افغان طالبان وفد کی اسلام آباد آمد، پاکستانی حکام سے ملاقات

235

اسلام آباد/کابل/واشنگٹن(نمائندہ جسارت +اے پی پی)افغان طالبان کا وفد 3روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گیا ہے۔ملاعبدالغنی برادر کی قیادت میں 9رکنی وفدنے دفترخارجہ میںوزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ، جس میں بین الافغان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور امن عمل کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔اس موقع پر طالبان کے چیف مذاکرات کار شیخ حکیم بھی موجود تھے۔طالبان وفد دورہ پاکستان کے دوران سیاسی و عسکری قیادت سے بھی ملاقات کرے گا۔ طالبان وفد کے ساتھ بات چیت کے بعد شاہ قریشی نے میڈیا کو بتایا کہ ملاقات میں اس بارے میں تبادلہ خیال ہوا کہ ایک طرف مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے لیکن افغانستان میں جاری تشدد میں کمی کی توقع اب تک پوری نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقوں کو تشدد میں کمی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ان کے بقول پاکستان نے طالبان کو باور کرایا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان کے لیے ایک جامع تصفیہ ضروری ہے، اس کے بغیر افغانستان میں مستقل امن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برداری کو ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے وہاں کی تعمیر نو اور ترقی میں اپنا کردا ادا کرنا ہو گا تاکہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی واپسی ممکن ہوسکے۔وزیرخارجہ نے بتایاکہ طالبان سے ہونے والی گفتگو سے طالبان کا امن کی طرف رجحان اور سنجیدگی کی عکاسی ہوتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ طالبان وفد اس بات پر متفق ہے کہ افغانستان میں مزید لڑائی نہیں ہونی چاہیے ،شاہ محمود قریشی نے کہا افغان طالبان کا وفد وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرے گا۔علاوہ ازیں افغان حکومت نے طالبان وفد کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا ہے۔ افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ ماہ پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ کابل کے دوران طالبان کے وفد کے دورہ پاکستان پر مشاورت کی گئی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملا برادر کی قیادت میں طالبان کے وفد کے دورہ پاکستان سے افہام و تفہیم کی کوششوں میں مدد ملے گی۔دوسری جانب امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں سے کہا ہے کہ انہیں بین الافغان مذاکرات فوری طور دوبارہ شروع کرنا چاہیئں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ جنگ جاری ہے، ایسے وقت میں ان سیاسی تصفیے، تشدد میں کمی اور جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے۔زلمے خلیل زاد کے بقول اس وقت بہت کچھ داؤ پر ہے، اس لیے ان کے بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور اس بات چیت کو اتفاق رائے کے مطابق 5جنوری کو شروع ہونا چاہیے۔