کوئٹہ،اسلام آباد(نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک+خبر ایجنسیاں)کوئٹہ میںپریس کلب کے قریب شارع اقبال پر دھماکا‘3پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد جاں بحق،21زخمی ہو گئے،دھماکے کے باعث قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔پولیس کے مطابق پیر کو کوئٹہ کے علاقے شارع اقبال پر منان چوک کے قریب ضلع کچہری کے سامنے اس وقت دھماکا ہوا جب وہاں سے کچھ فاصلے پر پریس کلب کے سامنے کالعدم مذہبی تنظیم اہلسنت و الجماعت کی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے یوم وفات سے متعلق احتجاجی ریلی ہورہی تھی۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں اٹھنے لگا اور خوف کی وجہ سے لوگ بھاگنے لگے۔ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 5گاڑیاں اور متعدد موٹرسائیکلوں کو نقصان ہوا جبکہ قریب واقع ضلع کچہری کی عمارت سمیت قریبی دکانوں اور کاروباری مراکز کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ سول اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ٹراما سینٹر میں علاج فراہم کیا جارہا ہے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پریس کلب کے باہر احتجاج میں شریک مذہبی جماعت کے ایک کارکن نے بتایا کہ ہمارا احتجاج ہورہا تھا جیسے ہی دعا ختم ہوئی تو دھماکا ہوا مگر ہم دور ہونے کی وجہ سے بچ گئے اور ہمارا کوئی ساتھی زخمی نہیں ہوا۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے جائے وقوع پر میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذہبی جماعت کی ریلی کی حفاظت کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس اور ایگل اسکواڈ کے اہلکار تعینات تھے جنہوں نے ریلی کی جانب جاتے ہوئے ایک مشکوک نوجوان کو روکا تاہم اُس نے رُکنے کے بجائے آگے جانے کی کوشش کی جس پر اہلکاروں نے اسے دبوچ لیا اور نیچے گرادیا۔اس دوران حملہ آور نے اپنے جسم سے بندھی خودکش جیکٹ دھماکے سے اڑا دی۔ ڈی آئی جی کے مطابق دھماکے میں حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرنے والے ڈی ایس پی کے ڈرائیور سمیت 2 پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ مرنے والے دیگر افراد میں ایک لیویز اہلکار اور 4 شہری شامل ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر دلی رنج وغم کا اظہار کیاہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں لہٰذا دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ دہشت گردی کے واقعے کے تمام محرکات اور پہلوؤں کا جائزہ لے کر 24گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کی جائے اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی اور شہر کی سیکورٹی کے اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے۔وزیراعلیٰ نے سیکرٹری صحت کو اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ شہداء کے درجات بلندکرے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔صدر مملکت ڈاکٹر عار ف علوی ،وزیراعظم عمران خان ، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ،اپوزیشن لیڈرشہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت اہم رہنماوں نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔