جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے نے کہا ہے کہ ایران کو بین الاقوامی جوہری معاہدے کے تحت جس قدر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت تھی، اس نے اس سے دس گنا زیادہ یورینیم ذخیرہ کرلی ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اب 2105 کلوگرام تک پہنچ چکے ہیں، جب کہ 2015ء کے معاہدے کے تحت یہ مقدار 300 کلو گرام سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ ایران نے 2019ء میں اجازت سے کہیں زیادہ یورینیم کی افزودگی شروع کر دی تھی، تاہم یہ مقدار جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار سطح سے بہت نیچے تھی۔ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے 1050 کلو افزودہ یورینیم کے 3.67 فیصد کی ضرورت ہو گی، لیکن ایک امریکی گروپ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بعد میں اس میں 90 فیصد اضافہ کرنا پڑے گا۔ اسلحہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والا یورینیم 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو افزدوگی کے اس عمل کو مکمل کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ایران نے گزشتہ برس جولائی میں کہا تھا کہ اس نے یورینیم کی افزودگی کے لیے نئے اور جدید ٹیکنالوجی کے سینٹری فیوجز کا استعمال شروع کیا ہے۔