السلام علیکم کہیے دلوں کو جیت لیجیے

499

اب سے پندرہ بیس سال پہلے آپ نے مارکیٹ میں دکانوں بازاروں اور شو روم کے شیشوں پر درج بالاجملہ کہ السلام علیکم کہیے اور دلوں کو جیت لیجیے پر مشتمل اسٹیکرز لگے دیکھے ہوں گے یہ ایک ایسے شخص کی چلائی ہوئی تحریک تھی، جو خود اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی تحریک تھی۔ پچھلے ماہ جب جناب مختار گوہر کے انتقال کی خبر ملی تو میں خود کورونا کی وجہ سے گھر میں قید تھا، ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شریک نہ ہونے کا افسوس ہے۔ مختار گوہر سے میرے تعلقات چالیس سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں میں جب 1977 میں جسارت میں آیا تو اس وقت مختار گوہر جسارت میں ہم سے پہلے سے آتے تھے۔ مختار صاحب جسارت کے لیے اشتہارات لاتے تھے اس طرح وہ مارکیٹنگ کا شعبہ سنبھالے ہوئے تھے ان کے علاوہ اکرام غازی بھی اشتہارات کی مارکیٹنگ کرتے تھے۔ مختار گوہر چونکہ جسارت کے ملازم نہیں تھے اس لیے ان کا آنے جانے کا کوئی وقت طے نہیں تھا لیکن آتے روز تھے۔ شعبہ اشتہارات کے برابر میں شعبہ حسابات تھا جس میں، میں بیٹھتا تھا۔ مختار گوہر دفتر کی عمارت داخل ہو کر اپنی لمبریٹا کھڑی کرتے جو لوگ وہاں نظر آتے چاہے وہ کوئی بھی ہو اسے سلام ضرور کرتے پھر لفٹ میں بھی موجود لوگوں سے سلام دعا کرتے۔
تھرڈ فلور پر لفٹ سے نکل کر جب اپنے شعبہ میں آتے تو نہ صرف سب ساتھیوں سے سلام دعا کرتے بلکہ کچھ ہنسی مذاق بھی کرتے ان کی آواز ہم تک بھی پہنچ جاتی گوہر صاحب ہنس مکھ اور خوش مزاج آدمی تھے ہر فرد سے بڑی عزت و احترام سے پیش آتے، نرم خو اور شائستہ مزاج تھے ساتھیوں سے ہنسی مذاق اس طرح کرتے تھے کہ دل آزاری نہ ہو، کوئی فرد کسی مسئلے میں گرفتار ہوتا تو اس سے اس کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے، مثلاً اگر ایک دن پہلے کسی ساتھی سے ملاقات ہوئی اور اس نے بتایاکہ میرے بچے کو بخار ہے آج میں اسے ڈاکٹر کے یہاں لے جائوں گا، دوسرے تیسرے دن جب اس فرد سے ملاقات ہوتی سلام وجواب کے بعد گوہر صاحب اس سے اس کے بچے کی طبیعت پوچھتے، وہ لوگوں سے ان کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے تھے اپنی طرف سے مفید مشورے بھی دیتے تھے۔ کسی ساتھی کو ناراض نہیں کرتے تھے اگر کسی کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ وہ ان سے کچھ خفا ہے تو پہلی فرصت میں اسے منانے کی کوشش کرتے۔ مختار گوہر اپنے کام کے حوالے سے بحث و مباحثہ تو کرتے آواز بھی اوپر نیچے ہوتی لیکن کبھی چلا کر یا چیخ پکار کرکے کوئی بات نہیں کی مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی ان کا کسی کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہو۔
مختار گوہر بنیادی طور پر سوشل ورکر تھے ان کی پی آر بہت اچھی تھی وہ رکن جماعت تھے جماعت کے تمام کارکنان کو سوشل ورکر ہونا چاہیے مولانا مودودیؒ نے اس کے لیے ایک بہت اچھا لفظ مرجع خلائق استعمال کیا ہے کہ لوگ اپنے مسائل کے حوالے سے جماعت اسلامی کے کارکنان سے رجوع کریں۔ مختار گوہر اپنی آبادی میں بھی ہر دلعزیز تھے وہ کورنگی دو نمبر کی ربانی مسجد سے متصل گھر میں رہتے تھے اور اسی مسجد میں پانچوں وقت کی نماز پڑھتے تھے پانچوں وقت سے مراد یہ ہے کہ جن اوقات میں وہ گھر میں رہتے تھے ورنہ وہ تو فیلڈ کے آدمی تھے پورے شہر میں اپنے کلائنس سے ملنے کے لیے اپنی لمبریٹا استعمال کرتے تھے ایک خاص بات ان کی یہ تھی وہ نماز کی سختی سے پابندی کرتے تھے راستے میں جہاں کہیں بھی نماز کا وقت ہوگیا قریب کی مسجد میں جماعت سے نماز پڑھتے۔ وہ کہتے تھے ہماری تمام مساجد میں دو چیزوں کا اہتمام ہونا چاہیے ایک تو یہ کہ مین گیٹ پر بڑی گھڑی لگی ہو دوسرے یہ کہ گیٹ پر ہی پانچوں وقت کی جماعت کے اوقات لکھے ہوئے ہوں تاکہ کوئی نمازی بائیک یا کار پر ہو وہ مسجد کے گیٹ پر گاڑی روک کر یہ دیکھ سکتا ہے کہ ابھی وقت ہے اور میں یہاں آسانی سے باجماعت نماز پڑھ سکتا ہوں۔ لیکن ہماری مساجد میں اس طرف لوگ دھیان نہیں دیتے۔ میرا خیال ہے کہ گوہر صاحب ہر جگہ جہاں نماز پڑھتے ہوں گے وہاں پیش امام کو اس طرف ضرور توجہ دلاتے ہوں گے تاکہ وہ مسجد کمیٹی تک ان کی بات پہنچا دیں۔ اب میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ بیش تر مساجد میں اس کا اہتمام ہو گیا ہے حسن اسکوائر سے لیاقت آباد آتے ہوئے بندھانی کالونی کی جامع مسجد قبا کے گیٹ پر گھڑی بھی ہے اور پانچوں وقت جماعت کے اوقات بھی لکھے ہوئے ہیں۔
السلام علیکم کہیے اور دلوں کو جیت لیجیے والا سلوگن مختار گوہر نے ہزاروں کی تعداد میں چھاپ کر تقسیم کیے اور بہت سے مقامات پر چسپاں بھی کیے۔ وہ اشتہارات کے لیے اپنے جس کلائنٹ کے پاس جاتے اس کو السلام علیکم کا اسٹیکر دکھا کر کہتے اسے آپ پرنٹ کر کے تقسیم کیجیے اور سنت رسول اللہ ؐ کو پھیلانے کا ثواب بھی حاصل کیجیے۔ میں نے جب جسارت چھوڑ کر پرنٹنگ کا کام شروع کیا تو گوہر صاحب نے مجھے بھی اسٹیکر دیا اور کہا کہ آپ پرنٹنگ کے سلسلے میں جس کے پاس جائیں اس سے اس کے لیے بھی ڈونیشن لے سکتے ہیں۔
جماعت اسلامی نے جب گوہر صاحب کو کورنگی سے کونسلر کا انتخاب لڑایا تو انہوں نے بآسانی یہ انتخاب جیت لیا وہ اخلاق سے بات کے حوالے سے محلے والوں میں معروف تو تھے ہی لیکن ان کی ہر چھوٹے بڑے کو سلام کرنے کی عادت نے انہیں اپنے محلے میں ہر دلعزیز بنادیا تھا کوئی بوڑھی بزرگ خاتون نظر آتیں تو ان کو بھی بڑے ادب سے سلام کرتے انتخاب کا ایک واقعہ انہوں نے مجھے بتایا کہ پولنگ اسٹیشن میں ایک بوڑھی خاتون گئیں وہ میرے نشان پر ووٹ ڈالنا چاہتی تھیں جب کہ ان کے رشتے داروں نے دوسرے امیدوار کو ووسٹ ڈالنے کہا تو اس خاتون نے انکار کردیا اور اپنے رشتہ داروں سے کہا کہ نہیں میں تو اسی کو ووٹ دوں گی جو روز مجھے سلام کرتے ہوئے جاتا ہے۔
مختار گوہر بڑے حساب کتاب کے آدمی تھے یعنی آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں وہ بڑے calculated آدمی ہیں ساری زندگی انہوں نے رزق حلال کمایا اپنا بزنس اپنے بچوں کو منتقل کردیا جنہوں نے اور جدید انداز میں اس کو آگے بڑھایا ہے۔ آخر میں مجھے مختار گوہر کا بتایا ہوا ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا کہ ان کی شادی کے لیے ایک جگہ رشتہ طے ہو گیا دونوں طرف سے ہاں ہو گئی لیکن مہر کے مسئلے پر گاڑی رک گئی گوہر صاحب اپنا مہر ایک ہزار رکھوانا چاہتے تھے جب کہ لڑکی والوں کا مطالبہ تھا کہ مہر دس ہزار رکھا جائے دونوں طرف کی یہ ضد اتنی آگے بڑھی کہ وہ رشتہ ہی ختم ہو گیا۔ پھر ان کا دوسری جگہ رشتہ لگا جہاں مہر ایک ہزار پہ بات بن گئی مختار گوہر نے بتایا کہ میں نے اسی دن ادائیگی کردی دوسرے دن ایک جگہ کے لیے پلاٹ کا اشتہار آیا میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ کچھ پیسے ملا کر تمہارے نام سے اس مہر کی رقم کا پلاٹ خرید لیتے ہیں وہ تیار ہو گئیں اب سے تقریباً تیس چالیس سال قبل کی یہ بات ہے جب مجھے گوہر صاحب نے بتایا کہ آج وہ پلاٹ ستر ہزار کا ہے اب اگر یہی مہر دس ہزار ہوتا میں یکمشت ادا نہیں کر پاتا قسطوں میں ادائیگی ہوتی اور وہ پیسے خرچ ہوجاتے۔ یہ تھے ہمارے مختار گوہر۔۔۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے در گزر فرمائے ان کی مغفرت فرمائے ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنادے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔