت دے؟
سورہ نحل آیت 97 میں اللہ تعالی نے فرمایا خواہ مرد ہویا عورت ،اور ہو وہ مومن،اجر کا مستحق ہوگا۔"
لیکن ہمارا ذہن تو لڑائی جھگڑوں میں الجھا رہتا ہے۔ ہم اپنی ذات سے بے گانہ رہتی ہیں ۔ ہم غیر حاضر دماغی کے ساتھ عمل کر رہی ہیں۔ ہمارا اپنے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ ہمیں اللہ کے ساتھ اپنا وعدہ یاد نہیں ہے۔کاش میں لوگوں کو اتنا ہی سمجھا سکوں کہ وہ کتنا "رحیم" ہے۔ اس نے مجھ ابھی بھی رکھا ہوا ہے ۔
گھر کے کام پر اجر و ثواب۔ نیت کے باعث
ہم نیت کے بغیر ضائع ہو رہی ہیں
اپنے رویے اور اپنی نیت سے خود کو بے وقعت ہونے سے بچائیں۔ ہم ضرورت مند ہیں تو ہمیں مزاج کو اہمیت دینی ہے یا ضرورت کو؟ کیا ہمیں اپنی آخرت کی اتنی فکر ہے جتنی ان صحابیہ کو تھی؟
آئیں اماں ہاجرہ(رضی اللہ عنہا) کے گھر چلتے ہیں اماں خدیجہ(رضی اللہ عنہا) کے گھر چلتے ہیں
ان کا گھر کیسا تھا ؟
کیا سامان تھا؟
شوہر کتنا وقت دیتے تھے ؟
کتنا خرچہ دیتے تھے؟
ہم اپنے گھر میں رہتے ہوئے خوش نہیں جب کہ اماں ہاجرہ(رضی اللہ عنہا) نے شوہر (مرد )کی اطاعت اور بیٹے (مرد) کی پرورش کی خاطر شہر آباد کر دیا۔ کیونکہ ان کے پاس ماننے کا علم اور تعلق میں مضبوطی تھی۔
اماں خدیجہ(رضی اللہ عنہا) نے اپنی جان مال سب اپنے شوہر مرد کے مشن پہ قربان کر دیا کیونکہ ان کے دل و دماغ صاف تھے تو ایمان نے ان میں گھر کر لیا۔
کیسی بے مثل اولادیں پروان چڑھائیں انہوں نے
قیامت تک کے لیے...
حیا ! اسلامی شعار
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
انسان اگر ایک پھول ہے تو حیا اس کی خوشبو ہے ۔اور ہر انسان اپنی اسی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے۔ہم جب بھی حیا کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف لباس میں حیا نہیں ہے بلکہ بصری، سمعی اور قلبی حیا بھی ہے۔ جہاں لباس میں حیا سے انکار ممکن نہیں وہیں بصری، سمعی اور قلبی حیا کے بنا حیا مکمل نہیں ۔
بصری حیا کا تعلق ہماری آنکھوں سے ہے،یعنی اپنی آنکھوں کا درست استعمال یا نظروں کی پاکیزگی۔ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ انسان جو کچھ دیکھتا ہے وہ اس کی سوچوں کو متاثر کرتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ انسان فحش اور بے حیائی پر مبنی مناظر یا تصاویر دیکھے اور پھر بھی اس کا دل و دماغ پاک اور تقویٰ سے بھر پور ہو،اسی طرح سمعی حیا کو اختیار نہ کیا جائے اور اللہ کو ناراض کر نے والی موسیقی یا ڈراموں کے ڈائیلاگ سنیں جائیں اور ہمارا دل ایمان کی حلاوت سے بھرا ہوا ہو، یہی کیفیت قلبی حیا سے متعلق ہے، ہمارا قلب غیر اللہ کے ذکر سے پر ہو یا فحش سے بھرا ہوا ہو اور ہمارا ظاہر حیادار ہو؟
حیا کا تصور آتے ہی حجابی خواتین کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے۔ بے شک چادر، اسکارف اور گاؤن پردے کی علامت ہیں لیکن ان کا تعلق حیا کے ظاہری پہلو سے ہے جبکہ دل کی حیا ہمارے تقویٰ سے تعلق رکھتی ہے جب ہم اپنی آنکھوں، کانوں پر پابندی لگاتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے ہم فحش نہ دیکھیں گے اور نہ سنیں گے تو یہی بات ہماری باطنی حیا ہے۔
مکمل حیا کے حصول کے لیے جہاں خواتین و حضرات کا لباس اسلامی تقاضوں کو پورا کرتا ہو وہیں اپنی آنکھ ،کان اور دل کو حیا دار بنانا ضروری ہے۔
آج کے دور میں کہ جہاں مغربی تہذیب کی یلغار ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی ہر خاص و عام کو حاصل ہے۔ انٹرنیٹ جہاں ہماری ضرورت بن چکا ہے وہیں یہ بد نظری کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔بچے، بڑے، مرد اور خواتین سبھی اس بات سے بے پرواہ اپنا ایمان اور وقت اس کے ساتھ برباد کر رہے ہیں۔بجائے یہ کہ اس کااستعمال بہترین اسلامی روایات کے پھیلاؤ میں کیا جاتا الٹا چند ٹکوں کے لئے مسلمان اپنا اسلامی وقار داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ٹک ٹاک،فیس بک اور انسٹا گرام وغیرہ پر اسلام کی ترویج کی بجائے حیا باختہ مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ حیا باختگی کے نتیجے میں گھر اور رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مرد اور عورت کا باہم اعتماد ناپید ہوتا جا رہا ہے۔طلاق کی شرح میں ہو شربا اضافہ ہو چکا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ" جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو"۔ واقعی جب ہمارا معاشرہ حیا سے خالی ہوا تو جس کے جو من میں آیا اس نے کرنا شروع کر دیا ۔قطع نظر اس کے کہ ان کاموں کے کیا نتائج نکلیں...
آسان نہیں مسلماں ہونا !
ایک تصویر میری نگاہوں کے سامنے ہے، کہنے کو تو یہ تصویر ہے اہل غزہ کی گھروں کی جانب روانگی کی، لیکن یہ دراصل داستان ہے ان مجاہدین اسلام کی جو حق کے لیے ڈیڑھ سال تنہا کمر بستہ کھڑے رہے ہیں، یہ راہ حق کے مسافران ، مجاہدین صدق وفا، پیکر صبر و استقامت اور علمبردار شجاعت ان میں کچھ چھوٹے ہیں کچھ بڑے بچے بوڑھے جوان عورتیں ان سب کی ایک منزل ہے یہ ایک ہی راہ کے راہی اور اللہ رب العزت کے سپاہی ہیں۔لٹے پٹے بے سروسامان گھروں کی جانب رواں جانتے ہیں وہ گھر اب کیا ہیں ؟ ملبوں کا ڈھیر،جہاں تعلیمی ادارے باقی ہیں نہ ہسپتال اور نہ ہی دیگر ضروریات زندگی،ان کےاپنے ان سے چھن گئے ہیں معذور ہوگئے زخمی ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کے چہروں پر امید اور رونق و بشاشت ہے ایسا آہنی حوصلہ نظر آرہا ہے کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہوگئی ہے ۔ یہ اہل غزہ درحقیقت فداک امی و ابی کی اعلیٰ مثال ہیں۔
ایک شعر ترمیم کے ساتھ انکی نظر ہے،،
اسی تے گلاں ای کردے رہ گئے
تے غزہ دے مجاہد بازی لیہہ گئے
انکی ایمانی طاقت کو، مقصد سے لگن کی قوت کو آفرین ہے سلام ہے ان کو ،ہم تو انکے لیے فقط دعا کرتے رہے۔ اور وہ تاریخ رقم کرتے رہے۔
شاید ایسے ہی ہمت اور حوصلے کے لیے علامہ اقبال نے کہا تھا۔
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
ان اہل غزہ میں کوئی ماں سے محروم ہے توکوئی باپ سے کوئی اولاد سے کوئی شوہر سے کوئی بیوی سے کوئی بھائی بہنوں سے جدا ہے لیکن انکے حوصلے پر ہمارا دل فدا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگرصحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سےعرض کیا تھا! فداک امی و ابی سے نبی کریم ﷺ میرے ماں باپ آپﷺ پرقربان۔ یعنی اللہ اور اسکے رسول کے لیے ہمارا سب کچھ قربان اور حاضر ہے ۔ اسی کے مصداق اہل فلسطین نے فداک امی و ابی کی وہ اعلیٰ جیتی جاگتی زندہ و جاوید مثال قائم کی ہے جو ہمارے لیےمشعل راہ ہے۔ اب ان اہل فلسطین کے سامنے ایک اور سخت مشکل مرحلہ ہے
’’ری بلڈ فلسطین‘‘ یعنی فلسطین کی ازسرنو تعمیر
آج کل میڈیا پر لوگوں کی زبانوں پر اسی جملے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، ری بلڈ یعنی از سر نو تعمیر فلسطین۔
کہنے کو تو یہ جملہ منہ سے ادا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پیسہ ہو تو سب کام آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن اس فلسفے کی موجودہ حقیقت ہمارے سامنے آج اس شکل میں موجود ہے کہ امریکہ پیسے اور جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہوتے ہوئے بھی لاس اینجلس اور اطراف کے جنگلات میں بھڑکتی آگ اور ہوا تھپیڑوں سے اسے پھیلنے سے روکنےبمیں بازی ہار گیا، اب اعتراف شکست کرتے ہوئے پیسے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ’’ری بلڈ لاس اینجلس‘‘ میں تیزی سے مصروف ہے، لیکن غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ اپنے مقصد میں کامیاب اپنے مشن سے...
مسئلہ کشمیر
مسئلہ کشمیر 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت پیدا ہوا جب مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کو بھارت میں شامل کر دیا، جسے کشمیری عوام اور پاکستان نے مسترد کر دیا۔ پہلی جنگِ کشمیر (1947-48) کے بعد اقوامِ متحدہ نے استصوابِ رائے کی قرارداد پاس کی، جو آج تک نافذ نہیں ہو سکی۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بدترین ظلم ڈھائے، جن میں ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گن حملے، اجتماعی قبریں، اور میڈیا و انٹرنیٹ کی بندش شامل ہیں۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی۔
پاکستانی حکومت سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتی رہی ہے، لیکن عملی طور پر زیادہ اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر بھارت پر مؤثر دباؤ ڈالنے میں کامیابی محدود رہی ہے
جماعت اسلامی کشمیر کی آزادی کے لیے مستقل سرگرم رہی ہے، جلسے، مظاہرے، اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھی ہے۔ جماعت نے مجاہدینِ کشمیر کی اخلاقی و سفارتی حمایت بھی کی
1990 میں جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد کی اپیل پر منایا جانے لگا۔ اس کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور دنیا کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز کرنا ہے۔ پاکستان بھر میں اس دن مظاہرے، ریلیاں اور تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
1۔ اقوامِ متحدہ، OIC اور عالمی طاقتوں کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحرک کیا جائے۔
2۔دوطرفہ مذاکرات : بھارت کو مذاکرات پر آمادہ کر کے کشمیری عوام کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔
3۔اعتماد سازی کے اقدامات : تجارتی تعلقات اور ثقافتی روابط کو بحال کر کے تعلقات بہتر بنائے جائیں تاکہ مسئلہ حل کی طرف بڑھے۔
4۔کشمیری عوام کی حمایت: کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے میڈیا اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔
- سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا جائے۔
- مقامی و بین الاقوامی مظاہروں میں شرکت کی جائے۔
- حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ زیادہ مؤثر اقدامات کرے۔
- کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی جائے۔
اگر یہ تمام اقدامات مؤثر طریقے سے کیے جائیں تو مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے ۔
معلوم تاریخ کے پہلے ماحولیاتی ماہر
گلوبل وارمنگ، ماحولیات، آلودگی، صنعتی فضلہ یہ وہ اصطلاحات ہیں جو آج کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہر محفل میں کہیں نہ کہیں ان کا ذکر نکل ہی آتا ہے۔ جہاں چند لوگ بیٹھے ہوں تو یہ موضوع نہ چاہتے ہوئے بھی گفتگو میں شامل ہوہی جاتا ہے۔ پھر وہاں موجود افراد کسی ماہر ماحولیات کی طرح سنے سنائے حل بتانے لگتے ہیں اور اپنی باتوں میں وزن ڈالنے کے لیے اس بات کو کسی حقیقی ماہر سے جوڑ دیتے ہیں۔ یعنی ماحولیات کی اہمیت آج کے دور کا اہم ترین موضوع ہے، لیکن معلم اعظم محسن انسانیت نبی مکرمﷺ کی ذات مبارکہ کی تعلیمات اس مسئلے پر انسانی تاریخ کی پہلی اور جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ تاہم نادانستہ ہم اس کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ حالانکہ آپ ﷺکی حیاتِ طیبہ کے ایسے بے شمار پہلو موجود ہیں جو ماحولیاتی تحفظ، وسائل کے اعتدال کے ساتھ استعمال اور قدرتی توازن کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
انسانی معلوم تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں واضح پتا چلتا ہے کہ جدید ماحولیاتی ماہرین کی رہنمائی، ان کے سائنسی اصول اور عملی تدابیر نبی کریمﷺ کے بیان کردہ اصولوں ہی سے اخذ کردہ ہیں۔ یہاں یہ امر بھی ذہن میں رہے کہ جب دین اسلام رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے ہے تو پیغمبر اسلام کی تعلیمات بھی زندگی کے ہر شعبے میں قیامت تک رہنمائی کے لیے ہیں۔ ماحولیات کی جب بات کی جائے تو اس میں ہمارے اطراف میں موجود سب کچھ شامل ہے، یعنی انسان، ہوا، پانی، پہاڑ، درخت، چرند پرند، غرض کہ سب کچھ۔ بہ حیثیت انسان یہ ہماری بنیادی ذمے داری ہی نہیں بلکہ لازم (فرض) ہے کہ ہم ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار نہیں کرسکتے تو کم از کم اس کی خرابی میں بھی اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ بلاوجہ درختوں کو نہ کاٹیں، جانوروں کو تنگ نہ کریں، پانی کے ذخائر کی حفاظت کریں یا پھر پانی کو احتیاط سے استعمال کریں کیونکہ اگر یہ سب یا ان میں کچھ بھی ہماری ملکیت میں ہے تو بھی اس کو ضائع کرنے کا حق ہمیں کسی صورت نہیں۔
جدید دنیا میں تحفظ ماحولیات کی باتیں بہت ہیں لیکن پیغمبر اسلامﷺ نے اپنی تعلیمات میں ان سب کی تلقین و نشان دہی بہت پہلے ہی کر دی تھی۔ احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے شجرکاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا یا ٹہنی ہو تو اگر وہ اسے لگا سکتا ہو تو ضرور لگائے‘‘(مسند احمد :حدیث نمبر 12902) (یہ حدیث قیامت کے قریب ترین حالات میں بھی ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے)۔ نبی کریمﷺکے دور میں زراعت کی حوصلہ افزائی کی گئی اور زمین کو بنجر رہنے سے بچانے کے لیے اصول مقرر کیے گئے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے:’’جو شخص زمین کو زندہ کرے (قابلِ کاشت بنائے)، وہ اس کا حق دار ہے‘‘(سنن ترمذی :حدیث نمبر1378) پھل دار اور سایہ...
طنز و مزاح
ہائے رے سردی
ماہ دسمبر جہاں سردیاں اپنا رنگ جماتی ہیں وہاں دسمبر کی شاعری ہمیں اداس کرنے کی کوششوں میں لگ جاتی ہے ،البتہ جنوری میں سردی سے نمٹنے کی عادت ہو جاتی ہے اور پھر ہم سردی سے محظوظ ہونے لگتے ہیں۔
موسمی ڈپریشن ایک نفسیاتی حالت ہے جو سال کے کسی خاص موسم میں، خاص طور پر سردیوں میں، زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ سردیوں میں دن چھوٹے اور دھوپ کم ہونے سے جسم میں ان ہارمون کی کمی ہو جاتی ہےجو مزاج کو کنٹرول کرتے ہیں۔ دن چھوٹے اور راتیں لمبی، گرم چائے کافی کی خوشبو اور رضائی کی گرمائی۔ لیکن سردیوں کا اصل مزہ صرف تب آتا ہے جب اس موسم کو انجوائے کریں۔
1۔ رضائی کے ہیرو
سردیاں آتے ہی رضائی قوم کی جان بن جاتی ہے۔ صبح ہو یا شام، رضائی سے نکلنا ایسے لگتا ہے جیسے آپ کسی مشن امپوسیبل( نہ حل ہونے والا مسئلہ )پر جا رہے ہوں۔ کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو چائے اور کھانے کی پلیٹ بھی رضائی کے اندر لے جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی کہے کہ "رضائی سے باہر آ جاؤ!" تو فوراً جواب آتا ہے، "بھائی، رضائی میں بیٹھ کر ہی دنیا کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں، رضائی کا مذاق نہیں۔
2۔ ناشتہ: پراٹھے اور حلوہ پوری کے مزے
سردیوں میں ناشتہ کرنا کسی جشن سے کم نہیں ہوتا،خاص طور پر اگر چھٹی کا دن بھی ہو۔ مکھن کے ساتھ چمکتے پراٹھے، ساتھ میں گرم چائے اور انڈے۔،حلوہ پوری اورچھولے۔اللہ نے بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ،الحمدللہ ۔
3۔ نہانے کا قومی مسئلہ
سردیوں میں سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟جواب ہے نہانا ،سردیوں میں نہانا ایسا ہے ہے جیسےبہادری کا کارنامہ انجام دیا ہو اور جب پانی کا ایک قطرہ بھی ٹھنڈا ہو،تو آئیندہ کئ دن تک کے لیے نہانا موخر کردیا جاتا ہے۔
4۔ سرد ہوا کے وار
سردیوں کی ہوا کا اپنا ہی انداز ہوتا ہے۔ جب آپ باہر نکلتے ہیں، تو آپ کے کان، ناک، اور ہاتھ ایسے جم جاتے ہیں جیسے برف کی شکل اختیار کر لی ہو،کسی نے اسی لیے یہ مثال دی ہے کہ گرمیوں میں بال نہ ہوں اور سردیوں میں ناک نہ ہو کیونکہ گرمیوں میں بال گرمی کو بڑھا دیتے ہیں تو سردیوں میں ناک کو بھی ٹوپہ پہنانے کو دل چاہتا ہے۔جو لوگ بغیر سوئیٹر کے باہر نکلنے کی بہادری دکھاتے ہیں وہ بانکے بنتے بنتے دس منٹ بعد "ہی ہا ہو" کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
5۔ دعوتوں اور شادیوں کا موسم
سردیوں میں دعوتوں کی بھرمار ہوتی ہے، شادی ہو یا کوئی اور تقریب، ہر جگہ کھانے کی خوشبو۔ لوگ کہتے ہیں کہ "ہم تو صرف دوستوں سے ملنے آئے ہیں،" لیکن پلیٹوں کا حال دیکھ کر سمجھ آجاتا ہے اصل معاملہ کچھ اور ہے۔
سردیاں اپنی شرارتوں، مزوں اور ہنسی مذاق کے لیے خاص ہوتی ہیں۔ اس موسم میں نہ صرف کھانے کے مزے آتے ہیں بلکہ خاندان اور دوستوں کے ساتھ بیٹھنے اور مونگ پھلیاں کھانے کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔
اور ہاں سردیاں روزے رکھنے کیلئے بھی بہترین وقت ہے تو کیوں نہ اس موقع کو بھی ضائع نہ کریں تھوڑا سا...
خوف ناک
اماں جان قدرِ غصے میں کمرے میں داخل ہوئیں؛ اے لڑکی کہاں رکھی ہے میری عینک،۔ میں نے انہیں غور سے دیکھا شاید مذاق کر رہی ہیں ۔ کیونکہ عینک تو ان کی ناک پہ دھری تھی۔ ارے اماں کیا ہو گیا آپ کو ۔۔۔ عینک تو آپ کی ناک پر دھری ہے، انہوں نے مجھے "غضبناک" نگاہوں سے گھورا اور اپنی عینک کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔." او ہو یہ کیا ہو گیا مجھ بھلکڑ کو بھی۔۔۔۔۔" دیکھو تو تجھ پر چلی گئی ہوں نا۔۔۔۔۔۔ لو بھلا بتاؤ عینک کو ناک پر لگا کر تجھ سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ اماں نے سارا ملبہ مجھ غریب پر ڈال دیا۔۔۔۔" ارے اماں بچے اپنی ماؤں پر جاتے ہیں مائیں اپنے بچوں پر نہیں جاتی آپ کے ہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے." میں ایک بار پھر اماں کی خوفناک نگاہوں کے حصار میں تھی..... میرا یہ کہنا تھا کہ ، اماں برس پڑی...." تو پہلے اپنا بہتا ناک صاف کر". اماں یہ کہتے ہوئے۔ " خوفناک نگاہوں "۔ سے مجھے گھورتی ہوئی باہر نکل گئیں۔ میں نے اپنا ہاتھ ناک کی طرف بڑھایا کہیں یہ واقعی بہہ تو نہیں رہی۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔ اماں نے تو میری۔ ' ناک ہی اڑا کر رکھ دی تھی۔"۔ اپنے ناک اونچی کرانے کے چکر۔ " میں نے اماں کی بات پر ناک بھوں چڑھایا! اور اپنے بھائی بلال کے کمرے میں جا پہنچی۔
اماں کی باتوں کا غصہ میری' ناک پر دھرا تھا'۔ بلال نے مجھے دیکھتے ہی میری طوطے جیسی ناک پر حملہ کر دیا باجی سارے منہ پر ایک آپ کی' ناک" ہی نظر آتی ہے کچھ کھا پی لیا کرو ! کیوں ابا کی ناک کٹوانے کے چکر میں ہو۔ میں نے بلال کی باتوں پر ناک چڑھاتے ہوئے قدرِ غصے سے کہا۔! تم کیوں ناک کی کھال نکال رہے ہو میرے یہ کہتے ہی بلال کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا ارے باجی ! ناک کی کھال نہیں بال کی کھال ہوتا ہے کیا ہو گیا آپ کو۔ بڑی رائٹر بنی پھرتی ہو۔۔ ایک محاورہ تو سیدھا بولا نہیں جاتا ۔۔ میں سٹپٹا گئی۔۔۔ " او ہو ! ایک تو اماں نے میری ناک میں دم کر دیا ۔۔ اور دوسرے تم نے آتے ہی میری ناک پر حملہ کر دیا ۔۔ میری تو' ناک ہی نہیں رہی" اپنے ناک کو دیکھو جیسے ناک پر کسی نے پہیہ" پھیر دیا ہو۔۔ میں بھی اس کی بہن تھی اس سے پیچھے نہ رہی۔۔ " اوہو باجی ! کیا بات ہے آج تو آپ کا غصہ آپ کی ناک پر دھرا ہے کہیں پھر کسی سے ناک سے لکیریں کھنچوانے کا پروگرام تو نہیں۔۔۔۔۔۔ ویسے تمہارا قصور نہیں ہمارے ملک میں ہر بندہ وہی کام کرتا ہے جو وہ جانتا نہیں۔۔ میں نے غور کیا یہ کیا ہوا ! اماں نے آتے ساتھ ہی ہمیں غضبناک نگاہوں سے گھورا عینک ان کی ناک پر دھری تھی اور پھر خوفناک انداز میں باتیں سنا گئیں اور پھر خطرناک طریقے سے دھمکی بھی دے ڈالی ارے یہ ساری مصیبتیں ایک اکیلی بیچاری ناک پر ہی کیوں...
اسکول کھول دیں
جولائی کے وسط کے بعد گرمی کی شدت پہلےجیسی نہیں رہتی- ساون کے آتے ہی بے وقت بارشیں کسی قدر موسم کی شدت میں کمی لے آتی ہیں ۔ تمام والدین کا فارم 47 کی حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ پیٹرول، بجلی ،گیس اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں بے شک کم نہ کریں کیونکہ وہ تو ویسے بھی آپ لوگوں سے کم ہونی ہی نہیں بلکہ ان کی قیمتیں مزید بڑھا دیں کیونکہ وہ تو آپ نے اپنے آئی ایم ایف کے آقاوں کی خوشنودی کے لیے بڑھانی ہی ہیں بس صرف اس مظلوم قوم پر ایک رحم کریں کہ خدا کے لیے سکول کھول دیں والدین بجلی کے بل دیکھ کر اتنے پریشان نہیں ہوتے جتنے ساری رات جاگتے اور دن میں سوتے بچوں کو دیکھ کر ہوتے ہیں
آخر والدین کریں بھی تو کیا دادا دادی، نانا نانی کے بھی ہوئے۔ خالہ، پھوپی ، ماموں سب کے ناک میں دم کر لیا۔ کزنوں کے گھر جا کے ان کو گھر بلا کے ان ڈور گیمیں جیسے لڈو کیرم آؤٹ ڈور گیمز کرکٹ وغیرہ آن لائن گیمیں پب جی وغیرہ بھی کھیل لی ۔ بڑی عید کی دعوتیں بھی ہو گئیں، شہر کے تفریحی مقامات بھی دیکھ لیے۔ ناران کاغان کے لوگ بھی تنگ پڑ گئے پھر بھی اسکول نہیں کھلے یہاں تک کہ بچے خود بھی تنگ پڑ گئے کہنے پہ مجبور ہو گے کہ اسکول کھول دیں۔
اس لیے کہ نالائق بچے ماں باپ سمیت تمام بڑوں کے تانے سن سن کے تنگ آ گئے ہیں اور فرمانبردار احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے تنگ پڑ گئے ہیں لڑکیاں کچن میں اور لڑکے والد کی دکان پر یا پھر گھر کا سامان لانے کے لیے بازاروں میں گھومتے رہتے ہیں ۔ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ تو چاہتے ہیں کہ اسکول کھل جائیں اور اسکول کھلنے پر نہ والدین زیادہ خوش ہوتے ہیں نہ اساتذہ سب سے زیادہ اسکول مالکان خوش ہوں گے کیونکہ بحیثیت قوم ہم ہمارا رویہ ہی غیر پڑھا لکھا ہے والدین اسکولوں کی فیسیں ادا نہیں کرتے اور ان کو اساتذہ کو تنخواہیں دینے جو کہ خود ایک مظلوم طبقہ ہے اور بلڈنگ کرائے دینے پہ مشکلات آتی ہیں۔
اسکول کے بند رہنے میں سب سے اہم کردار حکومتی بے حسی کا ہے چھٹیوں کا تعین ضلع بلکہ شہر کی سطح پر ہونا چاہے اس کے علاوہ سرکاری اداروں کے ٹیچر بھی بہت خوش ہیں کہ تنخواہ مل رہی ہے اسکول بے شک بند ہی رہیں حیرانگی اس بات کی ہے کہ یہ اپنے بچوں کو گھروں میں کیسے سنبھالتے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان سے اس موسم میں مردم شماری کا کام لیں دیکھیں اگلے دن کیسے چھٹیوں کے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں بہرحال حکومت کو چاہیے کہ گرمی کی شدت میں کمی کے ساتھ ساتھ اسکولوں کو کھول دیں ۔ بورڈ کلاسز کو کم سے کم سمر کیمپ کی اجازت ہو تاکہ وہ بہتر تیاری کر سکیں اس کے ساتھ ساتھ والدین کو چاہیے کہ خود اپنی زندگی میں اور اپنے بچوں کی زندگی میں ترتیب...
کہاں کی بات کہاں نکل گئی
قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔
اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔
دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔
گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔
2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...
والدین اور بیٹیاں
آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے" جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک
چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔
اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔
اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔
تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔