سکھر،عدالتی حکم پر ایم پی ایز کتا مارمہم کی نگرانی پرمامور

147

سکھر (نمائندہ جسارت) سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے مختلف اضلاع کے افسران کی جانب سے پیش کردہ کتا مار مہم رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ایم پی ایز کو ’’کتا مار مہم‘‘ کی نگرانی کا حکم دے دیا، کتوں کے کاٹنے کے پانچ ہزار سے زائد واقعات ہوئے لیکن مقدمات صرف چند درج ہوئے، عدالت عالیہ کے ریمارکس، سندھ ہائی کورٹ سکھر کے ڈبل بینچ نے صوبے میں بڑھتے ہوئے سگ گزیدگی کے واقعات کیخلاف داخل آئینی پٹیشن کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت عالیہ میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے محکمہ بلدیات، ریونیو اور محکمہ صحت کے حکام نے اپنے اپنے اضلاع کی کتا مار مہم اور اس کے حوالے سے داخل ہونے والے مقدمات کی رپورٹ پیش کی لیکن اس پر عدالت عالیہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیش کردہ رپورٹ کو مسترد کردیا اور ریمارکس دیے کہ کتوں کے کاٹنے کے پانچ ہزار سے زائد واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن مقدمات صرف چند ایک ہی درج کیے گئے ہیں۔ غریب لوگوں کے بچوں کو کتے کاٹ رہے ہیں لیکن اس طرف کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ سرکاری افسران صرف فنڈز ہڑپ کرنے میں مصروف ہیں، کوئی اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہا ہے۔ انتظامیہ جواب دے کہ مردہ کتوں کو کہاں دفن کیا جاتا ہے اگر کچرہ کنڈی میں پھینکا جاتا ہے تو یہ مزید نقصان دہ بات ہے۔ عدالت عالیہ نے اس موقع پر اس حوالے سے افسران کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز کو اپنے اپنے علاقوں میں کتا مار مہم کی نگرانی کرنے کا حکم جاری کیا اور بعد ازاں سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی۔