پاکستان میں فٹبال کیلئے فیفا کا کردار آئی ایم ایف جیسا ہے

1032

رپورٹ( سید وزیر علی قادری)پاکستان میں فٹبال کے لیے فیفا کا کردار آئی ایم ایف جیساہے‘ فیڈریشن کو دیے گئے فنڈز کھیل اور کھلاڑی کے بجائے مخصوص طبقے کی جھولی میں چلے جاتے ہیں‘امداد بند ہوجائے تو قومی فٹبال دنیا میںنام روشن کرسکتی ہے ،فیفا کی امداد ووٹ کے حصول کیلیے ہوتی ہے‘اسے پاکستان میں فٹبال کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے‘ پاکستان میں فٹباکی تباہی میں فیفا نے اہم کردار ادا کیا ہیِ ۔ ان خیالات کا اظہار ریفری نور بخش، فٹبال کلبس کے آرگنائزر آصف ظہیر، رئیس خان اور قومی کھلاڑی حماد خان نے جمعیت الفلاح ہال میں کیا فیفا کی پابندی قومی فٹبال کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتی ہے؟ کے موضوع پر جسارت فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جبکہ لاہور کے نامور فٹبال اور اسپورٹس آرگنائزر فہیم بٹ آن لائن خیالات کا اظہار کیا۔ ریفری نور بخش نے جن کا تعلق ساجدی فٹبال کلب سے ہے اور پاکستان اسٹیل مل سے کھیل چکے ہیں، کہنا تھا کہ فیڈریشن اور ڈسٹرکٹ ہمیں فیفا فنڈز سے کچھ نہیں دیتے۔ ہمارے پاس گرائونڈ ہے مگر گھاس ہے
نہ روشنی کاانتظام‘ہم اپنی مدد آپ کے تحت کھیل کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے کئی کلبز بند ہوگئے ہیں۔ صرف وہ کلبز جن کے کرتا دھرتا ڈسٹرکٹ اور فیڈریشن سے تعلق یا ان کے منظور نظر ہیں وہ ہی بڑے بڑے ٹورنامنٹس میں حصہ لے پاتے ہیںاور انہی کے کھلاڑی ڈپارٹمنٹس بھی کھیلتے ہیں۔ فیڈریشن میں گروپ بندی اور کھینچا تھانی اور جھگڑوں کی وجہ سے اب تو ڈیپارٹمنٹس بھی بند ہوگئے ہیں۔ جن میں نیشنل بینک، حبیب بینک، پی ڈبلیو ڈی، اسٹیل مل، پی آئی اے جیسے ادارے بھی شامل ہیں۔ جبکہ کے الیکٹرک، کے ڈی اے، نیوی، کے آر ایل اور آرمی و واپڈا کے محکمے بھی بندش کی طرف گامزن ہیں۔ یونیورسٹی روڑ پر محمدن فٹبال کلب کا گرائونڈ ہے جو بے نظیر شہید کے نام سے بھی منسوب ہے وہاں بھی عام فٹبالر کو کھیلنے کی اجازت نہیں۔ گزری میں موجود گرائونڈ پر پارکنگ مافیا قابض ہے‘ کچھ گرائونڈز اور اسٹیڈیمز پر رینجرز کے ڈیرے ہیں۔ اس صورتحال میں کیاخاک فٹبال کو ترقی ملے گی ۔ ملک میں فٹبال کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیفا سے امداد ملتی رہی تو کھینچا تھانی جاری رہے گی‘ فیفا کا کردار آئی ایم ایف سے مختلف نہیں ‘وہ گرانٹ کے نام پر ڈالرز دیتی ہے تو اس کا مفاد اس کو عزیز ہوگا۔ ڈالرز دے گی تو فیڈریشن ان کے تابع رہے گی۔ بدقسمتی دیکھیں کہ وفاق میں کھیل کی وزارت ہی نہیں ہے اور نہ ہی صوبہ سندھ میں کئی عرصے سے کھیل کا وزیر ہے۔ وفاق وز یر کھیل کا عہدہ کسی سمجھ دار شخص کودے تاکہ وہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ماتحت فٹبال فیڈریشن کو قابو میں رکھے اور جو بھی ضرورت ہے اس کو اپنے فنڈز سے پورا کرے۔ آصف ظہیر نے کہا کہ فیفا نے جو پابندی پاکستان فٹبال پر لگائی ہے وہ غلط اقدام ہے ، اس کو چاہیے جس کو اس نے اپنا نمائندہ بناکر نارملائزیشن کمیٹی کا سربراہ نامزد کیا تھا اس سے پوچھے کہ اب تک کیا کیا؟ کیوں اسکروٹنی نہیں ہوئی اور کیوں اب تک شفاف انتخابات نہیں کرائے؟۔ کلب متاثر ہورہے ہیں ۔ نہ صوبائی نہ ہی قومی اور نہ ہی کوئی بڑے ڈسٹرکٹ کی بنیاد پر ٹورنامنٹس ہورہے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ان حالات میں ڈسٹرکٹس فعال ہی نہیں، ٹورنامنٹس میں جو مسائل آرہے ہیں اس کی شکایت کس سے کی جائے ؟ ۔ اسکروٹنی ہو نہیں رہی، کوئی پرانے کلبوں کے رجسٹرڈ کھلاڑیوں کی فہرست کو ماننے کو تیار نہیں‘ اگر یہ ہی صورتحال رہی تو ان کا بھی بٹا بیٹھ جائے گا۔ پہلے بھی انتخابات ہوتے تھے چھانٹی کے بغیر کام چل ہی رہا تھا اب تو سب کچھ ٹھپ ہوگیا۔ فیفا نے پابندی لگاکر رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کے بدلے جو نارملائزیشن کمیٹی بنی ہے اس نے غریبوں پر خرچہ بڑھا دیا۔ کلبوں پر پابندی لگادی کہ حلف نامہ بنوائو اور دیگر مالی بوجھ ڈال دیا۔ فیفا لاکھوں ڈالرز ماہانہ این سی کو دے رہی ہے جو سالانہ کروڑوں میں بنتے ہیں، کیا کرتے ہیں اس فنڈنگ کا، کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ فیفا کو چاہیے وہ این سی کی سرزنش کرے ۔ فیفا نے انتخابات کیلیے جو مدت دی تھی وہ بھی ختم ہوگئی اور اب 30 جون آخری تاریخ تھی ، اسی اثنا میں سپریم کورٹ کی جانب سے فاتح قرار پانے والی فیڈریشن نے این سی کو ہٹا کر عمارت پر قبضہ کرلیا اور چارج سنبھال لیا‘ لگتا ہے کہ ایک ، دو ماہ تک صورتحال واضح نہیں ہوئی تو کھلاڑی یقینا کوئی بڑا قدم اٹھا لیں گے۔کراچی میں مقامی کلب کے روح رواں اور نامور آرگنائزر رئیس خان کا کہنا تھا کہ فیفا نے جو پاکستان فٹبال پر پابندی عائد کی ہے فیصلہ فوری طورپر واپس لے‘ فیصل صالح حیات نے اے ایف سی اور فیفا میں جاکر رونا دھونا شروع کیا‘سپریم کورٹ کی توہین کی‘ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ اشفاق گروپ جیتا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کے سامنے کورٹ روم میں انتخابات ہویے بھاری اکثریت سے اشفاق گروپ نے کامیابی حاصل کی۔ عدالت عظمی نے سرٹیفکٹ جاری کیا۔ اس سے قبل فیصل صالح حیات 3 مرتبہ 4سال مدت کے لیے صدر کی کرسی پر براجمان رہے۔ جو 12سال کا عرصہ بنتا ہے۔ آئین کے تحت وہ چوتھی مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے کے حقدار نہیں تھے۔انہوں نے زبردستی انتخابات میں حصہ لیا اور شکست کھا گئے جبکہ غیر قانونی طور پر انہوں نے انتخاب میں حصہ لیا۔ اس وجہ سے اشفاق گروپ نے مداخلت کی اور احتجاج کیا مگر انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ تب سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور دونوں فریقوں کے سامنے طے پایا کہ جو انتخابات سپریم کورٹ کے سامنے ہونگے اس کے نتائج تمام امیدوار مانیں گے اور سرٹیفکیٹ کو تسلیم کریں گے۔ اس بات کو سب نے قبول کیا اور اس بنیاد پر انتخابات ہوئے۔ بعد ازاں فیصل صالح حیات اے ایف سی اور فیفا میں اپنا مقدمہ لے گئے در اصل فیصل صالح حیات کی فیفا اور اے ایف سی میں لابی مظبوط ہے۔ فیفا کے سابق صدر اپنی کامیابی کے لیے فیصل صالح حیات کو رقم دیتے رہے اور وہاں ایک خاتون اے ایف سی میں بیٹھی ہیں وہ اہم شخصیت کی قریبی رشتہ دار ہیں ۔ انہوں نے غلط معلومات فراہم کرکے پاکستان کو بدنام کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے فہیم بٹ کا کہنا تھا آپ جس کو بھی سپورٹ کریں وہ ایسا شخص ہو جسے فٹبال کی سمجھ بوجھ ہو ، وہ فٹبال کو سمجھتا ہو اور اس کو قومی فٹبال کے لیے کچھ کرنے کی امنگ ہو یعنی وہ اپنا وژن واضح رکھے کہ پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے ، اس کے ایجنڈے میں ٹورنامنٹس کا انعقاد ، اسکولز اور گراس رووٹ پر ٹیمیں بنانا شامل ہو‘اگر میرٹ پر ٹیمیں بنیں اور اس کے نتائج کی بنیاد پر جو اچھا کھیلے اس کھلاڑی کو قومی ٹیم میں لیا جائے تو قومی فٹبال ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں کی صف میں آسکتی ہے۔ لاہور میںصرف دو، تین گرائونڈز ہیں۔اس صورتحال میں قومی فٹبال کی ترقی خواب کے سوا کچھ نہیں ۔ سرسید یونیورسٹی کے طالبعلم اور فٹبال کے کھلاڑی حماد خان کا کہنا تھا کہ فیفا کی پابندی کے خلاف حکومتی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔ پابندی کے خاتمے کا واحد حل سڑکوں پر آکر احتجاج ہے جہاں مؤقف کو پیش کیا جائے ۔